سریز: عقل پرستی یا مرعوبیت؟ سرسید احمد خان کی تعبیرات کا علمی محاسبہ (قسط نمبر 1)
عنوان: کیا خدا اپنے ہی بنائے ہوئے "قوانینِ فطرت" کا قیدی ہے؟
(سرسید کے بنیادی "نظریہ نیچریت" کا قرآنی و سائنسی رد)
مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
مقدمہ: فکری انحراف کا آغاز کہاں سے ہوا؟
انیسویں صدی عیسوی برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی کٹھن دور تھا۔ ایک طرف سیاسی زوال تھا تو دوسری طرف مغربی سائنس اور فلسفے کی یلغار تھی۔ یورپ نیوٹن کی فزکس اور مادیت پرستانہ فلسفے کی بنیاد پر ترقی کی اوج پر تھا، جس نے کائنات کو ایک "گھڑی" (Clockwork Universe) کی طرح پیش کیا جو طے شدہ اصولوں پر چل رہی ہے اور جس میں کسی مافوق الفطرت مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
اس ماحول میں سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کرنے کا بیڑا اٹھایا، جو کہ ایک قابلِ قدر مقصد تھا۔ لیکن اس مقصد کے حصول کے دوران وہ مغربی سائنس کے اس قدر رعب میں آ گئے کہ انہوں نے اسلام کو اسی مادیت پرستانہ سائنس کے پیمانے پر پرکھنا شروع کر دیا۔
ان کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے 19ویں صدی کی محدود سائنس کو "حتمی حقیقت" (Absolute Truth) مان لیا اور قرآن کو اس کے تابع کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں انہوں نے قرآن کی ایسی تاویلات کیں جو چودہ سو سالہ اجماعی فہم سے ٹکراتی تھیں۔
سرسید کا بنیادی اصول: "خدا کا قول اور فعل ٹکرا نہیں سکتے"
سرسید نے ایک بظاہر بہت خوبصورت اصول وضع کیا: "قرآن خدا کا قول (Word of God) ہے اور کائنات/فطرت خدا کا فعل (Work of God) ہے۔ اور یہ ناممکن ہے کہ خدا کے قول اور فعل میں تضاد ہو۔" (حوالہ: تفسیر القرآن، سرسید احمد خان، اصولِ تفسیر)
یہ اصول بذاتِ خود درست ہے، لیکن سرسید نے اس سے جو نتیجہ نکالا وہ غلط تھا۔ انہوں نے "فطرت" (Nature) کا مطلب وہی لیا جو اس دور کے مادیت پرست سائنسدان لیتے تھے، یعنی: "کائنات کے قوانین اٹل ہیں اور ان میں کبھی کوئی تبدیلی یا انحراف (معجزہ) نہیں ہو سکتا۔"
سرسید کا ماننا تھا کہ اللہ نے کائنات بنا کر کچھ قوانین (Laws of Nature) طے کر دیے ہیں، اور اب اللہ خود بھی ان قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرے گا کیونکہ یہ اس کے "وعدے" کے خلاف ہے۔ لہٰذا، قرآن میں جہاں بھی کسی ایسے واقعے کا ذکر ہے جو بظاہر قوانینِ فطرت کے خلاف نظر آتا ہے (جسے ہم معجزہ کہتے ہیں)، سرسید کے نزدیک یا تو وہ واقعہ غلط سمجھا گیا ہے یا وہ محض ایک تمثیل (Allegory) ہے۔
آسان الفاظ میں: سرسید کا خدا ایک ایسا بادشاہ ہے جس نے قانون بنا کر اپنے ہاتھ باندھ لیے ہیں اور اب وہ اس قانون سے باہر کچھ نہیں کر سکتا۔
رد اور علمی محاسبہ
یہ نظریہ قرآن، عقلِ سلیم اور حتیٰ کہ جدید ترین سائنس، تینوں اعتبار سے باطل ہے۔
1. قرآنی دلیل: خدا "مسبب الاسباب" ہے، اسباب کا پابند نہیں
قرآن مجید کا خدا وہ نہیں ہے جو نیوٹن کی فزکس نے پیش کیا تھا۔ قرآن کا خدا "القادر المطلق" ہے، وہ ہر لمحہ کائنات میں متصرف ہے۔
اسباب کا خالق: قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ نے اس دنیا میں نظام چلانے کے لیے "اسباب" (Causes/Laws) بنائے ہیں۔ آگ جلاتی ہے، پانی پیاس بجھاتا ہے، کشش ثقل چیزوں کو نیچے کھینچتی ہے۔ یہ اللہ کی "عادت" (Sunnatullah) ہے کہ چیزیں ایسے کام کرتی ہیں۔
اسباب کا محتاج نہیں: لیکن، اللہ ان اسباب کا "محتاج" نہیں ہے۔ وہ جب چاہے، اپنی حکمت کے تحت، ان اسباب کو معطل کر سکتا ہے اور سبب کے بغیر بھی نتیجہ پیدا کر سکتا ہے۔ یہی "معجزہ" یا "خرقِ عادت" ہے۔
قرآنی ثبوت: سب سے بڑی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ جب انہیں آگ میں ڈالا گیا تو قوانینِ فطرت کے مطابق انہیں جل جانا چاہیے تھا۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے آگ کو حکم دیا:
قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
ترجمہ: "ہم نے کہا: اے آگ! ٹھنڈی ہو جا اور ابراہیم پر سلامتی بن جا۔" — (سورہ الانبیاء: 69)
یہ آیت سرسید کے نظریے کا صریح رد ہے۔ یہاں اللہ نے آگ کی "جلانے کی فطرت" کو معطل کر دیا۔ اگر اللہ قوانینِ فطرت کا قیدی ہوتا تو وہ ایسا نہ کر سکتا۔ سرسید نے اس واضح آیت کی تاویل کرنے کے لیے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ آگ حقیقی نہیں تھی بلکہ "مخالفت کی آگ" تھی، یا یہ کہ وہ خواب کا واقعہ تھا، جو کہ قرآن کے سیاق و سباق کے ساتھ صریح زیادتی ہے۔ قرآن کا اصول یہ ہے: إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ (بے شک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے)۔ وہ قوانین کا پابند نہیں، قوانین اس کے تابع ہیں۔
2. عقلی دلیل: گھڑی ساز اور گھڑی کی مثال
سرسید کے نظریے کی عقلی کمزوری کو ایک مثال سے سمجھیں۔ ایک ماہر گھڑی ساز (Watchmaker) ایک بہترین گھڑی بناتا ہے جو طے شدہ اصولوں پر چلتی ہے۔ سوئی ٹک ٹک کر کے آگے بڑھتی ہے۔
کیا گھڑی ساز اس گھڑی کے اندر قید ہے؟ نہیں، وہ باہر ہے۔ کیا گھڑی ساز اگر چاہے تو گھڑی کا شیشہ کھول کر اپنی انگلی سے سوئی کو آگے یا پیچھے نہیں کر سکتا؟ بالکل کر سکتا ہے۔
اسی طرح، اللہ اس کائنات کا خالق ہے۔ اس نے قوانین بنائے ہیں، لیکن وہ ان قوانین کے اندر قید نہیں ہے۔ معجزہ اس گھڑی ساز کا "انگلی سے سوئی کو حرکت دینا" ہے تاکہ دیکھنے والوں کو پتہ چلے کہ یہ نظام خود بخود نہیں چل رہا بلکہ اس کے پیچھے ایک چلانے والا موجود ہے۔ اگر خدا معجزہ دکھانے پر قادر نہیں، تو پھر وہ خدا ہی نہیں، بلکہ ایک مجبور ہستی ہے۔
3. جدید سائنسی دلیل: 19ویں صدی بمقابلہ 21ویں صدی
سرسید جس سائنس سے مرعوب تھے، وہ "کلاسیکل فزکس" (Classical Physics) تھی جو کائنات کو ایک طے شدہ مشین مانتی تھی۔ لیکن بیسویں صدی میں سائنس نے ایک بہت بڑی کروٹ لی۔
کوانٹم فزکس (Quantum Physics): جدید سائنس نے ثابت کیا کہ مادے کی بنیادی سطح (ایٹم کے اندر) پر قوانین اتنے "اٹل" نہیں ہیں جتنا سمجھا جاتا تھا۔ وہاں "غیر یقینی کیفیت" (Uncertainty Principle) کا راج ہے۔ جدید سائنسدان اب مانتے ہیں کہ سائنس صرف یہ بتاتی ہے کہ "عام طور پر کیا ہوتا ہے"، یہ نہیں بتا سکتی کہ "کیا نہیں ہو سکتا"۔
بگ بینگ (Big Bang): جدید کاسمولوجی بتاتی ہے کہ کائنات ایک دھماکے سے وجود میں آئی۔ اس کا مطلب ہے کہ "قوانینِ فطرت" بھی اسی لمحے پیدا ہوئے۔ تو جو ذات قوانین کو پیدا کرنے والی ہے، وہ یقیناً ان سے ماورا ہے۔
سرسید نے 19ویں صدی کی جس سائنس کو "حتمی" سمجھا تھا، وہ آج 21ویں صدی میں خود بدل چکی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بدلتی ہوئی سائنسی تھیوریوں کو بنیاد بنا کر قرآن کی تاویل کرنا ایک بنیادی غلطی تھی۔
خلاصہ کلام
سرسید احمد خان کا یہ بنیادی نظریہ کہ "خدا قوانینِ فطرت کو نہیں توڑ سکتا"، درحقیقت خدا کی قدرتِ کاملہ کا انکار اور مادیت پرستی سے مرعوبیت کا نتیجہ تھا۔ قرآن کا خدا قوانین کا خالق ہے، قیدی نہیں۔ وہ اسباب کے ذریعے بھی کام کرتا ہے اور اسباب کے بغیر بھی۔ ان کے اس ایک غلط اصول نے آگے چل کر قرآن کے سینکڑوں مقامات کی غلط تاویلات کا دروازہ کھولا۔
(اگلی قسط میں ہم ان شاء اللہ اسی اصول کی بنیاد پر سرسید کے "انکارِ معجزات" کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور حضرت موسیٰ کے عصا اور سمندر پھٹنے جیسے واقعات پر ان کی تاویلات کا رد کریں گے۔)
واللہ اعلم بالصواب۔
#سر_سید_احمد_خان #نیچریت #عقل_پرستی #اسلام_اور_سائنس #معجزات #قرآنی_تعلیمات #ایمان_و_عقل #فکری_انحراف #SirSyedAhmadKhan #FaithVsRationalism #DivinePower
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

