⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

وقت کا بہاؤ: کیا ایک سیکنڈ سب کے لیے برابر ہے؟ آئن سٹائن کی اضافیت اور کلامِ الہی کے درخشاں اشارے

 
ایک سائنسی اور فنی منظر جس میں اسپیس ٹائم کی لچک اور وقت کے پھیلاؤ (Time Dilation) کو گھڑیوں کے سکڑنے اور پھیلنے سے ظاہر کیا گیا ہے جس میں عنوان "وقت کا بہاؤ" واضح ہے۔


مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

وقت کا بہاؤ: کیا ایک سیکنڈ سب کے لیے برابر ہے؟ آئن سٹائن کی اضافیت اور کلامِ الہی کے درخشاں اشارے

باب اول: وقت کا قدیم تصور اور انسانی مغالطہ

انسانی تاریخ میں "وقت" ہمیشہ سے ایک ایسا معمہ رہا ہے جسے سمجھنے کے لیے فلسفیوں اور سائنسدانوں نے صدیاں صرف کر دیں۔ قدیم یونانی عہد سے لے کر نیوٹن کے دور تک، انسان کا پختہ یقین تھا کہ وقت ایک "مطلق" (Absolute) حقیقت ہے۔ نیوٹن کے مطابق وقت ایک ایسی ہموار نہر ہے جو پوری کائنات میں ایک ہی رفتار سے بہہ رہی ہے۔ اس تصور کا مطلب یہ تھا کہ اگر زمین پر ایک گھنٹہ گزرا ہے، تو مریخ پر، سورج پر یا کائنات کے کسی بھی دور دراز کونے میں بھی بعینہٖ ایک ہی گھنٹہ گزرا ہوگا۔ انسان سمجھتا تھا کہ وقت ایک ایسا عالمی کلاک ہے جو سب کے لیے برابر ٹک ٹک کر رہا ہے۔ یہ تصور اتنا مضبوط تھا کہ اسے چیلنج کرنا دیوانگی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن بیسویں صدی کے آغاز میں جب انسانی علم نے مادی دنیا کی گہرائیوں میں جھانکا، تو معلوم ہوا کہ ہمارا یہ حسی مشاہدہ ایک بہت بڑے مغالطے پر مبنی تھا۔ وقت وہ نہیں ہے جو ہمیں نظر آتا ہے، بلکہ یہ ایک لچکدار اور تغیر پذیر حقیقت ہے جو حالات کے مطابق پھیلتی اور سکڑتی رہتی ہے۔ اس قدیم تصور کے ٹوٹنے سے نہ صرف سائنس کی دنیا میں انقلاب آیا، بلکہ کائنات کے بارے میں ہمارے فہم کو ایک نئی جہت ملی۔ ہم جسے ایک سیکنڈ سمجھتے ہیں، وہ کائنات کے دوسرے حصوں میں صدیوں کے برابر بھی ہو سکتا ہے اور ایک لمحے سے بھی کم ہو سکتا ہے۔

باب دوم: البرٹ آئن سٹائن اور نظریہ اضافیت کا ظہور

1905ء میں ایک گمنام پیٹنٹ کلرک، البرٹ آئن سٹائن نے طبیعیات کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ اس نے اپنا مشہورِ زمانہ "نظریہ اضافیت" (Special Theory of Relativity) پیش کیا، جس نے ثابت کیا کہ وقت کوئی خود مختار یا مستقل چیز نہیں ہے، بلکہ یہ "اضافی" (Relative) ہے۔ آئن سٹائن نے دریافت کیا کہ وقت کا بہاؤ دو بنیادی چیزوں پر منحصر ہے: رفتار اور کششِ ثقل۔ اس نے ثابت کیا کہ اگر کوئی جسم روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرے، تو اس کے لیے وقت سست (Slow Down) ہو جاتا ہے۔ اسے سائنسی اصطلاح میں "ٹائم ڈائلیشن" (Time Dilation) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک خلا باز جو بہت تیز رفتار جہاز میں سفر کر رہا ہے، جب وہ زمین پر واپس آئے گا تو اس کی عمر زمین پر موجود لوگوں کے مقابلے میں کم بڑھی ہوگی۔ وقت کے اس پھیلاؤ نے ثابت کر دیا کہ کائنات میں ہر مشاہدہ کرنے والے کے لیے وقت کا اپنا ایک الگ فریم ہے۔ آئن سٹائن کے اس نظریے نے کائنات کو "اسپیس-ٹائم" (Space-Time) کے ایک چار جہتی جال کے طور پر پیش کیا، جہاں وقت کوئی الگ چیز نہیں بلکہ جگہ (Space) کے ساتھ جڑا ہوا ایک بُنا ہوا کپڑا ہے۔

باب سوم: کششِ ثقل اور وقت کا جھکاؤ

آئن سٹائن نے صرف رفتار ہی نہیں، بلکہ 1915ء میں "جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی" کے ذریعے کششِ ثقل (Gravity) اور وقت کے تعلق کو بھی واضح کیا۔ اس نے ثابت کیا کہ جہاں کششِ ثقل زیادہ ہوگی، وہاں وقت سست گزرے گا۔ اگر آپ کسی بلیک ہول (Black Hole) کے قریب چلے جائیں جہاں کششِ ثقل انتہا درجے کی ہوتی ہے، تو وہاں آپ کے لیے ایک منٹ زمین کے ہزاروں سالوں کے برابر ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی تخیلاتی کہانی نہیں ہے بلکہ جدید سائنس کا ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ آج ہمارے سروں پر گردش کرنے والے GPS سیٹلائٹس اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ چونکہ وہ زمین کی کشش سے دور بلندی پر ہیں، اس لیے ان کے ایٹمی کلاک زمین کے کلاک کے مقابلے میں روزانہ چند مائیکرو سیکنڈ تیز چلتے ہیں۔ اگر انجینئرز آئن سٹائن کے اس نظریے کے مطابق ان کلاک کی رفتار میں تصحیح نہ کریں، تو ہمارے نقشے اور لوکیشن سروسز چند کلومیٹر غلط ہو جائیں گے۔ اس سائنسی ترقی نے ہمیں یہ فہم عطا کیا کہ وقت کائنات کی مختلف سطحوں پر مختلف پیمانوں میں بٹا ہوا ہے۔

باب چہارم: قرآنی اشارات اور وقت کے مختلف پیمانے

جب ہم جدید سائنس کی ان حیرت انگیز دریافتوں کے بعد قرآنِ حکیم کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کلامِ الہی میں وقت کی اس "لچک" اور "اضافیت" کی طرف ایسے درخشاں اشارات موجود ہیں جن کا مکمل فہم ہمیں آج سائنسی ترقی کے بعد حاصل ہو رہا ہے۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسان کو ان "مختلف ایام" اور وقت کے مختلف پیمانوں کی طرف متوجہ کیا تھا جنہیں سمجھنے کے لیے انسانیت کو آئن سٹائن کا انتظار کرنا پڑا۔ قرآن کا اسلوب یہ نہیں ہے کہ وہ ہمیں ریاضی کے فارمولے سکھائے، بلکہ وہ کائنات کی ان وسعتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو خالق کی عظمت کی دلیل ہیں۔ جب قرآن ایک دن کو ایک ہزار سال یا پچاس ہزار سال کے برابر قرار دیتا ہے، تو یہ دراصل "ٹائم ڈائلیشن" کی طرف وہ اشارہ ہے جس کا ادراک اس دور کے انسان کے لیے ممکن نہ تھا، لیکن آج کا سائنسدان ان آیات کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے کہ کلامِ الہی نے وقت کی اضافیت کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ مجید میں وقت کے ایک ایسے پیمانے کا تذکرہ فرماتا ہے جو انسانی گنتی سے بالکل مختلف ہے:

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُقْدَرَ اللَّهُ وَعْدَهُ ۚ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ۝

(ترجمہ: اور وہ آپ سے عذاب کے لیے جلدی کر رہے ہیں اور اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا، اور یقیناً تمہارے رب کے ہاں ایک دن ایسا ہے جیسے ایک ہزار سال، تمہاری گنتی کے مطابق۔) — (سورۃ الحج: 47)

اس آیت میں "مِّمَّا تَعُدُّونَ" (تمہاری گنتی کے مطابق) کے الفاظ نہایت گہرا سائنسی اشارہ رکھتے ہیں۔ یہ واضح کرتے ہیں کہ انسان جس وقت کو ناپ رہا ہے، وہ کائناتی وقت یا "اللہ کے ہاں" کے وقت سے بالکل الگ پیمانہ رکھتا ہے۔ یہ وہ فہم ہے جو ہمیں آج کی فزکس نے دیا ہے کہ مشاہدہ کرنے والے کا مقام بدلتے ہی وقت کی قدر بدل جاتی ہے۔

باب پنجم: پچاس ہزار سال اور کائناتی وقت کی انتہا

قرآنِ مجید میں ایک اور مقام پر وقت کی اضافیت کا ایک اس سے بھی بڑا پیمانہ ذکر کیا گیا ہے، جہاں ایک دن کو پچاس ہزار سال کے برابر بتایا گیا ہے۔ یہ اشارہ ہمیں کائنات کی ان بلندیوں اور ان مقامات کی طرف لے جاتا ہے جہاں کششِ ثقل یا رفتار اتنی زیادہ ہے کہ وقت کا پھیلاؤ اپنی انتہا پر پہنچ جاتا ہے۔ جدید سائنس آج ہمیں بلیک ہولز کے قریب "ایونٹ ہورائزن" (Event Horizon) پر وقت کے تھم جانے کے بارے میں بتا رہی ہے، لیکن قرآن نے صدیوں پہلے ان "طویل ایام" کا ذکر کر کے یہ بتا دیا تھا کہ وقت ایک لچکدار حقیقت ہے۔

 
ایک تحقیقی خاکہ جو زمین کے گرد سیٹلائٹ اور بلیک ہول کے قریب وقت کی رفتار میں فرق کو ظاہر کرتا ہے، جو قرآنی اشارات کی سائنسی تفہیم میں مددگار ہے۔


ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ۝

(ترجمہ: فرشتے اور روح (جبرائیلؑ) اس کی طرف چڑھتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔) — (سورۃ المعارج: 4)

یہاں لفظ "مِقْدَارُهُ" (اس کی مقدار) سائنسی اعتبار سے نہایت دقیق ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ وقت کوئی مستقل چیز نہیں بلکہ ایک "مقدار" ہے جو بدلی جا سکتی ہے۔ فرشتوں کا سفر، جو کہ نوری یا اس سے بھی برتر رفتار پر مبنی ہو سکتا ہے، ان کے لیے ایک دن کے برابر ہے جبکہ زمینی مشاہدے میں وہ پچاس ہزار سال کی مسافت ہے۔ یہ اشارہ ہمیں سمجھاتا ہے کہ کائنات میں وقت کے متعدد فریم موجود ہیں، اور جس فہم تک سائنس آج پہنچی ہے، اس کے اشارے قرآن میں پہلے سے موجود تھے جنہیں ہم سائنسی ترقی کی روشنی میں اب بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

باب ششم: واقعہ معراج اور زمان و مکان کی تسخیر

نبی کریم ﷺ کا واقعہ معراج "ٹائم ڈائلیشن" اور زمان و مکان (Space-Time) کی تسخیر کی سب سے عظیم ترین عملی مثال نظر آتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ کے مطابق، آپ ﷺ نے زمین کے وقت کے ایک بہت ہی مختصر وقفے میں ساتوں آسمانوں کی سیر کی، جنت و دوزخ کے مشاہدات کیے، انبیائے کرام کی امامت فرمائی اور سدرۃ المنتہیٰ تک رسائی حاصل کی۔ جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو وضو کا پانی اب بھی بہہ رہا تھا اور بستر کی گرمی اب بھی موجود تھی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا اشارہ ہے کہ جب اللہ کی مشیت ہوتی ہے، تو وہ اپنے بندے کے لیے وقت کی رفتار کو اتنا سست یا تیز کر دیتا ہے کہ صدیوں کا سفر لمحوں میں سمٹ جاتا ہے۔ آج کی سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں تو ہمارے لیے وقت تقریباً رک جائے گا۔ واقعہ معراج ہمیں یہ فہم دیتا ہے کہ خالقِ کائنات نے اپنے حبیب ﷺ کے لیے وقت کے ان مادی قوانین کو لپیٹ دیا تھا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وقت اللہ کی مخلوق ہے اور وہ اس کا پابند نہیں ہے۔

باب هفتم: ناقدین کا جواب اور سائنسی اشارات کی حقیقت

اکثر ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ "اگر یہ باتیں قرآن میں تھیں، تو مسلمانوں نے پہلے کیوں نہیں بتائیں؟" اس کا منطقی جواب یہ ہے کہ قرآن کوئی سائنسی درسی کتاب نہیں ہے کہ اس میں فارمولے درج ہوں۔ یہ ہدایت کی کتاب ہے جو کائنات کے حقائق کی طرف اشارہ کرتی ہے تاکہ انسان کے ایمان میں پختگی آئے۔ ان اشارات کا مکمل فہم انسانی علم کے ارتقاء کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ چودہ سو سال پہلے کا انسان "اضافیتِ وقت" کے ریاضیاتی پہلوؤں کو نہیں سمجھ سکتا تھا، اس لیے قرآن نے اسے ایک حکیمانہ پیرائے میں بیان کیا۔ آج جب سائنس نے تجرباتی طور پر "ٹائم ڈائلیشن" کو ثابت کر دیا، تو ہمیں قرآن کے ان اشاروں کی گہرائی کا اندازہ ہوا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کا متن ابدی ہے اور ہر دور کی سائنسی ترقی کے ساتھ اس کے نئے نئے مطالب سامنے آتے رہیں گے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ سائنس قرآن سے نکلی ہے، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ سائنس کی دریافتیں ہمیں کلامِ الہی کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

باب ہشتم: خالقِ زماں اور انسانی انجام (حاصلِ کلام)

وقت کی یہ تمام سائنسی اضافیت اور قرآنی اشارات ہمیں ایک ہی عظیم نتیجے کی طرف لے جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ زمان و مکان کا خالق (Creator of Space-Time) ہے۔ وہ خود وقت کی قید سے پاک ہے۔ ہمارے لیے جو ماضی، حال اور مستقبل ہے، اللہ کے لیے وہ ایک "حالِ ابدی" ہے۔ سائنس آج جس حقیقت کو دریافت کر کے حیران ہو رہی ہے، وہ اللہ کی قدرت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے۔ وقت کا یہ پھیلاؤ ہمیں یہ بھی سبق دیتا ہے کہ آخرت کا ایک دن ہماری زمینی زندگی کی ہزاروں سالہ تاریخ سے کتنا بھاری ہو سکتا ہے۔ کائنات کی یہ "میزان" اور وقت کی یہ "مقدار" پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس کائنات کا ایک علیم و حکیم خالق ہے جس نے ہر چیز کو ایک خاص ترتیب اور اندازے پر رکھا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم کائنات کے ان اسرار پر غور کریں اور جدید سائنس کے انکشافات کو اپنے ایمان کی پختگی کا ذریعہ بنائیں۔ وقت کا یہ بہاؤ جو ہمیں ایک دھوکہ نظر آتا ہے، دراصل اللہ کی ان نشانیوں میں سے ایک ہے جو اہل عقل کے لیے ہدایت کا راستہ کھولتی ہیں۔ جس رب نے وقت کو اتنی وسعت عطا کی ہے، اس کے حضور ہماری یہ چند سالہ زندگی ایک امتحان ہے، جس کا بدلہ ہمیں ان دائمی ایام میں ملے گا جہاں وقت کے پیمانے ہماری سوچ سے بھی بلند ہوں گے۔

واللہ اعلم بالصواب۔


حوالہ جات:
[1] Relativity: The Special and General Theory (By Albert Einstein).
[2] A Brief History of Time (By Stephen Hawking).
[3] The Quran and Modern Science (By Dr. Maurice Bucaille).
[4] Physics and Philosophy (By Werner Heisenberg).
[5] قرآنِ حکیم: سورۃ الحج (47)، سورۃ المعارج (4)، سورۃ السجدہ (5)۔
[6] تفسیرِ معارف القرآن اور تفہیم القرآن (وقت کی اضافیت کے حوالے سے)۔
#وقت_کا_بہاؤ #نظریہ_اضافیت #آئن_سٹائن #TimeDilation #قرآن_اور_سائنس #معجزات_قرآن #واقعہ_معراج #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #اضافیت_وقت #ایمان_اور_سائنس #طارق_اقبال_سوہدروی #کائناتی_حقائق #EinsteinAndQuran

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال