⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

سریز: عقل پرستی یا مرعوبیت؟ سرسید احمد خان کی تعبیرات کا علمی محاسبہ (قسط نمبر 3)

 

ایک علمی اور بصری خاکہ جو عالمِ غیب کی روحانی حقیقتوں اور مادیت پرستانہ نظریات کے درمیان فکری تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔

سریز: عقل پرستی یا مرعوبیت؟ سرسید احمد خان کی تعبیرات کا علمی محاسبہ (قسط نمبر 3)

کیا فرشتے، جن اور شیطان حقیقی مخلوقات ہیں یا محض استعارے"

(سرسید کی طرف سے غیبی حقائق کی مادیت پرستانہ تاویلات کا جائزہ)

مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

مقدمہ: مادیت پرستی اور عالمِ غیب کا انکار

انیسویں صدی کی جس مادیت پرست سائنس سے سرسید مرعوب تھے، اس کا بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ "جو چیز لیبارٹری میں ثابت نہ ہو سکے، یا حواسِ خمسہ سے محسوس نہ ہو سکے، اس کا کوئی حقیقی وجود نہیں۔" چونکہ فرشتے، جنات اور شیطان مادی مخلوقات نہیں ہیں اور سائنس کی گرفت میں نہیں آتے، اس لیے سرسید کے لیے ان کا حقیقی وجود تسلیم کرنا مشکل ہو گیا۔ اگر وہ انہیں مان لیتے تو ان کا "نیچریت" کا پورا فلسفہ ڈگمگا جاتا۔ چنانچہ، یہاں بھی انہوں نے وہی راستہ اختیار کیا: قرآن کے الفاظ کو برقرار رکھا، لیکن ان کے معانی کو مکمل طور پر بدل کر انہیں "مادی قوتوں" یا "نفسیاتی کیفیات" کا نام دے دیا۔ آئیے ان کی تاویلات کا علمی جائزہ لیتے ہیں:

1. فرشتوں (Angels) کی حقیقت کا انکار

قرآنی بیان: قرآن مجید میں سینکڑوں مقامات پر فرشتوں کا ذکر ایک حقیقی، ذی شعور اور نورانی مخلوق کے طور پر آیا ہے۔ وہ اللہ کے احکام لاتے ہیں، انبیاء سے گفتگو کرتے ہیں (جیسے حضرت مریمؑ اور حضرت زکریاؑ سے)، جنگوں میں مدد کے لیے نازل ہوتے ہیں (جنگِ بدر)، اور ان کے ذمے مختلف کام ہیں (جنسے روح قبض کرنا، بارش برسانا وغیرہ)۔ جبرائیلؑ ایک خاص فرشتے کا نام ہے جو وحی لاتے تھے۔

سرسید کی تاویل: سرسید نے فرشتوں کے حقیقی خارجی وجود (External Existence) سے انکار کیا۔ ان کے نزدیک فرشتے کوئی الگ مخلوق نہیں، بلکہ یہ:

  • یا تو کائنات کی مختلف "بے شعور قوتیں" (Forces of Nature) ہیں (جیسے کشش ثقل، ہوا کی طاقت وغیرہ) جنہیں استعارۃً فرشتے کہا گیا ہے۔
  • یا پھر یہ انسان کے اندر موجود "نیک رجحانات" کا نام ہے۔

حضرت جبرائیلؑ کے بارے میں: سرسید کا مشہور نظریہ یہ تھا کہ جبرائیل کوئی باہر سے آنے والا فرشتہ نہیں، بلکہ یہ خود نبی کی اپنی "ملکہ نبوت" (Faculty of Prophecy) یا ان کی اپنی باطنی روحانی صلاحیت کا نام ہے، جسے وہ ایک فرشتے کی شکل میں محسوس کرتے ہیں۔ (حوالہ: تفسیر القرآن، سرسید احمد خان)

علمی رد (Rebuttal):

یہ تاویلات قرآن کے صریح بیانات کے خلاف ہیں۔ اگر فرشتے محض "بے شعور قدرتی قوتیں" ہیں، تو:

  • قرآن یہ کیوں کہتا ہے کہ فرشتے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں؟ بے شعور قوت (جیسے کشش ثقل) نہ ڈرتی ہے نہ تسبیح کرتی ہے۔
  • حضرت جبرائیلؑ نے حضرت مریمؑ کے سامنے انسانی شکل میں آ کر گفتگو کی (سورہ مریم)۔ کیا نبی کی "اپنی باطنی صلاحیت" باہر انسانی شکل میں آ کر ان سے مکالمہ کر سکتی ہے؟
  • قرآن کہتا ہے کہ فرشتوں نے آدمؑ کو سجدہ کیا اور ابلیس نے انکار کیا۔ اگر فرشتے محض قدرتی قوتیں ہیں تو سجدے کا حکم کیسا؟ اور اگر ابلیس محض بری خواہش ہے تو انکار اور تکبر کیسا؟ یہ تاویلات قرآن کے بیانیہ کو بے معنی کر دیتی ہیں۔

2. جنات اور شیطان (Jinn and Satan) کی حقیقت کا انکار

قرآنی بیان: قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ "جن" ایک الگ مخلوق ہے جسے "آگ کی لپٹ" سے پیدا کیا گیا (سورہ الرحمٰن: 15)۔ ان میں بھی انسانوں کی طرح ایمان والے اور کافر ہوتے ہیں۔ "ابلیس" (شیطان) جنات میں سے تھا جس نے تکبر کیا اور راندہ درگاہ ہوا۔

سرسید کی تاویل: سرسید نے جنات کے ایک الگ "ناری مخلوق" ہونے کا انکار کیا۔ انہوں نے لفظ "جن" (جس کا لغوی مطلب ہے: چھپی ہوئی چیز) کا سہارا لے کر عجیب تاویلات کیں:

  • کبھی کہا کہ "جن" سے مراد پہاڑوں اور جنگلوں میں رہنے والے "وحشی قبائل" ہیں جو عام آبادیوں سے چھپے رہتے تھے۔
  • کبھی کہا کہ اس سے مراد ایسے "خفیف اجسام" (Microscopic Organisms/Bacteria) ہیں جو نظر نہیں آتے۔

شیطان کے بارے میں: سرسید کا موقف تھا کہ شیطان کوئی باہر موجود ہستی نہیں جو بہکاتی ہے، بلکہ یہ خود انسان کے اندر موجود "بری خواہشات" اور "قوتِ بہیمیہ" (Animalistic Instincts) کا نام ہے۔

 

ایک معلوماتی گرافک جو جنات کے وجود اور ان کے شعوری طور پر کلامِ الٰہی سننے کے قرآنی بیان کی عکاسی کرتا ہے۔

علمی رد (Rebuttal):

سورہ الجن کی گواہی: قرآن میں پوری ایک سورت "سورہ الجن" موجود ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا اور کہا کہ "ہم نے عجیب قرآن سنا ہے" اور ایمان لے آئے۔ اگر جن سے مراد "وحشی قبائل" تھے، تو کیا وہ انسان نہیں تھے؟ قرآن نے انہیں انسانوں سے الگ کیوں ذکر کیا؟ اور اگر وہ "بیکٹیریا" تھے، تو کیا بیکٹیریا قرآن سن کر ایمان لاتے ہیں؟

شیطان اور آدمؑ کا مکالمہ: قرآن میں اللہ اور ابلیس کا تفصیلی مکالمہ موجود ہے جہاں وہ سجدے سے انکار کرتا ہے اور مہلت مانگتا ہے۔ اگر شیطان محض انسان کے اندر کی "بری خواہش" ہے، تو:

  • آدمؑ کی تخلیق سے پہلے یہ "بری خواہش" کہاں سے آ گئی تھی جس نے سجدے سے انکار کیا؟
  • کیا ایک "اندرونی خواہش" اللہ سے بحث و تکرار کر سکتی ہے؟ یہ تاویلات عقلِ سلیم کے بھی خلاف ہیں اور قرآن کے واضح متن کے بھی۔

خلاصہ کلام: قرآن یا کتابِ استعارات؟

سرسید کی یہ تمام کوششیں اس بنیادی غلط فہمی کا نتیجہ تھیں کہ "جو چیز مادی سائنس سے ثابت نہیں، وہ حقیقت نہیں ہو سکتی"۔ انہوں نے قرآن کو اس دور کی محدود سائنس کے مطابق ڈھالنے کے لیے عالمِ غیب کی تمام حقیقتوں کو محض "استعارے" (Metaphors) اور "تمثیلیں" بنا کر رکھ دیا۔ ان تاویلات کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن ایک ایسی کتاب بن گیا جس میں کوئی بھی بات اپنی حقیقی شکل میں نہیں ہے، بلکہ ہر لفظ کا مطلب کچھ اور ہی ہے۔ یہ رویہ درحقیقت مادیت پرستی کے سامنے مکمل فکری سپردگی (Intellectual Surrender) تھا۔

(اگلی اور آخری قسط میں ہم ان شاء اللہ سرسید کے "تصورِ جنت و دوزخ" اور آخرت کے بارے میں ان کے نظریات کا جائزہ لیں گے، جو کہ ان کی اس پوری فکری عمارت کی آخری کڑی ہے۔)

واللہ اعلم بالصواب۔


حوالہ جات (References):

  • سرسید احمد خان، "تفسیر القرآن"۔
  • قرآنِ مجید، سورہ مریم، سورہ الجن، سورہ الرحمٰن۔
  • مولانا محمد قاسم نانوتوی، "حجۃ الاسلام" (سرسید کے نظریات کا علمی رد)۔
  • ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، "سرسید احمد خان اور اسلامی الہیات"۔

#سرسید_احمد_خان #عالم_غیب #فرشتوں_کا_وجود #جنات_اور_شیطان #تاویلات_سرسید #نیچریت #اسلام_اور_عقل #فکری_انحراف #قرآنی_حقائق #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #SirSyedAhmadKhan #AngelsAndJinn #MetaphysicsInIslam #RationalismVsFaith

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال