شہابِ ثاقب (ٹوٹتا تارا): آسمانی پتھر یا شیطانوں کے لیے کوڑا؟ قرآن، حدیث اور سائنس کا تقابلی مطالعہ
مقدمہ
رات کے اندھیرے میں اچانک آسمان پر روشنی کی ایک لکیر کھنچ جاتی ہے اور پل بھر میں غائب ہو جاتی ہے۔ ہم اسے عام زبان میں "ٹوٹتا تارا" کہتے ہیں۔ سائنس کی زبان میں یہ "میٹیور" (Meteor) ہے اور قرآن کی اصطلاح میں "شہابِ ثاقب"۔
صدیوں سے انسان اس منظر کو دیکھ کر مختلف خیالات قائم کرتا رہا ہے۔ آج ہم جدید فلکیات اور قرآن و حدیث کی مستند تعلیمات کی روشنی میں اس حقیقت کا جائزہ لیں گے کہ آیا یہ محض خلائی پتھر ہیں یا ان کا کوئی غیبی مقصد بھی ہے؟
1. سائنسی تناظر: شہابِ ثاقب کی طبعی حقیقت (The Physical Reality)
جدید فلکیات (Astronomy) نے مشاہدات اور تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ "ستارے" نہیں ٹوٹتے، بلکہ یہ نظامِ شمسی کا ملبہ ہے۔
الف) یہ کیا ہیں؟
ہماری خلا میں اربوں چھوٹے بڑے پتھر اور چٹانیں تیر رہی ہیں، جنہیں "میٹیورائڈز" (Meteoroids) کہا جاتا ہے۔ یہ دمدار ستاروں (Comets) کی چھوڑی ہوئی دھول یا ایسٹروئیڈ بیلٹ کے ٹکڑے ہوتے ہیں [1]۔
ب) روشنی کیسے پیدا ہوتی ہے؟
جب یہ خلائی ٹکڑا زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے انتہائی تیز رفتاری (کئی ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ) سے ہماری فضا (Atmosphere) میں داخل ہوتا ہے، تو ہوا کے مالیکیولز کے ساتھ شدید رگڑ اور دباؤ (Friction and Ram Pressure) پیدا ہوتا ہے۔ اس سے بے پناہ حرارت پیدا ہوتی ہے (ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ)۔ اس شدید گرمی سے وہ پتھر جل اٹھتا ہے اور چمکنے لگتا ہے [2]۔
سائنسی اعتبار سے یہ ایک خالصتاً طبعی اور کیمیائی عمل ہے جس میں خلائی مادہ زمینی فضا سے ٹکرا کر جل جاتا ہے۔
2. اسلامی تناظر: قرآن اور حدیث کی شہادت (The Scriptural Evidence)
اسلام ہمیں کائنات کے صرف ظاہری پہلو نہیں بتاتا، بلکہ ان چیزوں سے بھی آگاہ کرتا ہے جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں (عالمِ غیب)۔
الف) قرآن کریم کی گواہی
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح فرمایا ہے کہ آسمانِ دنیا (زمین سے قریبی آسمان) کی حفاظت کا ایک نظام موجود ہے تاکہ شیاطین اوپر جا کر فرشتوں کی باتیں نہ سن سکیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ ﴿٦﴾ وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِدٍ ﴿٧﴾ لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ ﴿٨﴾ دُحُورًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ ﴿٩﴾ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ ﴿١٠﴾
"بے شک ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی زینت سے سجایا ہے، اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ کر دیا ہے۔... مگر جو کوئی اچک کر کوئی بات سن لے تو ایک دہکتا ہوا شعلہ (شہابِ ثاقب) اس کا پیچھا کرتا ہے۔" [3]
یہاں "شہاب" سے مراد آگ کا شعلہ اور "ثاقب" سے مراد اندھیرے کو چیرنے والا ہے۔
ب) احادیثِ مبارکہ کی گواہی
نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ اقدس سے اس نظام کی وضاحت فرمائی اور زمانہ جاہلیت کے غلط عقائد کی تردید کی۔
حدیث نمبر 1 (سب سے تفصیلی روایت):
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک ستارہ ٹوٹا اور خوب روشن ہوا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: "زمانہ جاہلیت میں جب ایسے تارا ٹوٹتا تھا تو تم کیا کہتے تھے؟" صحابہ نے عرض کیا: "ہم کہتے تھے کہ آج رات کوئی بڑا آدمی پیدا ہوا ہے یا کوئی بڑا آدمی فوت ہوا ہے۔" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"یہ (ستارہ) کسی کی موت یا حیات پر نہیں ٹوٹتا۔ بلکہ ہوتا یہ ہے کہ جب ہمارا رب تبارک و تعالیٰ کسی معاملے کا فیصلہ فرماتا ہے... (تو بات فرشتوں سے ہوتی ہوئی نیچے آتی ہے) اور شیاطین چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں، پس ان پر یہ شہاب (آگ کے انگارے) پھینکے جاتے ہیں۔" [4]
حدیث نمبر 2 (چوری چھپے سننے کا عمل):
صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جب اللہ آسمان میں کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے... تو شیاطین چوری چھپے سننے کے لیے ایک دوسرے کے اوپر چڑھ جاتے ہیں... پھر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آگ کا شعلہ (شہاب) بات سننے سے پہلے ہی شیطان کو لگ جاتا ہے اور اسے جلا ڈالتا ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ شعلہ لگنے سے پہلے بات اپنے نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے۔" [5]
خلاصہ: ان مستند احادیث سے ثابت ہوا کہ یہ ٹوٹتے تارے محض اتفاقی نہیں، بلکہ اللہ کے حکم سے شیاطین کو بھگانے کے لیے "کوڑوں" یا "میزائلوں" کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
3. تقابلی جائزہ اور تطبیق: ایک حقیقت، دو زاویے
یہاں بظاہر ایک تضاد نظر آتا ہے کہ سائنس اسے "پتھر کا جلنا" کہتی ہے اور دین اسے "شیطان کے لیے کوڑا"۔ اسلامی اسکالرز اس کی بہترین تطبیق (Reconciliation) پیش کرتے ہیں:
اللہ تعالیٰ اس کائنات کا نظام "اسباب" (Causes) کے تحت چلاتا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ جسے سائنس "خلائی پتھر کا فضا میں جلنا" کہتی ہے، وہ طبعی سطح (Physical Level) پر بالکل درست مشاہدہ ہو، اور اسی طبعی واقعے کو اللہ تعالیٰ غیبی سطح (Metaphysical Level) پر شیاطین کو مار بھگانے کے لیے استعمال فرماتا ہو۔
سائنس ہمیں شہابِ ثاقب کا "مادی طریقہ کار" (Mechanism) بتاتی ہے، اور قرآن و حدیث ہمیں اس کا "غیبی مقصد" (Purpose) بتاتے ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی تردید نہیں، بلکہ تکمیل کرتے ہیں۔
ایک اہم وضاحت (Important Clarification)
یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ سائنس کے مطابق تو روزانہ لاکھوں خلائی ذرات زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں، تو کیا ہر وقت شیاطین ہی پٹ رہے ہوتے ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے یہ ضروری نہیں کہ ہر وقت نظر آنے والا شہاب کسی شیطان کو ہی لگ رہا ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ایک جاری طبعی نظام (Ongoing Physical System) ہے۔ لیکن جب کوئی شیطان اوپر جانے کی کوشش کرتا ہے، تو اسی جاری نظام میں سے کوئی شہاب اس کے لیے "کوڑا" بن جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سمندر میں لہریں ہر وقت موجود ہوتی ہیں، لیکن ان کا استعمال کبھی کسی کشتی کو چلانے کے لیے اور کبھی کسی فرعون کو غرق کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
حاصلِ کلام
شہابِ ثاقب کو دیکھ کر ایک مسلمان کی سوچ یہ ہونی چاہیے کہ یہ اللہ کی قدرت کا ایک شاہکار نظام ہے۔ یہ بیک وقت ایک حیرت انگیز فلکیاتی واقعہ بھی ہے (جس کے طبعی قوانین سائنس دریافت کر رہی ہے) اور ساتھ ہی یہ آسمانی سرحدوں کی حفاظت کا ایک غیبی پہریدار بھی ہے (جس کی خبر ہمیں صادق و مصدوق نبی ﷺ نے دی ہے)۔
[1] NASA. "Meteors & Meteorites - Overview." NASA Science System Exploration.
[2] American Meteor Society (AMS). "Meteor FAQs - What is a meteor?"
[3] القرآن الکریم: سورۃ الصافات (37)، آیات 6 تا 10۔
[4] صحیح مسلم: کتاب السلام، حدیث نمبر 2229 (ترقیم دارالسلام: 5840)۔
[5] صحیح بخاری: کتاب تفسیر القرآن، سورۃ الحجر کی تفسیر، حدیث نمبر 4701۔

