نیل آرمسٹرانگ، چاند پر اذان اور قبولِ اسلام کا دعویٰ: حقیقت یا محض افسانہ؟
ایک ضروری تحقیقی جائزہ اور غلط فہمی کا ازالہ
مقدمہ:
ہم مسلمان اپنے دین سے شدید محبت کرتے ہیں اور ہماری فطری خواہش ہوتی ہے کہ دنیا کی بڑی شخصیات اسلام کی حقانیت کو تسلیم کریں۔ اسی جذبے کے تحت بسا اوقات کچھ ایسی خبریں ہمارے حلقوں میں مشہور ہو جاتی ہیں جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتیں، لیکن جذباتی لگاؤ کی وجہ سے ہم بغیر تحقیق ان پر یقین کر لیتے ہیں۔ انہی مشہور ترین واقعات میں سے ایک امریکی خلانورد "نیل آرمسٹرانگ" (چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان) کا چاند پر اذان سننا اور بعد ازاں مسلمان ہونا ہے۔ آئیے، اس دعوے کی حقیقت کا غیر جانبدارانہ اور تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔
حصہ اول: ہمارے حلقوں میں مشہور دعویٰ (The Claim)
پچھلی چار دہائیوں سے مسلم دنیا کے کئی رسائل، تقاریر اور انٹرنیٹ فورمز پر یہ واقعہ تواتر سے بیان کیا جا رہا ہے:
دعویٰ: کہا جاتا ہے کہ 1969 میں جب نیل آرمسٹرانگ "اپولو 11" مشن کے ذریعے چاند پر اترے، تو وہاں کی خاموشی میں انہیں ایک عجیب اور سریلی آواز سنائی دی جو ان کے لیے نامانوس تھی۔
واقعہ: یہ بھی کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے اس آواز کا ذکر ناسا (NASA) سے کیا لیکن اسے دبا دیا گیا۔
نتیجہ: کہانی کے مطابق، کئی سال بعد نیل آرمسٹرانگ کسی اسلامی ملک (اکثر مصر یا ملائیشیا کا ذکر آتا ہے) کے دورے پر گئے، وہاں انہوں نے مسجد سے اذان کی آواز سنی تو چونک اٹھے اور کہا کہ "یہی وہ آواز تھی جو میں نے چاند پر سنی تھی۔" اس کے بعد دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
حصہ دوم: تحقیق اور حقائق (The Reality & Investigation)
جب ہم جذبات سے ہٹ کر ٹھوس تاریخی اور دستاویزی شواہد کی روشنی میں اس دعوے کی تحقیق کرتے ہیں، تو حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلتی ہے۔ یہ پوری کہانی ایک بے بنیاد افسانہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔ اس کے ٹھوس ثبوت درج ذیل ہیں:
1. نیل آرمسٹرانگ کی اپنی اور سوانح نگار کی تردید:
اس کہانی کی حقیقت جاننے کے لیے سب سے اہم گواہ خود نیل آرمسٹرانگ تھے۔ ان کی زندگی کی واحد مستند اور آفیشل سوانح عمری (Authorized Biography) لکھنے والے مشہور مؤرخ "جیمز ہینسن" (James Hansen) نے اپنی کتاب "First Man" میں اس پورے واقعے کو ایک جھوٹی افواہ قرار دیا ہے۔ ہینسن لکھتے ہیں کہ آرمسٹرانگ نے بارہا اس افواہ کی سختی سے تردید کی اور واضح کیا کہ انہوں نے نہ کوئی ایسی آواز سنی اور نہ ہی اسلام قبول کیا [1]۔
جب یہ افواہ پھیلی تو دنیا بھر سے مسلمانوں نے انہیں خطوط لکھے۔ آرمسٹرانگ نے کئی خطوط کے جواب میں واضح لکھا کہ: "میں نے چاند پر ایسی کوئی آواز نہیں سنی اور نہ ہی میں نے اسلام قبول کیا ہے۔" [1]
2. ناسا کی ریکارڈنگز (NASA Transcripts):
اپولو 11 مشن کا ایک ایک لمحہ ریکارڈ پر ہے۔ چاند پر خلانوردوں اور زمین پر کنٹرول سینٹر کے درمیان ہونے والی تمام گفتگو کی آڈیو اور تحریری ریکارڈنگ (Transcripts) عوامی طور پر موجود ہیں۔ ان ہزاروں گھنٹوں کی آفیشل ریکارڈنگ میں کہیں بھی اذان یا کسی نامانوس آواز کا کوئی ذکر نہیں ملتا، صرف تکنیکی گفتگو اور خلا کا شور (Static) موجود ہے [2]۔
3. امریکی محکمہ خارجہ کی وضاحت:
1980 کی دہائی میں یہ افواہ اسلامی ممالک (خصوصاً انڈونیشیا اور ملائیشیا) میں اتنی پھیل گئی کہ امریکی محکمہ خارجہ (US State Department) کو اپنے سفارت خانوں کے ذریعے باضابطہ وضاحتیں جاری کرنی پڑیں کہ یہ خبر جھوٹی ہے، تاکہ لوگوں کو غلط فہمی سے بچایا جا سکے [3]۔
4. آرمسٹرانگ کا مذہب:
نیل آرمسٹرانگ اپنی وفات (2012) تک اپنے آبائی مذہب (جو کہ عیسائیت سے متاثر ایک عقیدہ Deism تھا) سے وابستہ رہے اور ان کی آخری رسومات بھی اسی مطابق ادا کی گئیں، اسلامی طریقے سے نہیں [1]۔
حصہ سوم: رد اور خلاصہ (Refutation & Conclusion)
رد: مذکورہ بالا تمام ٹھوس دستاویزی شواہد کی روشنی میں، نیل آرمسٹرانگ کے چاند پر اذان سننے اور مسلمان ہونے کا دعویٰ مکمل طور پر غلط، من گھڑت اور بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔ یہ ایک "شہری افسانہ" (Urban Legend) ہے جس نے مسلمانوں کے سادہ جذبات کا سہارا لے کر شہرت پائی۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اسلام ایک سچا دین ہے اور یہ اللہ کا آخری پیغام ہے۔ اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے ہمیں کسی خلانورد کی جھوٹی گواہی یا من گھڑت کہانیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن کریم نے ہمیں تحقیق کا حکم دیا ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا..."
(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو...) — [سورۃ الحجرات: 6]
ایسی جھوٹی خبریں پھیلانا نہ صرف تحقیق کے اسلامی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے غیر مسلموں کے سامنے ہماری اور ہمارے دین کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ مسلمان ایک ثابت شدہ جھوٹ کو سچ مان کر بیٹھے ہیں، تو وہ دین کی اصل دعوت کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کا شکار ہوتے ہیں۔ لہٰذا، اس پوسٹ کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس بے بنیاد قصے کو مزید پھیلانے سے رکیں اور دین کی دعوت سچائی اور حکمت کی بنیاد پر دیں، نہ کہ افسانوں کی بنیاد پر۔
حوالہ جات و ذرائع (References & Sources):
- Hansen, James R. First Man: The Life of Neil A. Armstrong. Simon & Schuster, 2005/2018. (See section addressing rumors of conversion).
- NASA. "Apollo 11 Flight Journal - Complete Transcripts and Audio." National Aeronautics and Space Administration History Division. (Publicly available official mission records).
- Associated Press (AP) Report. "Armstrong Claims Dismissed." (Reporting on US State Department's clarification to embassies in Southeast Asia regarding the false rumors), e.g., published in The Spokesman-Review, March 16, 1983.
#نیل_آرمسٹرانگ #چاند_پر_اذان #تحقیق #حقائق #غلط_فہمی_کا_ازالہ #اسلام_اور_سائنس #ایمان_اور_عقل #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #NeilArmstrong #FactCheck #MoonMission #IslamAndScience
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

