مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
کائناتی میزان: وہ نازک توازن جس پر کائنات کا وجود قائم ہے—قرآن اور جدید سائنس کا تحقیقی مطالعہ
باب اول: کائناتی میزان کا قرآنی تصور اور وسعت
انسانی عقل جب اس وسیع و عریض کائنات کا مشاہدہ کرتی ہے، تو وہ ستاروں کی کہکشاؤں، سیاروں کی گردش اور خلا کی وسعتوں میں ایک ایسا حیرت انگیز نظم و ضبط دیکھتی ہے جو اسے ورطہِ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ یہ کائنات کسی اندھے اتفاق یا بے ہنگم دھماکے کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک ایسی عظیم قدرت کارفرما ہے جس نے ہر شے کو ایک خاص "میزان" پر تول کر رکھا ہے۔ قرآنِ حکیم نے آج سے چودہ سو سال پہلے اس کائناتی توازن کو اس وقت بیان کر دیا تھا جب دنیا ابھی فلکیات کے ابتدائی ابجد سے بھی واقف نہیں تھی۔ سورۃ الرحمٰن کی آیات اس حقیقت کی سب سے بڑی گواہ ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی بلندی اور اس میں قائم کردہ توازن کا ذکر ایک ساتھ فرمایا ہے۔ یہ توازن صرف مادی اشیاء تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ پوری کائنات کی بقا کی بنیاد ہے۔ اگر اس توازن میں بال برابر بھی فرق آ جائے، تو یہ پوری بساطِ عالم لپیٹ دی جائے۔ قرآن کا یہ بیان دراصل انسان کو اس عظیم حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ جس رب نے کائنات کو اتنے عدل اور توازن پر رکھا ہے، وہ تم سے بھی تمہاری عملی زندگی میں عدل اور توازن کا تقاضا کرتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ مجید میں اس کائناتی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے:
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ
(ترجمہ: اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اس نے میزان (توازن) قائم کر دی، تاکہ تم میزان میں حد سے تجاوز نہ کرو، اور انصاف کے ساتھ وزن ٹھیک رکھو اور میزان میں کمی نہ کرو۔) — (سورۃ الرحمٰن: 7-9) [4]
ان آیات میں لفظ "میزان" کا استعمال نہایت گہرا سائنسی مفہوم رکھتا ہے۔ مفسرینِ کرام نے جہاں اس سے مراد عدل و انصاف لیا ہے، وہیں جدید سائنسی دریافتوں نے ثابت کیا ہے کہ "میزان" سے مراد وہ "Fine-Tuning" اور نازک توازن ہے جس پر کائنات کے تمام طبعی قوانین (Physical Laws) قائم ہیں۔ یہ توازن اتنا نپا تلا ہے کہ اگر آسمان کی بلندی اور اس کے اندر موجود قوتوں کے مابین یہ میزان نہ ہوتی، تو کہکشائیں ایک دوسرے سے ٹکرا جاتیں یا اس قدر دور نکل جاتیں کہ ستاروں کی تخلیق ہی ممکن نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بلند کرنے کے ساتھ ہی اس میں توازن کی مہر ثبت کر دی تاکہ کائنات کا ہر ذرہ اپنے مقررہ ضابطے کے تحت کام کرتا رہے اور کائنات میں کبھی کوئی بے قاعدگی پیدا نہ ہو۔
باب دوم: جدید کاسمولوجی اور کائناتی توازن (Fine-Tuning)
جدید دور کی سائنس، خاص طور پر کاسمولوجی (Cosmology) اور نظریاتی طبیعیات (Theoretical Physics) اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ہماری کائنات ایک "انتہائی نازک توازن" (Fine-Tuning) پر کھڑی ہے۔ اسے سائنسدان "The Anthropic Principle" کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں، جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ کائنات کے تمام بنیادی اعداد و شمار (Physical Constants) اتنی باریکی سے طے کیے گئے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک میں بھی معمولی سی تبدیلی زندگی کے وجود کو ناممکن بنا دیتی۔ مثال کے طور پر، اگر کائنات کی پیدائش کے وقت مادہ اور قوتوں کے درمیان یہ میزان نہ ہوتی، تو ایٹموں کی تشکیل ہی نہ ہو پاتی۔ سائنسدان فریڈ ہائل (Fred Hoyle) جیسے ملحد مفکرین بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ کائنات میں کچھ ایسی "ذہانت" کارفرما ہے جس نے کیمسٹری، فزکس اور بیالوجی کے قوانین کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کر رکھا ہے۔ یہ وہ "میزان" ہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے، جہاں ہر قوت دوسری قوت کے ساتھ اس طرح جڑی ہوئی ہے کہ کائنات کا توازن برقرار رہتا ہے۔ [3]
اس توازن کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کائنات میں موجود "پروٹون" اور "الیکٹرون" کے درمیان برقی قوت اور کششِ ثقل کا جو تناسب ہے، وہ ایک کے پیچھے 40 صفر لگانے کے برابر نپا تلا ہے۔ اگر یہ تناسب ذرا سا بھی مختلف ہوتا، تو ستارے کبھی نہ بن پاتے۔ اسی طرح اگر ایٹم کے مرکزے کے اندر موجود قوت (Strong Nuclear Force) اپنی موجودہ مقدار سے محض 2 فیصد کم یا زیادہ ہوتی، تو ہائیڈروجن کے سوا کوئی دوسرا عنصر کائنات میں موجود نہ ہوتا، اور ہائیڈروجن کے بغیر پانی اور زندگی کا تصور محال تھا۔ یہ تمام حقائق پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ کائنات کسی اندھے حادثے کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک ایسی "میزان" رکھی گئی ہے جسے صرف ایک علیم و حکیم خالق ہی ڈیزائن کر سکتا تھا۔ قرآن کا یہ کہنا کہ "اس نے میزان رکھ دی" دراصل اس ریاضیاتی درستگی کی طرف اشارہ ہے جو کائنات کے ذرے ذرے میں رچی بسی ہے۔ [1]
باب سوم: کششِ ثقل—میزانِ کائنات کی سب سے مضبوط کڑی
کائنات کے توازن میں "کششِ ثقل" (Gravity) وہ بنیادی قوت ہے جو ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں کو ان کے مدار میں رکھتی ہے۔ اگر کششِ ثقل کی قوت اپنی موجودہ مقدار سے معمولی سی بھی زیادہ ہوتی، تو کائنات بننے کے فوراً بعد ہی اپنے بوجھ سے سکڑ کر ایک بہت بڑے کالے سوراخ (Black Hole) میں تبدیل ہو کر ختم ہو جاتی، جسے سائنس کی اصطلاح میں "Big Crunch" کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر یہ قوت معمولی سی بھی کم ہوتی، تو مادہ کبھی اکٹھا ہو کر ستارے اور سیارے نہ بنا پاتا اور پوری کائنات گیس کے بادلوں کی طرح بکھر کر رہ جاتی۔ یہ کششِ ثقل کا وہ "میزان" ہے جس نے زمین کو سورج سے ایک خاص فاصلے پر رکھا ہوا ہے۔ سورج کی شدید تپش اور زمین کی دوری کے درمیان ایک ایسی میزان قائم ہے کہ زمین پر درجہ حرارت نہ اتنا زیادہ ہے کہ سب کچھ جل جائے، اور نہ اتنا کم ہے کہ سب کچھ جم کر رہ جائے۔
سائنسدانوں نے حساب لگایا ہے کہ اگر کششِ ثقل کی قوت میں 10 کی پاور 60 (یعنی ایک کے پیچھے 60 صفر) کے برابر بھی فرق ہوتا، تو کائنات کا موجودہ نقشہ کبھی نہ بنتا۔ اتنی باریک ریاضیاتی ترتیب کا اتفاقیہ ہونا ناممکنات میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الرحمٰن میں میزان کا ذکر کر کے انسان کو یہ سمجھایا ہے کہ آسمان کی بلندیوں میں جو توازن تم دیکھتے ہو، وہ میری قدرت کی نشانی ہے۔ یہ کششِ ثقل ہی ہے جو سمندروں کے پانی کو زمین پر ٹکا کر رکھتی ہے اور ہمیں خلا میں اڑنے سے بچاتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کائنات میں یہ میزان نہ رکھی ہوتی، تو کائنات کے تمام مادی نظام درہم برہم ہو جاتے۔ قرآن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اس توازن پر غور کریں اور اس خالق کی بندگی کریں جس نے کائنات کے اتنے بڑے ڈھانچے کو ایک نہایت باریک اور نازک توازن پر ٹکا رکھا ہے۔ [3]
باب چہارم: کائناتی پھیلاؤ اور میزان کی درستگی
بگ بینگ (Big Bang) کے نظریے کے مطابق کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ پھیلاؤ بے ہنگم نہیں ہے، بلکہ اس کی رفتار ایک انتہائی نازک توازن پر کھڑی ہے۔ اگر کائنات کے پھیلنے کی رفتار (Expansion Rate) ایک سیکنڈ کے اربویں حصے کے برابر بھی زیادہ ہوتی، تو مادہ اتنی تیزی سے دور نکل جاتا کہ کہکشائیں کبھی بن ہی نہ پاتیں۔ اور اگر یہ رفتار ذرا سی بھی کم ہوتی، تو کائنات بننے کے چند لمحوں بعد ہی دوبارہ گر کر تباہ ہو جاتی۔ اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) جیسے بڑے سائنسدانوں نے اعتراف کیا ہے کہ کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار اتنی نپی تلی ہے کہ یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ یہ پھیلاؤ اور کششِ ثقل کے درمیان وہ "میزان" ہے جس کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے۔ [2]
قرآنِ مجید میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْبَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓى اَنْ يُّحْيِيَ الْمَوْتٰى ؕ بَلٰٓى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
(ترجمہ: کیا وہ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے نہ تھکا، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کرے؟ کیوں نہیں، بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔) — (سورۃ الاحقاف: 33) [4]
کائنات کے پھیلاؤ کا یہ توازن ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے حکم کا پابند ہے۔ سائنس جسے "Hubble Constant" کہتی ہے، وہ دراصل اللہ کی وہ "میزان" جو کائنات کی وسعتوں کو ایک ترتیب فراہم کرتی ہے۔ یہ کائناتی پھیلاؤ زندگی کے وجود کے لیے اس لیے ضروری ہے تاکہ مادہ اتنا ٹھنڈا ہو سکے کہ ایٹم اور مالیکیولز بن پائیں۔ اگر یہ توازن نہ ہوتا، تو کائنات کی حدت (Heat) ہی سب کچھ بھسم کر دیتی۔ پس ثابت ہوا کہ کائنات کا پھیلنا بھی ایک میزان کے تحت ہے اور اس کا سکون بھی ایک میزان کے تحت ہے۔
باب پنجم: ایٹمی میزان اور مادی بقا
اگر ہم مائیکرو اسکوپک لیول پر دیکھیں، تو ایٹم کے اندر بھی وہی "میزان" نظر آتی ہے جو کہکشاؤں میں موجود ہے۔ ایک ایٹم کے اندر پروٹون، نیوٹرون اور الیکٹرون کے درمیان جو قوتیں کام کر رہی ہیں، وہ اتنی متوازن ہیں کہ اگر ان میں معمولی سا بگاڑ پیدا ہو جائے، تو مادہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔ ایٹمی مرکزے کے اندر موجود "Strong Nuclear Force" اگر تھوڑی سی بھی کمزور ہوتی، تو کائنات میں ہائیڈروجن کے علاوہ کوئی دوسرا عنصر نہ بنتا۔ اور اگر یہ قوت تھوڑی سی زیادہ ہوتی، تو ہائیڈروجن ختم ہو جاتی اور کائنات میں سورج جیسے ستارے نہ بن پاتے جو ہائیڈروجن کے فیوژن سے روشنی دیتے ہیں۔ یہ توازن اس بات کی دلیل ہے کہ مائیکرو کائنات ہو یا میکرو کائنات، ہر جگہ اللہ کی میزان قائم ہے۔
قرآنِ حکیم اس ایٹمی اور ذراتی توازن کی طرف یوں اشارہ فرماتا ہے:
اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ
(ترجمہ: بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے (تقدیر/میزان) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔) — (سورۃ القمر: 49) [4]
یہ "قدر" یا اندازہ ہی وہ میزان ہے جسے آج کی سائنس "Fine-Tuning" کہہ رہی ہے۔ ایٹم کے اندر الیکٹرون کا اپنے مدار میں گھومنا اور اس کا مرکزے کی طرف نہ گرنا، ایک ایسی برقی مقناطیسی میزان ہے جو مادی کائنات کو ٹھہراؤ عطا کرتی ہے۔ اگر کائنات میں یہ میزان نہ ہوتی، تو مادہ ریت کے ذرات کی طرح بکھر جاتا اور کوئی ٹھوس چیز وجود میں نہ آتی۔ پس ثابت ہوا کہ اللہ کی میزان کائنات کے ہر ایٹم کے دل میں دھڑک رہی ہے۔
باب ششم: نظامِ شمسی اور زمین کا توازن
کائنات کی وسعتوں سے نکل کر اگر ہم اپنے نظامِ شمسی پر غور کریں، تو یہاں بھی "میزان" کے حیرت انگیز مظاہر نظر آتے ہیں۔ زمین کا سورج سے فاصلہ اتنا نپا تلا ہے کہ اگر زمین موجودہ فاصلے سے محض 5 فیصد قریب ہو جاتی، تو سمندروں کا پانی بھاپ بن کر اڑ جاتا اور زمین تپتا ہوا ریگستان بن جاتی۔ اور اگر زمین 5 فیصد دور چلی جاتی، تو پورا کرہِ ارض برف کا ایک تودہ بن جاتا جہاں زندگی کا سانس لینا ممکن نہ ہوتا۔ اسی طرح زمین کا اپنے محور پر 23.5 ڈگری کے زاویے پر جھکا ہونا وہ میزان ہے جس کی وجہ سے موسم بدلتے ہیں اور زندگی کی رونق برقرار رہتی ہے۔ اگر یہ جھکاؤ نہ ہوتا، تو قطبین پر کبھی نہ ختم ہونے والی سردی اور خطِ استوا پر کبھی نہ ختم ہونے والی گرمی ہوتی۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کے اس توازن کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے:
الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ
(ترجمہ: سورج اور چاند ایک حساب (میزان) کے مطابق چل رہے ہیں۔) — (سورۃ الرحمٰن: 5) [4]
یہ "حسبان" یا حساب وہی میزان ہے جس نے زمین کے ماحول کو انسان کے لیے سازگار بنایا ہوا ہے۔ چاند کی کششِ ثقل سمندروں میں جوار بھاٹا (Tides) پیدا کرتی ہے جس سے سمندر کا پانی سڑنے سے بچا رہتا ہے اور آکسیجن پیدا ہوتی ہے۔ یہ تمام نظام ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ایک کی کمی دوسرے کے بگاڑ کا باعث بنتی ہے۔ یہ کائناتی توازن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ تمہارا رب تمہیں ضائع کرنے والا نہیں، بلکہ اس نے تمہارے لیے پوری کائنات کو ایک میزان پر سجا رکھا ہے۔
باب ہفتم: ناقدین کا جواب اور الحادی نظریات کا رد
آج کے دور میں کچھ ملحد مفکرین کائنات کے اس حیرت انگیز توازن (Fine-Tuning) کو دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، کیونکہ یہ توازن براہِ راست ایک خالق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حقیقت سے بچنے کے لیے انہوں نے "ملٹی ورس" (Multiverse) کا سہارا لیا ہے، یعنی وہ کہتے ہیں کہ شاید ایسی اربوں کائناتیں موجود ہیں اور اتفاق سے ہماری کائنات میں یہ توازن پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن سائنسی طور پر یہ نظریہ ایک مفروضے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر ہم ایک لمحے کے لیے یہ مان بھی لیں کہ اربوں کائناتیں ہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اربوں کائناتوں کو جنم دینے والی "کائناتی مشین" کا ڈیزائنر کون ہے؟ ملٹی ورس کا نظریہ خود ایک خالق کا متقاضی ہے۔ میزان کبھی اتفاق سے قائم نہیں ہوتی، میزان ہمیشہ ایک "تولنے والے" کا پتا دیتی ہے۔
قرآنِ حکیم ایسے لوگوں کو چیلنج کرتا ہے جو کائنات کی تخلیق میں شک کرتے ہیں:
اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ بَلْ لَّا يُوِقِنُوْنَ
(ترجمہ: کیا وہ کسی (خالق) کے بغیر خود بخود پیدا ہو گئے ہیں یا وہ خود اپنے خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ وہ یقین نہیں رکھتے۔) — (سورۃ الطور: 35-36) [4]
جدید سائنس کی میزان ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کا "میزان" پر ہونا ریاضیاتی طور پر ایک ایسی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اتفاقیہ طور پر ایک کائنات کا اتنے نازک توازن پر ہونا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ایک دھماکے سے ایک مکمل لائبریری خود بخود بن گئی ہو۔ عقل سلیم کبھی اسے تسلیم نہیں کرے گی۔ کائنات کی یہ میزان الحاد کے تابوت میں آخری کیل ہے، کیونکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ایک اعلیٰ ترین مقصد کے تحت تخلیق کیا گیا ہے۔
باب ہشتم: کائناتی توازن سے انسانی عدل تک (حاصلِ کلام)
سورۃ الرحمٰن کی ان آیات کا اصل پیغام یہ ہے کہ جب تم دیکھتے ہو کہ اللہ نے اتنی عظیم کائنات کو ایک میزان پر ٹکا رکھا ہے اور اس میں کہیں بھی کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہے، تو تم اپنی چھوٹی سی زندگی میں کیوں بگاڑ پیدا کرتے ہو؟ اللہ نے کائنات میں مادی توازن رکھا ہے اور انسان سے اخلاقی توازن کا تقاضا کیا ہے۔ "أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ" (تاکہ تم میزان میں حد سے تجاوز نہ کرو) کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کے توازن سے سبق سیکھو اور اپنی زندگی میں بھی عدل و انصاف قائم کرو۔ جس طرح کائنات کی بقا توازن میں ہے، اسی طرح انسانی معاشرے کی بقا بھی عدل و انصاف میں ہے۔ اگر کائنات کی میزان بگڑ جائے تو کائنات ختم ہو جائے گی، اور اگر انسانی معاشرے کی عدل کی میزان بگڑ جائے تو انسانیت ختم ہو جائے گی۔
قرآنِ حکیم ہمیں کائنات کے مشاہدے سے اللہ کی معرفت کی طرف لے جاتا ہے۔ کائناتی میزان دراصل اللہ کے "خالق" اور "علیم" ہونے کی سب سے بڑی مہر ہے۔ جدید سائنس آج جس Fine-Tuning پر حیران ہے، قرآن نے اسے "میزان" کہہ کر انسان کا سر بندگی میں جھکا دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کائنات کے اس توازن پر غور کریں اور اس رب کی عظمت کو پہچانیں جس نے ہمیں اس متوازن کائنات کا حصہ بنایا۔ یہ کائنات کسی اندھے کھیل کا نام نہیں، بلکہ یہ ربِ کائنات کی وہ عظیم میزان ہے جہاں عدل، خوبصورتی اور توازن ایک دوسرے کے ساتھ بغل گیر ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات:
[1] The Fine-Tuned Universe: Evidence for Design (By Dr. Hugh Ross).[2] A Brief History of Time (By Stephen Hawking).
[3] The Goldilocks Enigma: Why is the Universe Just Right for Life? (By Paul Davies).
[4] قرآنِ حکیم: سورۃ الرحمٰن، سورۃ القمر، سورۃ الاحقاف، سورۃ الطور۔
[5] تفسیر ابنِ کثیر اور تفسیرِ قرطبی (میزان کے مفاہیم)۔
#کائناتی_میزان #قرآن_اور_سائنس #توازن_کائنات #FineTunedUniverse #Cosmology #Mizan #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #معجزات_قرآن #طارق_اقبال_سوہدروی #فزکس_اور_اسلام #عدل_کائنات #خالق_حقیقی
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

