⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

خاک سے افلاک تک: انسانی تخلیق کا حیرت انگیز کیمیائی سفر

 

مٹی کے ذرات کا انسانی خلیات اور ڈی این اے میں بدلنے کا ایک فنکارانہ اور سائنسی منظر جو قرآنی آیت 'سلالہ من طین' کی عکاسی کرتا ہے

خاک سے افلاک تک: انسانی تخلیق کا حیرت انگیز کیمیائی سفر

جدید بائیو کیمسٹری کی روشنی میں قرآنی لفظ "سُلَالَةٍ" (نچوڑ) کا تحقیقی مطالعہ


مقدمہ: ایک قدیم سچائی اور جدید سائنسی تصدیق

انسان کی اصل کیا ہے؟ یہ سوال صدیوں سے انسانی ذہن کو مہمیز کرتا رہا ہے۔ چودہ سو سال قبل، قرآنِ حکیم نے اس کا جواب ایک واضح اور حتمی اعلان کی صورت میں دیا:

"وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ"

(ترجمہ: اور یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے (نچوڑ) سے پیدا کیا۔) — [سورۃ المؤمنون: 12]

ایک طویل عرصے تک یہ آیت محض ایک مذہبی عقیدے کے طور پر دیکھی جاتی رہی۔ تاہم، آج جب جدید بائیو کیمسٹری اور جیو کیمسٹری نے مادے اور انسانی جسم کی ساخت کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے، تو یہ سائنسی علوم اس قرآنی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ایک مؤثر "ذریعہ" (Lens) بن گئے ہیں۔ یہ تحقیقی مقالہ سائنسی شواہد کی روشنی میں انسانی تخلیق کے اس قرآنی بیان کا جائزہ لیتا ہے کہ کس طرح ہمارا وجود واقعی مٹی کا ایک "کیمیائی خلاصہ" ہے۔


پہلا حصہ: قرآنی اصطلاحات اور کیمیائی مراحل کی ترتیب

قرآنِ مجید انسانی تخلیق کے لیے صرف "مٹی" کا ایک عمومی لفظ استعمال نہیں کرتا، بلکہ مختلف مقامات پر مختلف اصطلاحات کا استعمال ایک خاص ترتیب اور کیمیائی عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔ جدید سائنس کی روشنی میں ان مراحل کی اہمیت حسبِ ذیل ہے:

1. تُراب (Turab): بنیادی غیر نامیاتی عناصر (Inorganic Elements)

تخلیق کے ابتدائی مرحلے کے لیے قرآن لفظ "تُراب" (خشک مٹی/دھول) استعمال کرتا ہے: "...خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ..." (اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا) [1]۔ سائنسی تناظر میں، یہ مرحلہ زندگی کے لیے درکار بنیادی "خام مال" کی فراہمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بائیو کیمسٹری کے مطابق، زندگی کی بنیاد انھی کیمیائی عناصر (Chemical Elements) پر ہے جو کائنات میں اور ہماری زمین کی مٹی میں پائے جاتے ہیں [2, 3]۔

2. طِین (Tin): پانی کا ملاپ اور ہائیڈریشن

خشک عناصر سے زندگی کا ظہور ممکن نہیں۔ قرآن اگلا مرحلہ "طِین" (گارا) بتاتا ہے، یعنی مٹی میں پانی کا شامل ہونا۔ حیاتیات کا مسلمہ اصول ہے کہ پانی زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔ تمام حیاتیاتی کیمیائی تعاملات (Biochemical Reactions) آبی ماحول میں ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ انسانی جسم کا وزن کے اعتبار سے تقریباً 60% سے 70% حصہ پانی پر مشتمل ہے، جو خلیات کے افعال اور غذائی اجزاء کی نقل و حمل کے لیے ضروری ہے [2]۔

3. طِینِ لَّازِب (Sticky Clay): سالماتی بندھن اور پولیمرائزیشن

اگلا مرحلہ "طِينٍ لَّازِبٍ" (لیس دار/چپکنے والا گارا) کا ہے: "إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍ" [1]۔ جدید کیمیاء میں یہ دریافت ہو چکا ہے کہ چکنی مٹی کے معدنیات (Clay Minerals) کی سطحیں نامیاتی مالیکیولز کو جذب کرنے اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لا کر جوڑنے (Catalysis) کی صلاحیت رکھتی ہیں [5]۔ سائنسی جریدے Nature میں شائع ہونے والی تحقیق اس بات کی تائید کرتی ہے کہ معدنی سطحوں نے ابتدائی حیاتیاتی مالیکیولز کے لیے ایک "پلیٹ فارم" مہیا کیا ہوگا جہاں وہ جڑ کر پیچیدہ پولیمرز (جیسے پروٹینز یا نیوکلک ایسڈز کے اجزاء) بنا سکے [6]۔ قرآن کا لفظ "لازب" اس چپکنے اور جوڑنے والی کیمیائی خاصیت کی طرف ایک انتہائی لطیف اور دقیق اشارہ ہے۔

*نوٹ: ہمارا ایمان ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق براہِ راست اللہ کے حکم سے ان مراحل سے گزری۔ ہم ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کو تسلیم نہیں کرتے۔ سائنس صرف ان کیمیائی اصولوں اور میکانزمز (Mechanisms) کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے جو اللہ نے اس تخلیقی عمل میں استعمال کیے۔*


دوم حصہ: سائنسی ثبوت – "سُلَالَةٍ" (Extract/Essence) کا معجزہ

اب ہم مرکزی سوال کی طرف آتے ہیں: کیا سائنسی تجزیہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انسان مٹی سے بنا ہے؟ یہاں قرآن کے لفظ **"سُلَالَةٍ"** [1] کی سائنسی اہمیت اور درستگی کھل کر سامنے آتی ہے۔

اگر قرآن صرف یہ کہتا کہ انسان "مٹی" سے بنا ہے، تو یہ سائنسی طور پر ایک غیر دقیق بیان ہوتا، کیونکہ زمین کی بیرونی پرت (Earth's Crust) کا کیمیائی تجزیہ بتاتا ہے کہ اس میں سب سے زیادہ پائے جانے والے عناصر "سلیکون" (Silicon - تقریباً 28%) اور "ایلومینیم" (Aluminum - تقریباً 8%) ہیں [3]۔ اس کے برعکس، جب ہم انسانی جسم کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ دونوں عناصر (سلیکون اور ایلومینیم) ہمارے جسم میں نہ ہونے کے برابر، یعنی 0.01 فیصد سے بھی کم پائے جاتے ہیں [2, 3]۔

یہی وہ مقام ہے جہاں لفظ "سُلَالَةٍ" (نچوڑ) سائنسی اشکال کو حل کرتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ انسانی جسم مٹی کے تمام اجزاء کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک **"منتخب شدہ نچوڑ"** (Selective Extract) ہے۔ سائنس بتاتی ہے کہ زمین کی مٹی میں موجود زندگی کے لیے ضروری عناصر کو ایک خاص تناسب میں ہمارے جسم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، **آکسیجن (Oxygen)** زمین کی پرت (تقریباً 47%) اور انسانی جسم (تقریباً 65%) دونوں میں سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ہے، جو ہمارے اور زمین کے گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے [2, 3]۔ اسی طرح **کاربن (Carbon)**، جو زندگی کی کیمیائی بنیاد ہے، انسانی جسم کا تقریباً 18.5 فیصد حصہ ہے [2]۔ مزید برآں، ہماری ہڈیوں اور دانتوں کے لیے ضروری **کیلشیم (Calcium)** اور توانائی کے نظام کے لیے اہم **فاسفورس (Phosphorus)** بھی مٹی سے "نچوڑ" کر انسانی جسم میں بالترتیب 1.5 فیصد اور 1.0 فیصد کے قریب شامل کیے گئے ہیں [2, 3]۔

 

زمین کی پرت اور انسانی جسم میں پائے جانے والے عناصر کا تقابلی گراف جو ظاہر کرتا ہے کہ انسان مٹی کا ایک منتخب شدہ نچوڑ ہے


تیسرا حصہ: غذائی زنجیر اور "سلالہ" کا مسلسل سفر

تخلیقِ آدم کا عمل تو ایک بار مکمل ہو گیا، لیکن قرآن کا بیان کردہ یہ اصول آج بھی ہر انسان کی پیدائش اور نشوونما میں جاری و ساری ہے۔ ہر انسان، اپنی پیدائش سے موت تک، اسی "مٹی کے نچوڑ" سے اپنا وجود قائم رکھتا ہے۔ یہ عمل "غذائی زنجیر" (Food Chain) کے ذریعے ہوتا ہے۔

1. پودے (The Producers): پودے زمین سے پانی کے ساتھ محلول شکل میں غیر نامیاتی معدنیات (Minerals - جیسے نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم) جذب کرتے ہیں۔ وہ ضیائی تالیف (Photosynthesis) کے عمل کے ذریعے ان غیر نامیاتی اجزاء کو پیچیدہ نامیاتی مرکبات (کاربوہائیڈریٹس، پروٹینز وغیرہ) میں تبدیل کرتے ہیں [2]۔

2. جانور اور انسان (The Consumers): جب انسان پودوں (سبزیوں، پھلوں، اناج) کو غذا کے طور پر استعمال کرتا ہے، یا ان جانوروں کا گوشت کھاتا ہے جنہوں نے پودے کھائے تھے، تو درحقیقت وہ مٹی سے حاصل شدہ وہی "سلالہ" اپنے جسم میں منتقل کر رہا ہوتا ہے۔

3. جسمانی تعمیر: انسانی نظامِ انہضام اس غذا کو توڑ کر وہی بنیادی عناصر اور مالیکیولز (امینو ایسڈز، فیٹی ایسڈز، معدنیات) خون میں شامل کرتا ہے، جن سے نئے خلیات، ٹشوز، اور یہاں تک کہ تولیدی مادے (Reproductive cells) کی تشکیل ہوتی ہے [2]۔

لہٰذا، سائنسی اعتبار سے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کے جسم میں موجود تقریباً ہر ایٹم کا حتمی ماخذ (Ultimate Source) زمین کی مٹی ہی ہے اور وہ اسی کا ایک "بائیو کیمیکل نچوڑ" ہے۔

حاصلِ کلام

قرآن اور جدید سائنس کا یہ تقابلی اور تحقیقی مطالعہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ چودہ سو سال قبل نازل ہونے والی کتاب میں استعمال ہونے والی اصطلاحات (بالخصوص "سُلَالَةٍ" اور "طِينٍ لَّازِبٍ") حیرت انگیز طور پر دقیق اور جدید سائنسی حقائق سے مطابقت رکھتی ہیں۔ جدید بائیو کیمسٹری اور جیو کیمسٹری کا ڈیٹا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انسانی جسم کیمیائی طور پر زمین کی مٹی کا ایک "انتہائی نفیس، منتخب شدہ اور منظم خلاصہ" ہے۔ یہ تحقیق جہاں ایک طرف انسان کو اس کی عاجزانہ اصل (مٹی) کی یاد دلاتی ہے، وہیں دوسری طرف یہ خالقِ کائنات کے لامحدود علم کا ایک ناقابلِ تردید ثبوت بھی فراہم کرتی ہے۔


منتخب کتابیات و حوالہ جات (Bibliography & References):

  • القرآن الکریم۔ سورۃ المؤمنون (23:12)، سورۃ الروم (30:20)، سورۃ الصافات (37:11)۔
  • Nelson, D. L., & Cox, M. M. (2017). Lehninger Principles of Biochemistry (7th ed.). New York: W. H. Freeman.
  • Haynes, W. M. (Ed.). (2016). CRC Handbook of Chemistry and Physics (97th ed.). CRC Press.
  • Bernal, J. D. (1949). "The Physical Basis of Life". Proceedings of the Physical Society. Section A, 62(9), 537-558.
  • Cairns-Smith, A. G. (1982). Genetic Takeover and the Mineral Origins of Life. Cambridge University Press.
  • Ertem, G., & Ferris, J. P. (1996). "Synthesis of RNA oligomers on heterogeneous templates". Nature, 379(6562), 238-240.

#سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #قرآن_اور_سائنس #تخلیق_انسان #سلالة_من_طین #بائیو_کیمسٹری #اسلام_اور_سائنس #HumanCreation #QuranAndScience #Biochemistry #IslamicTruth

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال