زمین کے گرد سات حفاظتی غلاف: "سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا" کا مشاہداتی اعجاز
کائنات کا خالق جب اپنی کتاب میں کوئی لفظ استعمال فرماتا ہے، تو اس کے معانی کی وسعت انسانی عقل کے ہر دور کا احاطہ کرتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی تخلیق کے حوالے سے دو ایسی صفات بیان فرمائی ہیں جو جدید سائنس کے طالب علموں کے لیے غور و فکر کے نئے در وا کرتی ہیں:
"سَقْفًا مَّحْفُوظًا" (ایک محفوظ چھت) — [سورہ الانبیاء: 32]
"سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا" (سات آسمان، تہہ در تہہ/پرت در پرت) — [سورہ الملک: 3]
الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ
ترجمہ: "جس نے سات آسمان تہہ در تہہ پیدا کیے۔ تم رحمان کی تخلیق میں کوئی بے قاعدگی نہیں دیکھو گے۔" — (سورہ الملک: 3)
جدید خلائی سائنس اور موسمیات (Meteorology) کے مشاہدات بتاتی ہیں کہ ہماری زمین محض خلا میں معلق ایک گولا نہیں ہے، بلکہ یہ سات ایسی حفاظتی تہوں (Layers) میں لپٹی ہوئی ہے جو بالکل قرآن کے بیان کردہ لفظ "طِبَاقًا" (Layer upon Layer) کی عملی تصویر پیش کرتی ہیں [1]۔
زمین کی سات مشاہداتی تہیں اور ان کے حفاظتی کام
سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ زمین کا کرۂ ہوائی (Atmosphere) درجہ حرارت، گیسوں کے تناسب اور افعال کی بنیاد پر مختلف تہوں میں تقسیم ہے۔ یہ تہیں مل کر ایک ایسی "محفوظ چھت" بناتی ہیں جس کے بغیر زمین پر زندگی کا ایک لمحہ بھی باقی رہنا ممکن نہیں:
- ٹروپوسفیئر (Troposphere): یہ زندگی کی بنیادی تہہ ہے جہاں بادل بنتے ہیں اور بارش ہوتی ہے۔
- سٹریٹوسفیئر (Stratosphere): اسی میں "اوزون کی تہہ" موجود ہے جو سورج کی مہلک الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں کو جذب کر کے ہمیں کینسر جیسی بیماریوں سے بچاتی ہے [2]۔
- میزوسفیئر (Mesosphere): یہ وہ تہہ ہے جہاں خلا سے آنے والے شہابِ ثاقب (Meteors) رگڑ کھا کر جل جاتے ہیں، ورنہ زمین پر روزانہ پتھراؤ ہوتا۔
- تھرموسفیئر (Thermosphere): یہ تہہ سورج کی خطرناک ایکس ریز (X-rays) کو روکتی ہے۔
- آئنوسفیئر (Ionosphere): یہ تہہ ریڈیو لہروں کو زمین کی طرف واپس منعکس (Reflect) کرتی ہے، جس سے ہمارا عالمی مواصلاتی نظام ممکن ہوتا ہے [3]۔
- ایگزوسفیئر (Exosphere): یہ کرۂ ہوائی کی بیرونی حد ہے جہاں ہوا انتہائی لطیف ہو جاتی ہے۔
- میگنیٹو سفیئر (Magnetosphere): یہ زمین کی سب سے بیرونی مقناطیسی ڈھال ہے جو سورج سے آنے والے خطرناک تابکار ذرات (Solar Wind) کو خلا میں ہی موڑ دیتی ہے [4]۔
وسعتِ مفہوم: مادی فضا اور کائناتی آسمان
یہاں یہ نکتہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ قرآنی اصطلاح "سماء" (آسمان) ایک کثیر الجہتی (Multi-dimensional) حقیقت ہے:
- مادی پہلو: لغتِ عرب کے مطابق ہر وہ چیز جو انسان کے اوپر ہو اور اسے سایہ فراہم کرے، "سماء" کہلاتی ہے۔ اس لحاظ سے زمین کی یہ سات فضائی تہیں پہلا اور مشاہداتی آسمان ہیں جو "محفوظ چھت" کا کام کرتی ہیں۔
- کائناتی پہلو: قرآن کے مطابق تمام ستارے اور کہکشائیں "آسمانِ دنیا" (پہلے آسمان) کی زینت ہیں [5]۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کی یہ سات تہیں اس عظیم الشان کائناتی نظام کا ایک ابتدائی جزو (Part) اور مشاہداتی نمونہ ہیں۔
- غیبی پہلو: سات آسمان درحقیقت سات الگ الگ ابعاد (Dimensions) اور کائناتیں ہیں جن کی مکمل حقیقت اللہ ہی جانتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا سفرِ معراج ان مادی حدود سے نکل کر ان غیبی آسمانوں تک کا سفر تھا جو اس مادی کائنات سے بھی ورا ہیں۔
نتیجہ
زمین کی یہ سات فضائی تہیں اللہ تعالیٰ کی اس تخلیقی حکمت کی ایک چھوٹی سی جھلک ہیں جو ہمیں بتاتی ہے کہ اس رب نے ایٹم کے الیکٹران سے لے کر آسمان کی وسعتوں تک، ہر چیز کو "تہہ در تہہ" (Layered Structure) میں پیدا فرمایا ہے۔ یہ مشاہداتی تہیں دراصل اس عظیم "سَبْعَ سَمَاوَاتٍ" کے نظام کا وہ مادی حصہ ہیں جو ہماری بقا کے لیے براہِ راست ذمہ دار بنایا گیا ہے۔
حوالہ جات (References):
- [1] راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن (لفظ "سماء" اور "طبق" کی لغوی تشریح)۔
- [2] NASA Science: "Earth's Atmosphere: The Protective Layers".
- [3] National Oceanic and Atmospheric Administration (NOAA): "The Ionosphere and its role in communications".
- [4] ESA (European Space Agency): "The Magnetosphere: Earth's magnetic shield".
- [5] قرآن مجید، سورہ الصافات، آیت: 6 (آسمانِ دنیا کو ستاروں سے سجانے کا ذکر)۔
#QuranAndScience #SevenHeavens #AtmosphereLayers #ScientificMiracles #FaithAndReason #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #تدبر_قرآن #تحقیقی_مقالہ
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

