⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

فرشتوں کی رفتار اور مادی پیمانے: کیا قرآن سے روشنی کی رفتار کا فارمولا کشید کرنا علمی دیانت ہے؟

 
ایک روحانی اور سائنسی منظر جس میں نوری مخلوق (فرشتوں) کے بین الکائناتی سفر اور وقت کی اضافیت کو تمثیلی انداز میں دکھایا گیا ہے۔


فرشتوں کی رفتار اور مادی پیمانے: کیا قرآن سے روشنی کی رفتار کا فارمولا کشید کرنا علمی دیانت ہے؟

مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

باب اول: کائناتی حقائق اور قرآنی فہم کا ارتقاء

انسانی تاریخ میں علم کا سفر ہمیشہ مشاہدے اور تجربے کے گرد گھومتا رہا ہے۔ قرآنِ حکیم، جو کائنات کے خالق کا کلام ہے، انسان کو بارہا تفکر اور تدبر کی دعوت دیتا ہے۔ عصری علوم، بالخصوص جدید طبیعیات (Physics) نے کائنات کے جن اسرار سے پردہ اٹھایا ہے، ان کے مطالعے کے بعد جب ہم قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں وہاں ایسے اشارات ملتے ہیں جو انسانی عقل کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ تاہم، یہاں ایک نہایت باریک اور اہم علمی نکتہ ہے جسے ملحوظِ خاطر رکھنا ہر محقق کے لیے ضروری ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ "یہ سائنسی حقیقت تو قرآن چودہ سو سال پہلے ہی بیان کر چکا ہے"، لیکن علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ اسلوب کو بدلا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں ان کائناتی سچائیوں کا "اشارہ" تو پہلے سے موجود تھا، لیکن اس کا صحیح فہم اور ادراک ہمیں آج کی سائنسی ترقی کے بعد ہوا ہے۔ اگر یہ ادراک پہلے سے ہوتا، تو شاید انسان صدیوں پہلے ان منزلوں تک پہنچ چکا ہوتا۔ قرآن کا معجزہ یہی ہے کہ اس کا متن ہر دور کی انسانی عقل کے لیے نئے دریچے کھولتا ہے۔ جب ہم فرشتوں کے سفر اور وقت کی مختلف مقداروں کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے وقت کی "اضافیت" (Relativity) کی طرف وہ اشارہ دیا تھا جسے سمجھنے کے لیے انسانیت کو آئن سٹائن کے نظریہِ اضافیت کا انتظار کرنا پڑا۔ لہٰذا، قرآن کو کسی سائنسی فارمولے کی "درسی کتاب" ثابت کرنے کے بجائے، اسے "حکمت کا منبع" سمجھنا چاہیے جس کے اشارات کی تصدیق سائنس اپنے ارتقاء کے ساتھ کرتی چلی جا رہی ہے۔

باب دوم: فرشتوں کی ماہیت اور مادی فزکس کی حدود

اسلامی عقائد کے مطابق فرشتے "نوری مخلوق" ہیں اور عالمِ غیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں سب سے پہلا علمی مغالطہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم فرشتوں کو مادی روشنی (Physical Light) کے پیمانے پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جدید فزکس میں روشنی ایک مادی لہر یا ذرہ (Photon) ہے جس کی ایک انتہا یعنی 299,792 کلومیٹر فی سیکنڈ مقرر ہے۔ آئن سٹائن کے مطابق کوئی بھی مادی چیز اس رفتار کو پار نہیں کر سکتی۔ اب اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ قرآن کی فلاں آیت سے روشنی کی یہی رفتار نکلتی ہے، تو ہم نادانستہ طور پر فرشتوں جیسی عظیم اور غیر مادی مخلوق کو مادی قوانین کا پابند بنا دیتے ہیں۔ اللہ کی دی ہوئی طاقت اور فرشتوں کا سفر مادی پیمائشوں سے کہیں بلند اور وراء الوراء ہے۔ فرشتے زمان و مکان (Space-Time) کے ان قوانین کے اسیر نہیں ہیں جو ہم انسانوں پر لاگو ہوتے ہیں۔ سائنسی فارمولا Speed = Distance / Time صرف ان اجسام پر لاگو ہوتا ہے جن کا مادی وجود ہو۔ فرشتوں کا سفر ایک جہان سے دوسرے جہان تک کا سفر ہے، جسے "غیب" کہا جاتا ہے۔ قرآن میں فرشتوں کے سفر کے لیے جو "ایام" اور "مقدار" بیان کی گئی ہے، وہ دراصل وقت کے "پھیلاؤ" اور "اضافیت" کی طرف ایک اشارہ ہے، نہ کہ روشنی کی رفتار کا کوئی ریاضیاتی فارمولا کشید کرنے کے لیے کوئی ڈیٹا۔ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم مادی اور غیر مادی حقائق کے درمیان فرق کو برقرار رکھیں اور کلامِ الہی کو زبردستی کے حسابی گورکھ دھندوں میں نہ الجھاب۔

باب سوم: ایک ہزار سال اور پچاس ہزار سال—عددی گنتی یا وسعتِ کائنات؟

قرآنِ مجید میں وقت کی مقدار کے حوالے سے دو مختلف مقامات پر دو مختلف اعداد ذکر ہوئے ہیں۔ سورۃ السجدہ میں ایک دن کی مقدار ایک ہزار سال (1,000) بتائی گئی ہے، جبکہ سورۃ المعارج میں اسی ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال (50,000) ذکر کی گئی ہے۔ کچھ محققین نے ان اعداد کو ریاضیاتی فارمولوں میں ڈھال کر روشنی کی رفتار نکالنے کی کوشش کی ہے، لیکن گہرائی میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعداد دراصل "کثرت" اور "وسعت" (Immensity of Scale) کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ عربی زبان کے اسلوب میں 'ہزار' یا 'پچاس ہزار' کے الفاظ اکثر کسی چیز کی طوالت اور اس کے بے پناہ پھیلاؤ کو بیان کرنے کے لیے آتے ہیں۔ قرآن کا مقصد یہاں ریاضی سکھانا نہیں، بلکہ انسان کو یہ سمجھانا ہے کہ خالق کی کائنات اتنی وسیع ہے کہ وہاں کا ایک لمحہ تمہاری صدیوں پر بھاری ہے۔ یہ اشارہ ہمیں بتاتا ہے کہ وقت ایک "مطلق" (Absolute) حقیقت نہیں ہے، بلکہ یہ مشاہدہ کرنے والے کے مقام اور رفتار کے لحاظ سے بدل جاتا ہے۔

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ۝

(ترجمہ: وہ آسمان سے زمین تک (کائنات کے) ہر معاملے کی تدبیر فرماتا ہے، پھر وہ (معاملہ) اس کی طرف ایک ایسے دن میں چڑھتا ہے جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال ہے۔) — (سورۃ السجدہ: 5)

اس آیت میں "مِّمَّا تَعُدُّوْنَ" (تمہاری گنتی کے مطابق) کے الفاظ نہایت اہم ہیں۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ انسانی وقت اور کائناتی تدبیر کے وقت کے پیمانے بالکل مختلف ہیں۔ جدید سائنس نے ہمیں "ٹائم ڈائلیشن" (Time Dilation) کا جو تصور دیا ہے، اس کا فہم ہمیں آج حاصل ہوا ہے، جبکہ قرآن نے اس کی طرف اشارہ صدیوں پہلے کر دیا تھا۔ یہ کہنا کہ "قرآن نے روشنی کی رفتار بتائی ہے" علمی طور پر اس لیے بھی کمزور ہے کہ پھر پچاس ہزار سال والی آیت سے ایک دوسرا اور بالکل مختلف جواب نکلے گا، جو تضاد پیدا کرے گا۔ لہذا، حق یہ ہے کہ یہ آیات وقت کی "لچک" اور اس کی "اضافیت" کی نشاندہی کرتی ہیں۔ [1]

باب چہارم: آئن سٹائن کی اضافیت اور قرآنی اشارے کا ملاپ

بیسویں صدی کے آغاز میں البرٹ آئن سٹائن نے جب نظریہِ اضافیت (Relativity) پیش کیا، تو دنیا یہ جان کر حیران رہ گئی کہ وقت کوئی مستقل چیز نہیں ہے۔ اگر کوئی جسم تیز رفتاری سے سفر کرے، تو اس کے لیے وقت سست (Slow Down) ہو جاتا ہے۔ اسے فزکس میں "ٹائم ڈائلیشن" کہا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید کی آیات میں جب ہم ایک دن کو ایک ہزار یا پچاس ہزار سال کے برابر پاتے ہیں، تو یہ بعینہٖ وہی تصور ہے جسے آج کی سائنس "کائناتی وقت" کہتی ہے۔ قرآن کا معجزہ یہ ہے کہ اس نے اس دور میں وقت کی اضافیت کی طرف اشارہ دیا جب انسان سمجھتا تھا کہ وقت کائنات میں ہر جگہ ایک ہی رفتار سے گزرتا ہے۔

سورۃ المعارج میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ ۝

(ترجمہ: فرشتے اور روح (جبرائیل) اس کی طرف چڑھتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔) — (سورۃ المعارج: 4)

یہاں "پچاس ہزار سال" کا تذکرہ اس عظیم رفتار اور اس بلند مقام کی طرف اشارہ ہے جہاں انسانی پیمانے ختم ہو جاتے ہیں۔ جدید سائنس نے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دی ہے کہ وقت کا پھیلاؤ کششِ ثقل (Gravity) اور رفتار (Velocity) کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ قرآن نے ان حقائق کو ایک حکیمانہ پیرائے میں بیان کیا تاکہ انسان اللہ کی عظمت کا ادراک کر سکے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اسے زبردستی کسی سائنسی فارمولے میں فٹ کریں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ سائنس کی ترقی نے ہمیں قرآن کے ان اشارات کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل بنا دیا ہے جن کا ادراک ماضی کے انسان کے لیے ممکن نہ تھا۔ [2]

 
البرٹ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت اور قرآن مجید میں مذکور وقت کے مختلف پیمانوں (ایک ہزار اور پچاس ہزار سال) کے درمیان علمی توازن کو ظاہر کرتی تصویر۔


باب پنجم: مادی مبالغہ آرائی کے نقصانات اور علمی دیانت

اکثر جوشِ خطابت یا دفاعِ اسلام کے نام پر ایسے حسابی دعوے کیے جاتے ہیں جن کی بنیاد مادی مفروضوں پر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، چاند کی مسافت کو ایک ہزار سال سے ضرب دے کر روشنی کی رفتار نکالنا۔ اس قسم کے مبالغہ آمیز دعووں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اگر کل کو سائنسی تحقیق میں روشنی کی رفتار کے حوالے سے کوئی نیا پہلو سامنے آ گیا (جیسا کہ کوانٹم فزکس میں روشنی سے بھی تیز رفتار مواصلات پر بحث ہو رہی ہے)، تو پھر معترضین کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ "تمہارا قرآنی حساب تو غلط ہو گیا"۔ ہمیں سائنس کو قرآن پر "حاکم" نہیں بنانا چاہیے۔ قرآن "ہدایت" ہے اور سائنس "دریافت" ہے۔

اگر ہم زبردستی فارمولے کشید کریں گے، تو ہمیں کئی تضادات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مثلاً اگر ایک ہزار سال سے ایک رفتار نکلتی ہے، تو پچاس ہزار سال سے نکلنے والی رفتار کیا ہوگی؟ کیا فرشتے الگ الگ رفتاروں سے سفر کرتے ہیں؟ یا کیا یہ الگ الگ کائناتوں کا ذکر ہے؟ ان سوالات کا جواب حسابی گورکھ دھندوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ قرآن کائنات کی "وسعت" اور "خالق کی عظمت" کا بیان کر رہا ہے۔ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ فرشتوں کا سفر مادی فزکس کے قوانین سے ماوراء ہے اور قرآن کا اصل اعجاز ان کے سفر کی رفتار کا عدد بتانا نہیں، بلکہ وقت کی اضافیت (Time Dilation) کا وہ انقلابی تصور پیش کرنا ہے جس کا فہم انسانیت کو چودہ سو سال بعد حاصل ہوا۔

باب ششم: قرآن اور سائنس کا درست تعلق—ایک نیا تناظر

سائنس اور قرآن کے تعلق کو سمجھنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ ہم سائنس کو ایک "ٹول" (Tool) کے طور پر استعمال کریں جو کلامِ الہی کے اشارات کی گہرائی کو سمجھنے میں ہماری مدد کرے۔ ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ "قرآن نے یہ پہلے ہی بتا دیا تھا"، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ "سائنس کی آج کی دریافت نے ہمیں قرآن کے اس قدیم اشارے کو سمجھنے میں نئی روشنی عطا کی ہے"۔ یہ اسلوب زیادہ علمی، منطقی اور باوقار ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کا متن اتنا جامع ہے کہ وہ ہر زمانے کی علمی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رہتا ہے اور اپنی حقانیت کی نئی دلیلیں فراہم کرتا رہتا ہے۔

فرشتوں کے سفر کے معاملے میں، قرآن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مادی دنیا کی حدیں وہیں ختم ہو جاتی ہیں جہاں سے عالمِ ملکوت کی حدیں شروع ہوتی ہیں۔ وقت کا ایک ہزار سال یا پچاس ہزار سال کے برابر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کا نظام ہمارے انسانی ادراک سے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہے۔ جدید طبیعیات نے جب بلیک ہولز اور کائناتی وسعتوں میں وقت کے تھم جانے یا سست ہو جانے کے مظاہر دریافت کیے، تو اہل ایمان کے لیے یہ قرآن کے اشارات کی ایک عملی تصدیق بن کر سامنے آئے۔ یہ تصدیق ہمارے ایمان میں اضافے کا باعث ہونی چاہیے، نہ کہ اسے کسی عارضی حسابی فارمولے کی بیڑیوں میں جکڑنے کا سبب۔

باب ہفتم: ناقدین کے سوالات اور منطقی جوابات

عام طور پر ناقدین یہ سوال کرتے ہیں کہ "اگر یہ سب کچھ قرآن میں موجود تھا، تو مسلمانوں نے پہلے ہی سائنسی ایجادات کیوں نہیں کیں؟" یہ سوال تب پیدا ہوتا ہے جب ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن ایک "سائنسی انسائیکلوپیڈیا" ہے۔ ہمیں یہ واضح کرنا چاہیے کہ قرآن "کتابِ ہدایت" ہے، "کتابِ سائنس" نہیں۔ اس کا مقصد انسان کو خالق کی پہچان کروانا اور زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانا ہے۔ اس میں موجود سائنسی اشارات دراصل خالق کی صناعی پر غور کرنے کے لیے "اشارے" (Pointers) ہیں۔ ان اشاروں کا فہم انسانی علم کے ارتقاء کے ساتھ وابستہ ہے۔

مثلاً، اگر چودہ سو سال پہلے کے انسان کو روشنی کی رفتار کا فارمولا بتا بھی دیا جاتا، تو اس کے پاس اسے جانچنے کے لیے نہ تو آلات تھے اور نہ ہی اس کا شعور اس درجے پر تھا کہ وہ 'وقت کی اضافیت' کو سمجھ سکے۔ ہر علم کا ایک مقررہ وقت ہوتا ہے۔ قرآن نے وہ "بیج" بو دیے تھے جن کی فصل کاٹنے کا وقت آج کی سائنسی ترقی ہے۔ لہٰذا، ناقدین کا یہ اعتراض تبھی ختم ہو سکتا ہے جب ہم مبالغہ آرائی چھوڑ کر حقائق پر مبنی گفتگو کریں۔ فرشتوں کا سفر اور وقت کے پھیلاؤ کا قرآنی بیان دراصل انسانی عقل کے لیے ایک مسلسل چیلنج ہے کہ وہ کائنات کی ان وسعتوں میں خالق کی قدرت کو تلاش کرے۔

باب ہشتم: ایمان اور عقل کا حسین سنگم (حاصلِ کلام)

مختصر یہ کہ فرشتوں کا سفر اور روشنی کی رفتار کا تقابل ایک ایسا موضوع ہے جہاں ایمان اور عقل ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ ہمیں کسی زبردستی کی مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ قرآن کی سچائی کسی فارمولے کی محتاج نہیں ہے۔ قرآن کا معجزہ یہ ہے کہ اس نے وقت کی اضافیت (Time Dilation) کا وہ تصور دیا جس کا آج کی جدید فزکس اعتراف کرتی ہے۔ فرشتوں کی رفتار کیا ہے؟ یہ اللہ کا علم ہے اور وہی بہتر جانتا ہے۔ ہمیں صرف ان اشارات پر غور کرنا چاہیے جو ہماری عقل کو جلا بخشتے ہیں اور ہمارے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں۔

علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم قرآن کو سائنس پر حاکم رکھیں اور سائنسی دریافتوں کو قرآن کے فہم کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ قرآن کو سائنس کی تائید کے لیے استعمال کریں۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ایک عظیم "میزان" پر پیدا کیا ہے اور قرآن اس میزان کو سمجھنے کی کلید ہے۔ جب ہم اس کلید کو صحیح طریقے سے استعمال کریں گے، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہر سائنسی سچائی دراصل اسی خالق کی تسبیح بیان کر رہی ہے جس نے قرآن نازل کیا۔ ہمیں مبالغہ آرائی سے بچ کر سادگی اور سچائی کے ساتھ قرآن کے پیغام کو عام کرنا چاہیے تاکہ دنیا پر اس کی حقانیت واضح ہو سکے۔

واللہ اعلم بالصواب۔


حوالہ جات:
[1] Relativity: The Special and General Theory (By Albert Einstein).
[2] A Brief History of Time (By Stephen Hawking).
[3] The Quran and Modern Science (By Dr. Maurice Bucaille).
[4] قرآنِ حکیم: سورۃ السجدہ، سورۃ المعارج، سورہ فاطر۔
[5] تفسیرِ طبری اور ابنِ کثیر (ایامِ الہی کے حوالے سے)۔
#فرشتوں_کا_سفر #روشنی_کی_رفتار #وقت_کی_اضافیت #TimeDilation #قرآن_اور_سائنس #علمی_دیانت #اصلاح_امت #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #طارق_اقبال_سوہدروی #کائناتی_اشارے #معجزات_قرآن #فزکس_اور_اسلام

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال