مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
کیا چیونٹیاں واقعی "بات" کرتی ہیں؟ قرآن کا 1400 سال پرانا دعویٰ اور جدید سائنس
قرآن مجید میں ایک مشہور واقعہ ہے جہاں ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو خطرے سے آگاہ کیا۔ صدیوں تک یہ بات صرف ایمان کا حصہ رہی، لیکن آج جدید ٹیکنالوجی نے ثابت کر دیا ہے کہ چیونٹیوں کا مواصلاتی نظام (Communication System) انسانوں کی سوچ سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔
قرآن کا بیان (سورۃ النمل: 18):
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
حَتَّىٰ إِذَا أَتَوْا عَلَىٰ وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
ترجمہ: "یہاں تک کہ جب وہ (سلیمان علیہ السلام کا لشکر) چیونٹیوں کی وادی پر پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو! اپنے بلوں میں گھس جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔" — (سورۃ النمل: 18) [1]
اس آیت میں چیونٹی کا "کہنا" (قَالَتْ نَمْلَةٌ) اور دوسری چیونٹیوں کو "خطرے سے آگاہ کرنا" ایک واضح کمیونیکیشن ہے۔
جدید سائنس کی گواہی (Ant Communication):
سائنسدانوں (Myrmecologists) نے دریافت کیا ہے کہ چیونٹیاں خاموش نہیں رہتیں، بلکہ وہ مسلسل ایک دوسرے سے "باتیں" کرتی ہیں۔ ان کا یہ رابطہ تین بنیادی طریقوں سے ہوتا ہے، جو قرآن کے بیان کردہ "وارننگ سسٹم" کی تصدیق کرتے ہیں:
1. کیمیائی سگنلز (Pheromones - سب سے اہم):
چیونٹیاں اپنے جسم سے خاص کیمیکلز (فیرومونز) خارج کرتی ہیں۔ یہ ان کی "کیمیائی زبان" ہے۔
- خطرے کا الارم: جب ایک چیونٹی خطرہ محسوس کرتی ہے (جیسے کوئی بڑا لشکر آ رہا ہو)، تو وہ فوراً "الارم فیرومونز" (Alarm Pheromones) ہوا میں چھوڑتی ہے۔ یہ کیمیکل سیکنڈوں میں پھیل کر پوری کالونی کو الرٹ کر دیتا ہے کہ "خطرہ ہے، چھپ جاؤ یا دفاع کرو!"۔ یہ بالکل وہی عمل ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا۔
2. آواز اور تھرتھراہٹ (Sound & Vibration):
کچھ چیونٹیاں خطرے کے وقت اپنے پیٹ کے حصے (Gaster) کو رگڑ کر ایک خاص آواز (Stridulation) پیدا کرتی ہیں یا زمین پر سر ٹکرا کر تھرتھراہٹ پیدا کرتی ہیں۔ یہ سگنل زمین کے ذریعے دوسری چیونٹیوں تک پہنچتا ہے، جو خطرے کی گھنٹی کا کام دیتا ہے۔
3. لمس (Touch):
وہ اپنے اینٹینا (Antennae) کو ایک دوسرے سے مس کر کے بھی فوری پیغامات کا تبادلہ کرتی ہیں۔
نتیجہ:
آج سے 1400 سال پہلے، صحرائے عرب میں، مائیکروسکوپ اور جدید لیبارٹریوں کے بغیر، یہ کون بتا سکتا تھا کہ چیونٹیاں اتنے منظم انداز میں ایک دوسرے کو خطرے کی "اطلاع" دیتی ہیں؟
یہ آیت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ قرآن اس خالق کا کلام ہے جس نے چیونٹی جیسی چھوٹی مخلوق کو بھی اتنا حیران کن نظامِ گفتگو عطا کیا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات:
[1] قرآنِ کریم، سورۃ النمل، آیت: 18[2] Hölldobler, B., & Wilson, E. O. (1990). The Ants. Springer-Verlag.
[3] University of York research on Ant acoustic communication systems.
#QuranAndScience #AntCommunication #SurahAnNaml #MiracleOfQuran #Ethology #Insects #Pheromones #FaithAndReason #IslamAndScience #قرآن_اور_سائنس #چیونٹی_کا_واقعہ #سورۃ_النمل #معجزات_قرآن #اسلام_اور_سائنس
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

