تخلیقِ کائنات کا "سموکی" دور: قرآن کا لفظ "دُخَان" اور جدید فلکیات کی حیران کن شہادت
مقدمہ: خالی خلا یا بھرا ہوا سمندر؟
صدیوں تک انسان جب رات کو تاروں بھرے آسمان کی طرف دیکھتا تھا، تو اسے ستاروں کے درمیان ایک وسیع و عریض کالی جگہ نظر آتی تھی۔ قدیم فلسفے اور ابتدائی سائنس کے تحت ایک ہی سمجھا جاتا تھا کہ خلا (Space) بالکل "خالی" (Vacuum) ہے، جہاں ستاروں کے علاوہ کچھ بھی موجود نہیں۔ یہ نظریہ طویل عرصے تک انسانی ذہن پر حاوی رہا۔
لیکن بیسویں اور اکیسویں صدی میں، جب سائنس نے غیر معمولی ترقی کی اور انسان نے طاقتور دوربینوں اور اسپیس ٹیکنالوجی کے ذریعے کائنات کی گہرائیوں میں جھانکا، تو یہ قدیم نظریہ چکنا چور ہو گیا۔ جدید فلکیات نے ہمیں بتایا کہ ستاروں کے درمیان بظاہر خالی نظر آنے والی جگہ درحقیقت "خالی" نہیں ہے، بلکہ وہاں گیسوں اور انتہائی باریک ذرات کا ایک عظیم الشان سمندر موجزن ہے، جو ستاروں کی پیدائش اور موت کا بنیادی سبب بنتا ہے۔
آج سے 1400 سال پہلے، ایک ایسے دور میں جب دنیا میں کوئی ٹیلی سکوپ تھی نہ کوئی فلکیاتی لیبارٹری، اور جب عرب کے صحرا میں آسمان کو ایک ٹھوس چھت سمجھا جاتا تھا، قرآن کریم نے کائنات کے ابتدائی مراحل اور اس کی ساخت کے بارے میں ایک ایسا لفظ استعمال کیا جو آج کی جدید ترین سائنس کے لیے ایک "معجزہ" سے کم نہیں۔ وہ لفظ ہے "دُخَان" (دھواں/Smoke)۔
اس تحقیقی مضمون میں ہم جائزہ لیں گے کہ قرآن نے یہ لفظ کس تناظر میں استعمال کیا اور آج کی جدید فلکیات (Astronomy)، خاص طور پر جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کی تصاویر، اس "کائناتی دھوئیں" کے بارے میں کیا انکشافات کر رہی ہیں۔
1. قرآنی تناظر: تخلیق کا ابتدائی مرحلہ اور لفظ "دُخَان" کا انتخاب
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے مراحل کا ذکر کرتے ہوئے ایک انتہائی اہم اور کلیدی مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءَ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ
"پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ (اس وقت) دھواں (Smoke) تھا، تو اس نے اسے اور زمین کو حکم دیا کہ تم دونوں وجود میں آجاؤ، خوشی سے یا ناخوشی سے۔ دونوں نے کہا: ہم خوشی سے حاضر ہیں۔" [1]
"دُخَان" ہی کیوں؟ ایک لسانی و علمی معجزہ
یہاں سب سے زیادہ غور طلب بات خالقِ کائنات کا انتخابِ الفاظ ہے۔ اگر مقصد صرف کسی بادل یا دھند کا ذکر کرنا ہوتا تو عربی زبان میں اس کے لیے "سحاب"، "غمام"، یا "ضباب" جیسے الفاظ موجود تھے۔ لیکن قرآن نے خاص طور پر "دُخَان" کا لفظ چنا۔
عربی لغت اور تفاسیر کے اعتبار سے "دھوئیں" کے مفہوم میں تین بنیادی خصوصیات شامل ہوتی ہیں [2]:
- گیسی حالت (Gaseous State): یہ ٹھوس یا مائع نہیں ہوتا، بلکہ بکھرے ہوئے مادے پر مشتمل ہوتا ہے۔
- حرارت (Heat): عام بادل یا دھند ٹھنڈی ہوتی ہے، جبکہ دھواں ہمیشہ آگ یا شدید گرمی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس میں حرارت کا عنصر لازمی ہے۔
- دھندلاپن اور رکاوٹ (Opacity): دھواں شفاف (Transparent) نہیں ہوتا۔ یہ روشنی کو گزرنے سے روکتا ہے، منظر کو دھندلا کرتا ہے اور بصارت میں رکاوٹ بنتا ہے۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا جدید سائنس کائنات کے ابتدائی مراحل میں ان تینوں خصوصیات کی تصدیق کرتی ہے؟
2. جدید فلکیات کی گواہی: "کائناتی دھواں" (Cosmic Smoke/Dust)
جب جدید دور میں سائنسدانوں نے ستاروں کے درمیان موجود خلا (Interstellar Space) کا تفصیلی مطالعہ شروع کیا، تو انہیں وہاں مادے کی بڑی مقدار ملی۔ شروع میں اسے صرف گیس سمجھا گیا، لیکن سپیکٹروسکوپی کے جدید طریقوں سے معلوم ہوا کہ اس میں ٹھوس ذرات بھی ملے ہوئے ہیں۔
سائنسدانوں نے اس مادے کو "کائناتی دھول" (Cosmic Dust) کا نام دیا، لیکن اس کے خواص گھر کی دھول مٹی جیسے نہیں تھے، بلکہ یہ گیسوں کے ساتھ مل کر بالکل دھوئیں (Smoke) کی طرح برتاؤ کرتا تھا۔ اسی لیے اب فلکیاتی ادب میں اسے اکثر "کائناتی دھواں" کہا جاتا ہے [3]۔
الف) بگ بینگ کے بعد کا "گرم اور دھندلا" دور
جدید کاسمولوجی (علم الکائنات) کے مطابق، بگ بینگ (Big Bang) کے فوراً بعد کائنات انتہائی گرم تھی۔ پہلے چند لاکھ سال تک (تقریباً 380,000 سال تک) کائنات ایک "گرم، مبہم پلازما" (Hot, Opaque Plasma) کی شکل میں تھی [6]۔
یہ دور قرآن کے لفظ "دُخَان" کی ہو بہو سائنسی تصویر کشی کرتا ہے کیونکہ:
- اس وقت کائنات کا درجہ حرارت کروڑوں ڈگری تھا (حرارت)۔
- یہ کائنات اتنی کثیف (Dense) تھی کہ روشنی (Photons) اس میں سے آزادانہ گزر نہیں سکتی تھی۔ اگر کوئی مشاہدہ کرنے والا اس وقت موجود ہوتا تو اسے کچھ نظر نہ آتا، ہر طرف ایک گرم، دھندلی اور غیر شفاف گیس کا سمندر تھا (دھندلاپن) [6]۔
ب) ستاروں کی فیکٹریاں: نیبیولا (Nebulae)
وقت گزرنے کے ساتھ، کائنات ٹھنڈی ہوئی اور یہ ابتدائی "کائناتی دھواں" کشش ثقل کی وجہ سے جگہ جگہ اکٹھا ہونا شروع ہوا۔ جہاں جہاں یہ دھواں بہت زیادہ مقدار میں جمع ہوا، وہاں عظیم الشان بادل بن گئے جنہیں "نیبیولا" (Nebulae) یا سدیم کہا جاتا ہے [4]۔
اگر آپ ہبل یا جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی مشہور تصاویر (جیسے "Pillars of Creation" یا "Orion Nebula") دیکھیں، تو وہ آپ کو خلا میں تیرتے ہوئے عظیم الشان رنگین دھوئیں کے پہاڑوں کی طرح نظر آئیں گے۔
یہ نیبیولا ہی دراصل ستاروں کی فیکٹریاں ہیں۔ انہی دھوئیں کے بادلوں کے سکڑنے سے نئے ستارے اور شمسی نظام پیدا ہوتے ہیں۔ سائنس اس بات پر متفق ہے کہ ہمارا اپنا سورج اور زمین بھی آج سے تقریباً 4.5 ارب سال پہلے ایسے ہی ایک گھومتے ہوئے دھوئیں کے بادل (Solar Nebula) سے وجود میں آئے تھے [5]۔
اس سائنسی حقیقت نے ثابت کر دیا کہ ٹھوس آسمانی اجسام (ستارے، سیارے، زمین) کی تخلیق سے پہلے کا مرحلہ واقعی "گیسی اور دھوئیں" والا تھا۔
3. تقابلی جائزہ: ایک معجزاتی مطابقت (The Convergence)
آئیے اب قرآن کے بیان اور جدید سائنسی دریافتوں کے اس حیران کن ملاپ کا نثری انداز میں جائزہ لیتے ہیں۔
قرآن کریم میں واضح ارشاد ہے کہ تخلیق کے ایک مرحلے پر اللہ نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی جبکہ وہ اس وقت "دُخَان" (دھواں) تھا [1]۔ جدید فلکیات (Modern Astronomy) اس کی ہو بہو تصدیق کرتی ہے کہ بگ بینگ کے بعد ابتدائی کائنات ایک گرم، دھندلی گیس (Hot Opaque Plasma) کی حالت میں تھی [6]، جو سائنسی اور لغوی اعتبار سے دھوئیں کی تعریف پر پوری اترتی ہے۔ قرآن مزید بتاتا ہے کہ اس دھوئیں کی حالت کے بعد زمین اور دیگر اجسام کو وجود میں آنے کا حکم ہوا۔ جدید سائنس بھی بالکل یہی مانتی ہے کہ اسی ابتدائی کائناتی دھوئیں (Nebulae) کے عظیم الشان بادلوں کے کشش ثقل سے سکڑنے کے نتیجے میں بعد میں ستارے، کہکشائیں اور ہمارا نظام شمسی (زمین سمیت) وجود میں آیا [5]۔
یہ مطابقت صرف مادے کی موجودگی تک محدود نہیں بلکہ لفظ کے انتخاب میں بھی نمایاں ہے۔ قرآن نے "دُخَان" کا لفظ چنا جس میں حرارت (Heat) کا بنیادی مفہوم شامل ہے [2]۔ جدید ایسٹرو فزکس بتاتی ہے کہ ستاروں کے درمیان موجود یہ دھواں (Interstellar Medium) اکثر قریبی ستاروں کی شدید تابکاری یا سپر نووا دھماکوں کی شاک ویوز کی وجہ سے انتہائی گرم ہوتا ہے [5]۔ اسی طرح، دھوئیں کی ایک بڑی خاصیت روشنی کو روکنا اور منظر کو دھندلا کرنا (Opacity) ہے۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کائناتی دھول کے یہ بادل ستاروں کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روکتے ہیں اور انہیں دھندلا کرتے ہیں، جسے فلکیاتی اصطلاح میں "Interstellar Extinction" کہا جاتا ہے؛ یہ بالکل وہی کام ہے جو عام دھواں کرتا ہے [3]۔
4. ممکنہ اشکالات اور ان کے علمی جوابات
اشکال نمبر 1: کیا "دھواں" جلنے (Combustion) کے بغیر ممکن ہے؟
جواب: یہ اعتراض زبان کے استعمال کی باریکیوں کو نظر انداز کرنے پر مبنی ہے۔ قرآن انسانی زبان میں نازل ہوا ہے اور یہ الوہی حقائق کو بیان کرنے کے لیے انسانی فہم کے مطابق بہترین دستیاب "تشبیہ" (Analogy) استعمال کرتا ہے۔ جب ایک انتہائی گرم، گیسی، اور دھندلے مادے کا ذکر کرنا مقصود ہو، جو روشنی کو روکتا ہو، تو انسانی لغت میں اس کے لیے سب سے موزوں ترین اور جامع لفظ "دُخَان" ہی ہے۔ خود جدید سائنسدان بھی ستاروں کے درمیان موجود مادے کے لیے "Cosmic Smoke" (کائناتی دھواں) کی اصطلاح کثرت سے استعمال کرتے ہیں، حالانکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ وہاں کوئی آگ نہیں جل رہی۔ اگر سائنسدان یہ اصطلاح اس کی طبعی خصوصیات (Physical Properties) کی بنا پر استعمال کر سکتے ہیں، تو قرآن کا یہ انتخاب تو عین حکمت کے مطابق ہے۔
اشکال نمبر 2: زمین اور آسمان کی تخلیق کی ترتیب (Timeline)
جواب: یہ قرآن کا ایک انتہائی بلیغ اندازِ بیان ہے جو بیک وقت دو سائنسی حقیقتوں کا احاطہ کرتا ہے:
- کائناتی سطح پر: جب ابتدائی کائناتی دھواں (Primary Nebula) موجود تھا، تو اس کے اندر مستقبل میں بننے والی تمام کہکشائیں، ستارے اور ہماری زمین کا مادہ "بالقوہ" (Potentially) موجود تھا۔ خالق کا خطاب اس پورے مادے سے تھا۔
- مقامی سطح پر: جدید سائنس تصدیق کرتی ہے کہ ہمارا اپنا نظامِ شمسی اور زمین بھی ایک مخصوص "دھوئیں کے بادل" یعنی سولر نیبیولا (Solar Nebula) کے سکڑنے سے وجود میں آئے ہیں [5]۔ لہٰذا، زمین کی تخلیق سے عین پہلے کا مرحلہ بھی "دُخان" ہی تھا۔ قرآن کا بیان ہر سطح پر سائنسی حقائق سے ہم آہنگ ہے۔
حاصلِ کلام اور روحانی پیغام
کائناتی دھوئیں کی یہ جدید تحقیق ہمارے لیے صرف فلکیات کی ایک معلومات نہیں، بلکہ ایمان کی تازگی کا ایک عظیم سامان ہے۔ جب ہم جیمز ویب اور ہبل ٹیلی سکوپ کی تصاویر میں اربوں نوری سال دور پھیلے ہوئے دھوئیں کے ان عظیم الشان بادلوں کو دیکھتے ہیں، جہاں نئے جہان بن رہے ہیں، اور پھر قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہیں کہ "وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا" [1]، تو ایک مومن کا دل گواہی دیتا ہے کہ سائنس اور قرآن میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ سائنس تو قرآن کی تفسیر کر رہی ہے۔
[1] القرآن الکریم: سورۃ حمٓ السجدة / فصّلت، آیت 11۔
[2] تفسیر: امام ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم (تفسیر سورۃ فصلت، آیت 11 کے تحت دخان کی تشریح)۔
[3] Scientific Source (NASA): "What is Cosmic Dust?" - NASA Science, Astrophysics Division.
[4] Scientific Source (ESA): "Interstellar Matter and Star Formation" - European Space Agency.
[5] Academic Journal: Draine, B. T. (2003). "Interstellar Dust Grains." Annual Review of Astronomy and Astrophysics.
[6] Cosmology Context: Weinberg, S. (2008). Cosmology. Oxford University Press.

