ماں کے پیٹ کے "تین اندھیرے" اور جدید سائنس: کیا قرآن کی بات ادھوری ہے؟
(ایک ایمان افروز تحقیق)
تمہید: خالق کا دعویٰ
میرے محترم قارئین! آج سے چودہ سو سال پہلے، عرب کے ریگستانوں میں، جہاں سائنس اور میڈیکل کالجوں کا کوئی وجود نہ تھا، اللہ رب العزت نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی زبانِ اطہر سے انسانی تخلیق کا ایک ایسا راز فاش کیا جس کی گہرائی تک پہنچنے میں انسانی عقل کو صدیاں لگ گئیں۔ قرآن مجید، سورۃ الزمر میں ارشاد فرماتا ہے کہ انسان ماں کے پیٹ میں تین حفاظتی پردوں یا اندھیروں کے اندر تخلیق پاتا ہے:
يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ
ترجمہ: "...وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تخلیق کرتا ہے، مختلف مراحل میں، تین اندھیروں (ظلمات ثلاث) میں..." — (سورۃ الزمر: 6)
ہمارے عظیم مفسرین، جیسے امام ابن کثیرؒ، نے صدیوں پہلے اس کی تفسیر میں یہی لکھا کہ یہ تین اندھیرے: (1) ماں کا پیٹ، (2) بچہ دانی (رحم)، اور (3) بچے کی جھلی ہیں۔ [2]
جدید سائنس کی گواہی
آج، جب جدید میڈیکل سائنس (اناٹومی) نے ماں کے پیٹ کے اندر جھانک کر دیکھا، تو وہ حیران رہ گئی کہ جنین (بچے) اور بیرونی دنیا کے درمیان واقعی تین بڑے اور مضبوط حفاظتی حصار موجود ہیں، جو بچے کے لیے گھپ اندھیرا پیدا کرتے ہیں:
- 1. پہلا بڑا حصار: ماں کے پیٹ کی بیرونی دیوار: یہ صرف جلد نہیں، بلکہ اس کے نیچے چربی اور مضبوط پٹھوں کی ایک موٹی دیوار ہے جو سب سے پہلا دفاعی مورچہ ہے۔ [3]
- 2. دوسرا بڑا حصار: رحم (بچہ دانی) کی دیوار: یہ پٹھوں سے بنا ایک انتہائی مضبوط تھیلا ہے جس کے اندر بچہ محفوظ رہتا ہے۔ [4]
- 3. تیسرا بڑا حصار: پانی والی جھلی: رحم کے اندر، بچہ ایک انتہائی باریک مگر مضبوط جھلی میں بند ہوتا ہے جس میں پانی بھرا ہوتا ہے۔ یہ بچے کا ذاتی کمرہ ہے۔ [5]
ایک اہم ترین سوال اور اس کا جواب (ضرور پڑھیں)
یہاں اسلام کے مخالفین ایک اعتراض اٹھاتے ہیں کہ: "جناب! جدید سائنس تو بتاتی ہے کہ پیٹ کی دیوار میں کئی تہیں ہیں (جلد، چربی، پٹھے، پیریٹونیم)، رحم کی بھی تین تہیں ہیں، اور بچے کی جھلی بھی دو تہوں سے بنی ہے۔ تو یہ کل ملا کر 7 یا 8 تہیں بنتی ہیں، قرآن نے صرف تین کیوں کہیں؟"
اس کا انتہائی آسان اور علمی جواب سنیں اور اپنے ایمان کو تازہ کریں: اگر آپ ایک مکان کو دیکھیں تو آپ کہیں گے کہ اس کی حفاظت کے لیے "تین دیواریں" ہیں: (1) بیرونی چاردیواری، (2) گھر کی اپنی دیواریں، اور (3) کمرے کی دیواریں۔ اب اگر کوئی سائنسدان آ کر کہے کہ نہیں جی! بیرونی دیوار میں تو اینٹیں بھی ہیں، سیمنٹ بھی ہے، پلستر بھی ہے اور رنگ بھی ہے، تو یہ چار تہیں ہوئیں، ایک نہیں! تو ہر ذی شعور انسان کہے گا کہ بھائی، یہ سب مل کر ایک ہی "مرکزی رکاوٹ" یا "دیوار" بناتی ہیں۔
بالکل اسی طرح، ماں کے پیٹ میں اللہ نے جو نظام بنایا ہے، اس میں اگرچہ باریک بینی سے دیکھیں تو کئی چھوٹی تہیں ہیں، لیکن بنیادی طور پر تین ہی بڑے اور الگ الگ "حفاظتی ماحول" یا "کمپارٹمنٹس" ہیں:
- ایک ماحول بچے کا اپنا ذاتی پانی والا تھیلا ہے۔
- دوسرا ماحول رحم کی دیوار ہے۔
- تیسرا ماحول ماں کا اپنا پیٹ ہے۔
قرآن مجید کوئی میڈیکل کی کتاب نہیں ہے جو خلیوں کی تفصیل بتائے، بلکہ یہ ہدایت کی کتاب ہے جو انسان کو موٹی اور بڑی نشانیاں دکھا کر اپنے رب کی پہچان کراتی ہے۔ ان تین بڑے حصاروں کا ذکر کرنا ہی سب سے بڑی حکمت اور درست ترین بیان ہے، جسے آج کوئی بڑے سے بڑا سرجن بھی جھٹلا نہیں سکتا۔
نتیجہ
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں، بلکہ اس ذات کا ہے جس نے یہ تینوں اندھیرے تخلیق کیے ہیں۔
حوالہ جات (References):
- القرآن الکریم، سورۃ الزمر (39)، آیت 6۔
- تفسیر ابن کثیر، سورۃ الزمر، آیت 6۔
- G.J. Romanes, "Cunningham's Manual of Practical Anatomy: Vol 2", (پیٹ کی بیرونی دیوار کی تفصیلات)۔
- Keith L. Moore, "The Developing Human", 10th Ed, (رحم کی ساخت)۔
- T.W. Sadler, "Langman's Medical Embryology", 14th Ed, (جنینی جھلیوں کی تفصیل)۔
#ScienceInQuran #EmbryologyMiracle #ThreeVeilsOfDarkness #QuranicTruth #ظلمات_ثلاث #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #قرآن_اور_سائنس #معجزات_قرآن #IslamAndScience
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

