مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
واقعہ شق القمر (چاند کا پھٹنا): قرآن کا عظیم معجزہ، تاریخی شواہد اور جدید سائنس کا نقطہ نظر
چودہ سو سال قبل مکہ کی سرزمین پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے کائنات کے قوانین کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ نبی کریم ﷺ کا عظیم ترین معجزہ "شق القمر" یعنی چاند کا دو ٹکڑے ہونا تھا۔ آج ہم اس واقعے کا قرآن، تاریخ اور جدید سائنس کی روشنی میں ایک مستند جائزہ لیتے ہیں۔
1۔ قرآن مجید کا اٹل بیان
اس واقعے کا سب سے بڑا اور ناقابلِ تردید ثبوت خود خالقِ کائنات کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ القمر کے آغاز میں ہی اس عظیم واقعے کو قیامت کی نشانی کے طور پر ذکر کیا ہے:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ ﴿١﴾ وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ﴿٢﴾
ترجمہ: "قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔ اور اگر وہ (کفار) کوئی نشانی (معجزہ) دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ہمیشہ سے چلا آتا جادو ہے۔" — (سورۃ القمر: 1-2) [1]
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ یہ واقعہ رونما ہو چکا ہے اور کفار نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا مگر ہٹ دھرمی کی وجہ سے جادو قرار دیا۔
2۔ مستند تاریخی اور حدیثی شواہد
یہ واقعہ صرف ایک افسانہ نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ ہے۔ سب سے مستند احادیث کی کتابوں (صحیح بخاری اور صحیح مسلم) میں اس کا ذکر موجود ہے۔
مشور صحابی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہوئے، ایک ٹکڑا پہاڑ (جبلِ حرا) کے اوپر اور ایک اس کے نیچے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "گواہ رہنا۔" (صحیح بخاری) [2]
قریشِ مکہ نے یہ معجزہ دیکھا لیکن اسے جادو کہا۔ تاہم، اہم نکتہ یہ ہے کہ مکہ سے باہر کے مسافروں نے بھی آ کر گواہی دی کہ انہوں نے فلاں رات چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا، جس سے ثابت ہوا کہ یہ کوئی مقامی نظر بندی نہیں بلکہ ایک عالمی واقعہ تھا۔
3۔ برصغیر کی تاریخی روایت (ہندوستانی راجہ)
تاریخی روایات میں آتا ہے کہ ہندوستان کے جنوب مغربی ساحل (موجودہ کیرالہ، مالابار) کے ایک راجہ "چکراوتی فارمس" نے بھی یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ یہ عرب میں ایک نبی کا معجزہ ہے، تو اس نے سفر کیا اور اسلام قبول کیا۔ یہ روایت برصغیر میں اسلام کی آمد کے اولین نقوش میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔
4۔ جدید سائنس اور ناسا کی تصاویر: ایک نیا زاویہ
کیا جدید سائنس اس معجزے کو مانتی ہے؟ سائنس کا اصول "مشاہدہ اور تجربہ" ہے۔ چونکہ معجزہ "مافوق الفطرت" (Supernatural) ہوتا ہے، اس لیے سائنس اپنے موجودہ اصولوں سے اسے ثابت یا رد نہیں کر سکتی۔
تاہم، جب انسان چاند پر پہنچا اور ناسا (NASA) کے اپالو مشنز نے چاند کی قریبی تصاویر لیں، تو کچھ حیران کن چیزیں سامنے آئیں:
- چاند کی دراڑیں (Lunar Rilles): چاند کی سطح پر سینکڑوں کلومیٹر لمبی اور کئی کلومیٹر چوڑی گہری کھائیاں یا دراڑیں موجود ہیں۔ ان میں سب سے مشہور دراڑ کا نام "ریما ایریڈیئس" (Rima Ariadaeus) ہے۔
- یہ دراڑیں اتنی سیدھی اور لمبی ہیں کہ بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے کسی چیز نے چاند کی سطح کو پھاڑ دیا ہو۔
سائنسی اور ایمانی نقطہ نظر میں توازن: ارضیاتی سائنسدان (Geologists) ان دراڑوں کو چاند کے ابتدائی دور میں لاوے کے بہاؤ یا ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ ابھی تک یہ نہیں مانتے کہ چاند 1400 سال پہلے دو ٹکڑے ہو کر جڑا تھا۔ لیکن، بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ جب کوئی چیز ٹوٹ کر جڑتی ہے تو اس کے نشانات باقی رہ جاتے ہیں۔ چاند کی سطح پر موجود یہ عظیم الشان دراڑیں، جو ناسا کی تصاویر میں واضح ہیں، ایک مومن کے لیے اس عظیم معجزے کے "باقی ماندہ نشانات" کے طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
خلاصہ:
شق القمر کا معجزہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اگرچہ سائنس ابھی تک اس واقعے کی مکمل تصدیق کے مقام تک نہیں پہنچی، لیکن چاند کے سینے پر موجود گہرے زخم اور دراڑیں اس بات کی خاموش گواہی دیتی محسوس ہوتی ہیں کہ اس آسمانی جسم نے ماضی میں ایک عظیم کائناتی واقعہ کا سامنا کیا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات:
[1] قرآنِ کریم، سورۃ القمر، آیات: 1-2[2] صحیح بخاری، کتاب التفسیر، حدیث نمبر: 4864
[3] NASA: Lunar Features and Rima Ariadaeus Imagery Analysis.
#شق_القمر #معجزہ #قرآن_اور_سائنس #اسلام #تاریخ #SplittingOfTheMoon #Miracle #QuranAndScience #PropheticMiracles #IslamicHistory #NASA #MoonRilles
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

