⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

معجزۂ شق القمر اور "گریویٹیشنل لینزنگ" کا مفروضہ: ایک علمی و سائنسی جائزہ

 
ایک پر اثر ڈیجیٹل تصویر جس میں چاند کو دو واضح ٹکڑوں میں تقسیم دکھایا گیا ہے، پس منظر میں ستارے اور صحرائے عرب کا منظر ہے، جس پر عنوان 'معجزۂ شق القمر: حقیقت یا مفروضہ؟' درج ہے۔


معجزۂ شق القمر اور "گریویٹیشنل لینزنگ" کا مفروضہ: ایک علمی و سائنسی جائزہ

(کیا چاند واقعی پھٹا تھا یا یہ صرف نظر کا دھوکہ تھا؟ ساحل عدیم صاحب کے نظریے کی حقیقت)

ضروری ابتدائی وضاحت (Disclaimer):

اس تحریر کا مقصد کسی شخصیت کی تضحیک یا ذاتی مخالفت ہرگز نہیں ہے۔ ہم جناب ساحل عدیم صاحب یا کسی بھی دوسرے اسکالر کی ان باتوں کی قدر کرتے ہیں جو دین کے حق میں ہوں اور نوجوانوں کو جوڑتی ہوں۔ ہمارا اختلاف صرف اور صرف ان مخصوص نظریات سے ہے جو قرآن و سنت کی واضح نصوص (Clear Texts) سے ٹکراتے ہیں۔ یہ ایک علمی محاسبہ ہے، اسے اسی تناظر میں دیکھا جائے۔

مقدمہ:

نبی کریم ﷺ کے عظیم ترین حسی معجزات میں سے ایک "شق القمر" (چاند کا دو ٹکڑے ہونا) ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو قرآن کی قطعی آیت اور متواتر احادیث سے ثابت ہے۔ بدقسمتی سے، دورِ حاضر میں تجسس پسندی کے زیرِ اثر، کچھ احباب (جیسے ساحل عدیم صاحب) نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ یہ واقعہ حقیقی طور پر چاند کے ٹوٹنے کا نہیں تھا، بلکہ زمین اور چاند کے درمیان کوئی "بلیک ہول" یا بھاری اجرامِ فلکی آ گیا تھا جس کی وجہ سے "گریویٹیشنل لینزنگ" (Gravitational Lensing) کا مظہر پیش آیا اور دیکھنے والوں کو "لگا" کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا ہے۔

ہم نے اس نظریے کی سائنسی اور قرآنی بنیادوں پر آزادانہ تحقیق کی ہے، جس کے نتائج درج ذیل ہیں:

باب اول: "گریویٹیشنل لینزنگ" کے نظریے کا سائنسی پوسٹ مارٹم

ہماری تحقیق کے مطابق، ساحل صاحب کا یہ دعویٰ فلکیاتی فزکس (Astrophysics) کے بنیادی اصولوں سے میل نہیں کھاتا۔

1. گریویٹیشنل لینزنگ چیزوں کو "شق" (Split) نہیں کرتی:

سائنسی حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی بھاری شے (جیسے بلیک ہول) لینز کا کام کرتی ہے، تو وہ پیچھے موجود شے (سورس) کی روشنی کو موڑ دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ شے بگڑی ہوئی شکل میں، ایک دائرے (Einstein Ring)، قوس (Arc)، یا کئی مختلف سایوں کی شکل میں نظر آتی ہے۔

نکتہ: گریویٹیشنل لینزنگ کبھی بھی ایک قریبی اور بڑی شے (جیسے چاند) کو صاف ستھرے انداز میں دو الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم کر کے نہیں دکھاتی، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔

2. زمین اور چاند کے درمیان "بلیک ہول" کا ناممکن وجود:

یہ فرض کر لینا کہ ایک بلیک ہول یا اتنا بھاری جسم زمین اور چاند کے درمیان آ کر گزر گیا، ایک سائنسی تباہی کا بیان ہے۔

حقیقت: اگر کوئی ایسی شے جس کی کششِ ثقل اتنی زیادہ ہو کہ وہ چاند کی تصویر کو اتنا بڑا لینز کر سکے، زمین کے اتنا قریب آتی تو اس کی گریویٹی ہمارے نظامِ شمسی کو تہہ و بالا کر دیتی۔ زمین پر قیامت خیز سمندری طوفان آتے اور چاند کا مدار بگڑ جاتا۔ ایسا کوئی ریکارڈ تاریخ یا سائنس میں موجود نہیں کہ کوئی بلیک ہول خاموشی سے آیا اور اپنا کرتب دکھا کر غائب ہو گیا۔ یہ سائنس نہیں، سائنس فکشن ہے۔

 
ایک سائنسی گرافک جو گریویٹیشنل لینزنگ کے عمل کو واضح کرتا ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح بلیک ہول کی کشش روشنی کو موڑ کر چیزوں کی شکل بگاڑ دیتی ہے، جو کہ شق القمر کے واقعے سے بالکل مختلف ہے۔

باب دوم: قرآنِ کریم کی قطعی گواہی

اگر ہم سائنس کو ایک لمحے کے لیے سائیڈ پر بھی رکھ دیں، تو بحیثیت مسلمان ہمارے لیے قرآن کا فیصلہ حتمی ہے۔ قرآن اس واقعے کو "نظر کے دھوکے" کے طور پر نہیں بلکہ ایک "حقیقی واقعے" کے طور پر بیان کرتا ہے۔

آیتِ قطعی: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ


ترجمہ: "قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا (دو ٹکڑے ہوگیا)۔" [1]

استدلال:

  • اللہ تعالیٰ نے ماضی کا صیغة استعمال کرتے ہوئے فرمایا "انشَقَّ" (وہ پھٹ گیا)۔ یہ ایک خبر ہے، ایک حقیقت کا بیان ہے۔ اگر یہ صرف لوگوں کی نظر کا دھوکہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں نہ فرماتا کہ چاند پھٹ گیا، بلکہ شاید یہ فرماتا کہ "انہیں ایسا لگا"۔ اللہ کا کلام حقیقت پر مبنی ہوتا ہے، دھوکے پر نہیں۔
  • اگلی آیت میں کفار کا قول نقل ہے کہ انہوں نے اسے "جادو" کہا۔ وہ جادو اسی لیے کہتے تھے کہ انہوں نے ایک ناممکن چیز کو حقیقت میں بدلتے دیکھا۔ اگر یہ کوئی عام آسمانی مظہر ہوتا تو وہ اسے جادو نہ کہتے۔

باب سوم: صحیح احادیث اور عینی شاہدین کی گواہی (سب سے بڑا ثبوت)

اس نظریے کا سب سے بڑا رد وہ صحیح احادیث ہیں جن میں صحابہ کرامؓ نے اس منظر کی کیفیت بیان کی ہے۔

حدیث نمبر 1 (عینی شاہد کا بیان): مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِرْقَتَيْنِ: فِرْقَةٌ فَوْقَ الْجَبَلِ، وَفِرْقَةٌ دُونَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: اشْهَدُوا


ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ (وہ ٹکڑے اتنے دور ہوئے کہ) ایک ٹکڑا پہاڑ (کوہِ حرا) کے اوپر نظر آ رہا تھا اور ایک ٹکڑا اس کے پیچھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گواہ رہنا۔" [2]

حدیث نمبر 2 (بیرونی گواہیوں کی تصدیق): یہ معجزہ صرف مکہ والوں تک محدود نہیں تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ مکہ کے کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ جادو ہے تو اس کا اثر صرف ہم پر ہوگا، باہر والوں پر نہیں۔ چنانچہ انہوں نے باہر سے آنے والے قافلوں کا انتظار کیا۔

"قَدِمَ عَلَيْهِمْ سُفَّارٌ مِنْ كُلِّ جِهَةٍ فَسَأَلُوهُمْ، فَقَالُوا: قَدْ رَأَيْنَاهُ" [3]

ترجمہ: "پھر جب ہر طرف سے مسافر (مکہ) آئے تو انہوں نے ان سے پوچھا، تو ان سب نے کہا: ہم نے بھی اسے (چاند کو دو ٹکڑے ہوتے) دیکھا ہے۔"

فیصلہ کن دلیل: یہ احادیث ثابت کرتی ہیں کہ یہ کوئی مقامی "آپٹیکل الوژن" یا لینزنگ نہیں تھی جو صرف خاص زاویے پر کھڑے لوگوں کو نظر آتی۔ یہ ایک عالمی سطح کا حقیقی واقعہ تھا جسے مختلف علاقوں کے لوگوں نے بیک وقت دیکھا۔

ایک انتہائی ضروری وضاحت: سائنسی حدود اور ہمارا موقف

جہاں ہم اس معجزے پر پختہ ایمان رکھتے ہیں، وہاں چند حقائق کو واضح کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں تاکہ کسی قسم کا علمی مغالطہ نہ رہے:

1. موجودہ سائنس کا موقف: ہم یہ بات دیانتداری سے تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ مادی سائنس ابھی تک چاند کے دو ٹکڑے ہونے کے اس واقعے کی تصدیق نہیں کرتی۔ ناسا (NASA) اور دیگر خلائی اداروں کے پاس فی الحال ایسی کوئی حتمی ارضیاتی (Geological) دلیل نہیں ہے جو یہ ثابت کرے کہ پورا چاند کبھی دو حصوں میں بٹا تھا۔

2. سائنس کی تبدیلی اور قرآن کی قطعیت: ہمارے نزدیک سائنس کوئی "حرفِ آخر" نہیں بلکہ ایک مسلسل ارتقاء (Evolution) کا نام ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سائنس نے کئی ایسی باتوں کو پہلے جھٹلایا جو قرآن نے 1400 سال پہلے بیان کیں، اور پھر سینکڑوں سال بعد سائنس وہیں پہنچی جہاں قرآن پہلے سے موجود تھا۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آج نہیں تو 100 یا 200 سال بعد جب انسانی علم مزید بڑھے گا، تو شاید وہ اس عظیم معجزے کے مادی اثرات بھی تلاش کر لے۔ ہم سائنس کے "دریافت" کرنے کا انتظار تو کر سکتے ہیں، لیکن اس کی بنیاد پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سچی خبر کو نہیں جھٹلا سکتے۔

3. چاند پر موجود دراڑ (Rima Ariadaeus): ناسا کی تصاویر میں چاند کی سطح پر میلوں لمبی ایک واضح دراڑ نظر آتی ہے جسے سائنسی زبان میں Rima Ariadaeus کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ماہرینِ فلکیات اسے زلزلے یا لاوے کی سرگرمی قرار دیتے ہیں، لیکن ایک صاحبِ ایمان کے لیے یہ قرینِ قیاس ہے کہ یہ اسی عظیم الشان واقعے کا کوئی باقی ماندہ نشان ہو، جسے اللہ نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک اشارے کے طور پر محفوظ رکھا ہو۔

حرفِ آخر: دین کا مذاق نہ بنوائیں!

ہماری تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ "شق القمر" اللہ کی قدرتِ کاملہ سے ظاہر ہونے والا ایک حقیقی معجزہ تھا، جس میں چاند فی الحقیقت دو ٹکڑے ہوا۔ اسے "گریویٹیشنل لینزنگ" یا "آپٹیکل الوژن" قرار دینا نہ صرف سائنسی اعتبار سے غلط ہے بلکہ قرآن و حدیث کا انکار بھی ہے۔

ہمارا یہ تحقیقی محاسبہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ جب ہم اس طرح کی کچی اور سائنس فکشن پر مبنی تاویلیں پیش کرتے ہیں، تو یہ دین کی خدمت نہیں بلکہ غیر مسلموں اور ملحدین کے سامنے اسلام کو مذاق کا نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ وہ ہماری ان غیر منطقی باتوں پر ہنستے ہیں اور یوں دین کا وقار مجروح ہوتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی باتوں کو صرف مسلمانوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اس علمی انداز میں پیش کریں کہ کوئی غیر مسلم بھی ان پر ٹھٹھہ نہ کر سکے۔ سائنس اپنی جگہ محترم ہے، لیکن اللہ کا کلام اور نبی کا معجزہ سائنس کے محدود اصولوں کا پابند نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب۔

References:
[1] القرآن الکریم، سورۃ القمر (54)، آیت نمبر 1۔
[2] صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب تفسیر سورۃ اقتربت الساعۃ، حدیث نمبر: 4864؛ صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقین وأحکامہم، باب انشقاق القمر، حدیث نمبر: 2800۔
[3] دلائل النبوۃ للبیہقی: 2/268؛ المستدرک للحاکم: 2/472۔ حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
#شق_القمر #معجزہ_یا_دھوکہ #تحقیق #سائنس_اور_قرآن #رد_نظریہ_لینزنگ #ساحل_عدیم #ایمان_بالغیب #دین_کا_وقار #سائنسی_حدود #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

1 تبصرے

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال