مکھی کے پر میں شفا اور اونٹنی کے پیشاب والی احادیث اور جدید سائنسی تحقیقات

مکھی کے پر میں شفا اور اونٹنی کے پیشاب والی احادیث اور جدید سائنسی تحقیقات 🦟🐪🔬

(ڈاکٹر موریس بوکائے اور ڈاکٹر حمید اللہؒ کا تاریخی مکالمہ اور حقائق)

اسلام اور سائنس کے موضوع پر فرانسیسی سرجن ڈاکٹر موریس بوکائے (Dr. Maurice Bucaille) کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی مشہور کتاب نے دنیا بھر میں تہلکہ مچایا، جس میں انہوں نے ثابت کیا کہ قرآن کا کوئی بھی بیان جدید مسلمہ سائنسی حقائق سے نہیں ٹکراتا۔

لیکن تاریخ کا ایک کم معروف مگر انتہائی اہم پہلو وہ ہے جب ڈاکٹر موریس، قرآن کی حقانیت تسلیم کرنے کے بعد، حدیث کی سب سے مستند کتاب "صحیح بخاری" کا مطالعہ کر رہے تھے۔ انہوں نے تقریباً 100 ایسی احادیث منتخب کیں جن کا تعلق سائنس یا طب سے تھا۔ ان کی تحقیق کے مطابق 98 احادیث تو سائنسی معیار پر پوری اتریں، لیکن دو احادیث پر ان کا سائنسی ذہن اٹک گیا۔

یہ وہ مقام تھا جہاں ان کا مکالمہ عالمِ اسلام کے عظیم محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمہ اللہ سے ہوا، اور پھر جو حقائق سامنے آئے وہ آج کے دور میں ہمارے ایمان کو تازہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔

آئیے! اس تاریخی پس منظر اور ان دو احادیث کا جدید سائنسی جائزہ لیتے ہیں




📜 تاریخی پس منظر: کیا یہ مکالمہ ہوا تھا؟

بعض لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا واقعی ان دو عظیم شخصیات کے درمیان یہ گفتگو ہوئی تھی؟

تحقیقی جواب: جی ہاں! یہ واقعہ ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کے قریبی رفقاء، شاگردوں اور سوانح نگاروں کے ذریعے مستند ذرائع سے ہم تک پہنچا ہے [1]۔

🤔 وہ دو احادیث اور ڈاکٹر حمید اللہ کا اصولی جواب

ڈاکٹر موریس کو جن دو احادیث پر اعتراض تھا، وہ بظاہر جدید حفظانِ صحت کے اصولوں کے خلاف لگتی تھیں:

1.    مکھی والی حدیث: کہ اگر مکھی پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے غوطہ دو، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے۔

2.    اونٹ کے پیشاب والی حدیث: کہ قبیلہ عرینہ کے بیمار لوگوں کو نبی کریم ﷺ نے اونٹ کا دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا۔

ڈاکٹر حمید اللہؒ نے ڈاکٹر موریس کو جو جواب دیا، وہ ان کی علمی بصیرت کا شاہکار تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ سائنس چند تجربات کی بنیاد پر نتائج اخذ کرتی ہے جو حتمی نہیں ہوتے۔ جب 98 احادیث درست ثابت ہو چکی ہیں تو باقی دو کو بھی وحی کا حصہ ماننا چاہیے۔

نیز، انہوں نے تاریخی تناظر میں بتایا کہ طب میں علاج کے طریقے بدلتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ایک مشہور انگریز سیاح کی کتاب کا حوالہ دیا، جس نے تصدیق کی کہ 19ویں صدی میں بھی عرب بدوؤں میں اونٹ کے ذریعے علاج کا طریقہ رائج تھا اور اس سیاح نے خود اس سے شفا پائی تھی [2]۔ ڈاکٹر موریس ان عقلی دلائل سے مطمئن ہو گئے اور اپنے اعتراضات واپس لے لیے۔

🧪 جدید سائنس کا فیصلہ: کیا یہ احادیث سائنسی طور پر غلط ہیں؟

یہ تو تھا 40 سال پہلے کا مکالمہ۔ سوال یہ ہے کہ آج کی اکیسویں صدی کی جدید ترین سائنس ان دو احادیث کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

1️ مکھی والی حدیث کا سائنسی تجزیہ

  • اعتراض: مکھی تو گندگی اور جراثیم پھیلاتی ہے، اس میں شفا کیسے ہو سکتی ہے؟
  • جدید سائنسی تحقیق: یہ بات درست ہے کہ مکھی کی سطح پر جراثیم ہوتے ہیں، لیکن جدید مائیکرو بیالوجی نے ایک حیران کن دریافت کی ہے۔ سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ مکھی کے جسم کے اندر اور اس کی سطح پر ایسے طاقتور قدرتی مادے پائے جاتے ہیں جنہیں Antimicrobial Peptides (AMPs) کہا جاتا ہے۔ یہ مادے خطرناک ترین بیکٹیریا اور فنگس کو مارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں [3]۔
  • یہ اللہ کا نظام ہے کہ چونکہ مکھی گندگی میں رہتی ہے، اس لیے اس کے دفاع کے لیے اس کے اپنے جسم میں "اینٹی بائیوٹک" نظام موجود ہے۔
  • نتیجہ: سائنس اس بنیادی اصول کی تصدیق کرتی ہے کہ مکھی کے جسم میں بیک وقت "جراثیم" (Pathogens) اور "جراثیم کش مادے" (Antidotes) دونوں موجود ہوتے ہیں۔ (اگرچہ سائنس ابھی یہ نہیں بتا سکی کہ کون سا مادہ کس پر میں ہوتا ہے، لیکن یہ غیب کی خبر ہے جس کا بنیادی اصول سائنس نے ثابت کر دیا ہے)۔ لہٰذا اسے غوطہ دینے سے وہ مدافعتی مادے خارج ہو کر جراثیم کے اثر کو زائل کر سکتے ہیں۔

2️ اونٹ کے پیشاب والی حدیث کا سائنسی تجزیہ

  • اعتراض: پیشاب تو نجاست ہے، یہ دوا کیسے ہو سکتا ہے؟
  • جدید سائنسی تحقیق: یہ علاج ایک خاص صورتحال (استسقاء/پیٹ کی بیماری) کے لیے تھا۔ جدید بائیو کیمسٹری کے تجزیوں سے معلوم ہوا ہے کہ اونٹ کے پیشاب کی کیمیائی ساخت دیگر جانوروں سے بالکل مختلف ہے۔ اس میں یوریا، معدنی نمکیات اور خاص قسم کے نامیاتی مرکبات (Organic Compounds) انتہائی مرتکز شکل میں پائے جاتے ہیں۔
  • عرب دنیا اور بعض بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں ہونے والی حالیہ تحقیقات یہ اشارہ دیتی ہیں کہ اونٹ کے پیشاب میں پائے جانے والے مخصوص اجزاء میں کینسر کے خلیات اور جگر کی بعض بیماریوں کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت موجود ہے [4]۔
  • (نوٹ: یہ ایک قدیم طریقہ علاج تھا اور اس میں حکمت تھی، تاہم آج کل (ان کے دودھ یا پیشاب کے) کچے استعمال میں احتیاط ضروری ہے کیونکہ جانوروں سے دیگر وبائی بیماریاں لگنے کا خدشہ ہوتا ہے۔)
  • نتیجہ: جدید بائیو کیمسٹری اس بات کی نفی نہیں کرتی کہ اس میں طاقتور ادویاتی اجزاء موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ جہالت نہیں، بلکہ ایک ایسی طبی حکمت تھی جسے سائنس اب سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

خلاصہ اور پیغام

ڈاکٹر حمید اللہؒ اور ڈاکٹر موریس کا یہ مکالمہ، اور اس کے بعد آنے والی جدید تحقیقات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اگر ہماری عقل یا آج کی محدود سائنس کو قرآن و صحیح حدیث کی کوئی بات سمجھ نہ آئے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بات غلط ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہماری سائنس ابھی اس مقام تک نہیں پہنچی کہ اس وحی کی حکمت کو سمجھ سکے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مرعوبیت سے نکلیں اور اپنے دین پر اعتماد رکھیں۔

واللہ اعلم بالصواب۔

حوالہ جات (References): [1] یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ کتاب "مجالسِ حمید اللہ" (مرتب: محمد راشد شیخ، ص: 117-120) اور "محمد حمید اللہ: نقوش و اثرات" (ناشر: ادارہ ثقافت اسلامیہ) میں موجود ہے۔ [2] Doughty, Charles M. (1888). Travels in Arabia Deserta. Cambridge University Press. [3] جدید تحقیقات کے لیے ملاحظہ کریں: "Antimicrobial peptides from housefly, Musca domestica" نیز سائنسی جریدہ Journal of Medical Entomology۔ [4] مثال کے طور پر ملاحظہ کریں: Journal of Ethnopharmacology میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالات جو اونٹ کے پیشاب کے طبی خواص پر کیے گئے ہیں۔


#HadithAndScience #FlyHadith #CamelUrineHadith #DrMauriceBucaille #DrHamidullah #FaithAndReason #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #تحقیقی_مطالعہ


Please Download Book of Dr. Maurice Bucaille in Urdu from

Here


2 تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی