سریز: عقل پرستی یا مرعوبیت؟ سرسید احمد خان کی تعبیرات کا علمی محاسبہ (آخری قسط)
عنوان: جنت اور دوزخ: "مادی مقامات" یا محض "روحانی کیفیات"؟
(سرسید کے انکارِ معادِ جسمانی اور تصورِ آخرت کا جائزہ)
مؤلف: طارق اقبال سوہدروی
مقدمہ: فکری سفر کا آخری پڑاؤ
ہم نے گزشتہ اقساط میں دیکھا کہ سرسید احمد خان نے انیسویں صدی کی مادی سائنس سے مرعوب ہو کر یہ اصول اپنایا کہ "جو چیز عقل اور نیچر (قانونِ فطرت) کے خلاف ہو، وہ حقیقت نہیں ہو سکتی"۔ اس اصول کی زد میں سب سے پہلے انبیاء کے "معجزات" آئے، پھر "فرشتوں اور جنات" کا حقیقی وجود انکار کی نذر ہوا۔
اب سوال یہ تھا کہ قرآن میں آخرت، قیامت کے دن جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے، اور جنت و دوزخ کی جسمانی نعمتوں اور سزاؤں کا جو تفصیلی ذکر ہے، اس کا کیا کیا جائے؟ کیونکہ مادی عقل کے لیے مرنے کے بعد مٹی ہو جانے والے جسم کا دوبارہ زندہ ہونا اور ایک دوسری دنیا میں جسمانی طور پر رہنا سب سے بڑی "غیر عقلی" بات تھی۔ چنانچہ، سرسید نے یہاں بھی اپنے اسی اصول کا اطلاق کیا اور اسلامی عقائد کی ایک ایسی تعبیر پیش کی جو اس سے پہلے چودہ سو سالہ تاریخ میں کسی نے نہیں کی تھی۔
سرسید کا نظریہ: آخرت ایک "روحانی عالم" ہے
سرسید احمد خان کا بنیادی موقف یہ تھا کہ مرنے کے بعد انسان کا جسم ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے اور "معادِ جسمانی" (Bodily Resurrection)، یعنی قیامت کے دن اسی جسم کا دوبارہ زندہ ہونا ممکن نہیں۔ ان کے نزدیک آخرت صرف ایک "روحانی زندگی" کا نام ہے۔ روح باقی رہتی ہے اور وہی جزا و سزا پاتی ہے۔
1. جنت (Paradise) کی تعبیر
- قرآنی بیان: قرآن مجید میں جنت کا ذکر ایک حقیقی، مادی مقام کے طور پر آیا ہے جہاں باغات ہیں، نہریں ہیں، عالیشان محلات ہیں اور حور و غلمان ہیں۔ یہ سب جسمانی لذتیں ہیں۔
- سرسید کی تاویل: سرسید نے ان تمام مادی نعمتوں کا انکار کیا۔ ان کے نزدیک جنت دراصل روح کی اس "اعلیٰ ترین راحت اور خوشی" کا نام ہے جو اسے اللہ کے قرب اور معرفت سے حاصل ہوگی۔ قرآن نے اسے سمجھانے کے لیے محض مادی مثالیں دیں۔
2. دوزخ (Hell) کی تعبیر
- قرآنی بیان: قرآن میں جہنم کا ذکر ایک خوفناک آگ کے گڑھے کے طور پر آیا ہے، جس میں بیڑیاں، طوق اور زقوم کا کھانا ہے۔ یہ سخت ترین جسمانی عذاب ہے۔
- سرسید کی تاویل: سرسید نے جہنم کے جسمانی عذاب کا بھی انکار کیا۔ ان کے نزدیک دوزخ دراصل روح کی اس "شدید ترین تکلیف، حسرت اور پچھتاوے" کا نام ہے جو اسے اللہ سے دوری کے نتیجے میں محسوس ہوگی۔
علمی جائزہ اور رد (Critical Analysis)
سرسید کی یہ تعبیرات بظاہر "عقلی" لگتی ہیں، لیکن قرآنی اعتبار سے یہ بنیادی عقائد کا انہدام ہے:
- قرآن کے واضح الفاظ کا انکار: قرآن میں جنت اور دوزخ کی تفصیلات اتنی صراحت سے آئی ہیں کہ انہیں محض "استعارہ" قرار دینا قرآن کی زبان کو بے معنی بنا دیتا ہے۔
- اللہ کی قدرت پر شک: جسمانی قیامت کا انکار درحقیقت اللہ کی قدرتِ کاملہ پر شک ہے۔ قرآن خود جواب دیتا ہے:
أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم ۚ بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ
ترجمہ: "کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو دوبارہ پیدا کر سکے؟ کیوں نہیں، جبکہ وہ خلاق العلیم ہے۔" — (سورہ یٰسین: 81)
3. جسم اور روح کا ساتھ: عدل کا تقاضا ہے کہ جزا اور سزا بھی جسم اور روح دونوں کو ملے۔ صرف روح کو جزا دینا مکمل انصاف نہیں۔
سیریز کا خلاصہ: عبرت کا مقام
سرسید احمد خان کا فکری سفر ہمیں یہ اہم سبق دیتا ہے کہ عقل ایک نعمت ہے، لیکن وحی (قرآن و سنت) کا علم عقل سے ماورا اور برتر ہے۔ جب عقل وحی کے تابع ہو تو ہدایت ملتی ہے، اور جب عقل وحی پر حاکم بن جائے تو انسان گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمیں اپنا دین پورے اعتماد کے ساتھ پیش کرنا چاہیے، بغیر اپنی بنیادیں چھوڑے۔
واللہ اعلم بالصواب و علمہ اتم و احکم۔
حوالہ جات (References):
- قرآنِ مجید، سورہ یٰسین، آیت 81۔
- سرسید احمد خان، "تفسیر القرآن"، جلد اول و دوم۔
- مولانا الطاف حسین حالی، "حیاتِ جاوید" (سوانحِ سرسید)۔
- ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، "سرسید احمد خان اور اسلامی الہیات"۔
#سرسید_احمد_خان #آخرت #جنت_اور_دوزخ #معاد_جسمانی #عقل_پرستی_یا_مرعوبیت #اسلامی_عقائد #قرآنی_تعلیمات #تاویلات_سرسید #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #فکری_مطالعہ #آخری_قسط #SirSyed #IslamicTheology #HeavenAndHell
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

