قرآن اور بائبل کے متن کی حفاظت کا تقابلی مطالعہ
(کیا ہمارے ہاتھوں میں موجود آسمانی کتابیں وہی ہیں جو نازل ہوئی تھیں؟)
بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے وقتاً فوقتاً کتابیں نازل فرمائیں، جن میں تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید شامل ہیں۔ تاہم، ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ پچھلی کتابیں اپنی اصل شکل میں محفوظ نہیں رہیں، ان میں انسانی تحریفات، کمی اور بیشی واقع ہو چکی ہے، جبکہ قرآن مجید اللہ کا آخری کلام ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہے۔ یہ دعویٰ محض جذباتی نہیں، بلکہ ٹھوس تاریخی اور علمی بنیادوں پر قائم ہے۔ زیرِ نظر مقالے میں ہم قرآن اور موجودہ بائبل (عہد نامہ قدیم و جدید) کے متن کی تاریخ کا تقابلی جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ کون سی کتاب تاریخی تنقید (Historical Criticism) کے معیار پر پورا اترتی ہے۔
حصہ اول: قرآن مجید — محفوظ ترین الہامی کتاب
قرآن مجید کی حفاظت کا معاملہ تاریخِ انسانی کا ایک منفرد واقعہ ہے۔ اس کی حفاظت صرف لکھنے پر منحصر نہیں تھی، بلکہ اس کا بنیادی انحصار "زبانی یادداشت" اور "تواتر" پر تھا۔
1. عہدِ نبوی ﷺ میں کتابت اور حفظ:
قرآن مجید 23 سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا۔ جیسے ہی کوئی آیت نازل ہوتی، نبی کریم ﷺ دو کام فوراً کرتے:
- حفظ: آپ ﷺ خود اسے یاد کرتے اور صحابہ کرامؓ کو یاد کرواتے۔ عربوں کا حافظہ افسانوی حد تک تیز تھا، چنانچہ سینکڑوں صحابہ نے زندگی بھر میں پورا قرآن حفظ کر لیا۔
- کتابت: آپ ﷺ نے تقریباً 40 کاتبانِ وحی مقرر کر رکھے تھے (جن میں حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت علیؓ، حضرت معاویہؓ وغیرہ شامل تھے)۔ وحی نازل ہوتے ہی اسے چمڑے، ہڈیوں یا پتھروں پر لکھوا لیا جاتا اور نبی کریم ﷺ خود بتا دیتے کہ اس آیت کو کس سورت میں کہاں رکھنا ہے [1]۔
وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ
ترجمہ: "اور آپ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے اسے لکھتے تھے، ورنہ یہ باطل پرست ضرور شک میں پڑ جاتے۔" — (سورۃ العنکبوت: 48) [6]
گویا نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ہی پورا قرآن "لکھا ہوا" بھی موجود تھا اور سینکڑوں "سینوں میں محفوظ" بھی تھا، لیکن یہ ایک مصحف (کتابی شکل) میں یکجا نہیں تھا۔
2. عہدِ صدیقیؓ میں جمعِ قرآن (The Compilation):
جنگِ یمامہ (12 ہجری) میں جب بڑی تعداد میں حفاظِ کرام شہید ہوئے تو حضرت عمرؓ کو تشویش ہوئی کہ کہیں قرآن کا کوئی حصہ ضائع نہ ہو جائے۔ ان کے مشورے سے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کو قرآن کو ایک کتابی شکل میں جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ حضرت زیدؓ نے انتہائی کڑا معیار اپنایا۔ وہ صرف اپنے حافظے پر انحصار نہیں کرتے تھے، بلکہ ہر آیت کے لیے دو گواہ طلب کرتے تھے کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ کے سامنے لکھی گئی تھی۔ اس طرح جو قرآن نبی ﷺ کے زمانے میں مختلف ٹکڑوں پر لکھا تھا، اسے ایک جگہ جمع کر دیا گیا [2]۔
3. عہدِ عثمانیؓ میں توحیدِ مصاحف (Standardization):
حضرت عثمان غنیؓ کے دور تک اسلام عرب سے نکل کر عجم تک پھیل چکا تھا۔ مختلف علاقوں کے لوگ قرآن کو عربی کے مختلف لہجوں (لغات) میں پڑھ رہے تھے، جس سے اختلاف کا خطرہ پیدا ہوا۔ حضرت عثمانؓ نے حضرت حفصہؓ سے حضرت ابوبکرؓ کے دور کا تیار کردہ اصلی نسخہ منگوایا اور اس کی متعدد نقول (Copies) تیار کروائیں۔ یہ نقول قریش کے معیاری لہجے (جو نبی ﷺ کا لہجہ تھا) کے مطابق تیار کی گئیں اور اسلامی دنیا کے بڑے مراکز میں بھجوا دی گئیں، اور حکم دیا گیا کہ اب اسی معیاری نسخے کی پیروی کی جائے [3]۔
4. حفاظت کی سب سے بڑی دلیل: تواتر (Tawatur)
قرآن کی حفاظت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ کسی ایک یا دو آدمیوں کے ذریعے ہم تک نہیں پہنچا، بلکہ ہر دور میں لاکھوں لوگوں نے اسے لاکھوں لوگوں سے سیکھا اور آگے پہنچایا۔ اسے "تواتر" کہتے ہیں۔ اگر بالفرض دنیا سے قرآن کے تمام لکھے ہوئے نسخے مٹا دیے جائیں، تب بھی لاکھوں حفاظ کے سینوں میں یہ کتاب ایک زبر اور زیر کے فرق کے بغیر محفوظ رہے گی۔
"دنیا میں غالباً کوئی اور کتاب ایسی نہیں جو بارہ صدیوں تک اپنے متن میں اس قدر پاک رہی ہو (کہ اس میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہو)۔" — سر ولیم میور [4]
حصہ دوم: بائبل (عہد نامہ قدیم و جدید) — انسانی تحریف کا شکار
اس کے برعکس جب ہم بائبل کا علمی جائزہ لیتے ہیں تو صورتحال بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ بائبل کوئی ایک کتاب نہیں، بلکہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مقدس کتابوں کا ایک مجموعہ (Library) ہے جو تقریباً 1500 سال کے عرصے میں مختلف نامعلوم مصنفین نے لکھی۔
1. اصل نسخوں (Original Manuscripts) کا فقدان:
بائبل کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کی کسی بھی کتاب کا "اصل نسخہ" آج دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے۔ ہمارے پاس صرف نقلوں کی نقلیں موجود ہیں، جو اصل سے سینکڑوں سال بعد کی ہیں۔ عہد نامہ قدیم (تورات وغیرہ) کے سب سے پرانے مکمل عبرانی نسخے نویں یا دسویں صدی عیسوی کے ہیں، یعنی حضرت موسیٰؑ سے تقریباً 2300 سال بعد کے۔ عہد نامہ جدید (اناجیل) حضرت عیسیٰؑ کے جانے کے 40 سے 70 سال بعد لکھی گئیں، اور وہ بھی ان کی زبان (آرامی) میں نہیں بلکہ یونانی میں۔ ان کے بھی اصل نسخے موجود نہیں، صرف چوتھی صدی عیسوی کی یونانی نقلیں ملتی ہیں۔
2. انسانی تصنیف کا اعتراف:
قرآن شروع سے آخر تک اللہ کا براہ راست کلام ہے۔ اس کے برعکس بائبل کے مصنفین خود اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اپنی یادداشت یا تحقیق سے لکھ رہے ہیں۔
انجیلِ لوقا کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:
"چونکہ بہتوں نے اس پر کمر باندھی ہے کہ جو باتیں ہمارے درمیان واقع ہوئیں ان کو ترتیب وار بیان کریں۔... اس لئے اے معزز تھیُفِلس! میں نے بھی مناسب جانا کہ سب باتوں کا شروع سے ٹھیک ٹھیک کھوج لگا کر تیرے لئے ترتیب وار لکھوں۔" (لوقا 1: 1-4) [5]
3. نسخوں میں ہزاروں اختلافات (Textual Variants):
چونکہ اصل نسخے موجود نہیں تھے، اس لیے صدیوں تک کاتب جب ہاتھوں سے نقلیں تیار کرتے تھے تو ان سے بے شمار غلطیاں ہوئیں۔ بائبل کے متن کے عالمی ماہر، بارٹ ڈی ایرمین لکھتے ہیں: "ہمارے پاس عہد نامہ جدید کے جو قدیم ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخے موجود ہیں، ان میں اختلافات کی تعداد عہد نامہ جدید کے کل الفاظ کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔" [6]
4. بائبل کیا ہے؟ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کا جھگڑا:
بائبل کے غیر محفوظ ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آج بھی عیسائی دنیا اس بات پر متفق نہیں کہ کون سی کتابیں بائبل کا حصہ ہیں۔ پروٹسٹنٹ بائبل میں 66 کتابیں ہیں، جبکہ کیتھولک بائبل میں 73 کتابیں ہیں۔ پروٹسٹنٹ ان 7 اضافی کتابوں کو جعلی مانتے ہیں، جبکہ کیتھولک انہیں خدا کا کلام مانتے ہیں۔ یہ اختلاف ثابت کرتا ہے کہ "بائبل" نام کی کوئی ایک محفوظ اور متفقہ کتاب وجود ہی نہیں رکھتی [7]۔
حتمی نتیجہ
اس تقابلی مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید اپنے نزول کے پہلے دن سے لے کر آج تک تحریری اور زبانی دونوں طریقوں سے ایک ایک حرف کے ساتھ محفوظ ہے۔ اس کے برعکس موجودہ بائبل نامعلوم افراد کی لکھی ہوئی یادداشتوں کا مجموعہ ہے جس کے اصل نسخے گم ہو چکے ہیں۔ لہٰذا، علمی اور تاریخی اعتبار سے صرف قرآن مجید ہی وہ واحد کتاب ہے جو "کلامِ الٰہی" کہلانے کی مستحق ہے۔
حوالہ جات اور مصادر (References & Sources):
اسلامی مآخذ:
- صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب جَمْعِ الْقُرْآنِ۔ (حدیث نمبر: 4986)۔
- ایضاً۔ (حضرت زید بن ثابتؓ کا بیان کہ انہوں نے کیسے قرآن جمع کیا)۔
- صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب نُزُولِ الْقُرْآنِ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ۔ (حدیث نمبر: 4987)۔
مغربی/غیر مسلم مآخذ:
- Muir, William. The Life of Mahomet. Vol. 1. London: Smith, Elder and Co., 1861. p. xxvii.
- دی بائبل سوسائٹی آف انڈیا (اردو ترجمہ)، عہد نامہ جدید، انجیلِ لوقا، باب 1، آیات 1 تا 4۔
- Ehrman, Bart D. Misquoting Jesus: The Story Behind Who Changed the New Testament and Why. HarperSanFrancisco, 2005. p. 90.
- Catholic Encyclopedia, entry on "Canon of the Old Testament".
#قرآن_اور_بائبل #تحفظ_قرآن #تحریف_بائبل #تقابلی_مطالعہ #اسلام_اور_عیسائیت #حق_و_باطل #تاریخ_مصحف #کلام_الہی #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #QuranVsBible #TextualPreservation #BibleCorruption #ComparativeReligion #DivineScripture #BartEhrman
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

