⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

ہماری نظروں سے اوجھل 95 فیصد کائنات! ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کا وہ معمہ جس نے انسانی علم کے غرور کو خاک میں ملا دیا

ایک پراسرار کائناتی منظر جس میں ڈارک میٹر کو کہکشاؤں کو جکڑے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو کائنات کے اس 95 فیصد مخفی حصے کی عکاسی کرتا ہے جو انسانی آنکھ سے اوجھل ہے

مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

ہماری نظروں سے اوجھل 95 فیصد کائنات! ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کا وہ معمہ جس نے انسانی علم کے غرور کو خاک میں ملا دیا

جب ہم رات کے سناٹے میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں، تو ستاروں کی کہکشائیں، سیاروں کی چمک اور چاند کی ٹھنڈی روشنی ہمیں ایک ایسی طلسماتی دنیا میں لے جاتی ہے جو بظاہر لامتناہی محسوس ہوتی ہے۔ انسانی تاریخ کے ہزاروں سالوں تک ہم یہی سمجھتے رہے کہ کائنات صرف وہی ہے جو ہمیں نظر آتی ہے۔ قدیم یونانی فلاسفر ہوں یا قرونِ وسطیٰ کے ہیئت داں، سب کا یہی ماننا تھا کہ یہ ستارے اور سیارے ہی کائنات کا کل سرمایہ ہیں۔ لیکن بیسویں صدی کے آخری نصف اور اکیسویں صدی کے آغاز میں جدید سائنس نے ایک ایسا ہوش ربا انکشاف کیا جس نے انسانی علم کے پندار کو خاک میں ملا دیا اور ہمیں یہ بتانے پر مجبور کر دیا کہ ہمارا علم محض ایک سراب ہے۔ جدید فلکیات (Astronomy) اور فزکس نے ریاضیاتی اور تجرباتی بنیادوں پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم جو کچھ بھی دیکھ سکتے ہیں—یعنی زمین، سورج، نظامِ شمسی، اربوں کہکشائیں، اور وہ تمام مادہ جس سے ہم اور آپ بنے ہیں—یہ سب مل کر پوری کائنات کا صرف اور صرف 5 فیصد حصہ ہے۔ باقی 95 فیصد کائنات ایک ایسے "غیب" میں چھپی ہوئی ہے جسے نہ ہماری آنکھیں دیکھ سکتی ہیں اور نہ ہی ہمارے پاس موجود جدید ترین دوربینیں اسے پکڑ سکتی ہیں۔ یہ انکشاف نہ صرف سائنسی دنیا کے لیے ایک معمہ ہے بلکہ یہ ہمیں خالقِ کائنات کی اس صفتِ غیب کی طرف لے جاتا ہے جس کا تذکرہ قرآنِ مجید نے آج سے چودہ سو سال پہلے کر دیا تھا۔ یہ حقیقت ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کا ڈھانچہ صرف اس مادے پر قائم نہیں ہے جسے ہم مائیکرو اسکوپ یا ٹیلی اسکوپ سے دیکھ سکتے ہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک غیر مرئی نظام (Invisible System) کارفرما ہے۔

اب یہاں ایک نہایت اہم اور منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کائنات کا یہ 95 فیصد حصہ نظر ہی نہیں آتا، تو پھر سائنسدانوں نے اسے ماپا کیسے؟ اور وہ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ 95 فیصد ہی ہے؟ اس کا جواب سائنس کے اس بنیادی اصول میں چھپا ہے کہ ہم کسی چیز کو صرف دیکھ کر نہیں بلکہ اس کے "اثرات" (Effects) سے بھی پہچانتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم ہوا کو نہیں دیکھ سکتے، لیکن درختوں کے پتوں کو ہلتا دیکھ کر اس کی موجودگی اور اس کی طاقت کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ ڈارک میٹر (Dark Matter) کو پہچاننے کے لیے ماہرِ فلکیات ویرا روبن نے 1970 کی دہائی میں کہکشاؤں کی گردش کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ کہکشاؤں کے کناروں پر موجود ستارے اتنی ہی تیزی سے گھوم رہے ہیں جتنی تیزی سے مرکز کے قریبی ستارے۔ نیوٹن کے قوانین کے مطابق کناروں کے ستاروں کو سست ہونا چاہیے تھا، ورنہ وہ کہکشاں سے باہر نکل جاتے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہاں کوئی ایسی "پوشیدہ چیز" موجود ہے جو اپنی کششِ ثقل (Gravity) کے ذریعے ان ستاروں کو جکڑے ہوئے ہے۔ جب ماہرین نے حساب لگایا کہ کہکشاؤں کو بکھرنے سے بچانے کے لیے کتنے مادے کی ضرورت ہے، تو معلوم ہوا کہ نظر آنے والا مادہ تو اس کا ایک معمولی حصہ ہے، جبکہ تقریباً 27 فیصد حصہ ایسا "پوشیدہ مادہ" ہے جس کی گریویٹی تو محسوس ہوتی ہے مگر وہ نظر نہیں آتا۔ اگر یہ ڈارک میٹر نہ ہوتا تو کہکشائیں ایک گھومتے ہوئے لٹو کی طرح اپنے ستاروں کو فضا میں بکھیر دیتیں، مگر کوئی غیر مرئی ہاتھ انہیں تھامے ہوئے ہے۔

اسی طرح 95 فیصد کائنات کے دوسرے بڑے حصے یعنی ڈارک انرجی (Dark Energy) کا اندازہ 1990 کی دہائی میں ستاروں کے دھماکوں (Supernovae) کے مشاہدے سے لگایا گیا۔ سائنسدانوں نے دیکھا کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کے پھیلنے کی رفتار وقت کے ساتھ تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ کہکشائیں ایک دوسرے سے اتنی تیزی سے دور بھاگ رہی ہیں کہ جیسے کوئی پوشیدہ قوت انہیں باہر کی طرف دھکیل رہی ہو۔ اس رفتار اور اس پھیلاؤ کے لیے جتنی توانائی کی ضرورت تھی، جب اس کا ریاضیاتی حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ کائنات کا تقریباً 68 فیصد حصہ اسی پوشیدہ توانائی پر مشتمل ہے۔ مزید برآں، کائنات کی پیدائش کے وقت کی بچی ہوئی شعاعوں، جنہیں "کاسمک مائیکرو ویو بیک گراؤنڈ" (CMB) کہا جاتا ہے، کے مطالعے سے بھی ان فیصدوں کی تصدیق ہوئی۔ ان شعاعوں کے نقشے نے کائنات کے کل وزن اور توانائی کا جو حساب دیا، وہ 5 فیصد مرئی مادے، 27 فیصد ڈارک میٹر اور 68 فیصد ڈارک انرجی پر آ کر ہی مکمل ہوتا ہے۔ یوں ریاضی اور مشاہدے کے باہمی اشتراک نے اس 95 فیصد پوشیدہ کائنات کا سراغ لگایا۔ یہ پیمائشیں اتنی دقیق ہیں کہ جدید کاسمولوجی (Cosmology) انہیں ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر قبول کرتی ہے۔

قرآنِ حکیم کی پہلی ہی سورہ، سورہ البقرہ کا آغاز جس بنیادی صفت سے ہوتا ہے، وہ "ایمان بالغیب" ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کی پہچان ہی یہ بتاتا ہے کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ۝

(ترجمہ: (وہ لوگ) جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔) — (سورۃ البقرہ: 3)

جدید سائنس کی یہ دریافت کہ 95 فیصد کائنات نظر نہ آنے والی حقیقتوں پر مبنی ہے، دراصل قرآن کے اس "غیب" کے تصور کے لیے ایک بہت بڑا علمی سہارا بن کر ابھری ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ڈارک میٹر ہی وہ غیب ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے، بلکہ سائنسی ترقی نے ہمیں یہ فہم عطا کیا ہے کہ کائنات میں ایسی حقیقتوں کا وجود ممکن ہے جو ہماری مادی حسوں (Senses) سے باہر ہوں۔ جب ایک سائنسدان یہ مانتا ہے کہ کائنات کا 95 فیصد حصہ نظر نہ آنے کے باوجود موجود ہے، تو وہ لاشعوری طور پر غیب کی اس حقیقت کا اعتراف کر رہا ہوتا ہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ دیا تھا۔ یہ دریافت ہمیں سکھاتی ہے کہ جو کچھ نظر نہیں آ رہا، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ موجود نہیں ہے۔ جس طرح ڈارک میٹر کے اثرات کہکشاؤں کی گردش میں نظر آتے ہیں، اسی طرح خالقِ کائنات کی قدرت کے اثرات پوری کائنات کے نظام میں نمایاں ہیں، چاہے وہ خود ہماری آنکھوں سے اوجھل ہی کیوں نہ ہو۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ایک مقام پر یہ فرمانا نہایت غور طلب ہے:

فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ ۝ وَمَا لَا تُبْصِرُونَ ۝

(ترجمہ: پس میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو، اور ان کی بھی جو تم نہیں دیکھتے۔) — (سورۃ الحاقہ: 38-39)

یہ آیات واضح طور پر کائنات کو دو حصوں میں تقسیم کر رہی ہیں: مرئی (Visible) اور غیر مرئی (Invisible)۔ آج کی سائنس نے ان آیات کی حقانیت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ کائنات کا ایک بہت بڑا حصہ واقعی "ما لا تبصرون" (جسے تم نہیں دیکھتے) کے زمرے میں آتا ہے۔ چودہ سو سال پہلے کے انسان کے لیے یہ تصور شاید بہت مشکل رہا ہو، لیکن آج جب ہم ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی اصطلاحات سنتے ہیں، تو ہمیں قرآن کے اس حکیمانہ اسلوب کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ اشارہ ہمیں یہ فہم دیتا ہے کہ کائنات کی حقیقتیں محض ہمارے مشاہدے کی مرہونِ منت نہیں ہیں، بلکہ کائنات کی وسعتیں انسانی تخیل سے کہیں زیادہ عمیق ہیں۔ ڈارک انرجی کا معمہ اس سے بھی زیادہ پراسرار ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ کائنات ساکن ہے یا شاید اس کے پھیلنے کی رفتار کم ہو رہی ہے۔ لیکن 1990 کی دہائی میں سپر نووا (ستاروں کے دھماکوں) کے مشاہدات سے معلوم ہوا کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کے پھیلنے کی رفتار وقت کے ساتھ تیز تر ہو رہی ہے۔ اس پھیلاؤ کی وجہ "ڈارک انرجی" کو قرار دیا گیا۔ یہ ایک ایسی توانائی ہے جو خلا (Space) کے ذرے ذرے میں موجود ہے اور کائنات کو باہر کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یہ سائنسی حقیقت بھی قرآن کے ایک اور عظیم اشارے کی تصدیق کرتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ۝

(ترجمہ: اور آسمان کو ہم نے (اپنی) قدرت سے بنایا اور یقیناً ہم (اسے) وسعت دینے والے ہیں۔) — (سورۃ الذاریات: 47)

یہاں "لموسعون" (ہم وسعت دینے والے ہیں) کا لفظ کائنات کے مسلسل پھیلاؤ کی طرف ایک درخشاں اشارہ ہے۔ سائنس نے ڈارک انرجی کو اس پھیلاؤ کا انجن قرار دیا ہے، جبکہ قرآن نے اسے خالق کی قدرت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ہمیں آج سائنسی ترقی کے بعد یہ فہم حاصل ہو رہا ہے کہ یہ پھیلاؤ کتنا وسیع اور طاقتور ہے۔ یہ دریافت ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کوئی جامد چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک متحرک اور مسلسل پھیلتی ہوئی حقیقت ہے جس کے پیچھے ڈارک انرجی جیسی غیر مرئی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ قرآن کے ان اشارات کا ادراک آج کی جدید کاسمولوجی (Cosmology) کے بغیر ممکن نہ تھا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کا متن ہر دور کے سائنسی ارتقاء کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ کائنات کا یہ 95 فیصد مخفی حصہ انسانی عقل کے لیے عاجزی کا ایک بہت بڑا سبق ہے۔ ہم خود کو کتنا ہی بڑا کیوں نہ سمجھ لیں، ہمارا علم کائنات کی حقیقت کے صرف 5 فیصد حصے تک محدود ہے۔ ہم ڈارک میٹر کو نہیں جانتے، ہم ڈارک انرجی کے ماخذ سے بے خبر ہیں، ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ دونوں چیزیں آپس میں کیسے تعامل کرتی ہیں۔ سائنسی دنیا کے بڑے بڑے نام یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہم جتنا زیادہ کائنات کو جانتے ہیں، اتنا ہی ہمیں اپنی جہالت کا احساس ہوتا ہے۔ یہ احساس ہمیں اس عظیم خالق کے سامنے سرنگوں کر دیتا ہے جس کے پاس تمام غیب کی کنجیاں ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا ۝

(ترجمہ: اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے، اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے۔) — (سورۃ الانعام: 59)

 
کہکشاؤں کے ایک دوسرے سے دور ہونے اور کائنات کی مسلسل وسعت کو ظاہر کرتی ہوئی ایک علمی تصویر جس میں غیر مرئی ڈارک انرجی کے اثر کو واضح کیا گیا ہے


جب سائنس 95 فیصد کائنات کے بارے میں اپنی لاعلمی کا اعتراف کرتی ہے، تو وہ دراصل اسی قرآنی حقیقت کی گواہی دے رہی ہوتی ہے کہ علمِ غیب صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ انسانی کوششیں صرف اس حد تک کامیاب ہو سکتی ہیں جہاں تک اللہ نے اسے اجازت دی ہو۔ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کا وجود ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات محض مادہ پرستی کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم روحانی اور غیر مادی نظام بھی موجود ہو سکتا ہے جس کا احاطہ کرنا انسانی بس میں نہیں ہے۔ ناقدین اور ملحدین اکثر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ "جو چیز نظر نہیں آتی اس پر یقین کیوں کیا جائے؟" ڈارک میٹر کی دریافت ان کے اس اعتراض کا بہترین سائنسی جواب ہے۔ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ کسی چیز کا نظر نہ آنا اس کے عدمِ وجود کی دلیل نہیں ہے۔ اگر کششِ ثقل کے اثرات سے ڈارک میٹر کو مانا جا سکتا ہے، تو کائنات کے اس قدر منظم اور مربوط ڈیزائن سے ایک "ذہین خالق" (Intelligent Creator) کا وجود کیوں نہیں مانا جا سکتا؟ کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کا ایک خالق ہے، چاہے وہ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہی کیوں نہ ہو۔ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کا معمہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ "غیب" محض ایک مذہبی اصطلاح نہیں بلکہ ایک کائناتی حقیقت ہے جس کا اعتراف آج کی جدید ترین لیبارٹریاں بھی کر رہی ہیں۔

خلاصہ یہ کہ کائنات کا 95 فیصد حصہ جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے، ہمیں خالقِ حقیقی کی عظمت اور انسانی علم کی محدودیت کا احساس دلاتا ہے۔ ڈارک میٹر کا "کائناتی گوند" ہونا اور ڈارک انرجی کا "کائناتی پھیلاؤ" پیدا کرنا، یہ سب اللہ کی ان نشانیوں میں سے ہیں جو اہل عقل کے لیے ہدایت کا راستہ کھولتی ہیں۔ قرآنِ مجید نے ان حقائق کی طرف جو اشارات دیے تھے، ان کا فہم ہمیں آج سائنسی ترقی کے بعد ہو رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کی لکھی ہوئی نہیں بلکہ اس رب کا کلام ہے جو آسمانوں اور زمین کے تمام چھپے ہوئے بھیدوں سے واقف ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کائنات کے اس "غیب" پر غور کریں اور اپنے ایمان کو ان سائنسی دریافتوں کے ذریعے جلا بخشیں، کیونکہ جتنا زیادہ ہم کائنات کی گہرائیوں میں اتریں گے، اتنا ہی ہمیں اپنے رب کی پہچان حاصل ہوگی۔ ہمارا علم سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہے، اور یہ قطرہ ہی ہمیں اس لامتناہی سمندر کے مالک تک پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ جدید سائنس آج جس مقام پر پہنچی ہے، وہاں سے اسے صرف ایک ہی راستہ نظر آتا ہے اور وہ ہے ایک قادرِ مطلق ہستی کا اعتراف۔ یہ 95 فیصد پوشیدہ کائنات دراصل ایک پکار ہے کہ اے انسان! اپنی چھوٹی سی عقل پر ناز نہ کر بلکہ اس رب کی طرف رجوع کر جس نے تجھے اور اس پوری کائنات کو عدم سے وجود بخشا۔

واللہ اعلم بالصواب۔


حوالہ جات:
[1] NASA Science - Dark Energy, Dark Matter (Official Measurement Data).
[2] The 4 Percent Universe: Dark Matter, Dark Energy, and the Race to Discover the Rest of Reality (By Richard Panek).
[3] Vera Rubin and the Galaxy Rotation Problem (Discovery of Missing Mass).
[4] قرآنِ حکیم: سورۃ البقرہ (3)، سورۃ الحاقہ (38-39)، سورۃ الذاریات (47)، سورۃ الانعام (59)۔
[5] تفسیرِ تفہیم القرآن اور معارف القرآن (غیب اور کائنات کے پھیلاؤ کے حوالے سے)۔
#ڈارک_میٹر #ڈارک_انرجی #کائنات_کے_راز #غیب_پر_ایمان #قرآن_اور_سائنس #معجزات_قرآن #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #طارق_اقبال_سوہدروی #کائناتی_پھیلاؤ #ایمان_بالغیب #فلکیات #DarkMatter #DarkEnergy

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال