⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

سائنس کی ایک جھوٹی کھوج: نظریہ ارتقاء (Theory of Evolution) — ایک علمی و تحقیقی پوسٹ مارٹم

 
فوسل ریکارڈ اور ڈی این اے کی پیچیدگی کو واضح کرتی ایک علمی تصویر جو ارتقائی نظریے کے مادی فلسفے پر سوال اٹھاتی ہے


مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

سائنس کی ایک جھوٹی کھوج: نظریہ ارتقاء (Theory of Evolution) — ایک علمی و تحقیقی پوسٹ مارٹم

آج کی دنیا میں، سائنس کے نام پر جو سب سے بڑا "عقیدہ" (Dogma) فروغ پا رہا ہے، وہ چارلس ڈارون کا پیش کردہ "نظریہ ارتقاء" ہے۔ ہمیں اسکولوں، کالجوں اور میڈیا کے ذریعے بچپن سے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ ایک "طے شدہ سائنسی حقیقت" (Proven Fact) ہے کہ زندگی سادہ کیمیائی مادوں سے خود بخود وجود میں آئی اور پھر کروڑوں سالوں کے اندھے، بے مقصد اور اتفاقی عمل کے نتیجے میں انسان وجود میں آیا۔

لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا سائنس نے خدا کے وجود کو غیر ضروری قرار دے دیا ہے؟

جب ہم تعصب کی عینک اتار کر، خالص علمی اور عقلی بنیادوں پر جدید سائنس کی دریافتوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ "نظریہ ارتقاء" کا عالی شان محل درحقیقت ریت کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ یہ سائنس سے زیادہ ایک "مادیت پرستانہ فلسفہ" ہے جسے زبردستی سائنس کا لیبل لگایا گیا ہے۔

آئیے، اس نظریے کے ان تاریک گوشوں اور سائنسی خلاؤں (Scientific Gaps) کا جائزہ لیتے ہیں جنہیں عام طور پر نصابی کتابوں میں چھپا دیا جاتا ہے۔

1۔ فوسلز کا ریکارڈ: گمشدہ کڑیاں (Missing Links) آج بھی گمشدہ ہیں

ڈارون کا بنیادی دعویٰ یہ تھا کہ جانداروں میں تبدیلی انتہائی سست روی سے، چھوٹے چھوٹے قدموں میں ہوتی ہے۔ اس نے خود اپنی کتاب "The Origin of Species" میں اعتراف کیا تھا کہ اگر میرا نظریہ درست ہے، تو زمین کی تہوں میں اربوں ایسے فوسلز ملنے چاہئیں جو "درمیانی کڑیاں" (Transitional Forms) ہوں—یعنی آدھی مچھلی اور آدھا زمینی جانور۔

حقیقت کیا ہے؟

ڈیڑھ سو سال کی شدید کھدائیوں کے بعد بھی، فوسلز کا ریکارڈ ڈارون کے نظریے کے منہ پر طمانچہ ہے۔

  • اچانک نمودار ہونا (Sudden Appearance): فوسل ریکارڈ میں جانداروں کی انواع بتدریج تبدیل ہوتی نظر نہیں آتیں، بلکہ وہ اچانک اپنی مکمل شکل میں نمودار ہوتی ہیں اور پھر کروڑوں سال تک تقریباً ویسی ہی رہتی ہیں (اسے Stasis کہتے ہیں)۔
  • کیمبرین دھماکہ (The Cambrian Explosion): زمین کی تاریخ میں ایک ایسا دور گزرا ہے (تقریباً 530 ملین سال پہلے) جہاں زندگی کی بڑی بڑی اور پیچیدہ اقسام اچانک، بغیر کسی واضح پیشرو کے، فوسل ریکارڈ میں نمودار ہو گئیں۔ ارتقاء کے پاس اس "حیاتیاتی بگ بینگ" کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے کہ اتنے کم وقت میں اتنی پیچیدگی اچانک کیسے آ گئی؟

مشہور ارتقاء پسند سائنسدان سٹیفن جے گولڈ (Stephen Jay Gould) نے اعتراف کیا تھا کہ فوسل ریکارڈ میں درمیانی کڑیوں کی انتہائی کمی ارتقائی نظریے کے لیے ایک "تجارتی راز" کی حیثیت رکھتی ہے۔

2۔ ڈی این اے (DNA) کا معمہ: معلومات (Information) کہاں سے آئیں؟

جدید سائنس کا سب سے بڑا چیلنج "زندگی کی ابتدا" (Origin of Life) ہے۔ ڈارون کے زمانے میں خلیے (Cell) کو ایک سادہ جیلی کا قطرہ سمجھا جاتا تھا، لیکن آج ہم جانتے ہیں کہ ایک خلیہ کسی بھی جدید فیکٹری سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

اس پیچیدگی کا مرکز DNA ہے۔ یہ زندگی کا سافٹ ویئر ہے، ایک ڈیجیٹل کوڈ جس میں جاندار بنانے کی اربوں حروف پر مشتمل ہدایات موجود ہیں۔

سوال یہ ہے: سائنس اور منطق کا بنیادی اصول ہے کہ "معلومات" (Information) اور "کوڈ" ہمیشہ ایک "ذہین ماخذ" (Intelligent Source) سے آتے ہیں۔ اگر آپ ساحل سمندر پر ریت پر لکھا دیکھیں "Welcome Home"، تو آپ کبھی یہ نہیں سوچیں گے کہ لہروں کے ٹکرانے سے اتفاقاً یہ لکھا گیا ہے۔ آپ فوراً سمجھ جائیں گے کہ یہ کسی ذہین ہستی (انسان) نے لکھا ہے۔

تو پھر ہم یہ کیسے مان لیں کہ DNA کے اندر موجود اربوں جی بی (GB) ڈیٹا پر مشتمل انتہائی پیچیدہ معلومات محض بے جان کیمیائی مادوں کے اندھے ٹکراؤ کا نتیجہ ہیں؟ مادے سے معلومات کبھی خود بخود پیدا نہیں ہو سکتیں۔

بل گیٹس (Bill Gates) نے کہا تھا: "DNA ایک کمپیوٹر پروگرام کی طرح ہے، لیکن اب تک کے بنائے گئے کسی بھی سافٹ ویئر سے کہیں زیادہ جدید اور پیچیدہ۔" اور ہم جانتے ہیں کہ پروگرام خود بخود نہیں لکھے جاتے۔

 
ایک خوردبینی موٹر (Bacterial Flagellum) کی تفصیلی گرافک تصویر جو حیاتیاتی نظام کی ڈیزائن شدہ پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہے


3۔ ناقابلِ تخفیف پیچیدگی (Irreducible Complexity): ڈارون کے لیے ایک چیلنج

ڈارون نے لکھا تھا: "اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کوئی ایسا پیچیدہ عضو موجود ہے جو بے شمار چھوٹی چھوٹی، بتدریج تبدیلیوں سے نہیں بن سکتا، تو میرا نظریہ مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔"

جدید بائیو کیمسٹری نے ایسے بے شمار سسٹمز دریافت کر لیے ہیں جو "ناقابلِ تخفیف پیچیدگی" کا ثبوت ہیں۔

یہ کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے ایک ایسا سسٹم جس کے کئی حصے ہوں اور وہ سب مل کر کام کریں، اور اگر ان میں سے ایک اہم حصہ بھی نکال دیا جائے تو پورا سسٹم ناکارہ ہو جائے۔ (مثال کے طور پر چوہے دانی، جس کے تمام حصے بیک وقت ضروری ہیں)۔

حیاتیاتی مثال: بیکٹیریا کا فلیجلم (Bacterial Flagellum)۔ یہ ایک خوردبینی موٹر ہے جو بیکٹیریا کو حرکت دیتی ہے۔ اس میں روٹر، سٹیٹر، شافٹ، اور پروپیلر جیسے 40 کے قریب پروٹین پارٹس ہوتے ہیں۔ اگر یہ سب حصے بیک وقت موجود نہ ہوں، تو یہ موٹر کام نہیں کرتی۔

ارتقاء کا "اندھا عمل" اس موٹر کو بتدریج کیسے بنا سکتا ہے؟ کیونکہ جب تک یہ موٹر 100 فیصد مکمل تیار نہیں ہو جاتی، اس کا آدھا ادھورا حصہ جاندار کے کسی کام کا نہیں، اور قدرتی انتخاب بیکار چیزوں کو ختم کر دیتا ہے۔

یہ پیچیدگی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اسے "ڈیزائن" کیا گیا ہے۔

4۔ مائیکرو بمقابلہ میکرو: سائنس کے نام پر دھوکہ (The Bait and Switch)

ارتقاء کے حامی اکثر نصابی کتابوں میں ایک دھوکہ دہی سے کام لیتے ہیں۔ وہ چھوٹی تبدیلیوں (Microevolution) کو بڑی تبدیلیوں (Macroevolution) کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

  • مائیکرو ایوولوشن (حقیقت): ایک ہی نوع (Species) کے اندر چھوٹی موٹی تبدیلیاں۔ مثلاً کتوں کی مختلف نسلیں، یا بیکٹیریا کا دواؤں کے خلاف مزاحمت پیدا کر لینا۔ یہ ماحول کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت ہے جو پہلے سے موجود جینیاتی معلومات کے اندر رہتے ہوئے ہوتی ہے۔ یہ سائنس ہے۔
  • میکرو ایوولوشن (مفروضہ): یہ دعویٰ کہ ان چھوٹی تبدیلیوں کے جمع ہونے سے ایک نوع مکمل طور پر دوسری نئی نوع میں بدل جاتی ہے (مثلاً مچھلی کا رینگنے والا جانور بن جانا)۔ یہ کبھی مشاہدے میں نہیں آیا۔

سائنسدان پہلی قسم کے مشاہدات (کتوں کی نسلوں) کو دکھا کر طلباء کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ دوسری قسم کا دعویٰ (انسان کا جانور سے بننا) بھی سچ ہے۔ یہ ایک منطقی غلطی ہے۔ چھوٹی تبدیلیاں کبھی بھی کوئی "نئی جینیاتی معلومات" پیدا نہیں کرتیں، وہ صرف موجودہ معلومات میں ردوبدل کرتی ہیں۔

نتیجہ: اگر ثبوت اتنے کمزور ہیں تو یہ نظریہ حاوی کیوں ہے؟

یہ سب سے اہم سوال ہے۔ جب اتنے بڑے سائنسی خلا موجود ہیں، تو سائنسی برادری اس نظریے سے چمٹی کیوں ہوئی ہے؟

اس کا جواب "سائنس" میں نہیں بلکہ "فلسفے" میں ہے۔ جدید سائنس پر گزشتہ دو صدیوں سے "مادیت پرستی" (Materialism/Naturalism) کا فلسفہ حاوی ہے۔ یہ فلسفہ پہلے ہی طے کر چکا ہے کہ کائنات میں ہر چیز کی وضاحت صرف اور صرف مادے اور قدرتی اسباب کے ذریعے ہی کی جائے گی، اور کسی بھی "خالق" یا "ڈیزائنر" کے تصور کو سائنس کے دروازے کے باہر رکھا جائے گا۔

جب آپ "ذہین ڈیزائن" (Intelligent Design) کے امکان کو پہلے ہی مسترد کر دیں، تو پھر آپ کے پاس زندگی کی پیچیدگی کی وضاحت کے لیے "اندھے ارتقاء" کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا، چاہے اس کے ثبوت کتنے ہی بودے کیوں نہ ہوں۔

مشہور ارتقاء پسند سائنسدان رچرڈ لیونٹن (Richard Lewontin) نے کھل کر اس تعصب کا اعتراف کیا تھا کہ ہم ارتقاء کی بے سروپا کہانیوں کو اس لیے قبول کرتے ہیں کیونکہ "ہمارا مادیت پرستی کے ساتھ ایک بنیادی عہد ہے... ہم کسی 'خدا' کو سائنس کے دروازے میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔"

حرفِ آخر:

نظریہ ارتقاء کوئی ثابت شدہ سائنسی قانون (جیسے کشش ثقل کا قانون) نہیں ہے۔ یہ ماضی کے بارے میں ایک "تاریخی مفروضہ" ہے جو ایک خاص فلسفے (الحاد/مادیت پرستی) کو سہارا دینے کے لیے زندہ رکھا گیا ہے۔ حقیقی سائنس کا تقاضا ہے کہ ہم شواہد کا تعصب کے بغیر جائزہ لیں، اور اگر شواہد (DNA کا کوڈ، خلیے کی پیچیدگی، فوسلز کا ریکارڈ) ایک "عظیم اور علیم ڈیزائنر" کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، تو اسے تسلیم کرنے کی علمی جرات پیدا کریں۔

یہ کائنات اندھے حادثات کا کھیل نہیں، بلکہ ایک زبردست حکمت اور ڈیزائن کا شاہکار ہے، جس کا ہر ذرہ اپنے خالق کی گواہی دے رہا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب۔


حوالہ جات:

[1] چارلس ڈارون، "On the Origin of Species" (1859)
[2] سٹیفن جے گولڈ، "The Structure of Evolutionary Theory"
[3] بل گیٹس، "The Road Ahead" (1995)
[4] مائیکل بیہے، "Darwin's Black Box: The Biochemical Challenge to Evolution"
[5] رچرڈ لیونٹن، "Billions and Billions of Demons" (1997)

#TheoryOfEvolution #Darwinism #IntelligentDesign #ScienceVsDogma #Creation #DNA #FossilRecord #TruthAboutEvolution #سائنس #ارتقاء #نظریہ_ارتقا #تنقیدی_جائزہ #حقائق #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال