کیا ذوالقرنین نے سورج کو زمین کے چشمے میں ڈوبتے دیکھا تھا یا خلائی بلیک ہول میں؟
(سورۃ الکہف کے سائنسی مطالعے کے نام پر پھیلائے جانے والے جدید نظریات، خصوصاً "نظریہ بلیک ہول" کا قرآن، حدیث، لغت اور عقلِ سلیم کی روشنی میں ایک تفصیلی اور تحقیقی جائزہ)
مقدمہ
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!
دورِ حاضر میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی محیر العقول ترقی نے انسان کو کائنات کے ان سربستہ رازوں میں جھانکنے کا موقع فراہم کیا ہے جو صدیوں سے پردۂ غیب میں تھے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ پختہ ایمان ہے کہ قرآن مجید اللہ کا آخری اور لاریب کلام ہے، اور کائنات کی کوئی بھی دریافت شدہ "حقیقت" (Proven Fact) قرآن کے خلاف نہیں ہو سکتی۔
ہمارے پراجیکٹ "سائنس قرآن کے حضور میں" کا مقصد ہی یہی ہے کہ جدید سائنسی دریافتوں کو قرآن کے تابع کر کے سمجھا جائے، نہ کہ قرآن کو بدلتی ہوئی سائنسی تھیوریوں کے تابع کیا جائے۔
حال ہی میں، ہماری ایک تحریر بعنوان "ذوالقرنین کا سفر: زمینی حقیقت یا خلائی افسانہ؟" سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آئی۔ اس تحریر کا پس منظر دورِ حاضر کے بعض مقبول مقررین، بالخصوص جناب ساحل عدیم صاحب اور ان کے متاثرین کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ نظریہ تھا کہ سورۃ الکہف میں مذکور حضرت ذوالقرنین کا سفر اس زمین پر نہیں بلکہ خلا میں ہوا تھا، اور انہوں نے جس "کیچڑ والے چشمے" (عَيْنٍ حَمِئَةٍ) میں سورج کو غروب ہوتے دیکھا، وہ درحقیقت ایک "بلیک ہول" (Black Hole) تھا جو سورج کو نگل رہا تھا۔
اس نظریے کے حق میں سوشل میڈیا پر بہت سے احباب نے تبصرے کیے، اعتراضات اٹھائے اور اپنی "تحقیقات" پیش کیں۔ چونکہ یہ معاملہ قرآن مجید کی آیات کی تفسیر اور فہم کا ہے، اس لیے ہم نے ضروری سمجھا کہ ان تمام اعتراضات کو یکجا کر کے، قرآن و سنت، عربی لغت اور ٹھوس علمی دلائل کی روشنی میں ایک مفصل اور فیصلہ کن جواب تحریر کیا جائے، تاکہ حق واضح ہو سکے اور قرآن کے نام پر پھیلائی جانے والی "سائنس فکشن" کا سدِ باب ہو سکے۔
ذیل میں ہم ان تمام اہم اعتراضات کا نمبر وار تفصیلی جائزہ پیش کر رہے ہیں۔
بنیادی اصول: تحقیق کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟
اعتراضات کے جوابات سے پہلے ایک بنیادی اصول سمجھنا ضروری ہے جس پر ہماری ساری بحث کی عمارت کھڑی ہے۔
بعض احباب (جیسے محترمہ وجیہ گل صاحبہ اور شہزاد احمد صاحب) کی جانب سے یہ رویہ سامنے آیا کہ "ایمان کے بعد تحقیق کی ضرورت نہیں"، یا یہ کہ "جو شخص منطق (Logic) پیش کر رہا ہے اسے مان لینا چاہیے، چاہے وہ قرآن کے ظاہر کے خلاف ہی کیوں نہ ہو"۔
ہمارا مؤقف:
1. قرآن بنیاد ہے، سائنس تابع ہے: تحقیق کا دروازہ کھلا ہے، لیکن تحقیق کی بنیاد وحیِ الٰہی (قرآن و سنت کی قطعی نصوص) پر ہونی چاہیے۔ ہماری بدقسمتی تب شروع ہوتی ہے جب ہم اپنی محدود اور بدلتی ہوئی سائنسی معلومات (Theories) کو حتمی مان کر قرآن کی اٹل آیات کو اس کے مطابق توڑنے مروڑنے (تأویل و تحریف) کی کوشش کرتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ سائنس کو قرآن کے تابع رکھا جائے، کیونکہ خالق کا کلام مخلوق کی تحقیق سے ہمیشہ برتر ہے۔
2. عربی لغت کی اہمیت: قرآن عربی زبان میں نازل ہوا۔ کسی بھی لفظ کا مفہوم طے کرنے کے لیے سب سے پہلے مستند عربی لغت اور اس دور کے محاورے کو دیکھا جائے گا۔ ہم آج کی سائنسی اصطلاحات کو زبردستی 1400 سال پرانے عربی الفاظ پر تھوپ نہیں سکتے۔
آئیے اب ان اصولوں کی روشنی میں اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں۔
حصہ اول: کیا ذوالقرنین کا سفر زمین پر تھا یا خلا میں؟
اس پورے نظریے کا مرکزی نقطہ یہ دعویٰ ہے کہ ذوالقرنین زمین کے بجائے خلا میں سفر کر رہے تھے۔ اس دعوے کے حق میں مختلف دلائل دیے گئے ہیں، جن کا ہم آپریشن کرتے ہیں۔
اعتراض نمبر 1: "کیچڑ والے چشمے" میں سورج کا ڈوبنا زمین پر ممکن نہیں، یہ کوئی خلائی واقعہ ہی ہو سکتا ہے۔
بعض "محققین" (جیسے رائے اکمل صاحب) کا اصرار ہے کہ قرآن نے کہا سورج کیچڑ میں ڈوب گیا، اور چونکہ زمین پر سورج کسی جھیل میں نہیں گھس سکتا، لہٰذا یہ ضرور "بلیک ہول" کا ذکر ہے جو ستاروں کو نگل لیتا ہے۔
الجواب:
یہ اعتراض قرآن کے اسلوبِ بیان اور عربی زبان سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔
قرآن کے الفاظ پر غور کریں: قرآن یہ نہیں کہہ رہا کہ "سورج حقیقت میں زمین کے اندر کسی چشمے میں گھس گیا"۔ قرآن کے الفاظ ہیں:
حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ...
(سورۃ الکہف: 86) ترجمہ: "یہاں تک کہ جب وہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچ گیا تو اس نے اُسے ایک کیچڑ والے چشمے میں ڈوبتے ہوئے پایا/دیکھا (Wajadaha)..."
مشاہداتی بیان (Observational Perspective): یہاں لفظ "وَجَدَهَا" (اس نے اسے پایا/دیکھا) کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک "دیکھنے والے کا مشاہدہ" بیان ہو رہا ہے۔
مثال: آج بھی اکیسویں صدی کا ایک سائنسدان جب ساحلِ سمندر پر کھڑا ہو کر غروبِ آفتاب کا منظر دیکھتا ہے تو وہ عام زبان میں یہی کہتا ہے کہ "سورج سمندر میں ڈوب رہا ہے"۔ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ سورج سمندر میں نہیں جا رہا، بلکہ زمین کی گردش کی وجہ سے نظروں سے اوجھل ہو رہا ہے۔ قرآن نے بالکل یہی فطری اندازِ بیان اختیار کیا ہے۔
تاریخی و جغرافیائی سیاق: مفسرین (مثلاً ابن کثیرؒ) کے نزدیک ذوالقرنین خشکی کے مغربی آخری سرے پر پہنچے تھے (غالباً بحرِ اوقیانوس یا بحیرہ اسود کا کوئی کنارہ)۔ وہاں شام کے وقت انہیں ایسا منظر دکھائی دیا کہ سورج افق پر موجود پانی میں اتر رہا ہے، اور ساحل کی مٹی کی وجہ سے وہ پانی گدلا یا کیچڑ والا (حَمِئَةٍ) نظر آ رہا تھا۔
اس سیدھے سادے زمینی مشاہدے کو "بلیک ہول" قرار دینا قرآن فہمی نہیں بلکہ "سائنس فکشن" ہے۔
اعتراض نمبر 2: یہ سفر "بلیک ہول" کا تھا کیونکہ زمین پر ایسی کوئی جگہ نہیں۔ (سب سے اہم نکتے کا جواب)
یہ وہ دلیل ہے جو اس پورے خلائی نظریے کی جڑ کاٹ دیتی ہے، لیکن افسوس کہ بلیک ہول تھیوری کے حامی اس پر غور نہیں کرتے۔
الجواب:
ذوالقرنین کا خلا یا بلیک ہول تک جانے کا دعویٰ خود قرآن کی صریح آیات سے ٹکراتا ہے۔ ہمارے پاس اس کے دو قطعی قرآنی ثبوت ہیں:
قرآنی دلیل نمبر 1: زمین پر اقتدار
واقعے کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کے اقتدار کا دائرہ کار واضح کر دیا:
إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا
(سورۃ الکہف: 84) ترجمہ: "بے شک ہم نے اسے زمین میں (فی الارض) اقتدار/جماؤ عطا کیا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب دیے تھے۔"
قرآن واضح کر رہا ہے کہ ان کا میدانِ عمل "یہ زمین" (The Earth) تھی، نہ کہ خلا، دوسرے سیارے یا بلیک ہولز۔ جو لوگ اسے خلا کا سفر کہتے ہیں، وہ درحقیقت قرآن کے لفظ "فِي الْأَرْضِ" کا انکار کر رہے ہیں۔
قرآنی دلیل نمبر 2: وہاں لوگ آباد تھے (سب سے بڑا تضاد)
جب ذوالقرنین اس "مغربِ شمس" (جہاں سورج ڈوبتا نظر آیا) کے مقام پر پہنچے، تو وہاں کیا تھا؟
"...وَوَجَدَ عِندَهَا قَوْمًا" (سورۃ الکہف: 86)
ترجمہ: "...اور اس نے وہاں (اس چشمے کے پاس) ایک قوم کو پایا۔"
اللہ نے ذوالقرنین کو اختیار دیا کہ چاہو تو اس قوم کو سزا دو اور چاہو تو ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو۔
سوال: اگر وہ مقام ایک "بلیک ہول" تھا (جو بقول ان کے سورج کو نگل رہا تھا)، تو کیا بلیک ہول کے کنارے کوئی انسانی قوم آباد تھی؟ کیا بلیک ہول کی ایونٹ ہورائزن (Event Horizon) پر بستیاں قائم تھیں جن پر ذوالقرنین کو حکمرانی کا اختیار دیا جا رہا تھا؟
یہ ایک ایسا مضحکہ خیز تضاد ہے جس کا جواب اس نظریے کے حامیوں کے پاس نہیں ہے۔ یہ آیت گواہی دے رہی ہے کہ وہ جگہ اسی زمین کا کوئی آباد خطہ تھا جہاں انسان بستے تھے۔
اعتراض نمبر 3: اللہ نے انہیں "ہر چیز کے اسباب" دیے تھے، تو کیا وہ خلائی سفر نہیں کر سکتے تھے؟
بعض احباب کہتے ہیں کہ آیت میں "وَآتَيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا" (ہم نے اسے ہر چیز کا سبب/ذریعہ دیا تھا) کا مطلب ہے کہ انہیں ایسی ایڈوانس ٹیکنالوجی ملی تھی جس سے وہ خلا میں جا سکیں۔
الجواب:
یہ قرآن کی آیت کو اس کے سیاق و سباق سے کاٹ کر اپنی مرضی کا معنی پہنانا ہے۔
اسباب کا مفہوم: "ہر چیز کے اسباب" سے مراد اس زمانے کے لحاظ سے زمین پر ایک عظیم ترین اور عالمی سلطنت قائم کرنے کے لیے درکار تمام وسائل ہیں۔ جیسے بے پناہ افرادی قوت، طاقتور فوج، بہترین سواریاں، جدید ترین انجینئرنگ (جس سے انہوں نے سدِ یاجوج ماجوج بنائی)، جہاز رانی اور مختلف زبانوں کا علم وغیرہ۔
مبالغہ آرائی سے گریز: اس کا یہ مطلب نکالنا کہ انہیں "ٹائم ٹریول"، "وارپ ڈرائیو" یا "اسپیس شپ" کی ٹیکنالوجی مل گئی تھی، یہ قرآن کے سنجیدہ بیان کو ایک افسانوی داستان میں بدلنے کے مترادف ہے۔ قرآن ہدایت کی کتاب ہے، اس میں انبیاء اور نیک بادشاہوں کے واقعات تاریخی حقائق کے طور پر بیان ہوئے ہیں، نہ کہ مافوق الفطرت سائنس فکشن کے طور پر۔ اگر اللہ نے انہیں خلا میں بھیجا ہوتا تو قرآن اتنی بڑی نشانی کو واضح الفاظ میں بیان کرتا، نہ کہ مبہم اشاروں میں۔
حصہ دوم: "بلیک ہول تھیوری" کے حامیوں کی مخصوص غلط فہمیوں اور تضادات کا رد
سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث میں کچھ مخصوص اعتراضات اور عجیب و غریب نظریات سامنے آئے، جن کا علمی پوسٹ مارٹم ضروری ہے۔
اعتراض نمبر 4: "عین حمئہ" کا مطلب بلیک ہول ہے، چشمہ یا سمندر نہیں۔
ایک خود ساختہ محقق (رائے اکمل صاحب) نے دعویٰ کیا کہ قرآن میں کہیں سمندر یا جھیل کا ذکر نہیں، بلکہ "کالے گرم کیچڑ" کا ذکر ہے، اور "بلیک ہول کا کام ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ سیاروں کو ڈوباتا ہے"۔
الجواب: لغوی جہالت اور سائنسی تضاد
عربی لغت کا فیصلہ: یہ دعویٰ عربی زبان سے مکمل جہالت کا ثبوت ہے۔
لفظ "عَيْن" (جو قرآن نے استعمال کیا ہے) عربی میں پانی کے چشمے، سوتِے، اور بڑی جھیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ سمندر کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔
لفظ "حَمِئَةٍ" کا مطلب ہے "سیاہ رنگ کا کیچڑ یا گارا"۔
لہٰذا "عَيْنٍ حَمِئَةٍ" کا سیدھا سادا لغوی مطلب ہے "کیچڑ والا چشمہ/جھیل/سمندر"۔ اس کا ترجمہ "بلیک ہول" کرنا قرآن کے الفاظ کی بدترین تحریف ہے۔
بلیک ہول کی سائنسی حقیقت: بلیک ہول کوئی "کیچڑ" نہیں ہوتا۔ وہ زمان و مکان (Space-time) میں ایک ایسی شدید کشش ثقل والا مقام ہوتا ہے جہاں سے روشنی بھی واپس نہیں آ سکتی۔ اسے "گرم کیچڑ" کہنا سائنسی اعتبار سے بھی لطیفہ ہے۔
اعتراض نمبر 5: بلیک ہول تھیوری کا سب سے بڑا منطقی اور سائنسی تضاد (ایک چیلنج)
یہ نقطہ اس پورے نظریے کے تابوت میں آخری کیل کی حیثیت رکھتا ہے۔
بلیک ہول تھیوری کے حامی (جیسے رائے اکمل صاحب) کہتے ہیں:
1. ذوالقرنین نے پہلا سفر ایک ایسے سیارے پر کیا جہاں وہ اپنی آنکھوں سے "سورج کو بلیک ہول میں ڈوبتے/ختم ہوتے ہوئے" دیکھ رہے تھے۔
2. پھر اگلا سفر انہوں نے ایک ایسے سیارے پر کیا جہاں "اوزون لیئر نہیں تھی" (قرآن کے الفاظ: لَّمْ نَجْعَل لَّهُم مِّن دُونِهَا سِتْرًا)، اور وہاں وہ سورج کی دھوپ سے بچنے کے لیے جلدی واپس آ گئے کیونکہ وہ انہیں نقصان پہنچا سکتی تھی۔
الجواب: عقل کو دنگ کر دینے والا تضاد
ذرا اس "منطق" پر غور کریں:
سائنسی حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی بلیک ہول اتنا قریب ہو کہ وہ سورج جیسے ستارے کو نگل رہا ہو، تو اس کی قیامت خیز گریویٹی (Gravity) اور اس سے نکلنے والی ایکس ریز اور گاما ریز کی تابکاری (Radiation) آس پاس کے پورے نظام کو، بشمول ذوالقرنین اور ان کی فوج کے، لمحوں میں بھسم کر دے گی۔ لیکن اس خلائی کہانی میں وہ وہاں مزے سے کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں اور بلیک ہول انہیں کچھ نہیں کہہ رہا!
پھر اگلے ہی لمحے، وہی ذوالقرنین جو "بلیک ہول کی تباہ کن تابکاری" کے سامنے کھڑے ہو کر بچ گئے تھے، وہ اب دوسرے سیارے پر "اوزون لیئر نہ ہونے کی وجہ سے سورج کی عام دھوپ" سے ڈر کر بھاگ گئے؟
یہ کیسی بچگانہ اور متضاد باتیں ہیں؟ کیا ایک عقل مند انسان ایسی کہانی پر یقین کر سکتا ہے؟ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ یہ نظریہ نہ صرف قرآن کے خلاف ہے بلکہ بنیادی سائنسی شعور اور منطق سے بھی عاری ہے۔
اعتراض نمبر 6: کیا سورج ہر 17 ارب سال بعد مر کر بلیک ہول بنتا ہے؟
ایک اور صاحب نے اپنی "کیلکولیشن" پیش کی کہ "ہر 17.78 ارب سال بعد سورج اور ستارے پیدا ہوتے ہیں... سورج کا بلیک ہول میں داخل ہونا مغرب ہے اور نکلنا مشرق ہے۔"
الجواب:
یہ نظریہ سائنسی، لغوی اور اسلامی تینوں اعتبار سے غلط ہے۔
سائنسی غلطی: جدید ایسٹروفزکس (Astrophysics) کے مطابق ہمارے سورج کی کل متوقع عمر تقریباً 10 ارب سال ہے۔ یہ اس وقت تقریباً 4.6 ارب سال کا ہو چکا ہے۔ مزید یہ کہ سائنس کے مطابق ہمارا سورج اتنا بڑا نہیں ہے کہ وہ مر کر "بلیک ہول" بنے۔ یہ اپنی عمر پوری کر کے پہلے ایک پھیلا ہوا "سرخ دیو" (Red Giant) بنے گا اور آخرکار سکڑ کر ایک "سفید بونا" (White Dwarf) ستارہ بن جائے گا۔ ستارے بلیک ہول سے "نکلتے" نہیں ہیں، اور نہ ہی یہ کوئی دروازہ ہے۔
لغوی غلطی: عربی زبان اور قرآن میں "مشرق" کا مطلب وہ سمت ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے (East)، اور "مغرب" کا مطلب وہ سمت ہے جہاں سورج غروب ہوتا ہے (West)۔ اسے بلیک ہول کے دروازے قرار دینا لغت سے مذاق ہے۔
اسلامی عقیدے کے خلاف: اسلام کا تصورِ کائنات یہ نہیں ہے کہ سورج خود بخود بار بار پیدا ہوتا اور مرتا رہے گا۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ ایک مقررہ مدت کا نظام ہے اور قیامت کے دن یہ نظام لپیٹ دیا جائے گا۔
إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ
(سورۃ التکویر: 1) ترجمہ: "جب سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی / بے نور کر دیا جائے گا"
یہ ایک حتمی انجام ہے، نہ کہ کوئی اربوں سالہ چکر۔
حصہ سوم: فکری اور منہجی مغالطوں کا جواب
علمی اور تفسیری بحث کے علاوہ، کچھ احباب نے تحقیق کے طریقہ کار اور رویوں پر بھی سوالات اٹھائے، جن کا جواب دینا ضروری ہے تاکہ صحیح فکری سمت متعین ہو سکے۔
اعتراض نمبر 7: "مجھے ایمان لانے کے بعد تحقیق کی ضرورت نہیں، میرا انسائیکلوپیڈیا صرف خدا ہے"۔ (تصوف کے نام پر علمی جمود)
جناب شہزاد احمد صاحب نے بڑے جذباتی انداز میں لکھا کہ اللہ کو ماننے کے بعد عقل اور تحقیق کی ضرورت نہیں رہتی، بس "ربا تو ہی تو" کافی ہے۔
الجواب:
یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے جو دین کو صرف جذبات تک محدود کر دیتی ہے۔
قرآن تحقیق کی دعوت دیتا ہے: اگر ایمان کے بعد غور و فکر کی ضرورت نہ ہوتی، تو قرآن مجید میں سیکڑوں بار یہ الفاظ نہ آتے: "أَفَلَا تَعْقِلُونَ" (کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟)، "أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ" (کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟)۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اپنے رب کو پہچاننے اور اس کی کائنات کو سمجھنے کے لیے دی ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی مثال: قرآن حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ انہوں نے ستاروں، چاند اور سورج کو ڈوبتا دیکھ کر غور و فکر (تحقیق) کیا اور عقل استعمال کرتے ہوئے نتیجہ نکالا کہ "جو چیز زوال پذیر ہے، وہ خدا نہیں ہو سکتی"۔ یہ واقعہ تحقیق کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
تحقیق ایمان کو مضبوط کرتی ہے: کائنات کی نشانیوں (سائنس) میں غور و فکر کرنے سے ایمان کمزور نہیں بلکہ پہاڑ کی طرح مضبوط ہوتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ہم انہیں آفاق و انفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر حق واضح ہو جائے۔ (حم السجدہ: 53)۔ لہٰذا، جذبے کے ساتھ عقل کا استعمال بھی ضروری ہے۔
اعتراض نمبر 8: "قابلیت" (Qualification) پوچھنا جہالت ہے، جو منطق پیش کرے اسے مان لو۔
محترمہ وجیہ گل صاحبہ نے اعتراض کرد کہ کسی کی قابلیت پوچھنا غلط ہے، اور ساحل عدیم صاحب منطق پیش کرتے ہیں اس لیے ان کی بات ماننی چاہیے۔
الجواب:
منطق بمقابلہ قرآن: بلاشبہ، حق بات کسی عام آدمی سے بھی قبول کی جا سکتی ہے۔ لیکن جب کوئی شخص قرآن کی صریح اور واضح آیات (جیسے "فی الارض") کے خلاف اپنی "منطق" پیش کر رہا ہو، تو پھر یہ پوچھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ اس شخص کی علمی بنیاد کیا ہے؟ کیا وہ عربی زبان اور اصولِ تفسیر سے واقف ہے؟ کیونکہ جو "منطق" قرآن کی نصِ قطعی سے ٹکرا جائے، وہ منطق نہیں، مغالطہ اور گمراہی ہوتی ہے۔
شخصیت پرستی کا خطرہ: یہ رویہ کہ "بس فلاں صاحب جو کہہ رہے ہیں وہی حتمی سچ ہے"، علمی رویہ نہیں بلکہ شخصیت پرستی (Personality Cult) ہے۔ 1400 سالہ اسلامی تاریخ کے جید ترین مفسرین (صحابةؓ سے لے کر آج تک) میں سے کسی ایک نے بھی یہ "بلیک ہول" والی منطق پیش نہیں کی۔ کیا وہ سب نعوذ باللہ کم عقل تھے؟ ہمیں شخصیات کو قرآن پر نہیں، بلکہ قرآن کو شخصیات پر ترجیح دینی چاہیے۔
اعتراض نمبر 9: اتنی جلدی کس بات کی ہے؟ ہمیں ہر چیز آج ہی کیوں سمجھنی ہے؟
یہ ایک عمومی اور اہم سوال ہے کہ اگر قرآن کی کوئی بات آج کی سائنس سے سمجھ نہیں آ رہی، تو ہم اسے زبردستی فٹ کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟
الجواب: یہ علمی تکبر ہے
یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے۔ جو لوگ بضد ہیں کہ ہمیں قرآن کی ہر بات کی سائنسی توجیہہ "آج اور ابھی" ملنی چاہیے، اور وہ بھی ہماری مرضی کے مطابق (جیسے بلیک ہول)، تو یہ رویہ درحقیقت "علمی تکبر" اور بے صبری ہے۔
سائنس سفر میں ہے: کیا 2024ء کی سائنس حرفِ آخر ہے؟ نہیں! سائنس مسلسل ارتقاء پذیر ہے۔ جو باتیں 1400 سال پہلے لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تھیں (جیسے ایمبریولوجی کے مراحل)، آج سائنس نے ان کی تصدیق کر دی ہے۔
انتظار میں حکمت: اگر ذوالقرنین کے سفر کی کچھ جزئیات یا یاجوج ماجوج کا مقام آج ہماری ٹیکنالوجی کی گرفت میں نہیں آ رہا، تو ہمیں قرآن کے الفاظ کا انکار کرنے یا ان کی تحریف کرنے کے بجائے صبر سے انتظار کرنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے مستقبل کی سائنس ان حقائق کو بے نقاب کر دے۔
ایمان کا امتحان: یہ چیزیں ہمارے ایمان بالغیب کا امتحان ہیں۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ ہمارا علم محدود ہے اور اللہ کا علم لامحدود ہے۔
خلاصہ اور نتیجہ
اس تمام تفصیلی اور تحقیقی جائزے کے بعد جو حتمی نتائج سامنے آتے ہیں وہ یہ ہیں:
1. ذوالقرنین کا سفر زمینی تھا: قرآن کے واضح الفاظ "فِي الْأَرْضِ" (زمین میں) اور وہاں "قوموں کی موجودگی" اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ ذوالقرنین کا سفر اسی سیارہ زمین پر تھا، نہ کہ خلا میں۔
2. "عین حمئہ" بلیک ہول نہیں: عربی لغت اور سیاق و سباق کے مطابق یہ "کیچڑ والا چشمہ/جھیل/سمندر" ہے، جہاں ذوالقرنین نے ساحل پر کھڑے ہو کر سورج کو غروب ہوتے دیکھا (مشاہداتی بیان)۔ اسے بلیک ہول کہنا قرآن کی تحریف ہے۔
3. بلیک ہول تھیوری سائنسی تضادات کا مجموعہ ہے: ایک طرف بلیک ہول کے سامنے کھڑے ہو کر بچ جانا اور دوسری طرف دھوپ سے ڈر کر بھاگ جانا، ایسا تضاد ہے جسے کوئی ذی شعور تسلیم نہیں کر سکتا۔
4. تحقیق کا درست منہج: ہمیں سائنس کو قرآن کے تابع رکھنا چاہیے، نہ کہ قرآن کو بدلتی ہوئی سائنسی تھیوریوں کے۔ جو "منطق" قرآن کے صریح الفاظ سے ٹکرائے، وہ مردود ہے۔
آخری گزارش:
ہم اپنے قارئین اور خصوصاً نوجوانوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کو سنجیدگی سے پڑھیں، اس کی زبان اور اسلوب کو سمجھیں، اور مستند تفاسیر سے استفادہ کریں۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ہر سنسنی خیز "نئی تھیوری" کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کریں۔ دین اور قرآن کوئی سائنس فکشن فلم نہیں، بلکہ یہ ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے، جس کی بنیاد ٹھوس حقائق پر ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن فہمی کی صحیح توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کی علمی و فکری گمراہیوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
واللہ اعلم بالصواب۔

