⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

زمین کی مقناطیسی ڈھال: "سَقْفًا مَّحْفُوظًا" (ایک محفوظ چھت) کی سائنسی تفسیر

ایک مکمل گرافک تصویر جس میں زمین کی مقناطیسی ڈھال (Magnetosphere) کو سورج کے شمسی طوفان اور برقیاتی ذرات کو زمین کے اتموسفیر سے دور کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ تصویر قرآن کے تصور 'محفوظ چھت' (سَقْفًا مَّمحْفُوظًا) کی سائنسی وضاحت ہے

 



زمین کی مقناطیسی ڈھال: "سَقْفًا مَّحْفُوظًا" (ایک محفوظ چھت) کی سائنسی تفسیر

(جدید تحقیق: زمین کا حفاظتی نظام 4.2 ارب سال سے فعال ہے)

ہم ایک ایسے سیارے پر رہتے ہیں جو ہر لمحہ خلا سے آنے والے شدید خطرات کی زد میں ہے، لیکن ہم اس سے بے خبر اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ سورج، جو ہماری زندگی کا منبع ہے، اسی پر جاری انتہائی طاقتور ایٹمی عمل (Fusion Reaction) کے نتیجے میں ہر لمحے اربوں مہلک تابکار ذرات (Solar Winds) زمین کی طرف پھینکتا ہے۔ اگر یہ ذرات سیدھے زمین تک پہنچ جائیں تو ہمارے کرۂ ہوائی (Atmosphere) کو ادھیڑ کر رکھ دیں اور زمین پر موجود تمام پانی بھاپ بن کر اڑ جائے، جیسا کہ مریخ کے ساتھ ہوا۔

قرآنی حقیقت: محفوظ چھت

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آسمان/خلا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اپنی ایک عظیم نعمت کا ذکر فرمایا ہے:

وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا ۖ وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ

ترجمہ: "اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا، مگر وہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔" — (سورۃ الأنبياء: 32)

صدیوں تک مفسرین اس "محفوظ چھت" سے مراد ظاہری آسمان یا کرۂ ہوائی لیتے رہے۔ لیکن جدید سائنس نے انکشاف کیا ہے کہ ہمارے کرۂ ہوائی سے اوپر خلا میں ایک اور غیر مرئی (Invisible) چھت موجود ہے جو حقیقی معنوں میں ہماری "محافظ" ہے، جسے ہم "زمینی مقناطیسی میدان" (Earth's Magnetic Field) کہتے ہیں۔

سائنسی تفصیلات: یہ ڈھال کیسے کام کرتی ہے؟

جدید سائنس بتاتی ہے کہ زمین کے مرکز (Core) میں پگھلا ہوا لوہا اور نکل (Nickel) انتہائی گرم حالت میں گردش کر رہا ہے۔ زمین کی اپنی گردش کی وجہ سے یہ پگھلا ہوا دھات ایک بہت بڑے برقی جنریٹر (Dynamo) کا کام کرتا ہے، جس سے طاقتور برقی رو اور مقناطیسی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لہریں زمین سے باہر نکل کر خلا میں ہزاروں میل دور تک ایک حفاظتی غلاف بنا لیتی ہیں جسے "میگنیٹو سفیئر" (Magnetosphere) کہتے ہیں۔

جب سورج سے مہلک تابکار آندھیاں آتی ہیں، تو یہ مقناطیسی ڈھال ان ذرات کو زمین کی فضا میں داخل ہونے سے پہلے ہی خلا میں موڑ دیتی ہے اور یوں زمین پر زندگی محفوظ رہتی ہے [1]۔ یونیورسٹی آف روچسٹر کے ماہر ارضیاتی طبعیات جان ٹارڈُنو (John Tarduno) کے مطابق: "اس مقناطیسی قوت کے بغیر زمین شاید ایک بانجھ سیارہ ہوتی" [2]۔

نئی تحقیق: اندازوں سے کہیں قدیم حفاظتی نظام

سائنسدانوں کے درمیان طویل عرصے سے بحث جاری تھی کہ زمین کے اس جنریٹر نے کب کام شروع کیا۔ پہلے یہ اندازہ تھا کہ یہ نظام ساڑھے تین ارب سال پہلے شروع ہوا۔ تاہم، حال ہی میں تحقیقی جریدے ’سائنس‘ (Science) میں شائع ہونے والی ایک اہم تحقیق نے پرانے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے ہیں۔ محققین نے مغربی آسٹریلیا کی "جیک ہلز" سے ملنے والے زمین کے قدیم ترین "زرکون قلموں" (Zircon Crystals) کے اندر محفوظ مقناطیسی ذرات کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ قلمیں 3.2 سے 4.2 ارب سال پرانی ہیں۔ اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ زمین کا مقناطیسی میدان کم از کم 4.2 ارب سال (4.2 Billion Years) پہلے اپنا کام شروع کر چکا تھا [3]۔

ابتدائی خطرات اور اللہ کی منصوبہ بندی

یہ نئی تاریخ (4.2 ارب سال) انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب زمین بالکل نئی نئی بنی تھی۔ تحقیق کے سربراہ جان ٹارڈُنو کے مطابق، چار ارب سال پہلے سورج کی تابکار ہوائیں آج کی نسبت 10 گنا زیادہ شدید تھیں [4]۔ غور کیجئے! جب خطرہ دس گنا زیادہ تھا، عین اسی وقت اللہ تعالیٰ نے زمین کا حفاظتی نظام بھی فعال کر دیا تھا۔ اگر اس ابتدائی دور میں یہ مقناطیسی ڈھال موجود نہ ہوتی، تو شدید شمسی ہواؤں کے باعث زمین پر کبھی کرۂ ہوائی اور سمندر تشکیل ہی نہ پا سکتے اور زندگی کا آغاز ناممکن ہوتا۔

مریخ کی عبرت ناک مثال

اس حفاظتی چھت کی اہمیت سمجھنے کے لیے ہمارے پڑوسی سیارے مریخ (Mars) کی مثال کافی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق نظام شمسی کے آغاز میں مریخ پر بھی گھنا کرۂ ہوائی اور سمندر موجود تھے اور اس کا بھی مقناطیسی میدان تھا۔ لیکن تقریباً 4 ارب سال پہلے، کسی وجہ سے مریخ کا اندرونی ڈائنمو بند ہو گیا اور اس نے اپنی مقناطیسی قوت کھو دی۔ نتیجہ کیا نکلا؟ سورج سے آنے والی طاقتور تابکار ہواؤں نے اس کا کرۂ ہوائی چھیل کر رکھ دیا، پانی کے مالیکیول خلا میں بکھر گئے اور آج مریخ ایک مردہ اور بنجر سیارہ ہے [5]۔

 

ایک معلوماتی گرافک جو زمین کے مرکز میں مقناطیسی قوت کی پیدائش اور مریخ کی بنجر سطح کا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے

خلاصہ اور دعوتِ فکر

زمین کے پیٹ میں ابلتے ہوئے لوہے سے لے کر خلا میں پھیلی ہوئی مقناطیسی لہروں تک، یہ ایک ایسا مربوط اور پیچیدہ نظام ہے جو اربوں سالوں سے خودکار طریقے سے ہماری حفاظت کر رہا ہے۔ کیا یہ سب خود بخود ہو گیا؟ جدید سائنس جب ان حفاظتی تہوں سے پردہ اٹھاتی ہے، تو ایک سلیم الفطرت انسان کا دل پکار اٹھتا ہے کہ واقعی یہ کائنات اندھے بہرے مادے کا کھیل نہیں، بلکہ ایک علیم و حکیم رب کی تخلیق ہے جس نے ہمارے لیے آسمان کو ایک "محفوظ چھت" بنایا۔

"تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟"


حوالہ جات (References):

  • [1] NASA Science: "Earth's Magnetosphere: Protecting Our Planet".
  • [2] Tarduno, J. A., et al. (University of Rochester statement on geodynamo research).
  • [3] Tarduno, J. A., et al. (2015). "A Hadean to Paleoarchean geodynamo recorded by single zircon crystals". Science.
  • [4] Ibid. (Study on initial solar wind intensity).
  • [5] NASA's MAVEN Mission revelations on Mars' atmosphere loss.

#QuranAndScience #EarthMagneticField #ProtectedCeiling #سقف_محفوظ #Geodynamo #ScienceFacts #FaithAndReason #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #تحقیقی_مطالعہ

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال