⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

عدت اور حمل ٹیسٹ: کیا جدید سائنس کی موجودگی میں عدت کا حکم اب بھی باقی ہے؟

 

حمل ٹیسٹ اور قرآنی احکامات کا علامتی موازنہ جو الٰہی قوانین کی ابدیت اور سائنسی محدودیت کو ظاہر کرتا ہے

عدت اور حمل ٹیسٹ: کیا جدید سائنس کی موجودگی میں عدت کا حکم اب بھی باقی ہے؟

(سائنسی مغالطوں کا رد اور قرآنی حکمتوں کا مفصل بیان)


1. ایک اہم سوال اور جدید اعتراض

آج کے مادی دور میں ہر شرعی حکم کو سائنسی ترازو میں تولنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ایک بڑا اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ اسلام نے طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد عورت پر عدت (انتظار کی مدت) کیوں لازم کی ہے؟

اعتراض کی بنیاد: معترضین کا دعویٰ ہے کہ قدیم زمانے میں عدت کا واحد مقصد "استبراءِ رحم" (یہ جاننا کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں) تھا تاکہ نسب کا اختلاط نہ ہو۔ چونکہ اب جدید "حمل ٹیسٹ" (Pregnancy Test)، الٹراساؤنڈ اور ڈی این اے ٹیکنالوجی کے ذریعے چند منٹوں میں یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ رحم میں بچہ ہے یا نہیں، لہٰذا عورت کو مہینوں تک قید رکھنا (معاذ اللہ) انسانی حقوق کے خلاف اور غیر ضروری ہے۔

2. وائرل سائنسی دعوے اور ان کی حقیقت: مائیکرو کائیمرزم (Microchimerism)

اس سوال کے جواب میں بعض حلقوں کی جانب سے ایک سائنسی نظریہ "مائیکرو کائیمرزم" کے نام سے پیش کیا جاتا ہے۔ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ شوہر کا ڈی این اے عورت کے جسم پر ایک مخصوص "چھاپ" چھوڑتا ہے جسے ختم ہونے میں عدت جتنا وقت لگتا ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دینِ حق کو ثابت کرنے کے لیے ایسی کمزور سائنسی تاویلیں دینا خطرناک ہو سکتا ہے:

  • خلیات کی موجودگی: جدید جینیات (Genetics) کے مطابق مردانہ خلیات عورت کے جسم میں داخل ہوں تو وہ صرف چار ماہ میں ختم نہیں ہوتے بلکہ دہائیوں تک موجود رہ سکتے ہیں۔ [2]
  • بنیادی ذریعہ: سائنس کے مطابق ان خلیات کے منتقل ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ حمل ہے (خاص کر لڑکے کی پیدائش)۔ [3]
  • نتیجہ: یہ کہنا کہ عدت کے چار ماہ دس دن میں کوئی "جینیاتی صفائی" ہوتی ہے، ایک ایسی بات ہے جس کا موجودہ میڈیکل سائنس میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ ہمیں اپنے دین کو ایسی بیساکھیوں پر کھڑا نہیں کرنا چاہیے جو کل سائنسی تحقیق بدلنے سے ٹوٹ جائیں۔ [4]

3. قرآنی احکامات: الٰہی قوانین کی روشنی

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں عدت کے احکامات کو نہایت وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ یہ وہ آیات ہیں جو اس حکم کی بنیاد ہیں:

الف: طلاق یافتہ عورت کے لیے

وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ

ترجمہ: "اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔" — (سورۃ البقرہ: 228)

ب: بیوہ عورت کے لیے

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

ترجمہ: "اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑیں، تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن روکے رکھیں۔" — (سورۃ البقرہ: 234)

4. اعتراض کا سب سے مضبوط جواب: عدت صرف حمل کے لیے نہیں!

اگر عدت کا مقصد صرف حمل کا پتہ لگانا ہوتا، تو شریعت کے درج ذیل احکامات نہ ہوتے:

  • غیر مدخولہ بیوہ کی عدت: اگر کسی کا نکاح ہوا اور رخصتی (ملاقات) سے پہلے ہی شوہر فوت ہو گیا، تو اس عورت پر بھی چار ماہ دس دن کی عدت لازم ہے۔ یہاں حمل کا 0% امکان ہے، پھر بھی عدت کیوں؟ یہ ثابت کرتا ہے کہ عدت صرف حمل کے لیے نہیں بلکہ "نکاح کی حرمت" اور "سوگ" کے لیے بھی ہے [5]۔
  • بڑھاپے کی عدت: وہ عورتیں جو بانجھ ہو چکی ہوں یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، طلاق کی صورت میں ان پر بھی تین ماہ کی عدت لازم ہے۔ یہاں بھی حمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا [1]۔

 

ایک گرافک جو عدت کے نفسیاتی، سماجی اور خاندانی فوائد کو صرف حیاتیاتی پہلو سے بلند تر کر کے پیش کرتا ہے

5. عدت کی کثیر الجہتی حکمتیں

جدید حمل ٹیسٹ صرف ایک پہلو کو دیکھتا ہے، جبکہ الٰہی حکم کے پیچھے درج ذیل حکمتیں کارفرما ہیں:

1. استبراءِ رحم (نسب کا قطعی تحفظ)

انسانی مشینری اور ٹیسٹ میں "فالس پازیٹو" یا "فالس نیگیٹو" (غلط رپورٹ) کا امکان رہتا ہے۔ قدرت نے تین حیض یا چار ماہ دس دن کی مدت کو ایک ایسی فطری گواہی بنا دیا ہے جو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے [6]۔

2. خاندان کی بقا اور رجوع کا موقع

طلاق کی صورت میں تین ماہ کی مدت میاں بیوی کو غصہ ٹھنڈا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ اکثر طلاقیں جذبات میں دی جاتی ہیں، یہ مدت ایک "کولنگ پیریڈ" (Cooling Period) کا کام کرتی ہے تاکہ ٹوٹتے ہوئے خاندان کو دوبارہ جوڑا جا سکے [1]۔

3. نفسیاتی اور حیاتیاتی توازن (Hormonal Reset)

شوہر کی جدائی یا وفات عورت کے لیے ایک شدید صدمہ ہوتی ہے۔ جدید نفسیات کہتی ہے کہ عورت کے ہارمونل نظام اور ذہنی توازن کو دوبارہ نارمل ہونے کے لیے ایک مخصوص وقت درکار ہوتا ہے۔ چار ماہ دس دن کی یہ مدت بیوہ کو سماجی اور نفسیاتی طور پر اس قابل بناتی ہے کہ وہ دوبارہ کسی نئے رشتے کے بارے میں سوچ سکے [1]۔

4. حقِ نکاح اور شوہر کی وفاداری

عدت دراصل اس نکاح کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے جو ٹوٹا ہے۔ یہ شوہر کے حق کی ادائیگی اور اس کے ساتھ بتائے گئے وقت کی قدر دانی ہے، جسے "تعبدی حکم" (بندگی کا تقاضا) کہا جاتا ہے۔

6. حاصلِ کلام: سائنس بمقابلہ وحی

ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ عدت کا حکم اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ایک کامل نظام ہے۔ اگر آج کی جدید سائنس اس کی تمام حکمتوں تک نہیں پہنچ سکی، تو یہ انسانی علم کی محدودیت ہے۔ سائنس صرف مادی چیزوں کو دیکھتی ہے، جبکہ وحیِ الٰہی انسانی روح، خاندان، سماج اور مستقبل کی تمام ضرورتوں کو سامنے رکھ کر قانون بناتی ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کا ہر حکم برحق ہے، اور ہمیں اپنے دین کو ثابت کرنے کے لیے زبردستی کی سائنسی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں ہے۔


حوالہ جات (References):

  • القرآن الکریم (سورۃ البقرہ: 228، 234)
  • Chan, W. F., et al., "Male Microchimerism in the Human Female Brain", PLOS ONE, 2012.
  • Boddy, A. M., et al., "Fetal Microchimerism and Maternal Health: A Review", BioEssays, 2015.
  • Nelson, J. L., "The Otherness of Self: Microchimerism in Health and Disease", Nature Reviews Rheumatology.
  • امام ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم (تفسیر ابن کثیر)۔
  • Keith L. Moore, The Developing Human: Clinically Oriented Embryology.
  • مفتی محمد شفیع، معارف القرآن (عدت کے سماجی فوائد)۔

#عدت #حفاظت_نسب #قرآن_اور_سائنس #اسلامی_قوانین #خاندانی_نظام #حمل_ٹیسٹ #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #Iddat #IslamicLaw #QuranAndScience #FamilyValues

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال