ڈی این اے (DNA) کا معلوماتی کوڈ: حادثاتی ارتقاء کے تابوت میں آخری کیل
(آسان مثالوں اور علمی حوالہ جات کی روشنی میں)
1. آغاز: خالق کی نشانی، انسان کے اندر
اللہ رب العزت نے قرآنِ حکیم میں وعدہ فرمایا ہے:
"سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ"
(عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاقِ عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی، یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ وہی حق ہے) — [القرآن، سورہ حم السجدہ 41: آیت 53]
بیسویں صدی میں سائنس نے جب انسانی خلیے (Cell) کے اندر جھانکا، تو وہاں ایک ایسی حیران کن دنیا دریافت ہوئی جس نے مادیت پرستی کی بنیادیں ہلا دیں۔ وہ دریافت "ڈی این اے" (DNA) ہے۔ یہ محض ایک کیمیکل نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا وہ شاہکار ہے جو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ زندگی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک عظیم الشان منصوبہ بندی ہے۔ آئیے، اس پیچیدہ موضوع کو سادہ مثالوں اور علمی شواہد سے سمجھتے ہیں۔
2. ڈی این اے کیا ہے؟ (سائنسی حقائق اور آسان مثالیں)
اگر ہم انسانی جسم کو ایک عظیم الشان عمارت سمجھیں، تو ڈی این اے اس عمارت کا مکمل "نقشہ" (Blueprint) ہے۔
مثال نمبر 1: کائنات کی سب سے بڑی "کتابِ ہدایت"
ڈی این اے ایک "کتابِ ہدایت" ہے جو ہمارے ہر خلیے کے مرکز میں موجود ہے۔ یہ طے کرتی ہے کہ آپ کی آنکھوں کا رنگ کیا ہوگا، آپ کا مدافعتی نظام کیسے کام کرے گا، اور آپ کا دل کیسے دھڑکے گا۔ جدید جینیات کے مطابق، انسانی جینوم تقریباً 3 ارب (3 Billion) کیمیائی حروف (Base Pairs) پر مشتمل ہے [1]۔
مثال نمبر 2: حیات کا سپر کمپیوٹر کوڈ
آج کل ہم سب اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ فون کے پیچھے ایک "آپریٹنگ سسٹم" کام کر رہا ہوتا ہے جو ہزاروں لائنوں پر مشتمل سافٹ ویئر کوڈ ہے۔ اس مماثلت کو دیکھتے ہوئے، مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس (Bill Gates) نے اعتراف کیا تھا:
"ڈی این اے ایک کمپیوٹر پروگرام کی طرح ہے، لیکن آج تک انسان کے بنائے گئے کسی بھی سافٹ ویئر سے کہیں زیادہ جدید اور پیچیدہ ہے۔" [2]
فرق صرف یہ ہے کہ کمپیوٹر کا کوڈ دو ہندسوں (0 اور 1) کی زبان میں لکھا جاتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے زندگی کا کوڈ چار کیمیائی حروف (A, T, C, G) کی زبان میں لکھا ہے۔ یہ ایک ایسا سافٹ ویئر ہے جس میں ایک غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
مثال نمبر 3: معلومات کا بحرِ بیکراں (Information Density)
ڈی این اے میں معلومات کی کثافت (Density) حیران کن ہے۔ اگر آپ اپنے صرف ایک خلیے میں موجود ڈی این اے کے کوڈ کو معیاری کاغذ پر لکھنا شروع کریں، تو اس کے لیے ہزاروں صفحات والی سینکڑوں ضخیم جلدوں کی ضرورت ہوگی [3]۔ اور اللہ کی قدرت دیکھیے کہ یہ ساری معلومات ایک ایسی خوردبینی جگہ (Cell Nucleus) میں سما جاتی ہے جو سوئی کی نوک سے بھی ہزاروں گنا چھوٹی ہے۔ کیا اتنا منظم اور وسیع ڈیٹا خود بخود وجود میں آ سکتا ہے؟
3. ارتقائی نظریے کا علمی رد: "معلومات" حادثاتی نہیں ہوتیں
ڈارون کا نظریہ ارتقاء اس مفروضے پر قائم ہے کہ زندگی سادہ سے پیچیدہ کی طرف اندھے اور اتفاقی حادثات (Random Mutations) کے ذریعے بڑھی۔ لیکن ڈی این اے کی دریافت نے اس نظریے کے لیے سنگین چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔
الف: مادہ بمقابلہ معلومات (The Problem of Information Origin)
سائنس کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ بے جان مادہ (Matter) خود بخود "بامعنی معلومات" (Functional Information) پیدا نہیں کر سکتا۔ سیاہی اور کاغذ (مادہ) خود بخود کتاب نہیں لکھ سکتے۔ معروف سائنسدان ڈاکٹر اسٹیفن سی میئر (Dr. Stephen C. Meyer) اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ڈی این اے میں موجود ڈیجیٹل کوڈ کا واحد منطقی اور سائنسی سبب ایک "ذہین ڈیزائنر" (Intelligent Designer) ہی ہو سکتا ہے، نہ کہ اندھا مادی عمل [4]۔
مثال نمبر 4: اسکریبل (Scrabble) کے حروف اور شیکسپیئر
اگر آپ حروف کے ٹکڑوں (Scrabble tiles) سے بھرے بکس کو زمین پر الٹ دیں، تو شاید اتفاق سے دو تین حروف مل کر کوئی چھوٹا لفظ بنا لیں۔ لیکن کیا آپ یہ مان سکتے ہیں کہ کروڑوں سال تک ان حروف کو پھینکنے سے شیکسپیئر کا مکمل ڈرامہ تحریر ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں! کیونکہ نظم کے لیے ایک "شاعر" (ذہن) کا ہونا ضروری ہے۔ ڈی این اے کا کوڈ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
ب: مرغی پہلے یا انڈا؟ (Irreducible Complexity)
ڈی این اے کے نظام میں ایک اور زبردست پیچیدگی ہے جسے حیاتیاتی کیمیا دان مائیکل بیہی (Michael Behe) نے "ناقابلِ تخفیف پیچیدگی" (Irreducible Complexity) کا نام دیا ہے [5]۔
ڈی این اے کی "ہدایت کی کتاب" کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے سیل (Cell) کے اندر مخصوص "مشینوں" کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں پروٹینز یا انزائمز کہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ:
- ڈی این اے کو پڑھنے کے لیے پروٹینز کا ہونا ضروری ہے۔
- لیکن یہ پروٹینز خود ڈی این اے میں لکھی ہدایات کے بغیر نہیں بن سکتے۔
مثال نمبر 5: لاکڈ ٹول باکس
یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ کے پاس ایک مقفل ٹول باکس ہو اور اس کی چابی اسی باکس کے اندر بند ہو۔ آپ اسے کیسے کھولیں گے؟ اس کا مطلب ہے کہ ٹول باکس اور چابی دونوں کا ایک ساتھ، ایک ہی وقت میں وجود میں آنا ضروری ہے۔ بالکل اسی طرح، ڈی این اے (سافٹ ویئر) اور اس کو پڑھنے والی پروٹینز (ہارڈ ویئر) کا ایک ہی لمحے میں وجود میں آنا لازم ہے۔ یہ تدریجی ارتقاء سے ممکن نہیں، یہ صرف خالق کے حکمِ "کُن" سے ممکن ہے۔
4. ایک عام غلط فہمی کا ازالہ: انسان اور چمپینزی میں مماثلت؟
اکثر ارتقاء پسند یہ دلیل دیتے ہیں کہ انسان اور چمپینزی کا ڈی این اے 98 سے 99 فیصد ملتا جلتا ہے، لہٰذا انسان مشترکہ جد امجد سے بنا ہے۔ یہ ایک سائنسی مبالغہ آرائی ہے۔ جدید تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ پرانے اعداد و شمار صرف جینوم کے کچھ حصوں (Protein-coding regions) پر مبنی تھے، جبکہ پورے جینوم کا تقابل کرنے پر یہ فرق نمایاں طور پر زیادہ نظر آتا ہے۔ سائنسی جریدے "سائنس" (Science) میں شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق، یہ "1 فیصد کا فرق" ایک خرافات (Myth) ہے اور حقیقت میں جینیاتی فرق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہرا ہے [6]۔
مثال نمبر 6: ایک ہی معمار کا اسلوب
اگر دو مختلف عمارتوں (مثلاً مسجد اور لائبریری) میں ایک جیسی اینٹیں اور سیمنٹ استعمال ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک عمارت دوسری سے ارتقاء پا کر بنی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دونوں کا "آرکیٹیکٹ" (خالق) ایک ہے، اور اس نے دونوں کو ایک ہی زمین پر رہنے کے لیے ایک ہی بائیو کیمسٹری سے بنایا ہے۔
5. نتیجہ: ایمان بالقدر
ڈی این اے جدید سائنس کی وہ خوردبین (Lens) ہے جس نے ہمیں قرآن کے اس فرمان کی گہرائی سمجھائی ہے:
"إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ"
(بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک خاص پیمانے/اندازے/منصوبے کے مطابق پیدا کیا ہے) — [القرآن، سورہ القمر 54: آیت 49]
یہ جینیاتی کوڈ وہ "قدر" (منصوبہ) ہے جو اللہ نے ہماری تخلیق سے پہلے طے کر دیا تھا۔ یہ پیچیدہ ترین نظام گواہی دیتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کسی اندھے کیمیائی عمل کا نتیجہ نہیں تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا ایک آزادانہ اور اشرف شاہکار تھے۔
حوالہ جات (References):
- National Human Genome Research Institute (NIH). "The Human Genome Project Completion: Frequently Asked Questions."
- Gates, Bill. The Road Ahead. Viking Penguin, 1995, p. 188.
- Collins, Francis S. The Language of God: A Scientist Presents Evidence for Belief. Free Press, 2006. (ڈاکٹر فرانسس کولنز ہیومن جینوم پروجیکٹ کے سربراہ تھے)۔
- Meyer, Stephen C. Signature in the Cell: DNA and the Evidence for Intelligent Design. HarperOne, 2009.
- Behe, Michael J. Darwin's Black Box: The Biochemical Challenge to Evolution. Free Press, 1996.
- Cohen, Jon. "Relative differences: The myth of the 1% difference". Science, vol. 316, no. 5833, 2007, p. 1836.
#سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #قرآن_اور_جدید_سائنس #ڈی_این_اے #تخلیق_بمقابلہ_ارتقاء #ذہین_ڈیزائن #اسلام_اور_سائنس #QuranAndScience #DNAEvidence #IntelligentDesign #RefutingDarwinism #ScienceInQuranicLens
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

