قرآن اور جدید سائنس: ایک حیران کن مطابقت – عقلی و نقلی دلائل کا جامع تجزیہ
مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
مقدمہ: اکیسویں صدی کا فکری بحران اور اسلام کا جواب
اکیسویں صدی عیسوی انسانی تاریخ کا وہ دور ہے جسے ہم "عصرِ سائنس و ٹیکنالوجی" کہتے ہیں۔ اس دور میں انسان نے زمین کی گہرائیوں سے لے کر کائنات کی وسعتوں تک ایسے ایسے راز افشا کیے ہیں جو پچھلی صدیوں میں تصور بھی نہیں کیے جا سکتے تھے۔ انسانی عقل کی اس معراج نے جہاں بے شمار سہولیات پیدا کی ہیں، وہیں ایک بڑا فکری بحران بھی جنم لیا ہے۔ وہ بحران یہ ہے کہ کیا سائنس اور مذہب دو متضاد اور متصادم حقیقتیں ہیں؟ کیا ایک باشعور انسان جو لیبارٹری میں تجربات پر یقین رکھتا ہے، وہ بیک وقت ایک ایسی کتاب پر بھی ایمان لا سکتا ہے جو چودہ سو سال پہلے صحرائے عرب میں نازل ہوئی تھی؟
عام طور پر ایک سیکولر اور مادہ پرست ذہنیت یہ تاثر دیتی ہے کہ مذہب کا تعلق صرف "اندھی عقیدت" (Blind Faith) سے ہے، جبکہ سائنس کا تعلق "خالص عقل" (Pure Reason) اور تجربے سے ہے۔ اس غلط فہمی کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ سائنس کی ترقی کے ساتھ مذہب کا زوال لازمی ہے۔ لیکن جب ہم تعصب کی عینک اتار کر اور کھلے ذہن کے ساتھ قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ تاثر ایک بہت بڑی غلط فہمی ثابت ہوتا ہے۔ قرآن کریم اور جدید سائنس کے درمیان تصادم نہیں، بلکہ ایک حیران کن مطابقت پائی جاتی ہے، جو بذاتِ خود قرآن کے الہامی ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
حصہ اول: قرآن کا تعارف اور اس کا اصل مقصد
اس بحث میں آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ قرآن مجید بنیادی طور پر کوئی سائنس، فلکیات یا ارضیات کی نصابی کتاب (Textbook) نہیں ہے۔ اس کا اصل مقصد انسان کو فزکس یا کیمسٹری کے فارمولے سکھانا نہیں، بلکہ اسے ہدایت دینا ہے، اس کے خالق سے اس کا تعارف کروانا ہے، اور اسے زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ بتانا ہے۔ قرآن انسان کی اخلاقی، روحانی اور سماجی رہنمائی کے لیے نازل ہوا ہے۔
لیکن، اور یہ ایک بہت بڑا "لیکن" ہے، اس کتابِ ہدایت میں کائنات کے ایسے ایسے سربستہ رازوں کی طرف واضح اشارے موجود ہیں جنہیں سمجھنے میں انسانی عقل کو چودہ صدیاں لگ گئیں۔ یہ اشارے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس کتاب کا مصنف وہی ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے۔
حصہ دوم: قرآن کی دعوتِ تدبر اور سائنس کا کردار
قرآن بار بار، سینکڑوں مقامات پر انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آنکھیں بند کر کے نہیں، بلکہ غور و فکر کر کے ایمان لائے۔ وہ زمین و آسمان کی تخلیق، رات دن کے بدلنے، بارش کے برسنے، ہواؤں کے چلنے اور خود انسان کی اپنی ذات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ
ترجمہ: (بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے باری باری آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔) — (سورۃ آل عمران، آیت 190)
ایک اور مقام پر فرمایا:
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ، وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ، وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ، وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ
ترجمہ: (کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کیسا عجیب پیدا کیا گیا ہے؟ اور آسمان کو کہ کیسا بلند کیا گیا ہے؟ اور پہاڑوں کو کہ کس طرح گاڑے گئے ہیں؟ اور زمین کو کہ کس طرح بچھائی گئی ہے؟) — (سورۃ الغاشیہ، آیات 17-20)
یہ آیات اور ان جیسی سینکڑوں دیگر آیات دراصل انسان کو کائناتی مظاہر پر تحقیق (Research)، جستجو اور تدبر کی دعوت ہیں۔ اور آج کے دور میں ان نشانیوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ جدید سائنس ہے۔ سائنس وہ "خوردبین اور دوربین" ہے جس کے ذریعے ہم اللہ کی قدرت کے ان شاہکاروں کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے؛ لہٰذا، سائنس کو قرآن سے الگ کرنا یا قرآن کے خلاف کھڑا کرنا، درحقیقت قرآن کی اس بنیادی دعوتِ تدبر سے انکار کرنے کے مترادف ہے۔
حصہ سوم: سائنسی اور سیکولر حلقوں کی فکری غلط فہمیاں اور ان کا رد
موجودہ دور میں بعض سیکولر اور لبرل حلقے (جیسے پاکستان میں ڈاکٹر پرویز ہودبھائی وغیرہ) یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ سائنس اور مذہب دو بالکل الگ تھلگ دائرے ہیں (Non-Overlapping Magisteria - NOMA) اور قرآن کی آیات کو سائنسی زاویے سے دیکھنا ایک لاحاصل اور نقصان دہ عمل ہے۔ یہ موقف کئی بنیادوں پر غلط اور گمراہ کن ہے:
- قرآنی روح کے منافی: جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، قرآن خود کائنات میں غور و فکر کا حکم دیتا ہے۔ اس عمل کو روکنا قرآنی حکم کی خلاف ورزی ہے۔
- تاریخی حقائق سے انکار: یہ موقف مسلمانوں کے اس شاندار ماضی سے انکار ہے جب بغداد، قرطبہ اور قاہرہ علم و سائنس کے مراکز تھے اور ابن الہیثم، البیرونی، اور ابن سینا جیسے مسلم سائنسدان قرآن ہی کی ترغیب سے کائنات کے رازوں کو دریافت کر رہے تھے۔ وہ سائنس اور مذہب کو الگ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ان کے نزدیک سائنسی تحقیق اللہ کے قریب ہونے کا ایک ذریعہ تھی۔
- جدید دور کے تقاضوں سے لاعلمی: آج کا انسان ہر چیز کے لیے عقلی دلیل مانگتا ہے۔ اگر ہم قرآن کے سائنسی اور عقلی پہلو کو نظر انداز کر دیں گے، تو ہم جدید ذہن کو اسلام کی طرف راغب کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ کھو دیں گے۔
حصہ چہارم: سائنس اور قرآن کی مطابقت کے اصول اور حدود
یہاں ایک انتہائی اہم نکته سمجھنا ضروری ہے کہ جب ہم قرآن اور سائنس کی مطابقت کی بات کرتے ہیں، تو اس کے کچھ اصول اور حدود ہیں جن کا پاس رکھنا لازمی ہے، ورنہ ہم گمراہی کا شکار ہو سکتے ہیں:
- قرآن حاکم ہے، سائنس محکوم: ہمارا بنیادی عقیدہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور وہ قطعی حقیقت (Absolute Truth) ہے۔ اس کے برعکس، سائنس انسانی عقل اور تجربے کا نتیجہ ہے، اور سائنسی نظریات (Theories) بدلتے رہتے ہیں۔ جو کل سچ تھا، آج غلط ثابت ہو سکتا ہے (جیسے نیوٹن کی فزکس کو آئن سٹائن کی فزکس نے بدل دیا)۔ اس لیے، ہم قرآن کو سائنس کی کسوٹی پر نہیں پرکھتے، بلکہ سائنس کے "مسلمہ حقائق" (Established Facts) کو قرآن کے حضور پیش کرتے ہیں۔
- زبردستی کی تاویل سے گریز: ہم قرآن کی آیات کو توڑ مروڑ کر یا ان کی زبردستی تاویل کر کے انہیں کسی سائنسی نظریے پر فٹ کرنے کے سخت خلاف ہیں۔ اسے "سائنسی تحریف" کہا جا سکتا ہے اور یہ ایک خطرناک عمل ہے۔ ہم صرف ان مقامات پر مطابقت کی بات کرتے ہیں جہاں قرآن کے الفاظ اور سائنسی دریافت میں واضح اور غیر مبہم ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
- جھوٹی سائنسی خبروں کا رد: ہمارا مقصد صرف چیزیں ثابت کرنا نہیں، بلکہ ہم مسلمانوں میں پھیلنے والی جھوٹی سائنسی خبروں کا بھی سائنسی بنیادوں پر رد کرتے ہیں (جیسے نیل آرم سٹرانگ کے مسلمان ہونے کی افواہ، یا مکہ مکرمہ میں کشش ثقل نہ ہونے کے دعوے وغیرہ)۔ ہمارا مقصد سچائی کی تلاش ہے، چاہے وہ ہمارے حق میں ہو یا نہیں۔
حصہ پنجم: قرآن اور جدید سائنس کی مطابقت کی چند روشن مثالیں
یہ وہ حصہ ہے جہاں ہم ٹھوس دلائل کے ساتھ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن کس طرح سائنس سے ہم آہنگ ہے۔ یہ مثالیں صرف چند جھلکیاں ہیں، ورنہ قرآن ایسی نشانیوں سے بھرا پڑا ہے۔
1. کائنات کی ابتدا: عظیم دھماکہ (The Big Bang Theory)
بیسویں صدی تک سائنسدان یہ سمجھتے تھے کہ کائنات ہمیشہ سے ایسی ہی ہے اور ہمیشہ رہے گی (Steady State Theory)۔ لیکن پھر جدید فلکیات نے ثابت کیا کہ کائنات ایک بہت بڑے دھماکے (Big Bang) سے وجود میں آئی، جس میں تمام مادہ اور توانائی ایک نقطے پر مرکوز تھی۔
اب قرآن کی اس آیت پر غور کریں جو چودہ سو سال پہلے نازل ہوئی:
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا
ترجمہ: (کیا ان کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے (ایک بند اکائی تھے)، پھر ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا؟) — (سورۃ الانبیاء، آیت 30)
یہ آیت "رَتْقًا" (ایک بند اکائی) اور "فَفَتَقْنَاهُمَا" (پھاڑ کر جدا کر دینا) کے الفاظ سے بگ بینگ نظریے کی ایسی واضح تصویر کشی کرتی ہے کہ ایک غیر مسلم سائنسدان بھی حیران رہ جاتا ہے۔
2. کائنات کا پھیلاؤ (The Expanding Universe)
1920 کی دہائی میں ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے اپنی ٹیلی سکوپ سے مشاہدہ کیا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں اور کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ قرآن اس حقیقت کو چودہ صدیاں پہلے بیان کر چکا ہے:
وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ
ترجمہ: (اور آسمان کو ہم نے اپنی قدرت سے بنایا ہے اور ہم ہی اس کو وسیع کرنے والے ہیں (پھیلا رہے ہیں)۔) — (سورۃ الذاریات، آیت 47)
عربی لفظ "مُوسِعُونَ" (پھیلانے والے) کائنات کے مسلسل پھیلاؤ کی بہترین اور درست ترین تعبیر ہے۔
3. زندگی کا آغاز پانی سے (Water as the Origin of Life)
جدید حیاتیات (Biology) یہ مسلمہ حقیقت بیان کرتی ہے کہ زمین پر زندگی کا آغاز پانی سے ہوا ہے، اور ہر زندہ خلیہ (Cell) کا بیشتر حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ قرآن اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
وَوجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ
ترجمہ: (اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ کیا یہ پھر بھی ایمان نہیں لاتے؟) — (سورۃ الانبیاء، آیت 30)
ایک ریگستان میں رہنے والے نبی ﷺ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ زندگی کا راز پانی میں پوشیدہ ہے؟
4. علمِ جنین: ماں کے پیٹ میں بچے کی تخلیق (Embryology)
جدید ایمبریولوجی (علمِ جنین) بتاتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچہ مختلف اور واضح مراحل سے گزر کر مکمل انسان بنتا ہے۔ قرآن ان مراحل کو حیران کن تفصیل اور درستگی کے ساتھ بیان کرتا ہے:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ، ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ، ثُمَّ خَلَقْنَا النُّفْطَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ
ترجمہ: (اور یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے بنایا۔ پھر اسے ایک محفوظ ٹھکانے (رحمِ مادر) میں نطفہ بنا کر رکھا۔ پھر نطفے کو "علقہ" (جونک کی طرح لٹکا ہوا خون کا لوتھڑا) بنایا، پھر علقہ کو "مضغہ" (چبائے ہوئے گوشت کا ٹکڑا) بنایا، پھر مضغہ سے ہڈیاں پیدا کیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دوسری ہی تخلیق میں اٹھا کھڑا کیا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے۔) — (سورۃ المؤمنون، آیات 12-14)
پروفیسر کیتھ مور (Dr. Keith Moore) نے تسلیم کیا کہ ساتویں صدی میں جنین کی شکل کو "علقہ" اور "مضغہ" (چبائے ہوئے گوشت جیسا، جس پر دانتوں کے نشانات ہوتے ہیں) کہنا انسانی علم سے باہر کی بات ہے۔ یہ وحیِ الٰہی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔
5. پہاڑوں کا کردار: زمین کی میخیں (Mountains as Pegs)
ارضیات (Geology) ہمیں بتاتی ہے کہ پہاڑوں کی جڑیں زمین کے اندر کئی گنا گہری ہوتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک میخ (Peg) یا خیمے کی کھونٹی زمین میں گڑی ہوتی ہے۔
وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا
ترجمہ: (اور (کیا ہم نے) پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا؟) — (سورۃ النبأ، آیت 7)
اور ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: "وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ" (اور اس نے زمین میں بھاری پہاڑ گاڑ دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے (تمہارا توازن برقرار رہے)۔) (سورۃ النحل، آیت 15)
6. سورج اور چاند کی حرکت (Orbits of Sun and Moon)
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
ترجمہ: (اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔) — (سورۃ الانبیاء، آیت 33)
لفظ "يَسْبَحُونَ" (تیر رہے ہیں) اجرامِ فلکی کی خلا میں ہموار حرکت (Smooth motion in orbits) کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔
حصہ ششم: سیکولر اور ملحدانہ اعتراضات کا مدلل رد
اس حصے میں ہم ان دو بڑے اور بنیادی اعتراضات کا تفصیلی اور تحقیقی جواب دیں گے جو اکثر سیکولر، لبرل اور ملحد طبقے کی طرف سے مسلمانوں کے سامنے رکھے جاتے ہیں۔
اعتراض نمبر 1: "اگر قرآن میں یہ سب سائنسی حقائق موجود تھے تو مسلمان خود تحقیق کیوں نہیں کرتے؟ تم لوگ مغرب (غیر مسلموں) کی تحقیق پر کیوں اتراتے ہو اور اسے اپنے کھاتے میں ڈالتے ہو؟"
مسلمانوں کا شاندار سائنسی ماضی (The Golden Age of Islam): یہ ایک ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے، جسے اب مغرب کے دیانتدار مؤرخین بھی تسلیم کرتے ہیں، کہ جب یورپ جہالت کے اندھیروں (Dark Ages) میں ڈوبا ہوا تھا، اس وقت اسلامی دنیا علم و سائنس کا گہوارہ تھی۔ ابن الہیثم نے بصریات (Optics) کے اصول وضع کیے جن پر آج کی جدید فزکس کھڑی ہے؛ جابر بن حیان نے کیمسٹری کی بنیادیں رکھیں؛ البیرونی نے زمین کا قطر ناپا؛ اور ابن سینا کی کتاب "القانون فی الطب" صدیوں تک یورپ کی میڈیکل یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہی۔ یہ سب کون تھے؟ یہ سب قرآن کے ماننے والے تھے اور انہوں نے اپنی تحقیق کا آغاز قرآن کے حکمِ تدبر اور نبی کریم ﷺ کی علم حاصل کرنے کی ترغیب سے ہی کیا تھا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ مسلمانوں نے تحقیق نہیں کی، تاریخ کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔
زوال کا سبب قرآن نہیں، قرآن کو چھوڑنا ہے: ہمارا موجودہ سائنسی اور تعلیمی زوال قرآن کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ ہم نے قرآن کی تعلیمات (تدبر و تفکر) کو ترک کر دیا ہے۔ ہم نے قرآن کو صرف ثواب کے لیے پڑھنے کی کتاب بنا لیا اور اسے سمجھنے اور اس سے کائنات کے رازوں کو جاننے کا عمل چھوڑ دیا۔ جب ہم نے اپنا کام چھوڑا، تو دوسری قوموں نے وہ علم اور وہ اصول (تحقیق اور تجربے کا طریقہ کار) ہم سے لے لیے اور آگے بڑھ گئیں۔ ہمارا زوال قرآن پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔
حکمت: مومن کی گمشدہ میراث: علم اور سچائی کسی قوم، نسل یا مذہب کی جاگیر نہیں ہوتی۔ یہ اللہ کا نور ہے جو جہاں بھی چمکے، اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے: "حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے، وہ جہاں اسے پائے، اس کا زیادہ حقدار ہے۔" (سنن ترمذی)۔ لہٰذا، اگر آج کوئی غیر مسلم سائنسدان (چاہے وہ نیوٹن ہو، آئن سٹائن ہو یا اسٹیفن ہاکنگ) کائنات کا کوئی راز دریافت کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اللہ ہی کی بنائی ہوئی کائنات کی ایک آیت کو بے نقاب کر رہا ہے۔ جب ایک غیر مسلم اپنی ٹیلی سکوپ سے بگ بینگ کے شواہد دیکھتا ہے، تو وہ قرآن کی آیت "أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا" کی عملی تفسیر پیش کر رہا ہوتا ہے۔ ہم اس دریافت کو اپنی گمشدہ میراث سمجھ کر خوشی اور فخر سے قبول کرتے ہیں، کیونکہ یہ قرآن کے دعوے کو سچا ثابت کرتی ہے۔ یہ ہمارے لیے شرم کا نہیں، بلکہ ایمان کی تقویت کا باعث ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ جس سچائی تک پہنچنے کے لیے سائنسدانوں نے صدیاں لگائیں، ہمارا قرآن اسے چودہ سو سال پہلے بیان کر چکا ہے۔
اعتراض نمبر 2: "سائنس کا یہ اصول ہے کہ تحقیق کرتے وقت خدا کو بھولنا پڑتا ہے (Methodological Naturalism)، ورنہ وہ سائنس نہیں رہتی۔ سائنس صرف مادی اسباب تلاش کرتی ہے۔"
یہ موجودہ دور کا سب سے بڑا اور خطرناک فکری دھوکہ (Intellectual Fraud) ہے جو الحاد (Atheism) کو سائنس کے نام پر بیچا جا رہا ہے۔ اس مغالطے کو سمجھنے کے لیے ہمیں دو چیزوں میں فرق کرنا ہوگا: "طریقہ کار کی فطرت پسندی" (Methodological Naturalism) اور "فلسفیانہ فطرت پسندی" (Philosophical Naturalism)۔
سائنس کا طریقہ کار (Methodological Naturalism): یہ بات درست ہے کہ جب ایک سائنسدان لیبارٹری میں جاتا ہے تو وہ یہ دیکھتا ہے کہ "کائنات کیسے کام کر رہی ہے؟" (How it works)۔ وہ کسی مظہر (Phenomenon) کے مادی اور طبعی اسباب تلاش کرتا ہے۔ مثلاً، بارش کیسے ہوتی ہے؟ وہ بادلوں کے بننے، ہواؤں کے چلنے اور درجہ حرارت کے اثرات کا مطالعہ کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ "فرشتہ پانی برسا رہا ہے"۔ یہ سائنس کا دائرہ کار اور طریقہ کار ہے، اور یہاں تک بات بالکل ٹھیک ہے۔ اسلام اس تحقیق سے منع نہیں کرتا، بلکہ اس کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ یہ اسباب بھی اللہ ہی کے پیدا کردہ ہیں۔
الحاد کا فلسفہ (Philosophical Naturalism): دھوکہ یہاں دیا جاتا ہے کہ جب کوئی سائنسدان یا ملحد یہ دعویٰ کرتا ہے کہ "چونکہ ہمیں بارش کا مادی سبب (بادل، ہوا وغیرہ) مل گیا ہے، اس لیے اس کے پیچھے کوئی خالق نہیں ہے، اور سب کچھ خود بخود ہو رہا ہے۔" یہ سائنس نہیں ہے، یہ ایک ملحدانہ فلسفہ اور عقیدہ ہے۔ سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کار کیسے چلتی ہے (اس کا انجن، پیٹرول وغیرہ)، لیکن سائنس یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ چونکہ ہمیں انجن کا پتہ چل گیا ہے، اس لیے کار کا کوئی بنانے والا یا چلانے والا (ڈرائیور) نہیں ہے۔
مسلم سائنسدان کا طرزِ عمل: ایک مومن سائنسدان جب لیبارٹری میں کائنات کے قوانین (Laws of Physics) دریافت کرتا ہے، تو وہ خدا کو "بھولتا" نہیں ہے، بلکہ اس کا ایمان مزید پختہ ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ درحقیقت یہ تحقیق کر رہا ہے کہ "میرے رب نے یہ نظام کیسے بنایا ہے اور وہ اسے کیسے چلا رہا ہے؟" اس کے لیے اسباب کی تلاش، مسبب الاسباب (اللہ) تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ مسلم سائنسدانوں کے سرخیل، ابن الہیثم نے اپنی تحقیق کے آغاز میں واضح طور پر لکھا کہ وہ یہ کام اللہ کا قرب حاصل کرنے اور اس کی قدرت کو سمجھنے کے لیے کر رہے ہیں۔
حصہ ہفتم: اکابرینِ امت کی گواہی اور تائید
ہم جس راستے پر چل رہے ہیں (یعنی قرآن کا سائنسی زاویے سے مطالعہ)، یہ کوئی نئی بدعت یا گمراہی نہیں ہے، بلکہ دورِ حاضر کے جید اسلامی اسکالرز اور مفکرین نے اس طرزِ استدلال کی نہ صرف تائید کی ہے بلکہ اسے وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا ہے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ: عالمِ اسلام کے عظیم مفکر، مولانا مودودیؒ نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر "تفہیم القرآن" میں جا بجا کائنات کے مظاہر پر جدید معلومات کی روشنی میں گفتگو کی ہے۔ انہوں نے سائنسی حقائق کو قرآن کے فہم کے لیے معاون قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو کائنات میں غور و فکر کی ترغیب دی ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ: قرآن کے عظیم داعی، ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے نزدیک جدید دور کا سب سے بڑا فتنہ "سائنسی الحاد" ہے، جو سائنس کو بنیاد بنا کر خدا کا انکار کرتا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اس فتنے کا مقابلہ کرنے کے لیے قرآن کے علمی، عقلی اور سائنسی پہلوؤں کو اجاگر کرنا ناگزیر ہے، تاکہ جدید تعلیم یافتہ ذہن کو اسلام کی حقانیت کا یقین دلایا جا سکے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک: موجودہ دور میں تقابلِ ادیان اور قرآن و سائنس کے موضوع پر عالمی شہرت یافتہ مبلغ، ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اس میدان میں بے مثال کام کیا ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کے بڑے بڑے سائنسدانوں اور ملحدین کے ساتھ مناظرے کیے اور ٹھوس سائنسی دلائل سے ثابت کیا کہ قرآن سائنس کی کتاب نہ ہوتے ہوئے بھی، جہاں سائنس کی بات کرتا ہے، وہاں بالکل درست اور سچ بات کرتا ہے، جو اس کے الہامی ہونے کا ثبوت ہے۔
حصہ ہشتم: خلاصہ اور حتمی نتیجہ
اس تمام طویل اور تفصیلی بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ قرآن اور جدید سائنس کے درمیان کوئی حقیقی تصادم نہیں ہے۔ سائنس کائنات کے "کیسے" (How) کا جواب تلاش کرتی ہے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں، اور قرآن ہمیں "کیوں" (Why) کا جواب دیتا ہے کہ ان کے بنانے کا مقصد کیا ہے اور بنانے والا کون ہے۔ جب یہ دونوں ملتے ہیں، تو ایمان کا نور اور عقل کی روشنی ایک ہو جاتی ہے، اور انسان اپنے رب کو بہتر طور پر پہچان سکتا ہے۔
سائنس وہ آئینہ ہے جس میں ہم قرآن کی بیان کردہ حقیقتوں کا عکس دیکھتے ہیں۔ یہ مطالعہ غیر مسلموں کے لیے اسلام کی حقانیت کا ایک عقلی اور سائنسی ثبوت ("Test of Truth") ہے اور مسلمانوں کے لیے اپنے ایمان کو اندھی عقیدت سے نکال کر "ایمان بالیقین" اور "شعوری ایمان" کے درجے تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم احساسِ کمتری سے نکلیں، اور قرآن کے اس چیلنج کو پوری دنیا کے سامنے فخر سے پیش کریں:
سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ
ترجمہ: (عنقریب ہم انہیں کائنات کے اطراف میں اور خود ان کے اپنے نفسوں میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے، یہاں تک کہ ان پر کھل جائے گا کہ یہ (قرآن) بالکل حق ہے۔) — (سورۃ فصلت، آیت 53)
جدید سائنس ہر روز اس آیت کی عملی تفسیر پیش کر رہی ہے۔ یہ ہمارے لیے ڈرنے یا گھبرانے کا نہیں، بلکہ آگے بڑھ کر قرآن کے اس نور کو دنیا میں پھیلانے کا وقت ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات (References):
- قرآنِ مجید، سورتیں: آل عمران، الغاشیہ، الانبیاء، الذاریات، المؤمنون، النبأ، النحل، فصلت۔
- Keith L. Moore, "The Developing Human: Clinically Oriented Embryology".
- مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، "تفہیم القرآن"۔
- ڈاکٹر اسرار احمد، "خطباتِ خلافت"۔
- ڈاکٹر ذاکر نائیک، "The Quran and Modern Science: Compatible or Incompatible?"۔
#قرآن_اور_سائنس #اسلام_اور_جدید_سائنس #سائنسی_معجزات #بگ_بینگ #کائنات_کا_پھیلاؤ #ایمبریولوجی #تحقیق_وتدبر #ایمان_بالعقل #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #QuranAndScience #IslamAndScience #ScientificMiracles #FaithAndReason #MiraclesOfQuran #IslamicThought
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

