⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

کیا جانوروں کی بھی "امتیں" ہیں؟ ایتھولوجی اور قرآنی بیانیہ کا تحقیقی مطالعہ

 
یک پروقار سائنسی منظر جس میں پرندوں کے جھنڈ کو 'V' کی شکل میں اڑتے، زمین پر چیونٹیوں کی زیرِ زمین بستی اور درخت پر شہد کی مکھیوں کے چھتے کو دکھایا گیا ہے، جو ان کے 'منظم سماجی نظام' اور ایک 'امت' ہونے کی عکاسی کرتا ہے


مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

کیا جانوروں کی بھی "امتیں" ہیں؟ ایتھولوجی اور قرآنی بیانیہ کا تحقیقی مطالعہ

پیش لفظ: کائنات کا سماجی ڈھانچہ

انسانی شعور نے ہمیشہ خود کو کائنات کا مرکز سمجھا ہے، لیکن جیسے جیسے علم کے افق روشن ہوئے، ہمیں معلوم ہوا کہ ہم اس وسیع و عریض کائنات میں اکیلے نہیں ہیں۔ زمین کے چپے چپے پر پھیلی ہوئی لاکھوں کروڑوں مخلوقات محض "زندہ اجسام" نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک مربوط، منظم اور حیران کن سماجی نظام کا حصہ ہیں۔ جدید حیاتیات (Biology) کی شاخ "ایتھولوجی" (Ethology) جو جانوروں کے رویوں کا مطالعہ کرتی ہے، آج ہمیں وہ حقائق بتا رہی ہے جن کا ادراک چند دہائیاں قبل ناممکن تھا۔ مگر ایک صاحبِ ایمان کے لیے اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ کلامِ الٰہی نے چودہ سو سال قبل، جب انسان ابھی شعور کی ابتدائی منزلیں طے کر رہا تھا، جانوروں کے اس سماجی تنوع کو ایک جامع لفظ "اُمم" (امتیں) میں سمو دیا تھا۔

باب اول: قرآنی اعلان اور لغوی تفہیم

قرآنِ مجید کی سورۃ الانعام میں اللہ رب العزت کا وہ عظیم الشان اعلان موجود ہے جو حیوانات کے مطالعے کے لیے ایک مکمل فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ ۝

(ترجمہ: اور زمین میں چلنے والا کوئی جانور اور اپنے دو پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں ہے جو تمہاری طرح کی امتیں نہ ہوں۔ ہم نے اس کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی (جس کا ذکر نہ کیا ہو)، پھر وہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے۔) — (سورۃ الانعام: 38)

لفظ "اُمم" کی گہرائی
عربی لغت میں "امۃ" (امت) محض ایک گروہ کو نہیں کہتے۔ امام راغب اصفہانی کے مطابق، امت اس جماعت کو کہا جاتا ہے جو کسی ایک بنیاد پر اکٹھی ہو، چاہے وہ دین ہو، زمانہ ہو یا مکان ہو۔ جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جانور "اُممٌ اَمْثَالُکُم" (تمہاری جیسی امتیں) ہیں، تو اس کے کئی گہرے معانی نکلتے ہیں:

  • نظامِ حیات: جس طرح انسانوں کا ایک نظامِ حیات (Sustenance) ہے، ویسے ہی ہر جانور کا رزق، نسل کشی اور بقا کا ایک متعین نظام ہے۔
  • سماجی درجہ بندی: جس طرح انسانی معاشروں میں سربراہ، کارکن اور محافظ ہوتے ہیں، جانوروں میں بھی یہ تقسیم موجود ہے۔
  • مواصلات: ان کے درمیان رابطے کا ایک مکمل نظام موجود ہے جسے ہم "بولی" یا "کمیونیکیشن" کہتے ہیں۔
  • حشر و نشر: یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ ان مخلوقات کا بھی ایک انجام ہے اور وہ بھی اللہ کے حضور پیش کیے جائیں گے۔

کلاسیکل مفسرین، جیسے امام طبری اور ابن کثیر رحمہ اللہ، اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ جانوروں کو "امتیں" اس لیے کہا گیا کہ وہ اپنی تخلیق، رزق، اور تدبیرِ الٰہی میں انسانوں کے مشابہ ہیں۔ یعنی وہ محض اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوئے، بلکہ ایک خاص منصوبے (Design) کا حصہ ہیں۔

باب دوم: ایتھولوجی (Ethology) – مشاہدے سے علم تک

ایتھولوجی حیاتیات کی وہ شاخ ہے جو جانوروں کے رویوں (Animal Behavior) کا ان کے قدرتی ماحول میں مطالعہ کرتی ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں جب کونراڈ لورینز (Konrad Lorenz) اور کارل ون فرش (Karl von Frisch) جیسے سائنسدانوں نے جانوروں کی زندگی کا گہرا مشاہدہ کیا، تو وہ دنگ رہ گئے کہ جانوروں کے سماجی روابط کتنے پختہ ہیں۔

اجتماعی ذہانت (Collective Intelligence)
جدید سائنس جسے "سوارم انٹیلیجنس" (Swarm Intelligence) کہتی ہے، وہ دراصل قرآنی اصطلاح "امت" کی سائنسی تشریح ہے۔ کوئی ایک چیونٹی یا ایک شہد کی مکھی تنہا وہ کام نہیں کر سکتی جو پوری کالونی مل کر کرتی ہے۔ ان کا آپسی تعاون اتنا بلند درجے کا ہوتا ہے کہ وہ ایک "سپر آرگنزم" (Superorganism) کی طرح کام کرتے ہیں۔ سائنسدانوں نے دیکھا ہے کہ جانوروں میں:

  • تقسیمِ کار (Division of Labor): ہر فرد کو معلوم ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے۔
  • ایثار (Altruism): کئی جانور اپنی کمیونٹی کے لیے اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں۔
  • تعلیم و تعلم: بڑے جانور چھوٹوں کو شکار اور بچاؤ کے طریقے سکھاتے ہیں۔

باب سوم: چیونٹیوں کا تذکرہ – ایک منظم شہری ریاست

قرآنِ مجید میں ایک پوری سورت کا نام "النمل" (چیونٹی) ہے۔ اس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعے کے ضمن میں ایک چیونٹی کا قول نقل کیا گیا ہے:

حَتَّىٰ إِذَا أَتَوْا عَلَىٰ وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۝

(سورۃ النمل: 18)

سائنسی انکشافات
اس ایک چھوٹی سی آیت نے چیونٹیوں کے جس سماجی ڈھانچے کی طرف اشارہ کیا، سائنس نے اسے بیسویں صدی میں دریافت کیا:

  • کیمیائی لینگویج (Pheromones): چیونٹیاں ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے خاص قسم کے کیمیکلز کا اخراج کرتی ہیں۔ جب ایک چیونٹی خطرہ دیکھتی ہے، تو وہ "الارم فیرومونز" خارج کرتی ہے جس سے پوری کالونی الرٹ ہو جاتی ہے۔ قرآن کا یہ کہنا کہ "ایک چیونٹی نے کہا" دراصل ان کے مواصلاتی نظام کی تصدیق ہے۔
  • منظم بستیاں: چیونٹیوں کے بل (Anthills) محض سوراخ نہیں ہوتے، بلکہ ان میں باقاعدہ کمرے، گودام، ملکہ کا محل اور یہاں تک کہ کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہیں بھی ہوتی ہیں۔
  • سماجی شعور: چیونٹی کا یہ کہنا کہ "وہ (سلیمان اور ان کا لشکر) شعور نہیں رکھتے" (وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ) یہ بتاتا ہے کہ چیونٹیاں نہ صرف اپنے خطرے کو پہچانتی ہیں بلکہ دوسروں کے ارادوں کا ادراک بھی رکھتی ہیں۔

باب چہارم: شہد کی مکھیاں – وحیِ الٰہی کا شاہکار

سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ۝

(ترجمہ: اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی (وحی کر دی) کہ پہاڑوں میں، اور درختوں میں اور لوگوں کی بنائی ہوئی چھتریوں میں گھر بنا۔) — (سورۃ النحل: 68)

سائنسی باریکیاں
شہد کی مکھیوں کی "امت" کا مطالعہ کرنے والے سائنسدان کارل ون فرش کو 1973 میں نوبل پرائز دیا گیا کیونکہ اس نے ان کے "ویگل ڈانس" (Waggle Dance) کو دریافت کیا۔

  • ریاضیاتی مہارت: جب کوئی مکھی دور کہیں پھولوں کا باغ دریافت کرتی ہے، تو وہ چھتے میں واپس آکر ایک خاص ترتیب سے ناچتی ہے۔ اس رقص کے زاویے اور رفتار سے وہ دوسری مکھیوں کو سورج کی سمت کے حساب سے باغ کا فاصلہ اور درست سمت بتاتی ہے۔
  • اجتماعی فیصلہ سازی: شہد کی مکھیاں جب نیا چھتہ بناتی ہیں، تو وہ باقاعدہ "ووٹنگ" کے ذریعے بہترین جگہ کا انتخاب کرتی ہیں۔ کیا یہ سب ایک "منظم امت" ہونے کی دلیل نہیں؟
 
ایک علمی اور تحقیقی تصویر جس میں چیونٹیوں کے اینٹینا کے ذریعے باہمی رابطے اور شہد کی مکھیوں کی سماجی درجہ بندی (Hierarchy) کو سائنسی گرافک کے ذریعے دکھایا گیا ہے، جو 'امم' (امتیں) کے قرآنی تصور کو واضح کرتی ہے


باب پنجم: پرندوں اور مچھلیوں کے جھنڈ – ہم آہنگی کا معجزہ

قرآنِ مجید پرندوں کے اڑنے کو اللہ کی نشانی قرار دیتا ہے:

أَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرَاتٍ فِي جَوِّ السَّمَاءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ۝

(سورۃ النحل: 79)

ہوائی اور آبی امتیں
پرندوں کا ہزاروں میل کا سفر (Migration) اور مچھلیوں کا سمندروں میں گروہ کی شکل میں تیرنا (Schooling) جدید سائنس کے لیے حیرت کا باعث ہے۔

  • باہمی تعاون: پرندے جب 'V' کی شکل میں اڑتے ہیں، تو وہ ہوا کے دباؤ کو کم کر کے ایک دوسرے کی توانائی بچاتے ہیں۔ جو پرندہ آگے ہوتا ہے، تھکنے پر وہ پیچھے چلا جاتا ہے اور دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ یہ نظم و ضبط کسی تربیت یافتہ فوج سے کم نہیں ہے۔
  • سمندری امتیں: وہیل مچھلیوں اور ڈولفن ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرتی ہیں۔ اگر ایک ڈولفن زخمی ہو جائے، تو دوسری ڈولفنز اسے پانی کی سطح پر رکھتی ہیں تاکہ وہ سانس لے سکے۔

باب ششم: کیا جانوروں میں اخلاقیات اور جذبات ہوتے ہیں؟

جدید ایتھولوجی اب "انیمل موریلٹی" (Animal Morality) پر تحقیق کر رہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ:

  • ہاتھیوں کا سوگ: جب کسی ہاتھی کی موت ہوتی ہے، تو پورا ریوڑ خاموشی اختیار کرتا ہے اور کئی دنوں تک اس کے ڈھانچے کے پاس آکر غم کا اظہار کرتا ہے۔
  • بندروں میں انصاف کا تصور: تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اگر دو بندروں کو ایک ہی کام کے بدلے مختلف صلہ دیا جائے، تو محروم رہنے والا بندر احتجاج کرتا ہے۔

قرآن نے انہیں "امتیں" کہہ کر دراصل ان کے اندر موجود اسی "سماجی شعور" اور "باہمی حقوق و فرائض" کی طرف اشارہ کیا تھا جو انسانی معاشروں کا خاصہ ہیں۔

باب ہفتم: مادہ پرستی کا رد اور خالق کا اثبات

کئی مادہ پرست سائنسدان ان رویوں کو محض "ارتقائی جبلت" (Evolutionary Instinct) کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک بے دماغ خلیے یا ڈی این اے کے اندر اتنی پیچیدہ "سوشل کوڈنگ" کس نے کی؟ شہد کی مکھی کو انجینئرنگ کے اصول کس نے سکھائے؟ چیونٹی کو کیمیائی زبان کس نے عطا کی؟ قرآن اس کا جواب "وَاَوْحٰی رَبُّکَ" (اور تیرے رب نے وحی کی) میں دیتا ہے۔ یہ جبلت نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ان کے سافٹ ویئر میں ڈالی گئی "ہدایت" ہے۔

نتیجہ: کائنات کی ہم آہنگی

جانوروں کی یہ "امتیں" ہمیں پیغام دیتی ہیں کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ ایک مقصد کے تحت جڑا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ان کا مشاہدہ کرنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ وہ اپنی بڑائی کے زعم سے نکلے اور پہچانے کہ وہ رب کتنا عظیم ہے جس نے ایک مچھر سے لے کر ایک وہیل مچھلی تک، ہر ایک کو ایک منظم معاشرے کا حصہ بنایا ہے۔ سائنس قرآن کے حضور میں آج یہ گواہی دیتی ہے کہ چودہ سو سال پہلے کا امی نبی ﷺ جب جانوروں کو "تمہاری جیسی امتیں" پکار رہا تھا، تو وہ دراصل کائنات کی اس گہری سچائی کو بیان کر رہا تھا جسے دریافت کرنے میں انسان کو چودہ صدیاں لگ گئیں۔

هَٰذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ... ۝

(ترجمہ: یہ اللہ کی تخلیق ہے، اب مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے؟) — (سورۃ لقمان: 11)

واللہ اعلم بالصواب۔


تحقیقی مراجع:

[1] القرآن الکریم (سورۃ الانعام، النحل، النمل)۔
[2] تفسیر ابن کثیر، امام ابن کثیر رحمہ اللہ۔
[3] The Soul of the White Ant, Eugène Marais.
[4] The Dance Language and Orientation of Bees, Karl von Frisch.
[5] Ethology: The Mechanisms and Evolution of Behavior, James L. Gould.

#QuranAndScience #Ethology #AnimalCommunities #SocialBiology #QuranicMiracles #IslamAndScience #FaithAndReason #AnimalBehavior #AyatOfAllah #قرآن_اور_سائنس #جانوروں_کی_امتیں #معجزات_قرآن #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #طارق_اقبال_سوہدروی

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال