ایٹم: کائنات کی ننھی اینٹ اور اللہ کی عظیم قدرت
آغازِ کلام: خالقِ کائنات کی باریک بینی
اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں جگہ جگہ اپنی قدرت کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو بظاہر چھوٹی نظر آتی ہیں مگر حقیقت میں پوری کائنات کا نظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ..."
"بے شک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔" — [سورۃ النساء: 40]
ایک اور مقام پر فرمایا:
"وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ..."
"اور آپ کے رب سے زمین اور آسمان میں ایک ذرہ برابر چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے۔" — [سورۃ یونس: 61] [1]
ان آیات میں جس "ذرے" کا ذکر ہے، جدید سائنس اسے "ایٹم" (Atom) کے نام سے جانتی ہے۔ یہ وہ ننھی سی اکائی ہے جس سے پہاڑ، سمندر، ستارے اور خود ہمارا جسم بنا ہے۔ بظاہر نظر نہ آنے والا یہ ذرہ اپنے اندر کائنات کی سب سے بڑی توانائی اور خالقِ کائنات کی سب سے گہری حکمت چھپائے ہوئے ہے۔
ایٹم کتنا چھوٹا ہے؟ (سائنسدانوں کی زبانی حیرت انگیز مثالیں)
اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر ایٹم نظر نہیں آتا تو ہم اس کے سائز کا اندازہ کیسے کریں؟ سائنسدانوں نے اسے سمجھانے کے لیے بہت ہی دلچسپ مثالیں دی ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ [2]
1. بال کی چوڑائی اور ایٹم: اپنے سر کا ایک بال دیکھیں۔ یہ بہت باریک محسوس ہوتا ہے، لیکن ایٹم کے مقابلے میں یہ ایک بہت بڑا ستون ہے۔ اگر آپ ایک بال کی صرف چوڑائی (موٹائی) کے برابر جگہ میں ایٹموں کو ایک لائن میں کھڑا کریں، تو وہاں تقریباً 5 لاکھ ایٹم سما جائیں گے۔ یعنی آپ کا ایک بال لاکھوں ایٹموں کی دیوار پر کھڑا ہے۔ [3]
2. سیب اور کرہ ارض کی مثال: اگر آپ ایک سیب کو اتنا بڑا کریں کہ وہ پوری زمین (Earth) کے برابر ہو جائے، تو اس سیب کا ایک ایٹم کتنا بڑا ہوگا؟ وہ ایٹم محض ایک سیب کے برابر ہوگا霸 اب ذرا سوچیں کہ زمین کے مقابلے میں ایک سیب کتنا چھوٹا ہوتا ہے، ایٹم ایک عام سیب کے مقابلے میں اتنا ہی چھوٹا ہے۔ [4]
3. پانی کا ایک قطرہ: پانی کے ایک چھوٹے سے قطرے میں ایٹموں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر دنیا کا ہر شخص ہر سیکنڈ میں ایک ایٹم گننا شروع کرے، تب بھی ان سب کو گننے میں لاکھوں سال لگ جائیں گے۔ [5]
ایٹم کے اندر کی سیر: ایک انوکھا نظام
ایٹم کوئی ٹھوس گیند نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر ایک پورا نظامِ شمسی چل رہا ہے۔ آئیے ایٹم کے اندر داخل ہو کر دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔
مرکزہ (Nucleus): ایٹم کا دل
ایٹم کے بالکل بیچ میں ایک مرکزہ ہوتا ہے جسے "نیوکلیئس" کہتے ہیں۔ یہ ایٹم کا سب سے بھاری حصہ ہے، لیکن یہ خود کتنا چھوٹا ہے؟ مثال: اگر پورا ایٹم ایک بہت بڑے فٹ بال اسٹیڈیم کے برابر ہو، تو اس کا نیوکلیئس اسٹیڈیم کے بیچ میں رکھی ہوئی ایک چھوٹی سی مکھی یا ایک کنکر کے برابر ہوگا۔ باقی پورا اسٹیڈیم خالی جگہ پر مشتمل ہے۔ [6]
پروٹون اور نیوٹرون: طاقتور سپاہی
نیوکلیئس کے اندر دو طرح کے ذرات ہوتے ہیں: پروٹون اور نیوٹرون۔ پروٹون پر مثبت (Positive) چارج ہوتا ہے جبکہ نیوٹرون پر کوئی چارج نہیں ہوتا۔ یہ اتنے چھوٹے ہیں کہ اگر آپ ایک سوئی کی نوک لیں، تو اس پر کھربوں پروٹونز سما سکتے ہیں۔ اللہ نے ان ننھے ذرات کو ایسی زبردست قوت سے جوڑ رکھا ہے کہ اگر انہیں الگ کیا جائے تو ایٹمی دھماکے جیسی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ [7]
الیکٹران: ناچتا ہوا تسبیح خواں
نیوکلیئس کے گرد "الیکٹران" چکر لگاتے ہیں۔ یہ اتنے ہلکے ہوتے ہیں کہ ان کا کوئی وزن محسوس ہی نہیں ہوتا۔ رفتار کا عالم: الیکٹران نیوکلیئس کے گرد اتنی تیزی سے گھومتے ہیں کہ وہ ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد کئی چکر لگا سکتے ہیں۔ ان کی حرکت اس قدر منظم ہے کہ قرآن کی وہ آیت یاد آتی ہے جس میں فرمایا گیا کہ کائنات کی ہر چیز اپنے مدار میں تیر رہی ہے۔ [8]
مزید گہرائی: کوارکس اور گلوآنز (اللہ کی لطافت)
سائنسدانوں نے جب پروٹون اور نیوٹرون کو توڑ کر دیکھا تو پتہ چلا کہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ان کے اندر اس سے بھی چھوٹے ذرات ہیں جنہیں "کوارکس" (Quarks) کہا جاتا ہے۔ کوارکس کا سائز: ایک کوارک پروٹون سے بھی ہزاروں گنا چھوٹا ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کے پاس اب تک ایسی کوئی خوردبین نہیں جو ایک کوارک کو براہِ راست دیکھ سکے۔ یہ صرف ریاضیاتی حسابات اور بڑے تجربات (جیسے CERN) سے ثابت ہوئے ہیں۔ [9]
گلوآن (Gluon): یہ وہ ان دیکھی طاقت ہے جو کوارکس کو آپس میں جوڑ کر رکھتی ہے۔ اسے "گلوآن" اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ گوند (Glue) کی طرح ذرات کو چپکائے رکھتی ہے۔ حکمت: اللہ کی قدرت دیکھیں کہ اس نے اتنے چھوٹے ذرات بنائے جن کا کوئی ظاہری حجم (Volume) ہی نہیں، وہ صرف توانائی کے نقطے معلوم ہوتے ہیں، مگر وہی پوری کائنات کی مادی بنیاد ہیں۔ [10]
خالی جگہ کا معمہ: کائنات کا اصل سچ
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ایٹم کا 99.99999% حصہ خالی ہے۔ اگر ہم دنیا کے تمام انسانوں کے جسموں کے ایٹموں میں سے یہ "خالی جگہ" نکال دیں، تو پوری انسانیت (8 ارب انسان) ایک چینی کے دانہ یا ایک سیب کے برابر جگہ میں سما جائے گی۔ [11] یہ حقیقت ہمیں بتاتی ہے کہ مادہ (Matter) جو ہمیں اتنا ٹھوس نظر آتا ہے، وہ درحقیقت اللہ کے مقرر کردہ قوانینِ توانائی کا ایک کرشمہ ہے۔ یہ خالی جگہ دراصل خالی نہیں، بلکہ اللہ کے احکامات اور قوتوں سے بھری ہوئی ہے جس نے ہمیں ایک شکل دے رکھی ہے۔
حاصلِ کلام: ذرہ بے کار نہیں
جس اللہ نے ایٹم کے اندر اتنا پیچیدہ اور منظم نظام بنایا ہے، کیا وہ انسان کی پکار نہیں سنے گا؟ جس نے کوارکس اور گلوآنز کو ایک اربویں حصے سے بھی کم جگہ میں ترتیب دیا ہے، کیا اس کی نظر سے ہماری زندگی کا کوئی لمحہ اوجھل رہ سکتا ہے؟ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ایٹم جتنا چھوٹا ہے، اللہ کی قدرت اتنی ہی بڑی ہے۔ ایٹم کا ہر الیکٹران اپنے مدار میں گھومتے ہوئے گویا اپنے خالق کی تسبیح بیان کر رہا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس ننھی سی اینٹ کو دیکھے اور پکار اٹھے:
"رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا..."
"اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد پیدا نہیں کیا۔" — [سورۃ آل عمران: 191] [12]
حوالہ جات (References):
- القرآن الکریم، (سورہ یونس: 61، سورہ النساء: 40)۔
- CERN - The basics of the Higgs boson and the Standard Model.
- National Institute of Standards and Technology (NIST) - Scaling the Atom.
- Feynman, R. P. (1963). The Feynman Lectures on Physics.
- University of Cambridge - Department of Physics: Atomic Scale analogues.
- Rutherford, E. (1911). "The Scattering of α and β Particles by Matter and the Structure of the Atom".
- Particle Data Group (PDG) - Review of Particle Physics.
- Heisenberg, W. (1927). "Über den anschaulichen Inhalt der quantentheoretischen Kinematik und Mechanik".
- Gell-Mann, M. (1964). "A Schematic Model of Baryons and Mesons". Physics Letters.
- Gross, D. J., & Wilczek, F. (1973). "Ultraviolet Behavior of Non-Abelian Gauge Theories".
- Bryson, B. (2003). A Short History of Nearly Everything.
- القرآن الکریم، (سورہ آل عمران: 191)۔
#ایٹم #سائنس_اور_قرآن #اللہ_کی_قدرت #اسلامی_حکمت #قرآنی_بصیرت #خالق_کائنات #طبیعات #ذرہ #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #ایمان_اور_سائنس #QuranAndScience #Atom #DivineWisdom
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

