⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

سریز: عقل پرستی یا مرعوبیت؟ سرسید احمد خان کی تعبیرات کا علمی محاسبہ (قسط نمبر 2)

 

ایک علمی خاکہ جو انسانی عقل کی محدودیت اور اللہ کی قدرتِ مطلقہ کے درمیان معجزات کی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔

سریز: عقل پرستی یا مرعوبیت؟ سرسید احمد خان کی تعبیرات کا علمی محاسبہ (قسط نمبر 2)

عنوان: کیا معجزات "عقلاً محال" ہیں؟

مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

(سرسید کے "انکارِ معجزات" اور تاویلات کا قرآنی و عقلی جائزہ)

مقدمہ: بنیادی اصول کا لازمی نتیجہ

گزشتہ قسط میں ہم نے ثابت کیا تھا کہ سرسید احمد خان کا یہ بنیادی نظریہ کہ "خدا اپنے ہی بنائے ہوئے قوانینِ فطرت کا قیدی ہے اور انہیں توڑ نہیں سکتا"، قرآن، عقل اور جدید سائنس تینوں کے اعتبار سے غلط تھا۔ جب سرسید نے یہ غلط اصول طے کر لیا، تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج قرآن مجید میں بیان کردہ انبیاء کرام کے "معجزات" تھے۔ معجزہ (Miracle) کہتے ہی اس واقعے کو ہیں جو عادات اور قوانینِ فطرت کے خلاف ہو اور جسے دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جائے۔

چونکہ سرسید کے نزدیک قوانینِ فطرت کا ٹوٹنا ناممکن تھا، اس لیے ان کے پاس دو ہی راستے تھے: یا تو قرآن کا انکار کر دیں (جو وہ کر نہیں سکتے تھے)، یا پھر قرآن کی آیات کی ایسی "عقلی تاویل" کریں کہ وہ واقعہ معجزہ نہ رہے بلکہ ایک عام قدرتی واقعہ نظر آئے۔ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا، اور اس چکر میں قرآن کے واضح الفاظ کے مفہوم کو بری طرح مسخ کیا۔

سرسید کا طریقہ کار: "معجزہ" کو "واقعہ" بنانا

سرسید کا طریقہ یہ تھا کہ جہاں بھی قرآن میں کوئی خارقِ عادت (Supernatural) واقعہ آتا، وہ لغت (Dictionary) کے غیر معروف معنوں، استعاروں (Metaphors) اور تمثیلوں (Allegories) کا سہارا لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے کہ یہاں کوئی مافوق الفطرت بات نہیں ہوئی، بلکہ ایک عام سی بات کو شاعرانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ آئیے ان کی چند مشہور تاویلات کا جائزہ لیتے ہیں:

1. حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا (لاٹھی) اور سانپ بننا

قرآنی بیان: قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ جب موسیٰؑ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ "ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ" (واضح اژدہا/سانپ) بن گیا (سورہ الاعراف: 107)۔ اور دوسری جگہ فرمایا کہ وہ سانپ کی طرح حرکت کرنے لگا۔

سرسید کی تاویل: چونکہ لکڑی کا اچانک زندہ سانپ بن جانا قانونِ فطرت (بائیولوجی) کے خلاف ہے، اس لیے سرسید نے اس کا انکار کیا۔ انہوں نے عجیب تاویل کی کہ وہ عصا حقیقت میں سانپ نہیں بنا تھا، بلکہ موسیٰؑ نے جادوگروں پر ایسا "مسمریزم" (Mesmerism) یا نظر بندی کر دی تھی کہ انہیں وہ لاٹھی سانپ نظر آنے لگی۔ یعنی معجزہ عصا میں نہیں، دیکھنے والوں کی نظر میں تھا۔

علمی رد: یہ تاویل قرآن کے صریح الفاظ کے خلاف ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ جادوگروں نے تو لوگوں کی نظر بندی کی تھی (سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ)، لیکن موسیٰؑ کا عمل حقیقت تھا۔ اگر موسیٰؑ نے بھی صرف نظر بندی ہی کی ہوتی، تو جادوگر (جو اس فن کے ماہر تھے) کبھی ایمان نہ لاتے، وہ سمجھ جاتے کہ یہ بھی ہماری طرح کا ایک کرتب ہے۔ ان کا سجدے میں گر جانا ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے ایک حقیقی معجزہ دیکھا تھا جو انسانی طاقت سے باہر تھا۔

2. سمندر کا پھٹنا اور راستہ بننا (غرقِ فرعون)

قرآنی بیان: اللہ نے موسیٰؑ کو حکم دیا:

أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ

ترجمہ: "اپنی لاٹھی سمندر پر مارو" — (سورہ الشعراء: 63)

نتیجہ یہ ہوا کہ سمندر پھٹ گیا اور پانی کے دونوں ٹکڑے "طَوْدٍ عَظِيمٍ" (بڑے پہاڑوں کی طرح) کھڑے ہو گئے اور بیچ میں خشک راستہ بن گیا۔

سرسید کی تاویل: سرسید کے نزدیک لاٹھی مارنے سے سمندر کا پھٹنا ناممکن تھا۔ انہوں نے تاویل کی کہ یہ کوئی معجزہ نہیں تھا، بلکہ اتفاق سے اس وقت سمندر میں "جزر" (Low Tide) کا وقت تھا اور ہوا چل پڑی جس سے پانی ہٹ گیا اور راستہ بن گیا۔ موسیٰؑ اس راستے سے گزر گئے، اور جب فرعون آیا تو "مد" (High Tide) آ گیا اور پانی واپس آ گیا۔

علمی رد: یہ تاویل بھی قرآن کے الفاظ کے ساتھ مذاق ہے۔ قرآن اس واقعے کو براہِ راست موسیٰؑ کے "عصا مارنے" کا نتیجہ قرار دے رہا ہے، نہ کہ چاند کی تاریخوں کے حساب سے آنے والے جزر و مد کا۔ پھر قرآن کہتا ہے پانی "پہاڑوں کی طرح" کھڑا ہو گیا، جبکہ جزر و مد میں پانی پہاڑ کی طرح کھڑا نہیں ہوتا بلکہ سطح نیچی ہوتی ہے۔ یہ تاویل واقعہ کی عظمت کو ختم کر دیتی ہے۔

 

ایک بصری تصویر جو قرآن میں بیان کردہ سمندر کے پھٹنے اور پانی کے پہاڑوں کی طرح کھڑا ہونے کے عظیم معجزے کی عکاسی کرتی ہے۔

3. حضرت ابراہیمؑ کے لیے آگ کا ٹھنڈا ہونا

قرآنی بیان: نمرود نے حضرت ابراہیمؑ کو دہکتی آگ میں ڈالا، تو اللہ نے فرمایا:

يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا

ترجمہ: "اے آگ! ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا" — (سورہ الانبیاء: 69)

سرسید کی تاویل: آگ کا جلانے کی فطرت چھوڑ دینا سرسید کے اصول کے خلاف تھا۔ چنانچہ انہوں نے تاویل کی کہ یہاں آگ سے مراد حقیقی آگ نہیں، بلکہ "نمرود کے غصے اور مخالفت کی آگ" تھی۔ یعنی اللہ نے ان کے غصے کو ٹھنڈا کر دیا۔

علمی رد: یہ تاویل پورے سیاق و سباق کا انکار ہے۔ قرآن اس سے پہلے بتا رہا ہے کہ انہوں نے کہا کہ "اسے جلا دو" (حَرِّقُوهُ)، پھر ایک عمارت (منجنیق) بنائی گئی جس میں انہیں ڈالا گیا۔ کیا "غصے کی آگ" میں ڈالنے کے لیے منجنیق بنائی جاتی ہے؟ یہ تاویل عقل اور نقل دونوں کے اعتبار سے انتہائی کمزور ہے۔

نتیجہ: مرعوبیت کا شاخسانہ

سرسید کی یہ تمام کوششیں دراصل اس "احساسِ کمتری" اور "مرعوبیت" کا نتیجہ تھیں کہ اگر ہم نے معجزات کو مانا تو مغربی دنیا ہمیں جاہل، توہم پرست اور پسماندہ سمجھے گی۔ انہوں نے مغرب کی نظر میں اسلام کو "عقلی" (Rational) ثابت کرنے کے لیے قرآن کے ان حصوں کی قربانی دے دی جو ان کی نظر میں "غیر سائنسی" تھے۔ وہ یہ بنیادی فرق بھول گئے کہ:

  • محالِ عادی (Habitually Impossible): وہ چیز جو عام طور پر نہیں ہوتی (جیسے عصا کا سانپ بننا)۔
  • محالِ عقلی (Rationally Impossible): وہ چیز جو عقل کے نزدیک ناممکن ہو (جیسے 2+2=5 ہونا، یا خدا کا عاجز ہونا)۔

معجزات "محالِ عادی" ہوتے ہیں، "محالِ عقلی" نہیں۔ جو خدا کائنات بنا سکتا ہے، اس کے لیے آگ کو ٹھنڈا کرنا عقلاً کوئی ناممکن کام نہیں ہے۔

خلاصہ کلام:

سرسید کا انکارِ معجزات قرآن کو ایک ایسی کتاب بنا دیتا ہے جس کے الفاظ کچھ کہتے ہیں اور مطلب کچھ اور ہوتا ہے۔ یہ رویہ دین کی بنیادیں کھودنے کے مترادف تھا۔

(اگلی قسط میں ہم ان شاء اللہ سرسید کی طرف سے "فرشتوں اور جنات کے حقیقی وجود کے انکار" کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ انہوں نے ان غیبی مخلوقات کو محض "کائنات کی قوتیں" یا "نفسیاتی کیفیات" کیسے قرار دیا۔)

واللہ اعلم بالصواب۔


حوالہ جات (References):

  • قرآنِ مجید، سورہ الاعراف، سورہ الشعراء، سورہ الانبیاء۔
  • سرسید احمد خان، "تفسیر القرآن"، جلد اول تا پنجم۔
  • مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، "سیرتِ سرورِ عالم" (بحثِ معجزات)۔
  • علامہ شبلی نعمانی، "مقالاتِ شبلی"۔

#سرسید_احمد_خان #انکار_معجزات #عصائے_موسی #تاویلات_سرسید #قرآنی_معجزات #فکری_انحراف #اسلام_اور_سائنس #عقل_پرستی #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #MiraclesInIslam #SirSyed #FaithVsRationalism #QuranicMiracles

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال