آیتِ نور (اللہ نور السموات والارض): قرآنی تمثیل اور جدید سائنسی بصیرتوں کا ایک تفصیلی و متوازن مطالعہ
تمہید: حقیقتِ نور اور انسانی ادراک کی حدود
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ قرآن مجید کی سورۃ النور کی آیت نمبر 35، جسے "آیتِ نور" کہا جاتا ہے، معرفتِ الٰہی کے سمندروں میں سے ایک گہرا ترین سمندر ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو "آسمانوں اور زمین کا نور" قرار دیا ہے اور پھر ایک انتہائی جامع اور تہہ دار مثال (Parable) کے ذریعے اپنے نور کی کیفیت بیان فرمائی ہے۔ اس تحقیقی مضمون کا مقصد اس عظیم آیت کے مفاہیم کا ایک ایسا جائزہ لینا ہے جس میں کلاسیکی تفاسیر کی بنیاد پر اس کا اصل روحانی پیغام بھی واضح ہو، اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے کہ جدید سائنس، خاص طور پر فزکس (طبیعیات) اور آپٹکس (علم المناظر)، اس میں بیان کردہ مثالوں کے مادی پہلوؤں (Material Aspects) کے بارے میں ہمیں کیا بصیرت فراہم کرتی ہے۔
ضروری وضاحت: ہم یہ واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ سائنسی نکات آیت کی "حتمی تفسیر" نہیں ہیں، اور نہ ہی قرآن سائنس کی کتاب ہے۔ یہ محض وہ علمی مشاہدات اور بصیرت افروز مماثلتیں (Insightful Parallels) ہیں جو خالق کے کلام کی وسعت اور اس کی مثالوں کی گہرائی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
حصہ اول: آیت کا متن، ترجمہ اور بنیادی تفسیری مفہوم
اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ ۗ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
ترجمہ: "اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق (Niche) ہو جس میں ایک چراغ (Lamp) رکھا ہو، وہ چراغ ایک فانوس (Glass) میں ہو، وہ فانوس ایسا ہو جیسے چمکتا ہوا موتی جیسا ستارہ۔ وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔ اس کا تیل خود بخود بھڑک اٹھنے (روشن ہونے) کو ہے چاہے اسے آگ نہ بھی چھوئے۔ (یہ) نور کے اوپر نور ہے۔ اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔" — (سورۃ النور: 35)
بنیادی تفسیری مفہوم (ایمانی بنیاد):
جمہور مفسرین (بشمول امام غزالیؒ، ابن کثیرؒ) کے مطابق، جب اللہ کو "نور" کہا جاتا ہے، تو اس کا مطلب مادی روشنی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کائنات کو وجود بخشنے والا اور ہدایت دینے والا ہے۔ اس آیت میں دی گئی مثال دراصل "مومن کے دل میں موجود ایمان اور قرآن کے نور" کی مثال ہے۔ [1] [2]
حصہ دوم: سائنسی بصیرتیں اور مادی مماثلتیں (Scientific Parallels)
آیت میں بیان کردہ تمثیل اتنی دقیق ہے کہ اگر اسے مادی اور سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے، تب بھی یہ روشنی کے بہترین نظام (Optimal Optical System) کی عکاسی کرتی ہے۔
1۔ طاق، چراغ اور فانوس: ایک بہترین آپٹیکل سسٹم (Optical Engineering)
آیت میں روشنی کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے تین اجزاء کا ذکر ہے: مشکوٰۃ (طاق)، مصباح (چراغ)، اور زجاجۃ (شیشہ/فانوس)۔ جدید "آپٹیکل انجینئرنگ" کے اصولوں کے مطابق یہ ترتیب روشنی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کا بہترین طریقہ ہے۔
مشکوٰۃ (Niche) بطور ریفلیکٹر: طاق دیوار میں بنی ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جو پیچھے سے بند ہو۔ اگر چراغ کھلی جگہ رکھا جائے تو اس کی روشنی ہر طرف پھیل کر ضائع ہو جاتی ہے۔ طاق ایک "Concave Reflector" (مقعر منعکس کنندہ) کا کام کرتا ہے، جو پیچھے جانے والی روشنی کو آگے کی طرف پھینکتا ہے، جس سے روشنی کی شدت ایک سمت میں بڑھ جاتی ہے۔ [3]
زجاجۃ (Glass) بطور لینس: چراغ کو ننگی آگ کی صورت میں نہیں چھوڑا گیا بلکہ شیشے (فانوس) میں رکھا گیا ہے۔ قرآن نے اسے "کَوْكَبٌ دُرِّيٌّ" (چمکتا ستارہ) کہا ہے۔ سائنسی طور پر، اگر شیشہ انتہائی صاف، شفاف اور اعلیٰ "ریفریکٹو انڈیکس" (Refractive Index) کا حامل ہو (جیسے کرسٹل)، تو وہ روشنی کو منعکس اور منعطف (Refract) کر کے اسے ستاروں کی طرح انتہائی چمکدار بنا دیتا ہے۔ [4]
نتیجہ: یہ ترتیب ظاہر کرتی ہے کہ یہاں روشنی کو ضائع ہونے سے بچا کر اسے انتہائی موثر انداز میں مرکوز (Focus) کیا گیا ہے۔
2۔ "یکاد زیتھا یضیء": انتہائی پاکیزگی اور لطیف استعارہ
آیت کا یہ حصہ بہت گہرا ہے: "اس کا تیل خود بخود روشن ہونے کو ہے چاہے اسے آگ نہ بھی چھوئے"۔
کیمیائی پاکیزگی: مفسرین کے مطابق اس سے مراد زیتون کے تیل کی انتہائی عمدگی، صفائی اور شفافیت ہے کہ وہ اتنا خالص ہے کہ لگتا ہے آگ کے بغیر ہی چمک اٹھے گا۔
ایک لطیف سائنسی اشارہ: اگر ہم اسے جدید سائنس کی نگاہ سے دیکھیں تو یہ جملہ ایک انتہائی خوبصورت استعارہ (Metaphor) محسوس ہوتا ہے جو ہمیں کائنات کے اس اصول کی یاد دلاتا ہے کہ مادہ (Matter) محض بے جان شے نہیں بلکہ اس کے اندر توانائی کی صلاحیت پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگرچہ زیتون کا تیل بذاتِ خود بغیر آگ کے روشنی نہیں دیتا (سوائے خاص فلوروسینس کے حالات کے)، لیکن قرآن کا یہ اندازِ بیان کہ "مادہ چھوئے جانے سے پہلے ہی ردعمل کے لیے تیار ہے"، مادے کی فطری استعداد کی طرف ایک بلیغ اشارہ ہے۔
3۔ "نور علیٰ نور": تعمیری مداخلت اور لیزر کا تصور
"نور کے اوپر نور" کا جملہ ہدایت کے بڑھنے کے روحانی مفہوم کے ساتھ ساتھ روشنی کی ایک اہم طبعی خاصیت (Physical Property) کے ساتھ حیران کن مماثلت رکھتا ہے۔
تعمیری مداخلت (Constructive Interference): فزکس (Wave Optics) میں، جب روشنی کی لہریں ایک دوسرے کے اوپر اس طرح منطبق (Overlap) ہوتی ہیں کہ ان کے اتار چڑھاؤ آپس میں مل جائیں، تو وہ ایک دوسرے کو کینسل کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔ اسے "Constructive Interference" کہتے ہیں۔ [5]
لیزر (LASER) کی تمثیل: لیزر ٹیکنالوجی اسی اصول کی انتہائی شکل ہے جہاں روشنی کے فوٹونز "نور علیٰ نور" کی ترتیب میں ایک ہی سمت اور ایک ہی فیز (Phase) میں سفر کرتے ہیں، جس سے ایک انتہائی طاقتور اور مرکوز شعاع پیدا ہوتی ہے۔ قرآن کا یہ لفظ "نور علیٰ نور" روشنی کی شدت اور طاقت کے بڑھنے کے اس اصول کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔
4۔ "لا شرقیہ ولا غربیہ": نباتیاتی توازن (Botanical Balance)
زیتون کے درخت کے بارے میں کہا گیا کہ وہ "نہ شرقی ہے نہ غربی"۔
سائنسی نکتہ (Photosynthesis): اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ پودا ایسی جگہ پر ہے جہاں اسے صبح سے شام تک سورج کی دھوپ یکساں ملتی ہے۔ نباتیات (Botany) کے مطابق، ضیائی تالیف (Photosynthesis) کے عمل کے لیے متوازن دھوپ ضروری ہے۔ جتنی متوازن دھوپ ملے گی، زیتون کا پھل اتنا ہی پختہ ہوگا اور اس سے حاصل ہونے والا تیل اتنا ہی شفاف اور توانائی سے بھرپور ہوگا، جو جلنے پر بہترین روشنی دے گا۔
ایک ضروری علمی وضاحت (Critical Perspective)
یہاں علمی دیانتداری کا تقاضا ہے کہ اس پہلو کا بھی ذکر کیا جائے کہ تمام اسلامی اسکالرز قرآن کی آیات کو جدید سائنسی نظریات سے جوڑنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ سائنس بدلتی رہتی ہے جبکہ قرآن کا کلام اٹل ہے۔ اس لیے، اوپر بیان کردہ سائنسی نکات کو قرآن کی "حتمی تصدیق" کے بجائے، اللہ کی بیان کردہ مثالوں کی گہرائی کو سمجھنے کی ایک ادنیٰ سی انسانی کوشش اور "بصیرت افروز مماثلتوں" (Analogies) کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے۔
خلاصہ اور حتمی تجزیہ
اس تفصیلی مطالعے سے ہم درج ذیل نتائج پر پہنچتے ہیں:
- اصل مقصد ہدایت ہے: اس آیت کا بنیادی اور اولین مقصد اللہ کی ذات کی معرفت اور مومن کے دل میں ایمان کے نور کی کیفیت کو بیان کرنا ہے۔
- حیران کن ہم آہنگی: تاہم، اللہ تعالیٰ نے اپنی بات سمجھانے کے لیے جو مثالیں منتخب کی ہیں، وہ مادی دنیا کے حقائق سے اس قدر مطابقت رکھتی ہیں کہ جدید سائنس (آپٹکس، فزکس، باٹنی) کا طالب علم جب انہیں پڑھتا ہے تو اس کلام کی جامعیت پر حیران رہ جاتا ہے۔ طاق کا ریفلیکٹر ہونا، شیشے کا لینس کی طرح کام کرنا، اور نور علیٰ نور کا تصور—یہ سب جدید علمی دریافتوں کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتے ہیں۔
حوالہ جات (References):
- امام غزالی، "مشکوٰۃ الانوار" (The Niche of Lights)۔
- حافظ ابن کثیر، "تفسیر القرآن العظیم"، تفسیر سورۃ النور، آیت 35۔
- M. Born & E. Wolf, "Principles of Optics", 7th Edition (Cambridge University Press).
- Eugene Hecht, "Optics", 5th Edition (Pearson Education, 2017).
- William T. Silfvast, "Laser Fundamentals", 2nd Edition (Cambridge University Press, 2004).
#AyatAnNur #SurahAnNur #AllahNoorUsSamawatWalArd #آیت_نور #سورۃ_النور #قرآنی_مثالیں #LightOfGuidance #Imaan #نور_ہدایت #ایمانی_بصیرت #QuranAndScience
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

