⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

اہرامِ مصر کی تعمیر کا راز: جنات کی کاریگری یا انسانی ہنر؟

 قدیم مصری مزدور اہرام کی تعمیر کے لیے بھاری پتھر ڈھلوان راستے پر کھینچتے ہوئے 

مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

اہرامِ مصر کی تعمیر کا راز: جنات کی کاریگری یا انسانی ہنر؟

(قدیم علماء کی آراء اور جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں ایک متوازن جائزہ)

مقدمہ: صحرا کا عظیم معمہ

مصر کے ریگستان میں کھڑے عظیم اہرام (Pyramids) ہزاروں سال سے انسانی عقل کو دنگ کر رہے ہیں۔ گیزہ کا سب سے بڑا ہرم تقریباً 23 لاکھ پتھروں سے بنا ہے، جن میں سے کچھ کا وزن 50 ٹن تک ہے۔ اتنے بھاری پتھر، بغیر جدید کرینوں اور مشینوں کے، اتنی بلندی تک کیسے پہنچائے گئے؟ اور اتنی جیومیٹریکل درستگی کے ساتھ کیسے جوڑے گئے؟

یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے ہر دور کے انسان کو حیرت میں ڈالا ہے۔ اسی حیرت کی بنیاد پر تاریخ میں اس کی تعمیر کے حوالے سے مختلف نظریات قائم کیے گئے۔ ایک بڑا نظریہ یہ رہا کہ یہ کام انسانوں کے بس کا نہیں تھا، یقیناً اس میں مافوق الفطرت طاقتوں (جنات) کا ہاتھ تھا۔

یہ مقالہ اس نظریے کا احترام کے ساتھ جائزہ لیتا ہے اور پھر قرآن کے اشاروں اور جدید آثارِ قدیمہ کے قطعی ثبوتوں کی روشنی میں حقیقت کو واضح کرتا ہے۔

حصہ اول: جنات کی تعمیر کا نظریہ اور علماء کا موقف

ماضی میں بہت سے لوگوں، بشمول کچھ جید علماء کرام کا یہ ماننا تھا کہ اہرامِ مصر جنات نے تعمیر کیے تھے۔

1. اس نظریے کی بنیاد: اس نظریے کی بنیادی وجہ "حیرت" (Awe) اور اس دور کی محدود ٹیکنالوجی تھی۔ جب لوگ دیکھتے تھے کہ ان کے پاس بھاری پتھر اٹھانے کے لیے صرف رسیاں اور جانور ہیں، تو وہ یہ تسلیم نہیں کر سکتے تھے کہ ان کے آباؤ اجداد نے اتنے عظیم پہاڑ جیسے ڈھانچے خود بنائے ہوں گے۔

2. علماء کی رائے (مثال: امام احمد رضا خان بریلویؒ): اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ اور دیگر کئی بزرگوں کا بھی یہی رجحان تھا۔ ان کا استدلال قیاسی (Analogical) تھا۔ وہ دیکھتے تھے کہ قرآن میں ذکر ہے کہ اللہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے جنات کو مسخر کیا تھا اور وہ ان کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتے تھے۔ اس بنیاد پر یہ رائے قائم کی گئی کہ شاید فراعینِ مصر بھی جنات سے مدد لی ہو۔ ان علماء کی یہ رائے ان کے دور کے دستیاب علم اور اہرام کی ہیبت کی بنیاد پر ایک "تعبیر" تھی۔

حصہ دوم: قرآن کا لطیف اشارہ — فرعون کا طریقہ تعمیر

دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن مجید اگرچہ اہرام کا نام نہیں لیتا، لیکن فرعون کی تعمیرات کے "طریقہ کار" (Methodology) کا ایک بہت اہم راز کھولتا ہے۔ سورہ القصص میں فرعون اپنے وزیر ہامان کو ایک اونچی عمارت بنانے کا حکم دیتا ہے:

وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرِي فَأَوْقِدْ لِي يَا ہَامَانُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَل لِّي صَرْحًا...

ترجمہ: "اور فرعون نے کہا: اے درباریو!... پس اے ہامان! میرے لیے گارے (مٹی) کو آگ میں پکوا (کر اینٹیں تیار کر)، پھر میرے لیے ایک اونچا محل بنا..." — (سورہ القصص: 38) [1]

اس آیت سے کیا ثابت ہوتا ہے؟

  • فرعون تعمیرات کے لیے اپنے وزیر ہامان (انسان) کو حکم دے رہا ہے، جنات کو نہیں۔
  • وہ تعمیراتی مواد (گارا، پکی ہوئی اینٹیں) استعمال کر رہا ہے جو انسانی محنت سے تیار ہوتا ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ فرعون کی طاقت کا راز "بے پناہ انسانی افرادی قوت" (Massive Human Labor) کا استعمال تھا، نہ کہ مافوق الفطرت طاقتیں۔
 
اہرامِ مصر کی کھدائی کے دوران ملنے والے قدیم تانبے اور لکڑی کے اوزار


حصہ سوم: جدید آثارِ قدیمہ (Archaeology) کے قطعی ثبوت

آج سائنس نے اہرام کے گرد پھیلی اسرار کی دھند کو صاف کر دیا ہے۔ جدید کھدائیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ انسانوں ہی کا کام تھا۔

1. مزدوروں کے شہر اور قبریں: اہرام کے قریب ہی کھدائیوں میں ان ہزاروں مزدوروں کی بستیاں اور قبریں دریافت ہوئی ہیں جو یہ اہرام بناتے تھے۔ ان کی ہڈیوں پر سخت مشقت کے طبی نشانات موجود ہیں۔

2. **تعمیراتی ٹیکنالوجی (ڈھلوان راستے اور لیور): سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پتھر اوپر کیسے پہنچائے گئے؟ آثار قدیمہ کے ماہرین کو اہرام کے قریب مٹی اور اینٹوں سے بنے بڑے بڑے "ڈھلوان راستوں" (Ramps) کے آثار ملے ہیں۔ مصری لوگ ان ڈھلوانوں پر پتھروں کو رسیوں اور لیور (Lever) کی مدد سے کھینچ کر اوپر لے جاتے تھے۔ [2]

3. اوزار: وہاں سے تانبے کی چھینیاں، پتھر کے ہتھوڑے اور لکڑی کے اوزار ملے ہیں۔ اگر جنات یہ کام کرتے تو انہیں ان انسانی اوزاروں کی ضرورت نہ ہوتی۔

حاصلِ کلام (Conclusion)

اس تمام تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ جن علماء نے اسے جنات کا کام کہا، ان کی رائے ان کے دور کے علم پر مبنی ایک مخلصانہ تعبیر تھی۔ تاہم، آج قرآن کے اشاروں اور آثارِ قدیمہ کے ناقابلِ تردید ثبوتوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اہرامِ مصر جنات نے نہیں بلکہ انسانوں نے بنائے تھے۔

یہ دراصل انسان کی "تنظیمی صلاحیت" اور "اجتماعی محنت" کا ایک عظیم الشان ثبوت ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب۔


حوالہ جات:

[1] قرآن مجید، سورہ القصص: 38
[2] جدید آثارِ قدیمہ کی تحقیقات اور اہرامِ مصر کے تعمیراتی ثبوت

#PyramidsOfEgypt #JinnOrHumans #AncientMysteries #ArchaeologyFacts #QuranicInsights #Pharaoh #EngineeringMarvel #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #اہرام_مصر #جنات_یا_انسان #قدیم_مصر #آثار_قدیمہ #قرآنی_تحقیق #فرعون #عجائبات_عالم

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال