⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

العنکبوت: مادی مضبوطی اور سماجی کمزوری کا قرآنی و سائنسی تجزیہ

 

ایک خوردبینی مشاہدہ جو مکڑی کے ریشم کی مادی مضبوطی اور اس کے بنے ہوئے جالے کی ظاہری ساخت کو ظاہر کرتا ہے

العنکبوت: مادی مضبوطی اور سماجی کمزوری کا قرآنی و سائنسی تجزیہ

1۔ تعارف

کائنات کا خالق جب بھی قرآنِ حکیم میں کسی حقیر سی مخلوق کی مثال دیتا ہے، تو اس کے پیچھے علم و حکمت کے وسیع سمندر چھپے ہوتے ہیں۔ سورہ العنکبوت کی آیت نمبر 41 میں اللہ تعالیٰ نے باطل سہاروں اور جھوٹے خداؤں پر بھروسہ کرنے والوں کی مثال "مکڑی کے گھر" سے دی ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ تشبیہ معلوم ہوتی ہے، لیکن جب ہم 21ویں صدی کی مٹیریل سائنس اور حشراتی عمرانیات (Entomology) کی روشنی میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں، تو مادی طاقت اور سماجی ناپائیداری کے وہ لرزہ خیز حقائق سامنے آتے ہیں جو چودہ سو سال قبل انسانی وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔

2۔ قرآنی اعجاز اور لسانی باریکیاں

مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا ۖ وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ ۖ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

ترجمہ: "ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا (دوسرے) سرپرست بنا رکھے ہیں، مکڑی کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا، اور بے شک سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا ہے، کاش وہ جانتے۔" — (سورہ العنکبوت: 41) [1]

یہاں لفظ "اتَّخَذَتْ" غور طلب ہے، جو کہ عربی زبان میں مؤنث (Female) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ صدیوں تک اسے محض ایک لسانی اسلوب سمجھا گیا، مگر جدید بیالوجی نے ثابت کیا کہ جالا بننے، گھر کی تعمیر کرنے اور شکار پھنسانے کا تمام تر پیچیدہ کام صرف "مادہ مکڑی" (Female Spider) ہی انجام دیتی ہے۔ نر مکڑی کے پاس وہ غدود ہی نہیں ہوتے جو اس معیار کا ریشہ تیار کر سکیں [2]۔ قرآن کے ایک ایک لفظ کی سائنسی درستی خالقِ کائنات کے کلام ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

3۔ مکڑی کا ریشم: جدید سائنس کا حیرت انگیز انکشاف

سائنس کی نظر میں مکڑی کا ریشہ (Spider Silk) ایک "معجزاتی مادہ" ہے۔ یہ محض ایک دھاگہ نہیں بلکہ قدرت کی تیار کردہ ایک ایسی پروٹین ہے جس کی مادی خصوصیات انسانی ایجادات کو مات دے دیتی ہیں۔

الف) اسٹیل سے زیادہ مضبوطی:
وزن اور موٹائی کے تناسب سے دیکھا جائے تو مکڑی کا ریشہ اسٹیل سے 4 سے 5 گنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ یعنی اگر ایک ہی وزن کی اسٹیل کی تار اور مکڑی کے ریشم کا موازنہ کیا جائے تو ریشم کہیں زیادہ بوجھ برداشت کرے گا [3]۔

ب) نائلون سے زیادہ لچک:
یہ ریشہ نائلون سے کہیں زیادہ لچکدار ہے اور ٹوٹنے سے پہلے اپنے اصل سائز سے کئی گنا زیادہ کھنچ کر توانائی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ج) بوئنگ 747 کی علمی مثال:
طبیعیات دانوں (Physicists) کے مطابق اگر اس ریشم کی پنسل جتنی موٹی رسی بنائی جائے (تقریباً 5–8 ملی میٹر قطر)، تو یہ ریاضیاتی حساب کتاب کے مطابق ایک بوئنگ 747 جیسے دیو ہیکل طیارے کو لینڈنگ کی رفتار پر روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم، اس کے لیے رسی کا بہت طویل (تقریباً 30 کلومیٹر یا اس سے زیادہ) ہونا ضروری ہے تاکہ ریشم کی فطری لچک اپنا کام کر سکے اور طیارے کا شدید جھٹکا آہستہ آہستہ جذب (Shock Absorption) کر کے اسے بغیر ٹوٹے روک لے۔ اگرچہ عملی طور پر ایسی رسی بنانا فی الحال ناممکن ہے کیونکہ اس کے لیے لاکھوں مکڑیوں کا ریشم درکار ہوگا، مگر یہ حساب ہمیں اس مادی طاقت کا اندازہ دیتا ہے جو اللہ نے اس مخلوق میں رکھی ہے [4]۔

4۔ "اوہن البیوت": سب سے کمزور گھر کی حکمت

یہاں ایک گہرا علمی تضاد سامنے آتا ہے۔ جب ریشہ اتنا مضبوط ہے کہ طیارے کو روک لے، تو اللہ نے اسے "سب سے کمزور گھر" (اوهن البيوت) کیوں کہا؟ اس کی گہرائی میں اترنے سے ہی اصل ایمان افروز حقیقت واضح ہوتی ہے۔

پہلی وجہ: مادی ناپائیداری:
ریشہ انفرادی طور پر مضبوط ہے، مگر جالا (گھر) اجتماعی طور پر بے حد کمزور ہے۔ یہ گھر بارش کے ایک قطرے، ہوا کے ایک جھونکے یا انسانی ہاتھ کی ایک چھوٹی سی جنبش سے تتر بتر ہو جاتا ہے۔ یہ نہ سردی سے بچاتا ہے، نہ گرمی سے، اور نہ ہی کسی بڑے شکاری سے تحفظ دیتا ہے۔ یعنی جو مٹیریل انفرادی طور پر اسٹیل سے مضبوط تھا، جب اس کا "گھر" بنا تو وہ دنیا کا ناپائیدار ترین مقام بن گیا [5]۔

دوسری وجہ: سماجی اور اخلاقی کھوکھلا پن (اصل وجہ):
قرآن نے ریشے (Silk) کی نہیں، بلکہ "گھر" (Home/House) کی مثال دی ہے۔ گھر صرف دیواروں کا نام نہیں بلکہ سکون، محبت اور باہمی تحفظ کا نام ہے۔ مکڑی کا گھر اس لحاظ سے کائنات کا بدترین اور کمزور ترین گھر ہے کہ اس کی بنیاد ہی ظلم اور قتل پر ہے:

  • جنسی درندگی (Sexual Cannibalism): مکڑی کی کئی اقسام میں مادہ مکڑی ملاپ کے بعد اپنے ہی ساتھی (نر مکڑی) کو قتل کر کے کھا جاتی ہے۔ جس گھر کی بنیاد ہی شوہر کے قتل پر ہو، وہ گھر کیسے مضبوط ہو سکتا ہے؟ [6]
  • اولاد کا رویہ: بعض اقسام میں بچے پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کو ہی غذا بنا لیتے ہیں۔
  • شکار کا مرکز: یہ گھر "رہنے" کے لیے نہیں بلکہ "مارنے" کے لیے بنایا جاتا ہے۔ جو بھی اس گھر میں داخل ہوتا ہے، وہ مہمان نہیں بلکہ شکار ہوتا ہے۔

 

ایک معلوماتی گرافک جو مکڑی کے ریشم کی طاقت کا موازنہ طیارے کی لینڈنگ اور مادی خصوصیات سے کرتا ہے

5۔ ایمانی خلاصہ اور اللہ کی قدرت

اے انسان! ذرا غور کر کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مکڑی کی مثال دے کر کتنا بڑا سبق دیا ہے۔ جو لوگ اللہ کی رسی (توحید) کو چھوڑ کر دنیاوی طاقتوں، عہدوں، یا جھوٹے خداؤں کے سہارے ڈھونڈتے ہیں، ان کے سہارے مادی طور پر (ریشے کی طرح) کتنے ہی مضبوط کیوں نہ لگیں، لیکن ان کی حقیقت مکڑی کے گھر جیسی ہے۔ ان سہاروں میں نہ سکون ہے، نہ وفا ہے اور نہ ہی یہ آخرت کے کسی جھٹکے کو برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ مکڑی کا ریشہ جہاں ہمیں اللہ کی تخلیقی قدرت (Engineering) دکھاتا ہے، وہیں اس کا گھر ہمیں اپنی اوقات اور دنیا کی بے ثباتی یاد دلاتا ہے۔ یہ حقیر سی مخلوق دراصل کفر کے محلوں کو ڈھانے کے لیے ایک ایسی علمی دلیل ہے جس کی گواہی آج کی لیبارٹریاں بھی دے رہی ہیں۔


حوالہ جات (References):

  • [1] القرآن، سورہ العنکبوت، آیت نمبر 41۔
  • [2] Foelix, R. F. (2011). "Biology of Spiders". Oxford University Press.
  • [3] Gosline, J. M., et al. (1999). "The mechanical design of spider silks". Journal of Experimental Biology.
  • [4] Physics Central - American Physical Society (APS). "Spider Silk's Strength Calculations".
  • [5] ابن کثیر، "تفسیر القرآن العظیم"، سورہ العنکبوت۔
  • [6] Welke, K. W., & Schneider, J. M. (2012). "Sexual cannibalism and its implications". Behavioral Ecology and Sociobiology.

#ScienceInThePresenceOfQuran #SpiderSilk #QuranMiracles #IslamicScience #ImranKhan

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال