مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
تختِ ملکۂ سبا کی منتقلی: علمِ کتاب اور جدید سائنس کا تقابلی مطالعہ
علمی نوٹ و اپڈیٹ: 'سائنس قرآن کے حضور میں' ایک متحرک تحقیقی مشن ہے۔ حق کی تلاش کے سفر میں ہم نے قارئین کے اعتراضات اور جدید کوانٹم فزکس کے پیچیدہ قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تحریر کو مکمل طور پر ترمیم اور اپڈیٹ کیا ہے۔ ہمارا مقصد قرآن کو سائنس سے ثابت کرنا نہیں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ جہاں انسانی سائنس کی سرحدیں ختم ہوتی ہیں، وہاں سے قرآن کا علم شروع ہوتا ہے۔
1. قرآنی واقعہ: معجزہ یا علمِ کتاب؟
سورۃ النمل (آیات 38-40) کے مطابق، جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکۂ سبا کے آنے سے قبل ان کا تخت لانے کا ارادہ فرمایا، تو دربار میں دو قسم کی پیشکش ہوئیں:
- پہلی پیشکش: ایک طاقتور جن (عفریت) نے کہا کہ وہ دربار برخاست ہونے سے پہلے تخت لا سکتا ہے۔ یہ ایک مادی اور جسمانی قوت کا اظہار تھا۔
- دوسری پیشکش: اس شخص نے کی جس کے پاس "کتاب کا علم" (عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ) تھا۔ اس نے کہا: "میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس لے آؤں گا۔" اور ایسا ہی ہوا۔
تحقیقی نکتہ: قرآن یہاں "کرشمہ" یا "جادو" کے بجائے "علم" کا لفظ استعمال کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ تخت کی منتقلی کائنات کے کسی ایسے اعلیٰ قانون (Higher Law) کے تحت ہوئی جسے وہ صاحبِ علم جانتا تھا۔
قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ...
"جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا، اس نے کہا: میں اسے آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے آپ کے پاس لے آؤں گا..." — (سورۃ النمل: 40) [1]
2. قوانینِ فطرت (Physical Laws) اور انسانی تسخیر
ایک بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ فزیکل لاز کسی کے تابع نہیں ہوتے۔ 'حق' یہ ہے کہ قوانینِ فطرت اللہ ہی کے بنائے ہوئے ہیں، لیکن اللہ نے انسان کو ان قوانین کو سمجھنے اور انہیں مسخر (Control) کرنے کی صلاحیت دی ہے۔
کوشش اور علم: جس طرح آج ہم بجلی، کششِ ثقل اور ایٹمی توانائی کے قوانین کو اپنی محنت (Efforts) سے قابو کر کے استعمال کرتے ہیں، اسی طرح وہ "صاحبِ علم" کائنات کے ان نامعلوم قوانین سے واقف تھا جو مادے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لمحوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔
انبیاء اور خاص بندے: اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ایسا علم عطا فرماتا ہے جو عام انسانی دسترس سے باہر ہوتا ہے۔ یہ قوانینِ فطرت کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ ان قوانین کے اعلیٰ درجے کا استعمال ہے۔
3. جدید سائنس کا عجز اور اپالو 10 کا معیار
جب ہم آج کی سائنس کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں اپنی اوقات کا اندازہ ہونا چاہیے:
- رفتار کی حد: انسان کی تیار کردہ تیز ترین چیز اپالو 10 (Apollo 10) ہے، جس کی رفتار 39,900 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس رفتار سے بھی یمن سے فلسطین کا 2500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 4 منٹ درکار ہیں۔
- قرآنی رفتار: قرآن جس منتقلی کی بات کرتا ہے وہ "بصارت کے لوٹنے" (پلک جھپکنے) سے بھی پہلے مکمل ہوئی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ علم موجودہ انسانی سائنس سے کروڑوں گنا زیادہ ایڈوانس تھا۔
4. کوانٹم فزکس اور ٹیلی پورٹیشن کی حقیقت
سائنسدان آج کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے ذریعے ایٹمی ذرات کی معلومات منتقل کر رہے ہیں، لیکن بڑے اجسام (Macro Objects) کے معاملے میں سائنس ایک دیوار سے ٹکراتی ہے:
[Image of quantum teleportation]- ڈی کوہرنس (Decoherence): کوانٹم قوانین کے مطابق تخت جیسے بڑے جسم کے اربوں کھربوں ایٹمز کو ایک ساتھ منتقل کرنا موجودہ معلوم قوانین کے تحت ناممکن ہے، کیونکہ ماحول کے اثر سے ان کی کوانٹم حالت برقرار نہیں رہتی۔
ہمارا موقف: یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن معلوم فزیکل قوانین (Known Laws) کا پابند نہیں ہے۔ یہ اس 'نامعلوم سائنس' کی خبر دیتا ہے جہاں مادہ (Matter) اور وقت (Time) کی حقیقت بدل جاتی ہے۔
5. کیا ماضی کی قومیں ہم سے زیادہ ترقی یافتہ تھیں؟
قرآن کریم نے بارہا یہ حقیقت بیان کی ہے کہ پچھلی قومیں قوت، عمارت سازی اور زمینی تسخیر میں ہم سے بہت آگے تھیں (سورہ روم: 9)۔ تختِ ملکۂ سبا کی منتقلی اسی اعلیٰ ٹیکنالوجی اور علم کی ایک کڑی تھی جو اس دور میں موجود تھی مگر وقت کے ساتھ انسانوں سے اوجھل ہو گئی۔ اہرامِ مصر اور قدیم آثار اس سچائی کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ہم مادی ترقی کے عروج پر نہیں، بلکہ شاید ایک بڑے علم کو بھلا بیٹھے ہیں۔
6. تاریخی و مذہبی پس منظر (ملکۂ سبا)
- نام کی تصحیح: قرآنِ مجید نے کہیں بھی ان کا نام 'بلقیس' ذکر نہیں کیا۔ یہ نام اسرائیلیات اور تاریخی روایات سے آیا ہے۔ ہم قرآنی اصطلاح 'ملکۂ سبا' کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
- دیگر کتب میں ذکر: ملکۂ سبا کا ذکر بائبل (عہد نامہ قدیم و جدید) میں بھی 'ملکۂ شیبا' کے نام سے موجود ہے (دیکھیے: سلاطین-1 باب 10 اور متی 12:42)۔ ان کا ذکر مسیحی اور یہودی روایات میں بھی ایک عظیم اور دانشمند ملکہ کے طور پر ملتا ہے۔
خلاصہ و نتیجہ:
- تختِ ملکۂ سبا کا واقعہ قرآن کی ایک ایسی سائنسی نشانی (Sign) ہے جو انسان کو مادی سرحدوں سے نکل کر کائناتی حقائق پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
- یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ مادے کی فوری منتقلی کائنات میں ممکن ہے۔
- یہ "جادو" نہیں بلکہ "علمِ کتاب" تھا، جو ثابت کرتا ہے کہ کائنات کے قوانین اللہ کے عطا کردہ علم کے تابع ہو سکتے ہیں۔
ہمارا مشن یہ دکھانا ہے کہ سائنس ابھی اپالو 10 کی سست رفتاری اور ڈی کوہرنس کی الجھنوں میں پھنسی ہے، جبکہ قرآن نے 1400 سال پہلے اس علم کی انتہا دکھا دی تھی۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات:
[1] قرآنِ کریم، سورۃ النمل، آیات: 38-40[2] NASA: Apollo 10 Mission Performance and Speed Data
[3] Quantum Physics: The Challenge of Decoherence in Macro Teleportation
#سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #تخت_ملکہ_سبا #علم_کتاب #قرآن_اور_سائنس #معجزہ_یا_سائنس #اسلامی_تحقیق #کوانٹم_فزکس #سبا_کا_تخت #سلیمانی_علم #حق_کی_تلاش #QuranAndScience #QueenOfSheba #Teleportation #QuantumPhysics #IslamicResearch #MiraclesOfQuran #ScienceInIslam #KnowledgeOfBook #Apollo10VsQuran #ModernScienceVsQuran #MatterTransfer
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔
.jpg)
