شہد کی مکھی: وحیِ الٰہی، فطری انجینئرنگ اور جدید سائنس کا عظیم سنگم
کائناتِ ہست و بود میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے کروڑوں مظاہر موجود ہیں، لیکن کچھ جاندار ایسے ہیں جنہیں خالقِ کائنات نے اپنی قدرت کی خاص نشانیوں کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان میں "شہد کی مکھی" (Honeybee) سرِفہرست ہے۔ قرآنِ مجید کی چودہ سو سالہ قدامت اور جدید سائنس کی جدید ترین دریافتیں جب شہد کی مکھی کے مقام پر یکجا ہوتی ہیں، تو عقلِ انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ محض ایک حشرہ (Insect) نہیں ہے، بلکہ ایک مکمل سماجی نظام، ایک ماہر انجینئر، ایک بہترین کیمیا دان اور وحیِ الٰہی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
قرآنی وحی اور جبلتِ حیوانی
قرآنِ مجید کی سورۃ النحل کی آیات 68 اور 69 اس موضوع کی بنیاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ۞ ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ
ترجمہ: "اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی (وحی کی) کہ پہاڑوں میں، اور درختوں میں اور ان چھپروں میں جو لوگ بناتے ہیں، اپنے گھر بنا۔ پھر ہر قسم کے پھلوں سے اپنی خوراک حاصل کر، پھر اپنے رب کے مقرر کردہ آسان راستوں پر چلتی رہ۔" — (سورۃ النحل: 68-69) [1]
یہاں لفظ "وحی" کا استعمال انتہائی گہرا سائنسی مفہوم رکھتا ہے۔ وحی کے لغوی معنی "خفیہ اشارہ" یا "دل میں بات ڈالنے" کے ہیں۔ حیاتیاتی اصطلاح میں اسے "Instinct" (جبلت) کہا جاتا ہے۔ شہد کی مکھی کو کسی سکول یا تربیت گاہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے پیدا ہوتے ہی معلوم ہوتا ہے کہ چھتہ کیسے بنانا ہے، رس کہاں سے لانا ہے اور ملکہ کی اطاعت کیسے کرنی ہے۔ یہ "پروگرامنگ" براہِ راست خالقِ کائنات کی طرف سے ہے [2]۔
عربی گرامر کا معجزہ اور مادہ مکھی کا کردار
قرآنِ مجید کی فصاحت کا ایک عظیم نمونہ ان آیات میں استعمال ہونے والے صیغے ہیں۔ عربی زبان میں مذکر اور مؤنث کے لیے الگ فعل استعمال ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کو مخاطب کرتے ہوئے مؤنث (Female) کے صیغے استعمال کیے ہیں:
- اتَّخِذِي (تو گھر بنا - مؤنث)
- كُلِي (تو کھا - مؤنث)
- فَاسْلُكِي (تو چل - مؤنث)
صدیوں تک انسان یہ سمجھتا رہا کہ شاید شہد کی مکھیاں مذکر ہیں یا ان کا سربراہ کوئی "بادشاہ" ہے۔ لیکن بیسویں صدی میں جب مائیکروسکوپ اور حیاتیاتی مشاہدات بڑھے، تو معلوم ہوا کہ چھتے کے تمام انتظامی امور، گھر کی تعمیر، صفائی، پہرے داری اور پھولوں سے رس چن کر شہد بنانے کا کام صرف اور صرف "ورکر مکھیاں" (Worker Bees) کرتی ہیں، جو کہ حیاتیاتی طور پر مادہ (Females) ہوتی ہیں۔ "نر" مکھیوں (Drones) کا کام صرف افزائشِ نسل تک محدود ہوتا ہے اور وہ شہد بنانے کے عمل میں حصہ نہیں لیتے [3]۔ چودہ سو سال پہلے ایک ایسی زبان میں مؤنث کا صیغہ استعمال کرنا جب انسان کو ان کی جنس کا علم تک نہ تھا، قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی قطعی دلیل ہے۔
مکینیکل انجینئرنگ: مسدس (Hexagon) ڈیزائن کا راز
شہد کی مکھی کے چھتے کی تعمیر ریاضی اور انجینئرنگ کا ایک معجزہ ہے۔ مکھیاں اپنے چھتے کے خانے ہمیشہ مسدس (Hexagonal) شکل کے بناتی ہیں۔ سائنسدانوں نے سوال اٹھایا کہ مسدس ہی کیوں؟
ریاضیاتی طور پر اگر دائرہ، مربع (Square) یا مثلث (Triangle) استعمال کی جائے تو یا تو خانوں کے درمیان جگہ خالی رہ جائے گی یا پھر دیواروں کی تعمیر میں مومی مواد (Wax) زیادہ استعمال ہوگا۔ 1999ء میں تھامس ہیلز (Thomas Hales) نے ریاضیاتی طور پر یہ ثابت کیا جسے "Honeycomb Conjecture" کہا جاتا ہے، کہ مسدس وہ واحد شکل ہے جس میں کم سے کم مومی مواد استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ شہد ذخیرہ کیا جا سکتا ہے اور یہ ڈھانچہ سب سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے [4]۔ یہ ننھی مکھی اس پیچیدہ ریاضیاتی حقیقت سے کیسے واقف ہوئی؟ یہ وہی "وحی" ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا کہ اسے پہاڑوں اور درختوں میں گھر بنانے کا طریقہ سکھا دیا گیا۔
مکھی کی اناٹومی: دو پیٹوں کی حقیقت
قرآنِ مجید میں شہد کی مکھی کے پیٹ کے لیے "بُطُونِہَا" (ان کے پیٹوں) کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو کہ جمع کا صیغہ ہے۔ جدید حیاتیات نے ثابت کیا ہے کہ شہد کی مکھی کے نظامِ ہضم میں دو الگ الگ حصے یا "پیٹ" ہوتے ہیں:
- پہلا معدہ (Food Stomach): یہاں مکھی اپنی خوراک ہضم کرتی ہے۔
- دوسرا معدہ (Honey Stomach / Crop): یہاں مکھی پھولوں کا رس (Nectar) جمع کرتی ہے۔ اس خاص معدے میں کچھ ایسے انزائمز (Enzymes) شامل کیے جاتے ہیں جو رس کو شہد میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ مکھی اس شہد کو اپنے جسم کے اندر جذب نہیں کرتی بلکہ واپس منہ کے ذریعے چھتے کے خانوں میں نکال دیتی ہے [5]۔
قرآن کا "بطون" (پیٹوں) کہنا سائنسی اعتبار سے اس قدر درست ہے کہ آج کی اناٹومی اس کی تصدیق کر رہی ہے۔
شہد: ایک مکمل شفاء بخش محلول
قرآن فرماتا ہے: ﴿فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ﴾ (اس میں لوگوں کے لیے شفاء ہے)۔ جدید میڈیکل سائنس نے شہد کے اندر 200 سے زائد کیمیاوی اجزاء دریافت کیے ہیں جو انسانی صحت کے لیے اکسیر ہیں۔
- اینٹی بیکٹیریل خصوصیات: شہد میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اور "ڈیفنسن-1" نامی پروٹین پایا جاتا ہے جو بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہد ہزاروں سال تک خراب نہیں ہوتا [6]۔
- زخموں کا علاج: جدید ہسپتالوں میں "Medical Grade Honey" زخموں اور جلی ہوئی کھال کے علاج کے لیے استعمال ہو رہا ہے کیونکہ یہ انفیکشن کو روکنے اور نئے ٹشوز بنانے میں مدد دیتا ہے۔
- کھانسی اور نظامِ ہضم: طبی تحقیقات کے مطابق شہد کھانسی کے سیرپ سے زیادہ مؤثر ہے اور معدے کے السر کے خلاف بھی مدافعت رکھتا ہے [7]۔
کمیونیکیشن کا معجزہ: مکھیوں کا رقص (The Waggle Dance)
قرآن نے کہا: ﴿فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا﴾ (اپنے رب کے آسان راستوں پر چل)۔ مکھیاں پھولوں کی تلاش میں میلوں دور نکل جاتی ہیں، مگر وہ راستہ کیسے یاد رکھتی ہیں اور دوسری مکھیوں کو کیسے بتاتی ہیں؟
نوبل انعام یافتہ سائنسدان کارل وان فرش (Karl von Frisch) نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا کہ جب ایک مکھی کو پھولوں کا کوئی نیا ذخیرہ ملتا ہے، تو وہ واپس آ کر چھتے میں ایک خاص قسم کا رقص کرتی ہے جسے "Waggle Dance" کہا جاتا ہے۔ اس رقص کے زاویے (Angle) سے وہ دوسری مکھیوں کو سورج کی سمت کے لحاظ سے پھولوں کی سمت بتاتی ہے۔ رقص کی رفتار سے وہ پھولوں کے فاصلے کا تعین کرتی ہے [8]۔ یہ "راستوں پر چلنا" (سُبُل) محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم نظام ہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا تھا۔
سماجی نظام اور ملکہ کی اطاعت
شہد کی مکھیوں کا چھتہ ایک "سپر آرگنزم" (Superorganism) کی طرح کام کرتا ہے۔ ان کا سماجی ڈھانچہ مثالی ہے:
- ملکہ (Queen): جو صرف انڈے دیتی ہے اور پورے چھتے کے نظم و ضبط کو مخصوص خوشبو (Pheromones) کے ذریعے کنٹرول کرتی ہے۔
- ورکرز (Workers): جو موم بناتی ہیں، شہد اکٹھا کرتی ہیں، بچوں کی پرورش کرتی ہیں اور دفاع کرتی ہیں۔
- پہرے دار (Guards): جو چھتے کے دروازے پر پہرہ دیتی ہیں اور کسی اجنبی مکھی کو اندر نہیں آنے دیتیں [9]۔
ماحولیاتی اہمیت: اگر مکھیاں ختم ہو جائیں؟
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر دنیا سے شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں، تو انسانوں کے پاس زندہ رہنے کے لیے چند سال ہی بچیں گے۔ اس کی وجہ پولی نیشن (Pollination) یعنی بارآوری کا عمل ہے۔ ہماری 70% سے زائد فصلیں اور پھل شہد کی مکھیوں کے مرہونِ منت ہیں۔ اگر یہ مکھیاں پھول در پھول نہ جائیں، تو اناج پیدا ہونا بند ہو جائے گا اور دنیا قحط کا شکار ہو جائے گی [10]۔ قرآن نے شہد کی مکھی کی وحی کا ذکر کر کے دراصل انسانی بقا کے ایک عظیم ستون کی طرف توجہ دلائی ہے۔
نتیجہ فکر
شہد کی مکھی کا مطالعہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ یہ کائنات کسی اندھے حادثے کا نتیجہ نہیں ہے۔ ایک ننھی سی مکھی کے دماغ میں نقشہ سازی، زبان کی تفہیم، انجینئرنگ کی مہارت اور طب و حکمت کا خزانہ بھر دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا کوئی "وحی" کرنے والا رب موجود ہے۔ قرآنِ مجید کے بیانات اور جدید سائنس کی تصدیقات کے درمیان یہ ہم آہنگی اہل ایمان کے لیے ایقان کا باعث ہے اور اہل عقل کے لیے غور و فکر کی دعوت۔
حوالہ جات و مصادر (References):
- [1] قرآنِ مجید، سورۃ النحل، آیات: 68-69۔
- [2] Gould, J. L., & Gould, C. G. (1988). The Honey Bee. Scientific American Library.
- [3] Winston, M. L. (1991). The Biology of the Honey Bee. Harvard University Press.
- [4] Hales, T. C. (2001). The Honeycomb Conjecture. Discrete & Computational Geometry.
- [5] Snodgrass, R. E. (1956). Anatomy of the Honey Bee. Comstock Publishing.
- [6] Mandal, M. D., & Mandal, S. (2011). Honey: its medicinal property and antibacterial activity.
- [7] Mayo Clinic: "Honey: An effective cough remedy?".
- [8] Von Frisch, K. (1967). The Dance Language and Orientation of Bees.
- [9] Seeley, T. D. (1995). The Wisdom of the Hive. Harvard University Press.
- [10] FAO (UN): "The importance of bees and other pollinators for food and agriculture".
#HoneyBee #QuranAndScience #SurahAnNahl #MiracleOfNature #ScientificResearch #HoneyHealing #IslamicKnowledge #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #تحقیقی_مقالہ #شہد_کی_مکھی
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

