⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

زمین کے گرد سات حفاظتی غلاف: "سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا" کا مشاہداتی اعجاز

 

ایک خلائی منظر جو زمین کے گرد موجود سات مختلف تہوں اور ان کے حفاظتی افعال کو بصری طور پر پیش کرتا ہے

زمین کے گرد سات حفاظتی غلاف: "سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا" کا مشاہداتی اعجاز

کائنات کا خالق جب اپنی کتاب میں کوئی لفظ استعمال فرماتا ہے، تو اس کے معانی کی وسعت انسانی عقل کے ہر دور کا احاطہ کرتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی تخلیق کے حوالے سے دو ایسی صفات بیان فرمائی ہیں جو جدید سائنس کے طالب علموں کے لیے غور و فکر کے نئے در وا کرتی ہیں:

"سَقْفًا مَّحْفُوظًا" (ایک محفوظ چھت) — [سورہ الانبیاء: 32]

"سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا" (سات آسمان، تہہ در تہہ/پرت در پرت) — [سورہ الملک: 3]

الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ

ترجمہ: "جس نے سات آسمان تہہ در تہہ پیدا کیے۔ تم رحمان کی تخلیق میں کوئی بے قاعدگی نہیں دیکھو گے۔" — (سورہ الملک: 3)

جدید خلائی سائنس اور موسمیات (Meteorology) کے مشاہدات بتاتی ہیں کہ ہماری زمین محض خلا میں معلق ایک گولا نہیں ہے، بلکہ یہ سات ایسی حفاظتی تہوں (Layers) میں لپٹی ہوئی ہے جو بالکل قرآن کے بیان کردہ لفظ "طِبَاقًا" (Layer upon Layer) کی عملی تصویر پیش کرتی ہیں [1]۔

زمین کی سات مشاہداتی تہیں اور ان کے حفاظتی کام

سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ زمین کا کرۂ ہوائی (Atmosphere) درجہ حرارت، گیسوں کے تناسب اور افعال کی بنیاد پر مختلف تہوں میں تقسیم ہے۔ یہ تہیں مل کر ایک ایسی "محفوظ چھت" بناتی ہیں جس کے بغیر زمین پر زندگی کا ایک لمحہ بھی باقی رہنا ممکن نہیں:

  • ٹروپوسفیئر (Troposphere): یہ زندگی کی بنیادی تہہ ہے جہاں بادل بنتے ہیں اور بارش ہوتی ہے۔
  • سٹریٹوسفیئر (Stratosphere): اسی میں "اوزون کی تہہ" موجود ہے جو سورج کی مہلک الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں کو جذب کر کے ہمیں کینسر جیسی بیماریوں سے بچاتی ہے [2]۔
  • میزوسفیئر (Mesosphere): یہ وہ تہہ ہے جہاں خلا سے آنے والے شہابِ ثاقب (Meteors) رگڑ کھا کر جل جاتے ہیں، ورنہ زمین پر روزانہ پتھراؤ ہوتا۔
  • تھرموسفیئر (Thermosphere): یہ تہہ سورج کی خطرناک ایکس ریز (X-rays) کو روکتی ہے۔
  • آئنوسفیئر (Ionosphere): یہ تہہ ریڈیو لہروں کو زمین کی طرف واپس منعکس (Reflect) کرتی ہے، جس سے ہمارا عالمی مواصلاتی نظام ممکن ہوتا ہے [3]۔
  • ایگزوسفیئر (Exosphere): یہ کرۂ ہوائی کی بیرونی حد ہے جہاں ہوا انتہائی لطیف ہو جاتی ہے۔
  • میگنیٹو سفیئر (Magnetosphere): یہ زمین کی سب سے بیرونی مقناطیسی ڈھال ہے جو سورج سے آنے والے خطرناک تابکار ذرات (Solar Wind) کو خلا میں ہی موڑ دیتی ہے [4]۔

 

ایک معلوماتی گرافک جو اوزون، میگنیٹو سفیئر اور دیگر تہوں کے ذریعے زمین کی حفاظت کے نظام کو واضح کرتا ہے۔

وسعتِ مفہوم: مادی فضا اور کائناتی آسمان

یہاں یہ نکتہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ قرآنی اصطلاح "سماء" (آسمان) ایک کثیر الجہتی (Multi-dimensional) حقیقت ہے:

  • مادی پہلو: لغتِ عرب کے مطابق ہر وہ چیز جو انسان کے اوپر ہو اور اسے سایہ فراہم کرے، "سماء" کہلاتی ہے۔ اس لحاظ سے زمین کی یہ سات فضائی تہیں پہلا اور مشاہداتی آسمان ہیں جو "محفوظ چھت" کا کام کرتی ہیں۔
  • کائناتی پہلو: قرآن کے مطابق تمام ستارے اور کہکشائیں "آسمانِ دنیا" (پہلے آسمان) کی زینت ہیں [5]۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کی یہ سات تہیں اس عظیم الشان کائناتی نظام کا ایک ابتدائی جزو (Part) اور مشاہداتی نمونہ ہیں۔
  • غیبی پہلو: سات آسمان درحقیقت سات الگ الگ ابعاد (Dimensions) اور کائناتیں ہیں جن کی مکمل حقیقت اللہ ہی جانتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا سفرِ معراج ان مادی حدود سے نکل کر ان غیبی آسمانوں تک کا سفر تھا جو اس مادی کائنات سے بھی ورا ہیں۔

نتیجہ

زمین کی یہ سات فضائی تہیں اللہ تعالیٰ کی اس تخلیقی حکمت کی ایک چھوٹی سی جھلک ہیں جو ہمیں بتاتی ہے کہ اس رب نے ایٹم کے الیکٹران سے لے کر آسمان کی وسعتوں تک، ہر چیز کو "تہہ در تہہ" (Layered Structure) میں پیدا فرمایا ہے۔ یہ مشاہداتی تہیں دراصل اس عظیم "سَبْعَ سَمَاوَاتٍ" کے نظام کا وہ مادی حصہ ہیں جو ہماری بقا کے لیے براہِ راست ذمہ دار بنایا گیا ہے۔


وضاحتی نوٹ: ہماری پہلی پوسٹ کے کچھ الفاظ کی وجہ سے اس کے مفہوم پر کچھ لوگوں نے غلط تاثر لیا تھا۔ چناچہ ہم نے اپنی اس پوسٹ کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے تاکہ کوئی بھی "سات آسمان" کے مفہوم کو غلط نہ سمجھے، اور اس کی کائناتی و غیبی وسعتوں کا درست ادراک ہو سکے۔ خاص طور پر غیر مسلم لوگ یا معترضین اس علمی نکتے کو بنیاد بنا کر کسی قسم کا منفی پروپیگنڈا نہ کر سکیں، اس لیے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ فضائی تہیں اس عظیم کائناتی نظام کا صرف ایک مادی "جزو" ہیں، کل نہیں۔

حوالہ جات (References):

  • [1] راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن (لفظ "سماء" اور "طبق" کی لغوی تشریح)۔
  • [2] NASA Science: "Earth's Atmosphere: The Protective Layers".
  • [3] National Oceanic and Atmospheric Administration (NOAA): "The Ionosphere and its role in communications".
  • [4] ESA (European Space Agency): "The Magnetosphere: Earth's magnetic shield".
  • [5] قرآن مجید، سورہ الصافات، آیت: 6 (آسمانِ دنیا کو ستاروں سے سجانے کا ذکر)۔

#QuranAndScience #SevenHeavens #AtmosphereLayers #ScientificMiracles #FaithAndReason #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #تدبر_قرآن #تحقیقی_مقالہ

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال