⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

کیا مشہور ماہرِ سمندر جیک کوسٹو مسلمان ہو گئے تھے؟ حقائق اور دستاویزی ثبوت

 
مشہور فرانسیسی سمندری محقق جیک کوسٹو کی ایک تصویر جس میں وہ سمندر کی لہروں کے قریب کھڑے ہیں، اور ساتھ ہی قرآنِ کریم کی سورہ الرحمن کی آیت 'مرج البحرین' کا حوالہ موجود ہے، جو ان کے اسلام قبول کرنے کے مشہور دعوے کی تحقیق کو ظاہر کرتا ہے


کیا مشہور ماہرِ سمندر جیک کوسٹو مسلمان ہو گئے تھے؟

انٹرنیٹ پر پھیلے مشہور دعوے کی حقیقت اور دستاویزی ثبوت

مقدمہ:

جیک کوسٹو (1910-1997) بیسویں صدی کے سب سے بااثر سمندری محققین، فلم ساز اور مصنفین میں سے ایک تھے۔ انہوں نے "ایکوا لنگ" (Aqualung) ایجاد کیا اور اپنی دستاویزی فلموں کے ذریعے سمندر کی گہرائیوں کو دنیا کے سامنے لائے۔ مسلم دنیا میں کئی دہائیوں سے یہ بات مشہور ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں بیان کردہ "دو سمندروں کے درمیان آڑ" (جیسا کہ سورۃ الرحمن: 19-20 اور سورۃ الفرقان: 53 میں ہے) کا سائنسی مشاہدہ کرنے کے بعد اسلام قبول کر لیا تھا۔

تحقیق اور حقائق:

جب اس جذباتی دعوے کی غیر جانبدارانہ تحقیق کی جاتی ہے، تو ٹھوس تاریخی ریکارڈ اور سرکاری دستاویزات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جیک کوسٹو کے قبولِ اسلام کا واقعہ مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔

اس کے ناقابلِ تردید ثبوت درج ذیل ہیں:

1. خاندان اور فاؤنڈیشن کی سرکاری تردید (Official Denials)

اس افواہ کے پھیلنے کے بعد، جیک کوسٹو کے قائم کردہ ادارے "دی کوسٹو سوسائٹی" (The Cousteau Society) کو بارہا وضاحتیں جاری کرنی پڑیں۔ سوسائٹی کے شعبہ کمیونیکیشن نے اس حوالے سے ایک حتمی بیان جاری کیا ہے:

"ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ کیپٹن کوسٹو نے کبھی اسلام قبول نہیں کیا۔ وہ کیتھولک عیسائی پیدا ہوئے اور اسی عقیدے پر ان کا انتقال ہوا۔" [1]

یہ سرکاری بیان اس مضمون میں کیے گئے اس دعوے کی جڑ کاٹ دیتا ہے کہ وہ مسلمان ہو کر مرے۔

2. آخری رسومات اور تدفین (The Final Proof)

کسی شخص کے مذہب کا سب سے بڑا اور عملی ثبوت اس کی آخری رسومات ہوتی ہیں۔ جیک کوسٹو کا انتقال 25 جون 1997 کو 87 برس کی عمر میں ہوا۔ ان کی آخری رسومات پیرس، فرانس کے مشہور ترین اور تاریخی کیتھولک گرجا گھر "نوٹر ڈیم کیتھیڈرل" (Notre-Dame Cathedral) میں پورے عیسائی مذہبی وقار کے ساتھ ادا کی گئیں [2]۔ انہیں ان کے آبائی علاقے سینٹ-آندرے-دی-کیوبزاک (Saint-André-de-Cubzac) کے عیسائی قبرستان میں ان کے خاندانی مقبرے میں دفن کیا گیا [3]۔

اگر انہوں نے اسلام قبول کیا ہوتا، تو یہ ناممکن تھا کہ ان کا جنازہ دنیا کے ایک بڑے ترین کیتھولک چرچ میں عیسائی پادریوں کے زیرِ سایہ ادا کیا جاتا۔ انٹرنیٹ پر موجود یہ دعویٰ کہ "he died as a Muslim" صریحاً غلط ثابت ہوتا ہے۔

 
سمندر کے درمیان وہ مقام جہاں دو مختلف رنگوں کا پانی آپس میں ملتا ہے لیکن ان کے درمیان ایک واضح قدرتی لکیر یا آڑ موجود ہوتی ہے، جسے سائنسی اصطلاح میں 'ہالو کلائن' کہا جاتا ہے اور قرآن میں 'برزخ' کا نام دیا گیا ہے

3. سائنسی حقیقت اور قرآن (Scientific Fact vs. The Myth)

یہ بات اپنی جگہ ایک مسلمہ سائنسی حقیقت ہے کہ دنیا میں کئی مقامات پر (جیسے جبرالٹر یا باب المندب میں) مختلف کثافت (Density)، نمکیات اور درجہ حرارت والے پانی آپس میں ملتے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک "بارڈر" یا رکاوٹ قائم رہتی ہے۔ قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے اس حقیقت کا ذکر کر کے اپنی حقانیت ثابت کی ہے۔

تاہم، جیک کوسٹو کے حوالے سے حقیقت یہ ہے: انہوں نے یقیناً اپنی تحقیقات میں اس مظہر (Phenomenon) کا مشاہدہ کیا اور اس پر حیرت کا اظہار بھی کیا، جیسا کہ ایک سائنسدان کرتا ہے۔لیکن کوئی ایسا مستند ریکارڈ، ان کی اپنی تحریر، یا کوئی انٹرویو موجود نہیں جس میں انہوں نے یہ کہا ہو کہ اس مشاہدے کی وجہ سے انہوں نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے۔ یہ حصہ بعد میں لوگوں نے جذبات میں آ کر خود سے جوڑ دیا ہے۔

نتیجہ اور خلاصہ:

نیٹ پر پھیلا یہ مضمون ایک ایسی تحریر ہے جس میں لوگوں کے جذبات کو ابھارنے کے لیے سنی سنائی باتوں کو حقیقت بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ حتمی تحقیق یہ ہے کہ جیک کوسٹو کے قبولِ اسلام کا واقعہ ایک "شہری افسانہ" (Urban Legend) ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ ایک عظیم سائنسدان تھے، لیکن وہ تاحیات عیسائی رہے۔

اہم بات: قرآن کی حقانیت اور سچائی کو ثابت کرنے کے لیے مسلمانوں کو کسی غیر مسلم سائنسدان کے جھوٹے قصوں کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن کی آیات خود سب سے بڑا معجزہ ہیں۔ ایسی بے بنیاد خبریں پھیلانا تحقیق کے اصولوں کے منافی ہے اور جب حقیقت سامنے آتی ہے تو اس سے غیر مسلموں کے سامنے اسلام کی دعوت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

References & Sources:
[1] The Cousteau Society. "Official Statement Regarding Rumors of Jacques Cousteau's Conversion."
[2] "Jacques Cousteau, Oceans' Impresario, Dies." The Washington Post, June 26, 1997. (Notre-Dame Cathedral funeral services).
[3] "Cousteau laid to rest in hometown." Associated Press (AP) News Wire, July 1, 1997.
#جیک_کوسٹو #اسلام_اور_سائنس #تحقیق #حقائق #افواہ_کا_رد #غلط_فہمی_کا_ازالہ #قرآن_اور_جدید_سائنس #دو_سمندر #مرج_البحرین #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں
جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال