⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

ہوا میں معلق "پانی کے دیوہیکل پہاڑ": بادلوں کی تشکیل کا حیرت انگیز سائنسی اعجاز اور قرآن کی بصیرت

 
ایک دیوہیکل بادل (Cumulonimbus) جو پہاڑ کی مانند نظر آ رہا ہے، اس کے اندرونی حصے میں پانی کے لاکھوں ٹن وزن اور ہوائی دباؤ (Updrafts) کی سائنسی عکاسی۔


مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

ہوا میں معلق "پانی کے دیوہیکل پہاڑ": بادلوں کی تشکیل کا حیرت انگیز سائنسی اعجاز اور قرآن کی بصیرت

باب اول: بادلوں کا وزن اور مادہ پرستی کا مغالطہ

آسمان کی وسعتوں میں روئی کے گالوں کی طرح تیرتے ہوئے بادل ہمیں بہت ہلکے پھلکے اور بے وزن نظر آتے ہیں۔ ایک عام انسان کے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ یہ بادل جو ہوا کے دوش پر بغیر کسی سہارے کے اڑ رہے ہیں، اپنے اندر لاکھوں ٹن پانی سموئے ہوئے ہیں۔ جدید موسمیات (Meteorology) ہمیں بتاتی ہے کہ ایک اوسط درجے کا بادل، جسے سائنس کی اصطلاح میں 'Cumulus Cloud' کہا جاتا ہے، اس کا وزن تقریباً پانچ لاکھ کلو گرام یعنی 500 ٹن سے بھی زائد ہو سکتا ہے۔ یہ وزن تقریباً 100 ہاتھیوں یا ایک بڑے دیوہیکل بوئنگ ہوائی جہاز کے برابر ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا وزنی مادہ ہوا میں کیسے معلق رہتا ہے؟ یہ زمین پر کیوں نہیں گرتا؟ اس کی وجہ ہوا کا وہ دباؤ اور اوپر کی طرف اٹھنے والی گرم لہریں (Updrafts) ہیں جو ان بادلوں کو سہارا دیے رکھتی ہیں۔

سائنس بتاتی ہے کہ بادلوں کے اندر پانی کے قطرے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ان پر کششِ ثقل کا اثر بہت کم ہوتا ہے اور وہ ہوا کی معمولی لہروں سے بھی فضا میں تیرتے رہتے ہیں۔ جب ہم لاکھوں ٹن وزنی بادلوں کو دیکھتے ہیں تو دراصل ہم قدرت کی انجینئرنگ کا وہ شاہکار دیکھ رہے ہوتے ہیں جہاں مائع مادہ گیس کی طرح فضا میں معلق ہے۔ قرآنِ حکیم نے صدیوں پہلے ان بادلوں کو "ثِقَال" یعنی بوجھل قرار دے کر انسانی عقل کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ مادہ پرست ذہن جو ہر چیز کو اتفاق سمجھتا ہے، وہ اس توازن کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ لاکھوں ٹن وزنی پانی کے ذخائر ہمارے سروں پر کس طرح بغیر کسی ستون کے تیر رہے ہیں۔ یہ صرف اس خالق کی منصوبہ بندی ہے جس نے فزکس کے قوانین کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ بادل زندگی کا پیغام بن کر زمین کے پیاسے حصوں تک پہنچ سکیں۔

ھُوَ الَّذِیْ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّیُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ ۝

ترجمہ: وہی ہے جو تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈرانے کے لیے اور امید دلانے کے لیے اور وہی بوجھل بادلوں کو پیدا کرتا ہے۔ — (سورہ الرعد: 12) [4]

یہاں "السَّحَابَ الثِّقَالَ" (بوجھل بادل) کا لفظ استعمال کرنا بذاتِ خود ایک سائنسی معجزہ ہے، کیونکہ اس وقت کے انسان کے پاس بادلوں کا وزن کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ آج کی سائنس نے ان بادلوں کے وزن کی تصدیق کر کے ثابت کر دیا کہ قرآن اسی ہستی کا کلام ہے جو بادلوں کی حقیقت سے واقف ہے۔

باب دوم: بادلوں کی تشکیل کا پہلا مرحلہ—ارسالِ ریاح (بادلوں کا چلنا)

جدید موسمیات بادلوں کے بننے کے عمل کو نہایت پیچیدہ قرار دیتی ہے، لیکن قرآن نے اسے نہایت سادہ اور جامع انداز میں تین مراحل میں بیان کر دیا ہے۔ بادل بننے کا پہلا مرحلہ وہ ہے جب ہوائیں بخارات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ دھکیلتی ہیں۔ جب سورج کی تپش سے سمندروں کا پانی بخارات بن کر اوپر اٹھتا ہے، تو یہ ہوائیں ہی ہیں جو ان بخارات کو اکٹھا کرتی ہیں اور انہیں بادلوں کی ابتدائی شکل دیتی ہیں۔ سائنس کی زبان میں اسے بادلوں کا "نرجنگ" (Nudging) یا "ڈرائیونگ" کہا جاتا ہے۔ یہ ہوائیں نہ صرف بادلوں کو چلاتی ہیں بلکہ ان کے اندر نمی کو بھی ایک خاص تناسب سے برقرار رکھتی ہیں۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہٗ ثُمَّ یَجْعَلُہٗ رُکَامًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ ۚ وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْہَا مِنْ بَرَدٍ ۝

ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادل کو چلاتا ہے، پھر ان کے ٹکڑوں کو آپس میں جوڑتا ہے، پھر اسے تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان میں سے بارش نکل رہی ہے، اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں (جیسی بدلیوں) سے اولے برساتا ہے جو اس میں پائے جاتے ہیں۔ — (سورۃ النور: 43) [4]

اس آیت کا پہلا حصہ "یُزْجِیْ سَحَابًا" (بادل کو چلاتا ہے) بادلوں کی تشکیل کے اسی ابتدائی مرحلے کو بیان کرتا ہے جسے آج ہم سیٹلائٹ امیجز کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ ہوائیں بادلوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو ایک منظم طریقے سے آگے بڑھاتی ہیں، جو کہ بارش کے پورے نظام کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اگر ہوائیں بادلوں کو نہ چلائیں تو بارش کا نظام ایک ہی جگہ تک محدود ہو جائے اور کرہِ ارض کا ایک بڑا حصہ بنجر رہ جائے۔ یہ نظامِ قدرت کی وہ میزان ہے جو زمین پر زندگی کا توازن برقرار رکھتی ہے۔

باب سوم: بادلوں کا جڑنا—مرحلہِ تالیف اور سائنسی "Convergence"

بادل بننے کا دوسرا مرحلہ تالیف (Joining) کا ہے۔ جب چھوٹے بادل فضا میں بکھرے ہوئے ہوتے ہیں، تو ہوائیں انہیں ایک مرکز کی طرف دھکیلتی ہیں۔ جب یہ چھوٹے ٹکڑے آپس میں ملتے ہیں، تو ایک بڑے بادل کی بنیاد پڑتی ہے۔ جدید سائنس میں اس عمل کو "Convergence" کہا جاتا ہے۔ اس مرحلے پر بادلوں کے اندر برقی چارج (Electric Charge) پیدا ہونا شروع ہوتا ہے اور نمی کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ چھوٹے بادلوں کا آپس میں ملنا ایک نہایت نازک عمل ہے، اگر ان کے ملاپ میں ہوا کا دباؤ کم یا زیادہ ہو جائے تو بادل بارش برسانے کے قابل نہیں رہتے۔

قرآنِ کریم نے اس کے لیے "یُؤَلِّفُ بَیْنَہٗ" کا لفظ استعمال کیا ہے، جس کا مطلب ہے "ان کے درمیان الفت پیدا کرنا یا جوڑ دینا"۔ یہ لفظ نہایت بلیغ ہے کیونکہ بادل کے ٹکڑے جب جڑتے ہیں تو وہ ایک اکائی بن جاتے ہیں۔ ہوائیں ان بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ایک لڑی میں پرو دیتی ہیں۔ جدید موسمیات بتاتی ہے کہ جب بادل جڑتے ہیں تو ان کے اندر موجود پانی کے قطرے آپس میں ٹکرا کر بڑے قطرے بننے لگتے ہیں۔ یہ تالیف کا عمل ہی ہے جو بادلوں کو وہ طاقت فراہم کرتا ہے کہ وہ بارش برسانے کے لیے تیار ہو سکیں۔

باب چہارم: تہہ بہ تہہ بادل اور "رکاما" کی حقیقت

جب بادل آپس میں جڑ جاتے ہیں، تو تشکیل کا تیسرا اور سب سے اہم مرحلہ شروع ہوتا ہے جسے قرآن نے "رکاما" کہا ہے۔ رکاما کا مطلب ہے "تہہ بہ تہہ جمع ہونا یا ڈھیر لگ جانا"۔ جدید سائنس میں اس قسم کے بادلوں کو 'Cumulonimbus' کہا جاتا ہے۔ جب بادلوں کے ٹکڑے جڑتے ہیں تو ہوا کا دباؤ انہیں اوپر کی طرف اٹھاتا ہے۔ یہ عمودی بڑھوتری (Vertical Development) بادلوں کو ایک کے اوپر ایک تہوں کی صورت میں ڈھیر کر دیتی ہے۔ یہ بادل اتنے اونچے ہو جاتے ہیں کہ ان کی بلندی زمین سے کئی کلو میٹر تک جا پہنچتی ہے۔

[Image of cloud formation process]

سائنس بتاتی ہے کہ بارش اسی وقت برستی ہے جب بادل "تہہ بہ تہہ" ہو جائیں۔ جب اوپر کی تہوں میں سردی بڑھتی ہے اور نیچے سے گرم ہوا کا دباؤ پڑتا ہے، تو بادلوں کے اندر پانی کے قطرے اتنے وزنی ہو جاتے ہیں کہ وہ ہوا میں معلق نہیں رہ پاتے اور بارش کی صورت میں برسنے لگتے ہیں۔ قرآن نے "ثُمَّ یَجْعَلُہٗ رُکَامًا" کہہ کر اس سائنسی حقیقت کو بیان کیا ہے کہ بارش برسانے کے لیے بادلوں کا صرف جڑنا کافی نہیں، بلکہ ان کا ایک خاص ترتیب سے ڈھیر ہونا اور تہہ در تہہ ہونا ضروری ہے۔

 
بادلوں کے چلنے (Nudging)، جڑنے (Joining) اور تہہ بہ تہہ ڈھیر ہونے (Stacking) کے عمل کو واضح کرتا ہوا ایک سائنسی ڈائیگرام۔


باب پنجم: آسمانی پہاڑ اور اولوں کا سائنسی معمہ

سورۃ النور کی اس آیت کا سب سے زیادہ حیران کن حصہ وہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ بادلوں کو "پہاڑ" قرار دیتا ہے۔ آیت کہتی ہے: "وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْہَا مِنْ بَرَدٍ" یعنی وہ آسمان سے ان پہاڑوں (جیسی بدلیوں) سے اولے برساتا ہے۔ قدیم مفسرین اس پر حیران ہوتے تھے کہ آسمان میں پہاڑ کہاں سے آ گئے؟ لیکن آج کی جدید موسمیات نے ہوائی جہازوں اور ریڈارز کی مدد سے یہ دریافت کیا ہے کہ بارش اور اولے برسانے والے بادل (Cumulonimbus) واقعی دور سے دیکھنے پر عظیم الشان برفانی پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں۔

مزید برآں، سائنس بتاتی ہے کہ اولے (Hail) صرف انہی بادلوں میں بنتے ہیں جو پہاڑوں کی طرح اونچے ہوتے ہیں۔ بادل کی نچلی سطح پر درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے، لیکن جیسے جیسے ہم "بادل کے پہاڑ" کی چوٹی کی طرف جاتے ہیں، درجہ حرارت نقطہِ انجماد سے بہت نیچے گر جاتا ہے۔ وہاں پانی کے قطرے برف کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور جب وہ وزنی ہو کر نیچے گرتے ہیں تو انہیں اولے کہا جاتا ہے۔ قرآن نے نہ صرف بادلوں کی ساخت کو "پہاڑ" سے تشبیہ دی بلکہ ان پہاڑوں کا تعلق "اولوں" سے بھی جوڑ دیا، جو کہ سو فیصد سائنسی حقیقت ہے۔

باب ششم: ہواؤں کا کردار—بادلوں کو "حاملہ" کرنا

قرآنِ مجید بادلوں کے بننے میں ہواؤں کے ایک اور اہم کردار کا ذکر کرتا ہے جسے جدید سائنس نے حال ہی میں سمجھا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَاَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰکُمُوْہُ ۝

ترجمہ: اور ہم نے ہواؤں کو بوجھل (حاملہ/زرخیز کرنے والی) بنا کر بھیجا، پھر ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور وہ تمہیں پلایا۔ — (سورہ الحجر: 22) [4]

یہاں لفظ "لَوَاقِحَ" (Pollinating/Fertilizing) استعمال ہوا ہے۔ جدید سائنس نے بتایا کہ ہوائیں اپنے ساتھ مٹی کے باریک ذرات اور سمندری نمک کے ذرات (Condensation Nuclei) اڑا کر لاتی ہیں۔ جب تک بخارات کو یہ ذرات نہ ملیں، وہ پانی کے قطرے کی شکل اختیار نہیں کر سکتے۔ ہوائیں ان ذرات کو بادلوں کے اندر "انجیکٹ" کرتی ہیں، جس سے بارش بننے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ہوائیں واقعی بادلوں کو "حاملہ" کرتی ہیں تاکہ وہ بارش کو جنم دے سکیں۔

باب ہفتم: ناقدین کا جواب اور الحاد کی بے بسی

جدید دور کے کچھ ناقدین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کے بیانات محض مشاہداتی ہیں۔ لیکن یہ اعتراض علمی طور پر بالکل بودا ہے۔ عرب کا ایک انسان بادلوں کو نیچے سے دیکھ کر یہ تو کہہ سکتا ہے کہ بادل کالے ہیں یا سفید، لیکن وہ یہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ بادل کے اندر "پہاڑ" موجود ہیں۔ بادل کے پہاڑ نما ہونے کا مشاہدہ صرف ہوائی جہاز کے ذریعے یا دور دراز سے افق پر کھڑے ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ الحاد کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں کہ ریڈار اور سیٹلائٹ کے بغیر بادلوں کی تہوں (رکاما) اور ان کے اندرونی پہاڑی ڈھانچے کا علم ایک امی نبی ﷺ کو کیسے ہوا؟

باب ہشتم: کائناتی توازن اور بادلوں کی رحمت (حاصلِ کلام)

بادلوں کا بننا، ان کا ہوا میں معلق رہنا اور پھر ایک خاص مقدار میں بارش برسانا، یہ سب اللہ کی ربوبیت کی عظیم نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو ہوا میں تیرتے "پانی کے پہاڑ" بنا کر انسان پر احسان کیا ہے تاکہ اسے میٹھا اور پاکیزہ پانی مل سکے۔ جب ہم بادلوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کے پیچھے چھپی اس قدرت کا احساس ہونا چاہیے جو لاکھوں ٹن وزنی پانی کو ہمارے سروں پر سہارے کے بغیر تھامے ہوئے ہے۔

اَفَرَاَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ ۝ اَءَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ ۝ لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰہُ اُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْکُرُوْنَ ۝

ترجمہ: بھلا تم نے اس پانی کو دیکھا جسے تم پیتے ہو؟ کیا اسے بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا ہم ہی اتارنے والے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کھاری (کڑوا) بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟ — (سورہ الواقعہ: 68-70) [4]

واللہ اعلم بالصواب۔


حوالہ جات:

[1] Meteorology Today (By C. Donald Ahrens) - Principles of Cloud Formation.
[2] Essentials of Meteorology (By C. Donald Ahrens) - Cumulonimbus Structure.
[3] The Atmosphere: An Introduction to Meteorology (By Lutgens and Tarbuck).
[4] قرآنِ حکیم: سورۃ النور، سورۃ الرعد، سورہ الحجر، سورہ الواقعہ۔
[5] تفسیر معارف القرآن اور تفہیم القرآن (متعلقہ آیات)۔

#بادلوں_کا_اعجاز #قرآن_اور_سائنس #موسمیات #معجزات_قرآن #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #طبیعیات #بارش_کا_نظام #ایمان_اور_عقل #طارق_اقبال_سوہدروی #قرآنی_حقائق #MeteorologyInQuran #CloudFormation

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال