کیا قرآن کا (نعوذباللہ) یہ عقیدہ ہے کہ سورج شام کو زمین کے ایک کیچڑ والے چشمے میں ڈوب جاتا ہے؟
سورۂ الکہف، ذوالقرنین اور جدید سائنس: ایک تحقیقی و لسانی جائزہ
مقدمہ: اعتراض کی نوعیت
دورِ حاضر میں اسلام اور قرآن پر اعتراض کرنے والے حضرات (مستشرقین اور ملحدین) کی جانب سے سورۂ الکہف کی ایک آیت کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ قرآن مجید کا کائنات کا تصور (Cosmology) فرسودہ ہے اور یہ جدید سائنس سے متصادم ہے۔
ان کا مرکزی اعتراض یہ ہے کہ قرآن بیان کرتا ہے کہ ذوالقرنین نے اپنے سفر کے دوران سورج کو زمین کے ایک کیچڑ والے چشمے یا سمندر میں "حقیقت میں ڈوبتے ہوئے" دیکھا، جو کہ آج کی فلکیاتی حقیقت (کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے) کے خلاف ہے۔
یہ ایک سنگین غلط فہمی ہے جو عربی زبان کے اسلوب اور قرآن کے اندازِ بیان سے ناواقفیت کی بنا پر پیدا ہوتی ہے۔ آئیے، جذبات سے ہٹ کر اس آیت کا علمی اور لسانی پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔
پہلا اور سب سے بڑا اعتراض: سورج کا چشمے میں غروب ہونا
قرآن مجید سورۂ الکہف میں ذوالقرنین کے مغربی سفر کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ...
(ترجمہ: یہاں تک کہ جب وہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچ گیا تو اس نے اسے ایک سیاہ کیچڑ والے چشمے میں ڈوبتے ہوئے پایا...) [القرآن، سورۂ الکہف: 86]
اعتراض: معترضین کہتے ہیں کہ سائنس ثابت کر چکی ہے کہ سورج زمین کے کسی چشمے میں نہیں ڈوبتا، تو قرآن ایسا کیوں کہہ رہا ہے؟
علمی اور مدلل جواب:
اس آیت کا درست مفہوم سمجھنے کے لیے عربی گرامر، انسانی مشاہدے کی نفسیات اور جغرافیائی محل وقوع کو سمجھنا ضروری ہے۔
1. کلیدی لفظ: "وَجَدَهَا" (اس نے اسے پایا/محسوس کیا)
اس پوری بحث کی کنجی آیت میں موجود لفظ "وَجَدَهَا" (Wajadaha) میں چھپی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ "سورج چشمے میں ڈوب گیا" (غَرَبَت الشَّمْسُ فِي عَيْنٍ)۔ بلکہ فرمایا کہ ذوالقرنین نے "اسے (ایسا کرتے ہوئے) پایا/دیکھا"۔
یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ اس نے "فلکیاتی حقیقت" (Astronomical Reality) بیان نہیں کی، بلکہ "انسانی مشاہدے" (Human Perception / Optical Illusion) کو بیان کیا ہے۔
مثال سے وضاحت: آج اکیسویں صدی میں، ہم سب جانتے ہیں کہ سورج اور زمین گھوم رہی ہے۔ لیکن کیا ہم روزانہ یہ نہیں کہتے کہ "سورج طلوع ہوا" (Sunrise) اور "سورج غروب ہوا" (Sunset)؟ کیا ہم سائنس جاننے کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ "زمین گھوم کر سورج کے سامنے آگئی"؟ نہیں۔ ہم وہی بولتے ہیں جو ہماری آنکھ دیکھتی ہے۔ قرآن نے بھی ذوالقرنین کے اسی "زاویہ نظر" (Perspective) کو بیان کیا ہے۔
2. "عَيْنٍ حَمِئَةٍ" اور جغرافیائی مقام (یہ کون سا علاقہ تھا؟)
قرآن نے الفاظ استعمال کیے ہیں "عَيْنٍ حَمِئَةٍ" یعنی سیاہ کیچڑ والا یا گدلا چشمہ/سمندر۔ تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے مفسرین اور محققین نے اس مقام کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے جہاں ذوالقرنین پہنچے تھے:
- بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean): غالب امکان یہ ہے کہ ذوالقرنین مغرب میں سفر کرتے ہوئے افریقہ یا یورپ کے انتہائی مغربی ساحل پر پہنچے جہاں آگے بحرِ اوقیانوس ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ سمندر کے کنارے کھڑے شخص کو، خاص طور پر جہاں ساحلی مٹی گہری ہو، غروب کے وقت سورج سمندر کے گدلے پانی میں اترتا ہوا ہی محسوس ہوتا ہے۔
- بحیرہ اسود (Black Sea): بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ "بحیرہ اسود" کا مغربی ساحل ہو سکتا ہے۔ اس سمندر کو "سیاہ سمندر" کہا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کے پانی کی رنگت گہری اور سیاہ مائل ہے (وجہ اس کی تہہ میں ہائیڈروجن سلفائیڈ کی موجودگی ہے)۔ ایسے سیاہ پانی میں سورج کا غروب ہونا عین قرآن کے الفاظ "عَيْنٍ حَمِئَةٍ" کے مطابق منظر پیش کرتا ہے۔لہٰذا، ذوالقرنین کا خشکی کے آخری سرے پر پہنچ کر سمندر میں سورج کو ڈوبتے ہوئے "محسوس کرنا" ایک عین فطری مشاہدہ تھا۔
3. مفسرین کی رائے:
یہ کوئی نئی توجیہ نہیں ہے۔ کلاسک مفسرین، جو جدید سائنس سے پہلے گزرے ہیں، وہ بھی زبان کے اس اسلوب کو سمجھتے تھے۔ امام ابن کثیرؒ (وفات 774ھ) لکھتے ہیں:
"اس سے مراد یہ نہیں کہ سورج بذاتِ خود اس چشمے میں جا گھسا، کیونکہ سورج تو زمین سے بہت بڑا ہے... بلکہ مراد یہ ہے کہ ذوالقرنین کی نظر میں ایسا محسوس ہوا، جیسے کوئی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر دیکھے تو اسے سورج پانی میں ڈوبتا نظر آتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ پانی میں نہیں ڈوبتا۔" [1]
دوسرا اعتراض: ذوالقرنین کی التباس آمیز شخصیت
ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ذوالقرنین کون تھا؟ تاریخ میں اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ملتا، اور کچھ لوگ اسے سکندرِ اعظم (Alexander the Great) کہتے ہیں جو کہ ایک مشرک تھا۔ قرآن ایک مشرک کی تعریف کیسے کر سکتا ہے؟
1. قرآن تاریخ کی کتاب نہیں ہے:
قرآن کا مقصد "ہدایت" اور "عبرت" ہے، نہ کہ شخصیات کے شجرہ نسب بیان کرنا۔ قرآن نے ذوالقرنین کا نام پوشیدہ رکھ کر ان کے "کردار" کو نمایاں کیا ہے کہ ایک عظیم بادشاہ ہونے کے باوجود وہ عاجز، منصف اور خدا ترس تھے۔ سبق یہ ہے کہ اقتدار پا کر فرعون نہیں بننا چاہیے۔
2. تاریخی شناخت:
سکندرِ یونانی کو ذوالقرنین قرار دینا قدیم مفسرین کی رائے تھی، جو جدید تحقیق کی روشنی میں درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ وہ بت پرست تھا۔جدید دور کے بڑے محققین (جیسے مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودیؒ) نے مضبوط تاریخی شواہد اور آثار قدیمہ کی بنیاد پر یہ رائے دی ہے کہ ذوالقرنین قدیم فارس (ایران) کا بادشاہ "سائرس اعظم" (Cyrus the Great) تھا [2]۔
- سائرس ایک موحد (خدا پرست) بادشاہ تھا۔
- بائبل (عہد نامہ قدیم) میں بھی اس کی تعریف کی گئی ہے کہ اس نے یہودیوں کو بابل کی قید سے آزاد کرایا۔اس کے مجسموں پر ایسے تاج ملے ہیں جن پر دو سینگ بنے ہوئے تھے (جو "ذوالقرنین" یعنی دو سینگوں والے کے لقب سے مطابقت رکھتا ہے)۔
خلاصہ کلام
قرآن مجید پر کیے جانے والے یہ اعتراضات درحقیقت عربی زبان کے بلاغی اسلوب (Rhetorical Style) اور قرآن کے مقصدِ نزول سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں۔سورج کے ڈوبنے کا ذکر "سائنسی حقیقت" کے طور پر نہیں بلکہ "انسانی مشاہدے" کے طور پر کیا گیا ہے، جس کی دلیل آیت میں لفظ "وَجَدَهَا" کی موجودگی ہے۔
قرآن کا دامن ایسے کسی بھی غیر سائنسی نظریے سے پاک ہے، شرط یہ ہے کہ اسے تعصب کی عینک اتار کر اور زبان کے قواعد کو مدنظر رکھ کر پڑھا جائے۔
[1] تفسیر ابن کثیر، تفسیر سورۃ الکہف، آیت 86۔
[2] ابوالکلام آزاد، "اصحابِ کہف اور یاجوج ماجوج" (ذوالقرنین کی تاریخی تحقیق)؛ تفہیم القرآن، مولانا مودودی، سورۃ الکہف کا حاشیہ۔
[3] لسان العرب (عربی لغت)، مادہ "و ج د" (لفظ 'وجد' کے معانی کی تحقیق)۔

