کیا ہم تاریخ کی سب سے "ترقی یافتہ" قوم ہیں؟
مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
(قرآنی واقعات، ماضی کی عظیم تہذیبوں اور آثارِ قدیمہ کے شواہد کا ایک تحقیقی جائزہ)
مقدمہ: ایک فکری الجھن
آج اکیسویں صدی کا انسان اپنی سائنسی اور تکنیکی ترقی پر نازاں ہے۔ ہم نے چاند پر قدم رکھ دیا ہے، پوری دنیا کو انٹرنیٹ کے ذریعے ایک گلوبل ولیج بنا دیا ہے، اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے ذریعے عقلِ انسانی کو नई بلندیوں پر لے جا رہے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انسانیت اپنی تاریخ کے سب سے عروج کے دور میں ہے۔
لیکن جب ہم قرآنِ کریم کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت منگوانے اور قومِ عاد و ثمود کی پہاڑ تراشنے جیسی حیرت انگیز صلاحیتوں کا ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح دنیا میں موجود عجائبات جیسے "اہرامِ مصر" کو دیکھ کر ذہن میں سوال اٹھتا ہے: کیا ماضی کی یہ قومیں ہم سے زیادہ "ایڈوانس" تھیں؟ اگر تھیں، تو آج ہمیں کھدائیوں میں ان کی "ہائی ٹیکنالوجی" کے ثبوت (مشینیں، تاریں، جدید دھاتیں) کیوں نہیں ملتے؟
یہ مقالہ اسی اہم ترین سوال کا ایک تفصیلی اور تحقیقی جواب ہے۔
حصہ اول: "ترقی" (Advancement) کا مفہوم طے کرنا
اس گتھی کو سلجھانے کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "طاقت" یا "ترقی" کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ ہم ماضی کو آج کی عینک سے دیکھنے کی غلطی نہیں کر سکتے۔
- اجتماعی مشینی ترقی (Collective Mechanical Advancement): یہ وہ ترقی ہے جو آج ہمارے پاس ہے۔ یہ کسی فردِ واحد کا کمال نہیں، بلکہ صدیوں کے جمع شدہ سائنسی علم اور اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ مشینوں، بجلی اور ایندھن پر منحصر ہے۔
- انفرادی معجزاتی طاقت (Individual Miraculous Power): یہ وہ غیر معمولی صلاحیتیں تھیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں (انبیاءؑ) کو عطا کیں۔ یہ ان کی ذات تک محدود تھیں اور ان کے جانے کے ساتھ ہی ختم ہو گئیں۔
- غیر معمولی جسمانی و تنظیمی طاقت (Physical & Organizational Strength): یہ وہ طاقت تھی جو اللہ نے ماضی کی کچھ قوموں کو اجتماعی طور پر دی تھی، یا ان کی غیر معمولی تنظیمی صلاحیت کا نتیجہ تھی، جس کی مثالیں آج مشکل سے ملتی ہیں۔
حصہ دوم: قرآنی اور تاریخی مثالوں کا علمی تجزیہ
آئیے دیکھتے ہیں کہ ماضی کے یہ عظیم واقعات کس زمرے میں آتے ہیں۔
1. انبیاء کے معجزات (سلیمانؑ و داؤدؑ): حضرت سلیمانؑ کا تخت منگوانا ہو یا حضرت داؤدؑ کے ہاتھ میں لوہے کا نرم ہونا، مفسرین کے مطابق یہ "معجزات" اور روحانی طاقتیں تھیں۔ یہ آج کی کسی "ٹیلی پورٹیشن مشین" یا "انڈسٹریل میٹلرجی" کا نتیجہ نہیں تھیں، بلکہ اللہ کی خاص عطائیں تھیں جو ان کی ذات تک محدود تھیں۔
2. قومِ عاد، ثمود اور اہرامِ مصر (جسمانی و تنظیمی قوت):
قومِ عاد و ثمود: قرآن کہتا ہے وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے [1]۔ مفسرین کے مطابق اللہ نے انہیں غیر معمولی "جسمانی طاقت" دی تھی۔ وہ جو کام بازوؤں کی طاقت سے کرتے تھے، آج ہم ہیوی مشینری سے کرتے ہیں۔
وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا آمِنِينَ
"اور وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے (اس اطمینان کے ساتھ کہ وہ ان میں) محفوظ ہیں" — [سورہ الحجر: 82] [1]
اہرامِ مصر (The Pyramids): یہ ماضی کی ترقی کی سب سے بڑی موجودہ نشانی ہیں۔ یہ کسی "ایڈوانس ہائی ٹیک مشینری" یا جنات کا کام نہیں، بلکہ یہ انسان کی "عظیم الشان تنظیمی صلاحیت" (Organizational Skill) اور بے پناہ افرادی قوت کا شاہکار ہیں۔ جدید تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ہزاروں مزدوروں نے سادہ اوزاروں (Ramps اور Levers) کی مدد سے دہائیوں کی محنت سے انہیں تعمیر کیا۔
نتیجہ: ان قوموں کی ترقی کی بنیاد "مشین" نہیں تھی، بلکہ "جسمانی طاقت" اور "اجتماعی تنظیم" تھی۔
حصہ سوم: آثارِ قدیمہ (Archaeology) کے "ہائی ٹیک" ثبوت کیوں نہیں ملتے؟
یہ سب سے اہم سوال ہے کہ اگر وہ اتنے طاقتور تھے تو ان کی جدید ٹیکنالوجی (مشینوں، تاروں) کے آثار کہاں ہیں؟ اس کے چند ٹھوس علمی دلائل ہیں:
- طاقت کی نوعیت کا فرق (The Nature of Power): روحانی یا جناتی طاقتیں مادی ثبوت نہیں چھوڑتیں۔ اسی طرح، جسمانی مشقت سے بنائی گئی عمارتیں (جنے اہرام) پتھر کے ثبوت تو چھوڑتی ہیں، لیکن کسی "مشینری" کا ثبوت نہیں چھوڑتیں کیونکہ مشینیں استعمال ہی نہیں ہوئی تھیں۔
- آثار قدیمہ کی ترتیب (Archaeological Progression): پوری دنیا میں کی جانے والی کھدائیوں سے جو ثبوت ملتے ہیں، وہ ایک واضح ترتیب دکھاتے ہیں (پتھر کا دور -> کانسی کا دور -> لوہے کا دور)۔ آج تک کسی مستند کھدائی میں ماضی کی کسی قوم کے پاس بجلی، پلاسٹک یا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ثبوت نہیں ملے۔
- فنا ہونے والا مواد: اگر ان کے پاس کوئی اور قسم کی ٹیکنالوجی تھی بھی جو لکڑی یا گلنے سڑنے والے مواد پر مبنی تھی، تو وہ ہزاروں سالوں میں مٹی بن چکی ہے۔ صرف پتھر کی عمارتیں باقی ہیں۔
حاصلِ کلام (Conclusion)
اس تحقیقی جائزے کا خلاصہ یہ ہے: "اجتماعی سائنسی اور مشینی ترقی" کے لحاظ سے ہمارا دور تاریخ کا سب سے ایڈوانس دور ہے۔ لیکن ماضی کی قومیں "جسمانی طاقت، تنظیمی صلاحیت اور تعمیراتی ہنر" (جنے اہرام مصر) میں ہم سے مختلف اور بعض پہلوؤں میں عظیم تھیں۔
ہمیں ان کی ٹیکنالوجی کے ثبوت اس لیے نہیں ملتے کیونکہ ان کی طاقت کا سرچشمہ وہ مشینیں نہیں تھیں جو آج ہماری ترقی کی بنیاد ہیں۔ لہٰذا، قرآن کے بیان اور آثارِ قدیمہ کے شواہد میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات:
[1] قرآنِ کریم، سورہ الحجر، آیت 82[2] مفسرین اور قدیم تاریخ دانوں کے بیانات بشمول آثارِ قدیمہ کی جدید رپورٹس
#AncientCivilizations #AreWeTheMostAdvanced #QuranAndScience #HistoryMystery #Pyramids #TechnologyVsMiracles #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #کیا_ہم_ترقی_یافتہ_ہیں #قدیم_تہذیبیں #اہرام_مصر #قوم_عاد #تاریخ_کا_سفر #علمی_تحقیق
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

