بیٹا ہو گا یا بیٹی؟ فیصلہ ماں نہیں، باپ کا مادہ کرتا ہے!
(جدید سائنس اور قرآنی اشارے کی ایک حیران کن مطابقت)
تمہید: صدیوں پرانی جہالت اور سماجی ظلم کا خاتمہ
ہمارے معاشرے میں صدیوں سے ایک انتہائی افسوسناک رویہ رواج پائے ہوئے ہے کہ اگر کسی خاتون کے ہاں مسلسل بیٹیاں پیدا ہوں، تو اس کا ذمہ دار اسی بیچاری ماں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اسے طعنے دیے جاتے ہیں، منحوس سمجھا جاتا ہے، اور بسا اوقات دوسری شادی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ سائنسی اعتبار سے بھی صریح جہالت ہے۔ آج جدید سائنس نے اس پرانے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ جنس کے تعین میں ماں کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔
حصہ اول: جدید سائنس (جینیات) کی گواہی
جدید بائیولوجی اور جینیات (Genetics) نے ہمیں بتایا ہے کہ انسان کی جنس کا فیصلہ حمل ٹھہرنے کے بالکل پہلے لمحے میں "کروموسومز" (Chromosomes) کی بنیاد پر ہو جاتا ہے۔ [1]
ماں کا کردار (غیر جانبدار):
عورت کے جسم میں جو انڈہ (Egg) بنتا ہے، اس میں جنس کا تعین کرنے والا کروموسوم ہمیشہ ایک ہی قسم کا ہوتا ہے، جسے 'X' کہتے ہیں۔ یعنی ماں کی طرف سے بچے کو ملنے والا حصہ ہمیشہ فکسڈ (Fixed) ہوتا ہے، اس میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔
باپ کا کردار (فیصلہ کن عنصر):
مرد کے جسم سے جو مادہ (اسپرم) خارج ہوتا ہے، وہ دو طرح کا ہوتا ہے:
- کچھ اسپرم 'X' کروموسوم والے ہوتے ہیں۔
- اور کچھ اسپرم 'Y' کروموسوم والے ہوتے ہیں۔
نتیجہ: جنس کا فیصلہ
جنس کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ باپ کا کون سا اسپرم ماں کے انڈے سے ملتا ہے:
- اگر باپ کا 'X' والا اسپرم ملے تو بیٹی پیدا ہوتی ہے۔
- اگر باپ کا 'Y' والا اسپرم ملے تو بیٹا پیدا ہوتا ہے۔
سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ "فیصلہ کن عنصر" (Determining Factor) مرد کی طرف سے آتا ہے۔ لہٰذا بیٹیوں کی پیدائش پر عورت کو قصوروار ٹھہرانا سائنس اور فطرت کے خلاف ہے۔
ایک ضروری وضاحت: کیا مرد ذمہ دار ہے؟ (اہم علمی نکتہ)
یہاں ایک اہم غلط فہمی کو دور کرنا ضروری ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ "فیصلہ باپ کا مادہ کرتا ہے"، تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مرد اس کا "اختیاری ذمہ دار" ہے۔ سائنس بتاتی ہے کہ مرد کو بھی اس بات کا کوئی علم یا اختیار نہیں ہوتا کہ اس کے جسم سے نکلنے والے کروڑوں اسپرمز میں سے کون سا اسپرم (X یا Y) انڈے تک پہنچے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ: یہ ایک بے اختیاری عمل (Involuntary Biological Process) ہے جو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے تکوینی نظام کے تحت ہوتا ہے۔ مرد کا کردار صرف ایک "ذریعہ" (Carrier) کا ہے، "خالق" کا نہیں۔ جنس کا حقیقی فیصلہ صرف اور صرف اللہ کی مشیت اور قدرت کے ہاتھ میں ہے، جیسا کہ وہ خود ارشاد فرماتا ہے:
يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ
ترجمہ: "وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے۔" — [سورۃ الشوریٰ: 49]
حصہ دوم: قرآن مجید کا لطیف اشارہ
اب آتے ہیں اس پہلو کی طرف جو ایمان والوں کے لیے دلوں کی ٹھنڈک ہے۔ چودہ سو سال پہلے، جب مائیکرو اسکوپ ایجاد نہیں ہوئی تھی اور دنیا کروموسومز سے ناواقف تھی، قرآن مجید نے سورۃ النجم میں انسانی تخلیق کے حوالے سے ایک ایسی بات کہی جس میں اس سائنسی حقیقت کا ایک انتہائی لطیف اشارہ چھپا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ ۞ مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ
ترجمہ: "اور یہ کہ اسی (اللہ) نے نر اور مادہ (لڑکا اور لڑکی) کا جوڑا پیدا کیا۔ ایک بوند (نطفہ) سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے (اچھالی جاتی ہے)۔" — [سورۃ النجم: 45-46]
غور طلب نکتہ:
ان آیات کے الفاظ پر غور کریں! اللہ تعالیٰ نے یہاں "نر اور مادہ" (یعنی جنس) کے جوڑے کے بننے کو براہ راست اس بوند (نطفہ) سے منسوب کیا ہے جو "تُمنیٰ" ہے، یعنی جو ٹپکائی یا اچھالی جاتی ہے۔ عربی زبان میں یہ فعل مرد کے مادہ منویہ کے اخراج کے لیے استعمال ہوتا ہے، کیونکہ عورت کا انڈہ رحم کے اندر ساکن ہوتا ہے، وہ ٹپکایا نہیں جاتا۔
اہم وضاحت:
یہ الفاظ چودہ سو سال سے قرآن میں موجود تھے، مگر ان کی سائنسی گہرائی اور درستگی کا ادراک ہمیں آج جدید جینیات (Genetics) کی دریافت کے بعد ہوا ہے۔ آج ہمیں سمجھ آئی ہے کہ قرآن نے جنس کے تعین کا تعلق ماں کے رحم سے نہیں بلکہ مرد کے خارج ہونے والے مادے سے کیوں جوڑا تھا۔
خلاصہ: ایمان اور علم کا سنگم
یہ تحقیق ہمیں دو عظیم اسباق دیتی ہے:
- سماجی سبق: بیٹی کی پیدائش پر عورت کو طعنہ دینا جہالت اور ظلم ہے، کیونکہ سائنس نے ثابت کر دیا کہ اس کا کردار غیر جانبدار ہے۔
- ایمانی سبق: جنس کا فیصلہ مرد کے مادے سے ہوتا ہے، لیکن یہ مرد کے اختیار میں نہیں بلکہ صرف اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا، آج کی سائنس اس کی تصدیق کر رہی ہے۔
حوالہ جات (References):
- Bruce Alberts et al., Molecular Biology of the Cell, 6th Edition (Garland Science, 2014), Chapter on Germ Cells and Fertilization.
- القرآن الکریم، سورۃ النجم (53)، آیات 45-46۔
- القرآن الکریم، سورۃ الشوریٰ (42)، آیت 49۔
#GenderDetermination #GeneticsFacts #StopBlamingMothers #QuranAndScience #SurahAnNajm #Chromosomes #سائنسی_حقائق #جنس_کا_تعین #جہالت_کا_خاتمہ #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #قرآنی_اشارے
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

