ماحولیات، مستقبل اور ہماری ذمہ داری: ایک قرآنی اور سائنسی زاویہ
مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
آج انسانیت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز ترقی نے ہماری زندگیوں کو سہولتوں سے بھر دیا ہے، تو دوسری طرف اسی ترقی کے نام پر ہم نے اپنے فطری ماحول کو جس طرح داؤ پر لگا دیا ہے، وہ ہمارے اپنے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی، گلوبل وارمنگ، گلیشیئرز کا پگھلنا اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال—یہ وہ مسائل ہیں جنہوں نے زمین کی بقا پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ کیا ہمارا مستقبل تاریک ہے، یا اب بھی امید کی کوئی کرن باقی ہے؟ اس اہم سوال کا جواب جہاں جدید ماحولیاتی سائنس (Environmental Science) ہمیں اعداد و شمار کے ساتھ فراہم کر رہی ہے، وہیں قرآنِ حکیم ہمیں ایک ایسا اخلاقی اور فکری ڈھانچہ دیتا ہے جو ان مسائل کی جڑ تک پہنچنے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ یہاں یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اسلام ماحولیات کے تحفظ کو محض ایک سیاسی یا سماجی تحریک کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ اسے ایمان کا حصہ اور انسانیت کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ان کائناتی حقیقتوں کے اشارات تو پہلے سے موجود تھے، لیکن ان اشارات کی گہرائی اور سنگینی کا صحیح فہم ہمیں آج سائنسی ترقی اور ماحولیاتی بحران کے بعد حاصل ہو رہا ہے۔
اسلام ہمیں ماحولیات کے تحفظ کا ایک مکمل اور جامع فلسفہ فراہم کرتا ہے، جس کی بنیاد انسان کا زمین پر "خلیفہ" ہونا ہے۔ قرآنِ مجید کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین کا مالک نہیں بلکہ اس کا نگران اور نائب بنایا ہے۔ خلیفہ کا اصل کام مالک کی ملکیت میں اپنی مرضی کرنا نہیں، بلکہ اسے اس کے اصل حسن کے ساتھ محفوظ رکھنا اور اس کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے انسان کی تخلیق کا تذکرہ کیا تو خلافت کا یہی تصور پیش فرمایا :
وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً ۗ قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاۤءَ ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۗ قَالَ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ
(ترجمہ: اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں، انہوں نے عرض کیا: کیا تو اس میں اسے پیدا کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا؟ حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا: یقیناً میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔) — (سورۃ البقرہ: 30)
اس آیتِ مبارکہ سے یہ فہم حاصل ہوتا ہے کہ انسان کی ذمہ داری زمین پر "فساد" کو روکنا ہے، اور ماحولیاتی تباہی دراصل زمین کے فطری نظام میں ایک بہت بڑا فساد ہے۔ دوسرا بڑا قرآنی تصور "میزان" (توازن) کا ہے۔ جدید ماحولیاتی سائنس آج ہمیں "ایکو سسٹم" (Ecosystem) کے جس نازک توازن کے بارے میں بتا رہی ہے، قرآنِ مجید نے اس کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا :
وَالسَّمَاۤءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزانَ اَلَّا تَطْغَوْا فِى الْمِيْزانَ وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزانَ
(ترجمہ: اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اس نے میزان (توازن) قائم کر دی، تاکہ تم توازن (میزان) میں حد سے تجاوز نہ کرو، اور انصاف کے ساتھ وزن ٹھیک رکھو اور میزان میں کمی نہ کرو۔) — (سورۃ الرحمٰن: 7-9)
اللہ تعالیٰ نے کائنات کے ہر ذرے کو ایک مخصوص توازن پر رکھا ہے۔ ہوا میں گیسوں کا تناسب، سمندروں کی حد، اور جنگلات کا پھیلاؤ—یہ سب اسی "میزان" کا حصہ ہیں۔ آج ہم جس گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں، وہ دراصل اسی الٰہی میزان میں انسانی مداخلت اور تجاوز کا نتیجہ ہے۔ سائنس آج ہمیں بتا رہی ہے کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی معمولی سی زیادتی بھی پورے کرہ ارض کا درجہ حرارت بدل سکتی ہے۔ یہ سائنسی دریافت ہمیں قرآن کے اس اشارے کو سمجھنے میں نئی روشنی عطا کرتی ہے کہ جب انسان اس میزان کو توڑتا ہے تو اس کے نتائج کتنے بھیانک ہو سکتے ہیں۔
قرآنِ مجید میں انسانی اعمال کے زمین پر اثرات کے حوالے سے ایک ایسی آیت موجود ہے جو موجودہ ماحولیاتی بحران کی لفظ بہ لفظ عکاسی کرتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ
(ترجمہ: خشکی اور تری میں لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی (اعمال) کے سبب بگاڑ (فساد) پھیل گیا ہے تاکہ وہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ رجوع کر لیں (باز آ جائیں)۔) — (سورۃ الروم: 41)
جدید ماحولیاتی سائنس (Climate Science) آج اسی حقیقت کا اعتراف کر رہی ہے کہ موجودہ موسمیاتی تبدیلیاں "انسانی سرگرمیوں" (Anthropogenic causes) کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔ سمندروں میں پلاسٹک کا بڑھتا ہوا طوفان، فضا میں زہریلی گیسوں کا اخراج، زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ اور جنگلی حیات کا خاتمہ—یہ سب کچھ اس "فساد" کی صورتیں ہیں جو "بما کسبت ایدی الناس" (انسانوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی) ہے۔ قرآن کا یہ اسلوب کہ یہ بگاڑ اس لیے ہے تاکہ انسان اپنے اعمال کا مزہ چکھے، آج کے قحط، سیلابوں اور شدید موسموں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ سائنس ہمیں یہ فہم دیتی ہے کہ قدرت کا اپنا ایک ردِعمل کا نظام ہے، اور قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ سب اس لیے ہے تاکہ ہم اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کریں اور فطرت کے ساتھ صلح کر لیں۔
مستقبل کا منظرنامہ سائنسی اعتبار سے کافی تشویشناک ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے لائف اسٹائل اور ترقی کے مادی تصور کو نہ بدلا، تو آنے والی چند دہائیوں میں سمندروں کی سطح اس قدر بلند ہو جائے گی کہ کئی ساحلی شہر زیرِ آب آ جائیں گے۔ پانی کی قلت اور شدید قحط انسانی بقا کے لیے بڑا چیلنج بن جائیں گے۔ یہاں قرآن کا وہ سبق ہمیں دوبارہ یاد دلاتا ہے کہ وسائل کا ضیاع اللہ کو ناپسند ہے۔ پانی کا اسراف ہو یا خوراک کا ضیاع، یہ سب زمین کے وسائل پر بوض ڈالتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے بہتے ہوئے دریا کے کنارے بیٹھ کر بھی پانی ضائع کرنے سے منع فرمایا، جو کہ سسٹین ایبل (Sustainable) زندگی کی بہترین مثال ہے۔ درخت لگانا صدقہ جاریہ قرار دیا گیا ہے، اور آج کی سائنس ثابت کرتی ہے کہ "کاربن سنک" (Carbon Sink) کے طور پر درخت ہی ہماری زمین کو گرم ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ماحولیات کا تحفظ محض ایک سائنسی ضرورت نہیں بلکہ یہ ہماری خلافت کی ذمہ داری اور مذہبی فریضہ ہے۔ قرآنِ مجید کے اشارات ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ تسبیح کر رہا ہے اور اس کا احترام واجب ہے۔ ہمیں "خلیفہ" ہونے کا حق ادا کرنا ہوگا تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک تباہ حال اور بنجر زمین کے بجائے ایک سرسبز، متوازن اور محفوظ مستقبل دے سکیں۔ شجرکاری کرنا، توانائی کی بچت، پانی کا ذمہ دارانہ استعمال اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اس دنیا میں بھی بقا دے گا اور آخرت میں بھی جوابدہی سے بچائے گا۔ جدید سائنس کے انکشافات دراصل ہمیں خالقِ کائنات کے اسی عظیم توازن کی یاد دلاتے ہیں جس کی حفاظت کا حکم قرآن نے ہمیں چودہ سو سال پہلے دیا تھا۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور "میزان" کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
واللہ اعلم بالصواب۔
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

.jpg)