⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

کیا حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے دنیا میں "انسان" موجود تھے؟ (ایک علمی و تحقیقی جائزہ)

 
ایک ایسی تصویر جس میں قدیم ڈھانچوں (Fossils) اور حضرت آدم علیہ السلام کی معجزاتی تخلیق کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا ہو


مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

کیا حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے دنیا میں "انسان" موجود تھے؟ (ایک علمی و تحقیقی جائزہ)

مقدمہ: ایک الجھن اور اس کا حل

آج کا مسلمان نوجوان جب ایک طرف قرآن میں پڑھتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام پہلے انسان تھے، اور دوسری طرف میوزیم یا سائنس کی کتابوں میں لاکھوں سال پرانے انسانی ڈھانچوں (Fossils) کی تصویریں دیکھتا ہے، تو وہ ایک ذہنی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔ کیا سائنس جھوٹ بول رہی ہے؟ یا (نعوذ باللہ) قرآن کی تشریح میں کوئی غلطی ہے؟

یہ پوسٹ اس اہم ترین سوال کا ایک تفصیلی، متوازن اور باحوالہ جواب ہے، جس کا مقصد ایمان کو جدید علم کی روشنی میں مزید پختہ کرنا ہے۔

حصہ اول: سائنس کیا کہتی ہے؟ (ناقابلِ تردید حقائق)

ہمیں سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ "علم الانسان" (Anthropology) اور آثارِ قدیمہ کی جدید تحقیقات نے زمین سے ایسے ہزاروں ڈھانچے دریافت کیے ہیں جو لاکھوں سال پرانے ہیں۔

  • آدم نما مخلوقات (Hominids): یہ مخلوقات (جیسے نی اینڈر تھال وغیرہ) جسمانی طور پر آج کے انسان سے ملتی جلتی تھیں۔ یہ دو پیروں پر چلتی تھیں، پتھر کے اوزار استعمال کرتی تھیں اور گروہوں میں رہتی تھیں۔
  • قدمت (Dating): سائنسی طریقوں سے ثابت ہے کہ یہ مخلوقات حضرت آدم علیہ السلام (جن کا دور نسبتاً قریب کا ہے) سے لاکھوں سال پہلے زمین پر آباد تھیں۔

سوال: اگر یہ سب سچ ہے، تو پھر حضرت آدم کے "پہلے انسان" ہونے کا کیا مطلب ہے؟

حصہ دوم: قرآن کا دقیق اشارہ (فرشتوں کا سوال)

قرآن مجید اس مسئلے پر خاموش نہیں ہے، بلکہ اس میں ایسے لطیف اشارے موجود ہیں جو اہل تدبر کے لیے راہ کھولتے ہیں۔ سب سے بڑا ثبوت سورہ البقرہ کی یہ آیت ہے:

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ...

ترجمہ: "اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں، تو انہوں نے کہا: کیا تُو زمین میں کسی ایسے کو پیدا کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا؟..." — [سورہ البقرہ: 30] [1]

غور طلب نکتہ:

  1. فرشتوں کے پاس علمِ غیب نہیں ہے۔ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ نئی مخلوق (انسان) زمین پر خونریزی کرے گی؟
  2. کثیر مفسرین (بشمول ابن کثیرؒ) نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ فرشتوں نے اس سے پہلے زمین پر جنات یا کوئی اور ایسی مخلوق دیکھی تھی جس نے فساد کیا تھا۔
  3. لیکن جدید مفکرین ایک اور اہم نکتہ اٹھاتے ہیں: فرشتوں نے شاید حضرت آدم کی تخلیق سے پہلے زمین پر ایسی "آدم نما مخلوقات" (Biological Humans) کو دیکھا تھا جو دیکھنے میں انسان جیسی تھیں مگر عقل و شعور سے عاری تھیں اور آپس میں لڑتی مرتی تھیں، اسی لیے انہوں نے قیاس کیا کہ یہ نیا خلیفہ بھی وہی کچھ کرے گا۔
 
ایک معلوماتی تصویر جس میں انسان کے مادی وجود (بشر) اور روحانی شعور (انسان) کے ملاپ کو علامتی طور پر دکھایا گیا ہے

ر یہاں اپلوڈ کر

حصہ سوم: علمی تطبیق (Reconciliation) — "بشر" اور "انسان" کا فرق

علماء اور جدید اسلامی مفکرین (جیسے ڈاکٹر اسرار احمدؒ، مولانا مودودیؒ اور دیگر) نے اس مسئلے کا ایک انتہائی خوبصورت علمی حل پیش کیا ہے، جو قرآن کے الفاظ میں ہی مضمر ہے۔

1. بشر (Biological Being):

قرآن میں جہاں انسان کی جسمانی تخلیق (مٹی سے بننے) کا ذکر ہے، وہاں اکثر لفظ "بشر" استعمال ہوا ہے۔ "بشر" کا مطلب ہے کھال اور جسم رکھنے والا وجود۔ یہ انسان کا حیوانی پہلو ہے۔

2. انسان (Spiritual & Intellectual Being):

یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت آدم علیہ السلام کو امتیاز ملتا ہے۔ جب اس "بشری وجود" میں اللہ نے اپنی خاص روح پھونکی اور اسے عقل و شعور (علم الاسماء) عطا کیا، تو وہ "انسان" بنا اور "مسجودِ ملائک" ٹھہرا [2]۔

نتیجہ (The Core Argument):

اس نظریے کے مطابق، سائنس جن لاکھوں سال پرانے ڈھانچوں کو دریافت کرتی ہے، وہ ان "بشر" (آدم نما مخلوقات) کے ہو سکتے ہیں جو حضرت آدم سے پہلے زمین پر آباد تھے۔ وہ جسمانی طور پر انسان تھے، مگر روحانی اور ذہنی طور پر "مکلف انسان" (Responsible Human) نہیں تھے۔

حضرت آدم علیہ السلام وہ پہلی ہستی تھے جنہیں اللہ نے چن کر ایک خاص عمل کے ذریعے "روح" اور "کامل شعور" عطا کیا اور یہاں سے ہماری موجودہ انسانی تاریخ شروع ہوئی۔

حصہ چہارم: ممکنہ اعتراضات کے جوابات

اعتراض 1: کیا یہ نظریہ ارتقاء (Evolution) کو ماننا نہیں ہے؟

جواب: نہیں، یہ ضروری نہیں۔ یہ نظریہ صرف اتنا مانتا ہے کہ حضرت آدم سے پہلے زمین پر ان جیسی مخلوقات موجود تھیں۔ آیا حضرت آدم کو انہی میں سے چن کر روح پھونکی گئی، یا ان کا جسم بالکل الگ سے مٹی سے بنایا گیا، یہ ایک تفسیری اختلاف ہے جس کی دونوں طرف گنجائش موجود ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آدم ہی پہلے صاحبِ شعور نبی تھے۔

اعتراض 2: کیا اس سے حضرت آدم کی شان میں کمی نہیں آتی؟

جواب: ہرگز نہیں۔ بلکہ اس سے ان کی شان اور بڑھ جاتی ہے کہ زمین پر موجود تمام مخلوقات میں سے صرف انہیں وہ "روحِ خداوندی" اور "علم" عطا ہوا جس نے انہیں فرشتوں کا مسجود بنایا۔ جسم اہم نہیں، وہ روح اہم ہے جو آدم کو ملی۔

حتمی خلاصہ

اسلامی تعلیمات اور مسلمہ سائنسی حقائق میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ سائنس ہمیں انسان کے "جسم کی تاریخ" بتاتی ہے، جبکہ قرآن ہمیں انسان کی "روح اور شعور کی تاریخ" بتاتا ہے۔ وہ پرانے ڈھانچے "بشر" کے ہو سکتے ہیں، لیکن پہلے مکمل "انسان" اور نبی حضرت آدم علیہ السلام ہی تھے۔

واللہ اعلم بالصواب (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے)۔


حوالہ جات:

[1] قرآن مجید، سورہ البقرہ، آیت 30
[2] ڈاکٹر اسرار احمدؒ اور مولانا مودودیؒ کی تفسیری ابحاث بشمول امام ابن کثیرؒ کی تفسیر

#AdamAndScience #HumanOrigins #QuranicWisdom #AnthropologyAndIslam #BasharVsInsan #FaithAndReason #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #حضرت_آدم #تخلیق_انسان #علمی_تحقیق

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال