کیا قرآن کا سائنسی علم یونانیوں سے چرایا گیا ہے؟ ایک تحقیقی اور تنقیدی جائزہ
تمہید: الزام کی نوعیت اور ہماری ذمہ داری
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ آج ہم ایک ایسے اہم موضوع پر بات کریں گے جو اکثر قرآن کے مخالفین اٹھاتے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو سائنسی باتیں، خاص طور پر انسان کی تخلیق اور نشوونما (Embryology) کے بارے میں بیان کی گئی ہیں، وہ الہامی نہیں بلکہ 1400 سال پہلے کے یونانی حکماء (جیسے ارسطو، ہیپوکریٹس، اور جالینوس) کی کتابوں سے نقل کی گئی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ معلومات اپنے دور میں موجود لوگوں سے سن کر قرآن میں شامل کر لی تھیں۔ یہ ایک سنگین الزام ہے، اور بطور مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کا جواب جذبات سے نہیں، بلکہ ٹھوس تاریخی، عقلی اور سائنسی دلائل سے دیں۔ آئیے، اس الزام کا غیر جانبدارانہ اور مکمل ایمانداری سے جائزہ لیتے ہیں۔
حصہ اول: تاریخی حقائق – کیا نقل ممکن بھی تھی؟
1. یونانی علم عرب کب پہنچا؟
اس الزام کا سب سے پہلا جواب تاریخ خود دیتی ہے۔ 7ویں صدی عیسوی کا مکہ، جہاں قرآن نازل ہوا، کوئی علمی مرکز نہیں تھا، بلکہ ایک صحرائی تجارتی شہر تھا۔ یونانی سائنس اور فلسفے کی بھاری بھرکم کتابیں (جو سریانی یا یونانی زبانوں میں تھیں) ابھی تک عربی میں ترجمہ نہیں ہوئی تھیں۔ تاریخی کتابیں بتاتی ہیں کہ یونانی علم کا عرب دنیا میں بڑے پیمانے پر داخلہ 8ویں اور 9ویں صدی عیسوی میں ہوا، جب عباسی خلفاء نے بغداد میں "بیت الحکمہ" قائم کیا اور باقاعدہ ترجمے کا کام شروع ہوا [1]۔ پیشِ اسلامی عرب میں طب کی حالت بہت بنیادی تھی اور زیادہ تر مقامی ٹوٹکوں اور جڑی بوٹیوں پر مبنی تھی [2]۔
2. نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا علمی پس منظر
تاریخی اور سیرت کے مستند ذرائع متفق ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) "اُمّی" تھے، یعنی لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔
وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ
ترجمہ: "اور آپ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے اسے لکھتے تھے، ورنہ یہ باطل پرست ضرور شک میں پڑ جاتے۔" — (سورۃ العنکبوت: 48)
آپ کی زندگی مکہ کے لوگوں کے سامنے کھلی کتاب کی طرح تھی۔ کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں کہ آپ نے کبھی کسی یونانی سکالر سے ملاقات کی ہو یا ان کی کتابیں پڑھی/سنی ہوں۔
3. ایک مخصوص الزام کا جواب: الحارث بن کلدہ کا افسانہ
ناقدین اکثر ایک مخصوص شخص کا نام لیتے ہیں: "الحارث بن کلدہ"، جو طائف کا ایک طبیب تھا۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے فارس (گونڈیشاپور) سے طب پڑھی تھی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس سے سیکھا۔ لیکن تاریخی حقائق اس کی تردید کرتے ہیں:
- طبی مہارت کی نوعیت: الحارث یونانی سائنسی طب نہیں بلکہ مقامی لوک طب (Folk Medicine) کا ماہر تھا، جیسے کھجوروں یا جڑی بوٹیوں سے علاج کرنا۔ اس کے پاس پیچیدہ یونانی ایمبریولوجی کے علم کا کوئی ثبوت نہیں ملتا [2]۔
- تاریخوں کا تضاد: نبی کریم سے اس کی ملاقات بہت دیر سے، یعنی 8 ہجری (فتح طائف کے وقت) میں ہوئی۔ جبکہ جنین کی نشوونما کی تفصیلی آیات (جنسے سورۃ المومنون کی آیات) اس سے کئی سال پہلے مکہ میں نازل ہو چکی تھیں۔
- مورخین کی رائے: معروف مورخین، جیسے مینفریڈ المین (Manfred Ullman)، ان کہانیوں کو متضاد اور بغیر ثبوت کے افسانے قرار دیتے ہیں [2]۔
حصہ دوم: فیصلہ کن دلیل – نقل ہوتی تو غلطیاں بھی نقل ہوتیں!
یہ اس بحث کا سب سے اہم اور عقلی پہلو ہے۔ اگر ہم ایک لمحے کے لیے (بالفرض محال) مان بھی لیں کہ کسی طرح یونانی علم کے کچھ ٹکڑے مکہ پہنچ گئے تھے، تو عقل کا تقاضا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کی نقل کرتا ہے، تو وہ درست باتوں کے ساتھ ساتھ اس ماخذ کی غلطیاں بھی نقل کر لیتا ہے، خاص طور پر وہ غلطیاں جو اس دور میں "سائنسی حقائق" مانی جاتی تھیں۔ اگر قرآن یونانیوں کی نقل ہوتا، تو اس میں یونانی سائنس کی وہ بڑی بڑی غلطیاں ضرور موجود ہوتیں جو اس دور میں مسلمہ حقائق سمجھی جاتی تھیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، قرآن ان تمام مشہور یونانی غلطیوں سے پاک ہے۔ آئیے چند مثالیں دیکھتے ہیں:
1. جنس کا تعین اور والدین کا کردار (ارسطو کے نظریے کا رد)
یونانی غلطی: مشہور فلسفی ارسطو (Aristotle) کا نظریہ "مرد مرکز" (male-centric) تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ بچہ پیدا کرنے میں اصل "فعال" کردار صرف مرد کے مادہ (منی) کا ہوتا ہے، جبکہ عورت کا کردار صرف "غیر فعال" (passive) مادہ فراہم کرنا ہے [3]۔
قرآنی درستگی: قرآن نے ارسطو کے اس عدم توازن کو رد کیا۔ قرآن نے واضح طور پر انسان کی تخلیق کو دونوں کے ملاپ سے منسوب کیا۔
إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا
ترجمہ: "بیشک ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفے سے پیدا کیا تاکہ ہم اسے آزمائیں، پھر ہم نے اسے سننے والا اور دیکھنے والا بنا دیا۔" — (سورۃ الدھر: 2)
اس نے مرد اور عورت دونوں کے مائعات کے کردار کو تسلیم کیا، جو کہ جدید جینیات (Genetics) کے اس اصول سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے کہ بچے کی تخلیق میں دونوں والدین کا برابر کا حصہ ہوتا ہے۔
2. کیا بچہ حیض کے خون سے بنتا ہے؟ (یونانی میکانزم کا رد)
یونانی غلطی: ارسطو اور اس دور کے دیگر حکماء کا سب سے مقبول سائنسی نظریہ یہ تھا کہ بچہ بننے کے عمل میں عورت کا حیض کا خون "خام مال" فراہم کرتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ مرد کا مادہ، عورت کے حیض کے خون کو اس طرح جماتا ہے جیسے پنیر بنانے والا مادہ دودھ کو پھاڑ کر پنیر بناتا ہے [3]۔
قرآنی درستگی اور باریک بینی: اگر قرآن نقل ہوتا، تو اس مقبول ترین نظریے کو ضرور اپناتا۔ قرآن نے کہیں نہیں کہا کہ بچہ حیض کے خون کے جمنے سے بنتا ہے۔ اس کے برعکس، قرآن نے "علقہ" کی اصطلاح استعمال کی۔
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ
ترجمہ: "اس نے انسان کو علق (چمٹی ہوئی چیز) سے پیدا کیا۔" — (سورۃ العلق: 2)
علقہ کا ایک بنیادی مطلب "جونک" یا "چمٹنے والی چیز" ہے، جو جدید ایمبریولوجی کے اس مشاہدے سے حیرت انگیز مطابقت رکھتا ہے کہ ایمبریو رحم کی دیوار سے چمٹ کر اپنی خوراک حاصل کرتا ہے [5]۔
3. ہڈیوں اور گوشت کی ترتیب (جالینوس بمقابلہ قرآن)
یونانی نظریہ: دوسری صدی عیسوی کا عظیم طبیب جالینوس (Galen) جنین کی تشکیل کے مراحل بیان کرتا ہے، لیکن اس کی ترتیب میں ابہام موجود تھا کہ آیا گوشت اور ہڈیاں ایک ساتھ بنتے ہیں یا کوئی ایک پہلے [4]۔
قرآنی ترتیب: قرآن نے ایک بہت واضح ترتیب بیان کی:
فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا
ترجمہ: "...پھر ہم نے اس لوتھڑے کو ہڈیاں بنایا، پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت چڑھایا..." — (سورۃ المومنون: 14)
جدید سائنس: آج کی ایمبریولوجی تصدیق کرتی ہے کہ پہلے کارٹلیج (Cartilage) کا ایک ڈھانچہ وجود میں آتا ہے، اور اس کے بعد پٹھوں کے خلیات منظم ہو کر اس ڈھانچے کے گرد لپٹتے ہیں۔ قرآن کی بیان کردہ ترتیب جالینوس کے مبہم بیان کے مقابلے میں جدید سائنسی مشاہدات سے کہیں زیادہ واضح ہے [5]۔
خلاصہ اور نتیجہ
تاریخی حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ 7ویں صدی کے عرب میں یونانی علم کا باقاعدہ پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ اور اس سے بھی بڑی عقلی دلیل یہ ہے کہ قرآن یونانیوں کی ان بڑی بڑی غلطیوں سے مکمل طور پر پاک ہے جو اس دور میں مسلمہ حقائق سمجھی جاتی تھیں۔ اگر یہ کتاب کسی انسان کی لکھی ہوئی ہوتی، یا یونانی ذرائع سے نقل شدہ ہوتی، تو یہ ناممکن تھا کہ یہ ارسطو اور جالینوس جیسی عظیم شخصیات کی مشہور سائنسی غلطیوں سے بچ پاتی۔ قرآن کا اس دور کی مقبول غلطیوں سے پاک ہونا، اور ایسے بیانات دینا جو آج کی جدید سائنس سے متصادم ہونے کے بجائے اس کی تائید کرتے نظر آتے ہیں، اس بات کا ایک طاقتور عقلی اور تاریخی ثبوت ہے کہ اس کا ماخذ انسانی نہیں، بلکہ الہامی ہے۔
حوالہ جات (References):
- Roy Porter, The History of Medicine, Cambridge University Press.
- Manfred Ullman, Islamic Medicine, Edinburgh University Press.
- Aristotle, On the Generation of Animals.
- Galen, On Semen.
- Keith L. Moore et al., The Developing Human: Clinically Oriented Embryology, 10th ed. (Elsevier, 2016).
- القرآن الکریم (سورۃ العنکبوت: 48، سورۃ الدھر: 2، سورۃ المومنون: 14، سورۃ العلق: 2)۔
#QuranAndScience #Embryology #GreekScience #Refutation #DivineRevelation #IslamAndRationality #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #یونانی_فلسفہ #قرآنی_حقائق #رد_الحاد
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

