⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

کائنات کی محیر العقول وسعت، جدید سائنس اور خالقِ کائنات کی "کرسی": ایک تحقیقی و تقابلی مطالعہ

 

: اربوں کہکشاؤں اور ستاروں پر مشتمل وسیع و عریض خلا کا منظر جو اللہ کی کرسی اور عرش کی لامتناہی بڑائی کی عکاسی کرتا ہے

کائنات کی محیر العقول وسعت، جدید سائنس اور خالقِ کائنات کی "کرسی"

ایک تحقیقی و تقابلی مطالعہ


مقدمہ: انسان، کائنات اور جستجوئے حقیقت

ازل سے انسان کی فطرت میں یہ بات شامل رہی ہے کہ وہ جب تاروں بھرے آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو اس کی وسعت اور گہرائی اسے ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ وہ یہ جاننے کے لیے بے چین رہتا ہے کہ یہ کائنات کتنی بڑی ہے؟ اس کی سرحدیں کہاں ہیں؟ اور اس لامتناہی خلا میں خود اس کا اپنا مقام کیا ہے؟

پچھلی چند صدیوں میں جدید سائنس، خاص طور پر فلکیات (Astronomy) اور کونیات (Cosmology) نے انسان کی اس جستجو کو ایک نئی جہت دی ہے۔ طاقتور دوربینوں (جیسے ہبل اور جیمز ویب) نے خلا کی ایسی گہرائیوں میں جھانکا ہے جہاں تک انسانی تخیل کی رسائی بھی محال تھی۔ سائنس نے ہمیں بتایا کہ یہ کائنات ہماری سوچ سے کہیں زیادہ وسیع، پیچیدہ اور ہیبت ناک ہے۔

لیکن، بحیثیت مسلمان، ہمارا ایمان ہے کہ یہ تمام تر مادی کائنات، اپنی تمام تر وسعتوں اور کہکشاؤں سمیت، اللہ رب العزت کی تخلیق کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اسلام ہمیں ایک ایسی حقیقت سے روشناس کراتا ہے جو سائنسی پیمانوں سے ماورا ہے—وہ حقیقت خالقِ کائنات کی عظمت، اس کا عرش اور اس کی "کرسی" ہے۔ اس تحقیقی مضمون کا مقصد یہ ہے کہ جدید سائنسی دریافتوں کی روشنی میں یہ سمجھا جائے کہ جب قرآن و حدیث میں اللہ کی "کرسی" کی وسعت کا ذکر آتا ہے، تو اس کا اصل مفہوم کیا ہے اور آج کی سائنس ہمیں اس الٰہی عظمت کو سمجھنے میں کس طرح مدد دیتی ہے۔

1. اسلامی تناظر میں "الکرسی" کی حقیقت

قرآن کریم کی سب سے عظیم آیت، جسے سید الایٰات کہا جاتا ہے، یعنی "آیت الکرسی" (سورۃ البقرہ: 255) میں اللہ تعالیٰ اپنی شان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

"وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ..."

"اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔"

یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ "کرسی" سے کیا مراد ہے؟

الف) لغوی اور تفسیری مفہوم: عربی زبان میں کرسی کا عام مفہوم بیٹھنے کی جگہ یا تخت کے سامنے پاؤں رکھنے کی جگہ (Footstool) کے ہیں۔ مفسرین نے اسے اللہ کے علم یا اس کی بادشاہت سے تعبیر کیا ہے، تاہم سلف صالحین کا عقیدہ یہ ہے کہ کرسی ایک حقیقی وجود رکھتی ہے جو اللہ کی ایک عظیم مخلوق ہے۔

ب) سب سے مستند تشریح: حضرت ابن عباسؓ کا قول: اس باب میں سب سے راجح تفسیر صحابی رسول حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: "الْكُرْسِيُّ مَوْضِعُ الْقَدَمَيْنِ، وَالْعَرْشُ لَا يَقْدِرُ قَدْرَهُ إِلَّا اللَّهُ" (کرسی اللہ تعالیٰ کے دونوں قدموں کے رکھنے کی جگہ ہے، اور عرش کی عظمت کا اندازہ اللہ کے سوا کوئی نہیں لگا سکتا)۔ [1]

ج) کائناتی پیمانہ (The Cosmic Scale): حدیثِ رسولﷺ: حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "مَا السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ فِي الْكُرْسِيِّ إِلَّا كَحَلْقَةٍ مُلْقَاةٍ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ، وَفَضْلُ الْعَرْشِ عَلَى الْكُرْسِيِّ كَفَضْلِ تِلْكَ الْفَلَاةِ عَلَى تِلْكَ الْحَلْقَةِ" (ساتوں آسمان کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے ایک وسیع و عریض چٹیل میدان میں پڑا ہوا ایک چھوٹا سا چھلا۔ اور عرش کی بڑائی کرسی پر ایسی ہی ہے جیسے اس وسیع میدان کی فضیلت اس چھلے پر ہے)۔ [2]

2. جدید سائنس اور کائنات کی ہیبت ناک وسعت

الف) قابلِ مشاہدہ کائنات (Observable Universe): جدید فلکیات کے مطابق، قابلِ مشاہدہ کائنات کا قطر تقریباً 93 ارب نوری سال (93 Billion Light-years) ہے۔ اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں، تب بھی ہمیں ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں 93 ارب سال لگیں گے۔

ب) کہکشاؤں کا سمندر: اس کائنات میں 20 کھرب (2 Trillion) سے زائد کہکشائیں موجود ہیں۔ [3] ہماری اپنی کہکشاں "ملکی وے" میں 400 ارب ستارے ہیں، اور یہ کہکشاں خود "لانیاکیا" نامی ایک عظیم سپر کلسٹر کا ایک معمولی سا نقطہ ہے۔

ج) "پیلے نیلے نقطے" کا سبق: 1990 میں وائجر 1 نے 6 ارب کلومیٹر دور سے زمین کی تصویر لی، جس میں زمین خلا کے سیاہ سمندر میں روشنی کے ایک مدہم ذرے (Pale Blue Dot) کی طرح نظر آئی۔ یہ ہے کل کائنات میں ہماری حیثیت—ایک ذرے سے بھی کم۔

 

ایک وسیع صحرا میں پڑی انگوٹھی کا خاکہ جو کائنات کی وسعت کے مقابلے میں اللہ کی کرسی کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔

3. تقابلی جائزہ: جب سائنس حدیث کی تشریح کرتی ہے

سائنس نے ہمیں جو کچھ بتایا—93 ارب نوری سال کی وسعت، کھربوں کہکشائیں—یہ سب کچھ اسلام کی نظر میں صرف "پہلا آسمان" (سمآء الدنیا) ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: "وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ..." (الملک: 5)۔

اگر یہ عظیم الشان کائنات، جس میں ہماری زمین ایک ذرہ ہے، صرف ایک "انگوٹھی" کے برابر ہے، تو تصور کریں کہ وہ "صحرا" (یعنی کرسی) کتنا بڑا ہوگا جس میں یہ انگوٹھی پڑی ہوئی ہے؟ سائنس کی دریافتیں دراصل ہمیں اس "انگوٹھی" کی وسعت بتا کر غیر شعوری طور پر اس "صحرا" (کرسی) کی عظمت کی گواہی دے رہی ہیں۔

4. آخری سرحد: عرشِ الٰہی (The Divine Throne)

کرسی کے بعد اللہ کی سب سے عظیم ترین مخلوق اس کا عرش ہے۔ اسی حدیث کے مطابق، کرسی اپنی تمام تر ناقابلِ تصور وسعت کے باوجود، عرش کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے ایک چھوٹی سی انگوٹھی ایک وسیع صحرا میں۔ عرش کی عظمت کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِمِائَةِ عَامٍ" (مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں عرش کو اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے بارے میں بتاؤں۔ اس کے کان کی لو سے لے کر اس کے کندھے تک کا درمیانی فاصلہ سات سو سال کی مسافت کے برابر ہے)۔ [4] سوچیں! یہ صرف کان سے کندھے تک کا فاصلہ ہے، تو پھر اس عرشِ عظیم کی وسعت کیا ہوگی جسے ایسے آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا؟

حاصلِ کلام اور روحانی پیغام

جدید سائنس اور اسلامی تعلیمات کا یہ تقابلی مطالعہ ہمیں ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں انسان کے پاس عجز و انکساری کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ جب ہم اپنی زمین کی حقارت کو دیکھتے ہیں، اور پھر یہ سوچتے ہیں کہ یہ پوری کائنات اللہ کی کرسی کے سامنے ایک چھلے کی مانند ہے، تو انسان کا سر اپنے خالق کی عظمت کے سامنے خود بخود جھک جاتا ہے۔ اس تناظر میں، دنیاوی تخت و تاج اور انسان کی اکڑ کتنی بے معنی ہے! جو انسان اس کائنات میں ایک وائرس سے بھی چھوٹا ہے، وہ کس بنیاد پر اپنے رب سے بغاوت کرتا ہے؟ یہ حقائق ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم اپنی اوقات پہچانیں، اور اس "رب العرش العظیم" کی عبادت کریں جس کی کرسی نے ہر چیز کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔


حوالہ جات (References):

  • المستدرک علی الصحیحین للحاکم، کتاب التفسیر، حدیث نمبر: 3116۔
  • سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، علامہ ناصر الدین البانی، حدیث نمبر: 109۔
  • Conselice, C. J., et al. (2016). "The Evolution of Galaxy Number Density at z < 8." The Astrophysical Journal.
  • سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، باب فی الجہمیۃ، حدیث نمبر: 4727۔
  • NASA/JPL-Caltech. "Voyager 1's Pale Blue Dot." (Scale of the solar system).

#سائنس_اور_قرآن #کائنات_کی_وسعت #آیت_الکرسی #عرش_الہی #اللہ_کی_قدرت #خالق_کائنات #فلکیات #اسلام_اور_سائنس #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #QuranAndScience #CosmicScale #DivineGreatness

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال