⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

کبھی سوچا ہے بلندی پر جا کر سانس لینا مشکل کیوں ہو جاتا ہے؟ ایک 1400 سال پرانا سائنسی معجزہ

 
ایک کوہ پیما پہاڑ کی چوٹی پر آکسیجن ماسک کے ساتھ، جو بلندی پر ہوا کے دباؤ کی کمی اور سینے کی تنگی کو ظاہر کرتا ہے۔


مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

کبھی سوچا ہے بلندی پر جا کر سانس لینا مشکل کیوں ہو جاتا ہے؟ ایک 1400 سال پرانا سائنسی معجزہ

ہم میں سے بہت سے لوگوں نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ جب ہم پہاڑی علاقوں میں اوپر کی طرف جاتے ہیں، یا اگر کبھی ہوائی جہاز میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہو، تو ایک عجیب سا احساس ہوتا ہے۔ سانس پھولنے لگتا ہے اور سینے میں ایک گھٹن سی محسوس ہوتی ہے۔

آج کل کے پائلٹ اور کوہ پیما (پہاڑوں پر چڑھنے والے) اس حقیقت کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ اسی لیے ہوائی جہازوں کے اندر مصنوعی ہوا کا انتظام کیا جاتا ہے اور کوہ پیما اپنے ساتھ آکسیجن کے سلنڈر لے کر جاتے ہیں۔

لیکن ذرا رکیں اور سوچیں!

آج سے 1400 سال پہلے کا دور۔۔۔ عرب کا صحرا۔۔۔ نہ کوئی ہوائی جہاز تھا، نہ کوئی اتنے اونچے پہاڑوں پر چڑھتا تھا، اور نہ ہی آکسیجن سلنڈر ایجاد ہوئے تھے۔ اس زمانے کے لوگوں کا تو عام خیال یہ تھا کہ انسان جتنی بلندی پر جائے گا، ہوا اتنی ہی تازہ اور فرحت بخش ہوگی۔

لیکن اس دور میں، قرآن مجید نے ایک ایسی بات کہہ دی جو اس وقت کے لوگوں کی سوچ سے بالکل الٹ تھی، مگر آج کی سائنس نے اسے سو فیصد سچ ثابت کر دیا ہے۔

قرآن کا حیران کن دعویٰ (سورۃ الانعام: 125)

اللہ تعالیٰ قرآن میں ایک مثال دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جس شخص کو ہدایت نصیب نہ ہو، اس کی حالت کیسی ہو جاتی ہے:

فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ...

ترجمہ: "اور جسے وہ (اللہ) گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، اُس کا سینہ تنگ اور گھُٹا ہوا کر دیتا ہے، گویا وہ زبردستی آسمان پر چڑھ رہا ہے۔" — (سورۃ الانعام: 125) [1]

غور کریں! قرآن نے صاف صاف بتا دیا کہ آسمان کی طرف (بلندی پر) چڑھنے سے سینہ کھلتا نہیں، بلکہ "تنگ اور گھٹ" جاتا ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟ (آسان الفاظ میں)

آج جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ دراصل، ہماری زمین کے گرد ہوا کا ایک غلاف ہے۔ ہم زمین پر نیچے رہتے ہیں، جہاں ہوا کا دباؤ (Pressure) زیادہ ہوتا ہے۔ یہ دباؤ آکسیجن کو آسانی سے ہمارے پھیپھڑوں کے اندر دھکیلتا ہے اور ہم آرام سے سانس لیتے ہیں۔

لیکن جیسے جیسے ہم اوپر بلندی کی طرف جاتے ہیں، یہ ہوا کا دباؤ کم ہوتا جاتا ہے۔ ہوا "پتلی" ہو جاتی ہے۔

کیا ہوتا ہے؟ جب آپ بہت بلندی پر پہنچتے ہیں، تو ہوا میں آکسیجن تو موجود ہوتی ہے، لیکن اسے آپ کے پھیپھڑوں میں دھکیلنے والا دباؤ نہیں ہوتا۔

  • سینے کی گھٹن: آپ کا جسم آکسیجن مانگتا ہے، آپ کا دل تیزی سے دھڑکتا ہے، اور آپ کے پھیپھڑے ہوا حاصل کرنے کے لیے زور لگاتے ہیں لیکن ناکام رہتے ہیں۔ اس کیفیت میں انسان کو شدید گھٹن محسوس ہوتی ہے، اور سینہ بالکل تنگ ہو جاتا ہے۔
 
زمین کی سطح سے بلندی تک ہوا کے دباؤ (Air Pressure) میں کمی کو ظاہر کرتا ہوا ایک سائنسی گرافک جو "محفوظ چھت" اور آکسیجن کی دستیابی کو بیان کرتا ہے۔


خطرناک بلندی

سائنسدان بتاتے ہیں کہ اگر کوئی انسان تقریباً 25 ہزار فٹ کی بلندی پر بغیر آکسیجن ماسک کے پہنچ جائے، تو چند منٹوں میں اس کا دم گھٹ سکتا ہے اور موت واقع ہو سکتی ہے۔ [2]

نتیجہ:

اب آپ خود فیصلہ کریں! چودہ سو سال پہلے، جب سائنس کا نام و نشان نہیں تھا، جب کوئی آسمان پر چڑھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اس وقت اتنی بڑی سائنسی حقیقت کا بیان کر دینا، اور بالکل ٹھیک ٹھیک یہ بتانا کہ بلندی پر "سینہ تنگ" ہو جاتا ہے، کیا یہ کسی عام انسان کا کام ہو سکتا ہے؟

یقیناً نہیں! یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ قرآن مجید اسی خالق کا کلام ہے جس نے زمین و آسمان بنائے اور جو انسانی جسم کے نظام کو سب سے بہتر جانتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب۔


حوالہ جات:

[1] قرآنِ مجید، سورۃ الانعام، آیت: 125
[2] High Altitude Physiology and Oxygen Pressure Research Reports.

#QuranAndScience #HighAltitude #MiracleOfQuran #SimpleScience #FaithAndReason #IslamAndScience #AyatOfAllah #قرآن_اور_سائنس #بلندی_پر_سانس #معجزات_قرآن #اسلام_اور_سائنس #آسان_سائنس

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال