تصویری کریڈٹ: سائنس قرآن کے حضور میں
ماں کا دودھ اور دو سالہ رضاعت: قرآن کا حکم اور جدید سائنس کی گواہی
فطرت کے اس انمول تحفے کی حکمتوں کا ایک تحقیقی مطالعہ
مقدمہ: خالق کی حکمت اور سائنس کی خوردبین
اسلام دینِ فطرت ہے، اور اس کا ہر حکم انسانیت کی فلاح کے لیے ہے۔ جب ہم بچوں کی پرورش کے سب سے اہم پہلو، یعنی "رضاعت" (ماں کا دودھ پلانا) پر قرآنِ حکیم کی ہدایات کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں خالق کی بے پناہ حکمت نظر آتی ہے۔ آج، جب جدید میڈیکل سائنس نے انسانی دودھ کی پیچیدہ ساخت اور بچے کی صحت پر اس کے دوررس اثرات کو سمجھا ہے، تو یہ سائنسی علم ہمارے لیے قرآن کے ان احکامات کی گہرائی کو سمجھنے کا ایک بہترین "ذریعہ" (Lens) بن گیا ہے۔
آئیے، قرآن کی روشنی اور جدید سائنس کے عدسے سے دیکھتے ہیں کہ ماں کا دودھ اور دو سال تک دودھ پلانے کا حکم کس طرح بچے اور ماں دونوں کے لیے زندگی اور صحت کا ضامن ہے۔
پہلا حصہ: قرآن کا واضح حکم اور مدتِ رضاعت
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بچے کے اس بنیادی حق اور ماں کی ذمہ داری کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ یہ صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ ایک حکمِ الٰہی ہے۔
وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۚ
(ترجمہ: "اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، یہ (حکم) اس شخص کے لیے ہے جو رضاعت کی مدت پوری کرنا چاہے۔") [1]
اس آیت نے دو اہم باتیں طے کر دیں:
1. ماں کا دودھ بچے کا حق ہے۔
2. رضاعت کی مکمل اور مثالی مدت دو قمری سال (Complete Two Years) ہے۔
ایک اور مقام پر اس مدت کی تائید اس طرح ہوتی ہے:
"وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ" (ترجمہ: "...اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے...") [القرآن، سورۃ لقمان: 14]
دوسرا حصہ: سائنسی تناظر - ماں کا دودھ: ایک "زندہ معجزہ"
تصویری کریڈٹ: سائنس قرآن کے حضور میں
جدید بائیو کیمسٹری اور پیڈیاٹرکس (اطفالیات) کی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ ماں کا دودھ صرف ایک "غذا" نہیں ہے، بلکہ یہ ایک "زندہ سیال" (Living Fluid) ہے جو بچے کی عمر اور ضروریات کے مطابق اپنی ساخت بدلتا رہتا ہے [1]۔
1. ابتدائی تحفہ: کولوسٹرم (The First Vaccine)
پیدائش کے فوراً بعد ماں کے سینے سے جو زردی مائل گاڑھا دودھ نکلتا ہے، اسے "کولوسٹرم" (Colostrum) کہتے ہیں۔ سائنس اسے بچے کی "پہلی ویکسین" قرار دیتی ہے۔ یہ اینٹی باڈیز (خاص طور پر IgA) اور سفید خلیات سے بھرپور ہوتا ہے [2]۔
2. مکمل غذا (The Perfect Nutrition)
ماں کے دودھ میں پروٹین، چکنائی، کاربوہائیڈریٹس، وٹامنز اور معدنیات کا تناسب قدرت نے اس طرح رکھا ہے کہ وہ انسانی بچے کے ہاضمے کے لیے بہترین ہے۔ ڈبے کا دودھ (Formula Milk) ماں کے دودھ کی پیچیدہ حیاتیاتی ساخت کا مقابلہ نہیں کر سکتا [1]۔
3. بچے کی صحت پر دوررس اثرات
عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسیف (UNICEF) کے مطابق ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں اسہال اور نمونیا جیسی بیماریوں کا خطرہ ڈرامائی طور پر کم ہو جاتا ہے [3]۔ ذہنی نشوونما بہتر ہوتی ہے اور ان کا آئی کیو (IQ) لیول زیادہ ہو سکتا ہے [4]۔
4. ماں کے لیے صحت کا پیغام
طبی تحقیقات بتاتی ہیں کہ جو مائیں دودھ پلاتی ہیں، ان میں چھاتی کے کینسر (Breast Cancer) اور بیضہ دانی کے کینسر کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے [5]۔
تیسرا حصہ: دو سال کی مدت کی سائنسی حکمت
تصویری کریڈٹ: سائنس قرآن کے حضور میں
سائنس بتاتی ہے کہ بچے کا مدافعتی نظام (Immune System) پہلے دو سالوں میں تیزی سے پختہ ہو رہا ہوتا ہے۔ جب بچہ 6 ماہ کے بعد زمین پر چلنا شروع کرتا ہے، تو اسے ماں کے دودھ میں موجود مدافعتی اجزاء کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے [1]۔
حاصلِ کلام
ماں کا دودھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بچے کے لیے ایک ایسا انمول تحفہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ قرآنِ کریم کا دو سالہ رضاعت کا حکم، جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں، خالق کی لامحدود حکمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات و مصادر (References):
[1] "Breastfeeding: The Gold Standard," American Academy of Pediatrics (AAP).[2] "Colostrum: The First Milk," La Leche League International.
[3] WHO & UNICEF, "Global Strategy for Infant and Young Child Feeding," 2003.
[4] Horta, B. L., et al. Acta Paediatrica, 2015.
[5] Collaborative Group on Hormonal Factors in Breast Cancer, The Lancet, 2002.
#Breastfeeding #QuranAndScience #IslamicParenting #ماں_کا_دودھ #رضاعت #قرآنی_حکمت #اسلام_اور_سائنس #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #پاک_ناولز
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔
.png)
.png)
.png)