کیا دل واقعی "سوچتا" ہے؟ جدید نیوروکارڈیالوجی اور قرآن کا اشارہ: ایک متوازن علمی و سائنسی تجزیہ
مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
انسانی تاریخ میں دل اور دماغ کی بحث اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان کا شعور۔ صدیوں سے شعراء، صوفیاء اور مفکرین دل کو جذبات، احساسات، محبت اور فہم و ادراک کا مرکز مانتے آئے ہیں، جبکہ دوسری طرف جدید طب اور بیالوجی نے ایک طویل عرصے تک اسے محض ایک عضلاتی پمپ قرار دیا، جس کا کام صرف خون کو دباؤ کے ساتھ جسم کے مختلف حصوں تک پہنچانا ہے۔ تاہم، اکیسویں صدی کی جدید ترین سائنسی دریافتوں، بالخصوص "نیوروکارڈیالوجی" (Neurocardiology) کے ظہور نے اس قدیم بحث میں ایک نہایت دلچسپ اور حیرت انگیز موڑ پیدا کر دیا ہے۔ اس نئی سائنسی شاخ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسانی دل محض گوشت کا ایک لوتھڑا یا خون پمپ کرنے والی مشین نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر اعصابی خلیات یعنی نیورونز (Neurons) کا ایک نہایت پیچیدہ، خود مختار اور منظم نیٹ ورک موجود ہے، جسے اب ماہرینِ بصیرت "دل کا چھوٹا دماغ" (Little Brain in the Heart) کہنے لگے ہیں۔ یہ دریافت جہاں ایک طرف مادہ پرستانہ سائنس کے پرانے اور محدود تصورات کو بدل رہی ہے، وہاں دوسری طرف کلامِ الہٰی میں موجود ان عمیق اشارات کی تفہیم میں نہایت مددگار ثابت ہو رہی ہے، جن کا اصل فہم اور سائنسی ادراک ہمیں آج کی ترقی یافتہ دنیا میں حاصل ہو رہا ہے۔ یہاں یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ قرآنِ مجید نے چودہ سو سال پہلے ہی ان حقائق کی طرف اشارہ کر دیا تھا، لیکن ان اشارات کی حیاتیاتی اور اعصابی حقیقت کو سمجھنے کے لیے انسانیت کو نیورو سائنس کی موجودہ ترقی کا انتظار کرنا پڑا۔
جدید تحقیق کے مطابق انسانی دل میں تقریباً 40,000 نیورونز پائے جاتے ہیں، جو کہ ساخت اور کام کے لحاظ سے بالکل وہی ہیں جو ہمارے مرکزی دماغ میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ نیورونز دل کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ دماغ سے آزاد ہو کر بھی کام کر سکے، معلومات کو محفوظ کر سکے اور اپنے طور پر ردِعمل ظاہر کر سکے۔ سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ دل صرف دماغ کے احکامات پر عمل نہیں کرتا، بلکہ یہ خود دماغ کو مسلسل سگنلز بھیجتا رہتا ہے۔ درحقیقت، دل سے دماغ کی طرف جانے والے اعصابی ریشوں (Afferent Pathways) کی تعداد دماغ سے دل کی طرف آنے والے ریشوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ ہمارا دل مسلسل ہمارے دماغ کے ان حصوں کو متاثر کر رہا ہوتا ہے جو جذبات، ادراک اور فیصلے سازی (Decision Making) کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جب ہم قرآنِ مجید کی ان آیات پر غور کرتے ہیں جہاں دل کو "سمجھنے" اور "تدبر" کرنے کا مرکز قرار دیا گیا ہے، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا یہ اسلوب محض استعارہ نہیں تھا، بلکہ ایک گہری حیاتیاتی حقیقت کی طرف اشارہ تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ الاعراف میں ان لوگوں کا تذکرہ فرماتا ہے جو حق کو نہیں پہچانتے:
وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۖ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۖ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۖ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۗ اُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ ۗ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ
(ترجمہ: اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں، ان کے پاس دل ہیں (مگر) وہ ان سے سمجھتے نہیں، اور ان کی آنکھیں ہیں (مگر) وہ ان سے دیکھتے نہیں، اور ان کے کان ہیں (مگر) وہ ان سے سنتے نہیں، یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ، یہی لوگ غافل ہیں۔) — (سورۃ الاعراف: 179) [4]
اس آیتِ مبارکہ میں "لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا" (ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سمجھتے نہیں) کا جملہ نہایت غور طلب ہے۔ قرآنِ مجید "فہم" یعنی سمجھ بوجھ کا تعلق براہِ راست دل (قلب) سے جوڑ رہا ہے۔ جدید نیوروکارڈیالوجی کے مطابق جب ہمارا دل دماغ کو سگنلز بھیجتا ہے، تو یہ ہمارے وجدان (Intuition)، ہماری چھٹی حس اور چیزوں کو محسوس کرنے کی صلاحیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جب کوئی انسان مسلسل حق کا انکار کرتا ہے یا گناہوں میں غرق رہتا ہے، تو اس کے دل کی یہ وجدانی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کا دماغ حقائق کو تسلیم کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ قرآن کا یہ بیان ہمیں بتاتا ہے کہ فہم و ادراک کا عمل صرف دماغ کی منطق تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں دل کے ان جذبات اور احساسات کا بھی بڑا عمل دخل ہے جنہیں آج کی سائنس "ہارٹ-برین کوہیرنس" (Heart-Brain Coherence) کے نام سے پکار رہی ہے۔ [2]
تاہم، اس علمی سفر میں ہمیں نہایت احتیاط اور توازن کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر یہ مبالغہ آرائی کی جاتی ہے کہ "انسان دماغ سے نہیں بلکہ صرف دل سے سوچتا ہے" یا یہ کہ "دماغ بالکل بیکار ہے"۔ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم ان غلط فہمیوں کا ازالہ کریں۔ سائنسی حقیقت یہ ہے کہ شعوری فیصلے، منطق، حساب کتاب اور زبان کا استعمال آج بھی ہمارے مرکزی دماغ (Cerebral Cortex) کا ہی کام ہے۔ دل میں موجود 40,000 نیورونز ریاضی حل نہیں کرتے، بلکہ وہ ہمارے جذباتی نظام اور جسمانی توازن (Autonomic Nervous System) کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جب ہم قرآن کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ قرآن میں "قلب" صرف گوشت کے لوتھڑے کو نہیں کہتے، بلکہ یہ ایک روحانی، اخلاقی اور وجدانی تصور ہے، جس کا تعلق انسان کی نیت اور اس کے ایمان سے ہے۔ ہمیں مبالغہ آرائی سے بچنا چاہیے اور سائنس کو زبردستی قرآن سے جوڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر مسارو ایموٹو (Masaru Emoto) کے "پانی کی یادداشت" والے تجربات جنہیں سائنسی برادری مسترد کر چکی ہے، انہیں قرآن کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے پیش کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ قرآن کی حقانیت کسی کچے سائنسی مفروضے کی محتاج نہیں ہے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے دلوں کے ذریعے عقل استعمال کرنے کا تذکرہ ان الفاظ میں فرمایا ہے:
اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَآ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ
(ترجمہ: کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ ان کے دل ایسے ہوتے جن سے وہ (حق بات) سمجھ سکتے یا کان ایسے ہوتے جن سے وہ (حق کی آواز) سن سکتے، تو حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔) — (سورۃ الحج: 46) [4]
یہ آیتِ مبارکہ نہایت وضاحت کے ساتھ یہ بتاتی ہے کہ "اندھا پن" صرف آنکھوں کا نہیں ہوتا بلکہ اصل اندھا پن دلوں کا ہے جو "سینوں کے اندر" (فِي الصُّدُوْرِ) موجود ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ یہ وہی دل ہے جو انسانی سینے کے اندر دھڑکتا ہے۔ جدید سائنس نے آج یہ ثابت کیا ہے کہ جب دل اور دماغ کے درمیان اعصابی ہم آہنگی بگڑتی ہے، تو انسان ذہنی دباؤ، بے چینی اور فکری پراگندگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب قرآن کہتا ہے کہ دل اندھے ہو جاتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ انسان کی وہ بصیرت اور وہ وجدانی قوت ختم ہو جاتی ہے جو اسے صحیح اور غلط میں تمیز کرنا سکھاتی ہے۔ یہ بصیرت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب دل اللہ کی یاد سے پرسکون ہو اور دماغ کے ساتھ مکمل تال میل میں ہو۔ قرآن نے آج سے چودہ سو سال پہلے "ٹائم ڈائلیشن" اور کائنات کی وسعتوں کے ساتھ ساتھ انسانی جسم کے اندرونی عالم کے بارے میں بھی ایسے اشارے دیے تھے، جن کا فہم ہمیں آج سائنسی ترقی کے بعد حاصل ہو رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی ایک اور غلط فہمی دل کے الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ (EM Field) کے بارے میں ہے۔ یہ درست ہے کہ دل کا مقناطیسی میدان دماغ کے مقابلے میں کئی گنا طاقتور ہے اور اسے جسم سے باہر بھی محسوس کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بنیاد پر یہ دعویٰ کرنا کہ "پانی نیت یاد رکھتا ہے" یا "نکولا ٹیسلا نے دل سے سوچنے کا فارمولا دیا تھا"، سائنسی طور پر غیر ثابت شدہ باتیں ہیں۔ ہمیں ایمان اور سائنس کے درمیان توازن رکھنا ہوگا۔ اسلام ہمیں اندھی تقلید سے نہیں بلکہ تحقیق اور تدبر سے کام لینے کی ہدایت دیتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰي سَمْعِهِمْ ۭ وَعَلٰيٓ اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ۠ وَّلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ
(ترجمہ: اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔) — (سورۃ البقرہ: 7) [4]
تو اس "مہر" لگنے کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان بار بار حق کا انکار کرتا ہے، تو اس کے دل اور دماغ کا وہ لطیف اعصابی اور روحانی تعلق ٹوٹ جاتا ہے جو اسے ہدایت کی طرف لے جا سکتا ہے۔ جدید نیوروکارڈیالوجی کے تجربات بتاتے ہیں کہ منفی جذبات (جیسے غصہ، نفرت اور کینہ) ہمارے دل کے ردھم کو بے ترتیب کر دیتے ہیں، جس کا اثر براہِ راست ہمارے دماغ کے ان حصوں پر پڑتا ہے جو منطقی سوچ کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے برعکس، شکر گزاری، محبت اور سکون (جو کہ ایمان کی علامات ہیں) دل کے ردھم کو منظم کرتے ہیں اور دماغی صلاحیتوں کو جلا بخشتے ہیں۔ یہ وہی سچائی ہے جس کا اشارہ قرآن نے صدیوں پہلے دیا تھا، اور آج کی سائنس اسے لیبارٹریوں میں دیکھ رہی ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ دل واقعی "سوچتا" تو نہیں (منطق کے معنی میں)، لیکن یہ ہمارے سوچنے کے عمل کو "رہنمائی" اور "تاثر" (Influence) ضرور دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سینے میں نیورونز کا یہ چھوٹا دماغ شاید اسی لیے رکھا ہو کہ یہ ہمارے مرکزی دماغ کو اخلاقیات، جذبات اور ایمان کے سگنلز بھیجے اور اسے محض ایک مادی مشین بننے سے روکے۔ سائنس آج جس پیچیدہ ہارٹ-برین کنکشن کو دریافت کر کے حیران ہو رہی ہے، وہ درحقیقت اسی عظیم خدائی ڈیزائن کی ایک جھلک ہے جس کا فہم انسانیت کو آج کی ترقی کے بعد حاصل ہوا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سائنسی مبالغہ آرائیوں سے بچ کر حقائق کو تسلیم کریں اور قرآنِ حکیم کے ان ابدی اشارات پر غور کریں جو ہمیں ایک متوازن اور باوقار زندگی گزارنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ایمان کی بنیاد وحی پر ہے، اور سائنس کا کام کائنات کے مادی قوانین کو سمجھنا ہے۔ ان دونوں کا حسین امتزاج ہی ہمیں اس خالق کی معرفت عطا کر سکتا ہے جس نے ہمیں اتنے حیرت انگیز نظام کے ساتھ تخلیق کیا۔
واللہ اعلم بالصواب۔
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

