⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

گہرے سمندروں کے مخفی اسرار: لہروں کے نیچے لہریں اور وہ اندھیرا جہاں انسان اپنا ہاتھ نہ دیکھ سکے

 
ایک گہرا سمندری منظر جس میں سطح کی لہروں کے نیچے موجود دیوہیکل اندرونی لہروں (Internal Waves) اور روشنی کی بتدریج کمی کو دکھایا گیا ہے۔


گہرے سمندروں کے مخفی اسرار: لہروں کے نیچے لہریں اور وہ اندھیرا جہاں انسان اپنا ہاتھ نہ دیکھ سکے

مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

باب اول: سمندر کی وسعت اور انسانی مشاہدے کی حد

کرہ ارض کا تقریباً 71 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، لیکن انسان کے لیے سمندر ہمیشہ سے ایک سربستہ راز رہا ہے۔ عام طور پر ہم سمندر کو صرف اس کی سطح سے پہچانتے ہیں جہاں لہریں ساحلوں سے ٹکراتی ہیں اور سورج کی روشنی پانی کی تہوں میں رقص کرتی نظر آتی ہے۔ لیکن جدید سائنس، خاص طور پر اوشیانوگرافی (Oceanography) ہمیں بتاتی ہے کہ سمندر کی اصل حقیقت اس کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی ہے، جہاں کا ماحول سطح کے ماحول سے بالکل مختلف اور خوفناک حد تک حیران کن ہے۔ انسان صدیوں تک صرف سمندر کی سطح پر سفر کرتا رہا اور یہ سمجھتا رہا کہ سمندر صرف وہی ہے جو نظر آ رہا ہے، لیکن انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب جدید غوطہ خور آلات اور آبدوزیں ایجاد ہوئیں، تو انکشاف ہوا کہ سمندر کے نیچے ایک پوری کائنات آباد ہے جس کے اپنے قوانین اور اپنا جغرافیہ ہے۔ سمندر کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کا سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ بھی اگر ماریانا ٹرینچ (Mariana Trench) میں ڈال دیا جائے تو اس کی چوٹی سمندر کی سطح سے میلوں نیچے رہے گی۔ اس قدر گہرائی میں پانی کا دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ایک عام انسان بغیر کسی حفاظتی ڈھانچے کے وہاں چند سیکنڈ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ گہرائیاں نہ صرف دباؤ بلکہ اندھیرے اور درجہ حرارت کے اعتبار سے بھی انسانی وہم و گمان سے باہر ہیں۔

سمندر کی تہوں کا مطالعہ کرنے والے سائنسدان بتاتے ہیں کہ سمندر کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن میں 'سن لائٹ زون' وہ ہے جہاں روشنی پہنچتی ہے، لیکن جیسے جیسے ہم نیچے جاتے ہیں، ہم 'ٹوی لائٹ زون' اور پھر 'مڈ نائٹ زون' میں داخل ہوتے ہیں۔ مڈ نائٹ زون وہ مقام ہے جہاں سورج کی روشنی کا نام و نشان مٹ جاتا ہے اور ابدی اندھیرا چھا جاتا ہے۔ قدیم دور کے ملاحوں کے لیے ان گہرائیوں کا تصور بھی ناممکن تھا کیونکہ اس وقت غوطہ خوری کی حد محض 20 سے 30 میٹر تک تھی، جہاں روشنی وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ لیکن قرآنِ مجید نے آج سے چودہ سو سال پہلے گہرے سمندر (Deep Sea) کی اس منظر کشی کو بیان کیا جس تک رسائی جدید سائنس نے محض چند دہائیاں پہلے حاصل کی ہے۔ یہ حقیقت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ سمندر کی ان تہوں کا خالق ہی ان کے اسرار سے واقف ہو سکتا ہے۔

باب دوم: بصری تغیرات اور تاریکیوں پر تاریکیاں

سمندر کی گہرائی میں روشنی کے ختم ہونے کا عمل ایک نہایت دلچسپ سائنسی عمل ہے جسے 'روشنی کا انجذاب' (Absorption of Light) کہا جاتا ہے۔ سورج کی روشنی جب پانی کی سطح پر پڑتی ہے تو وہ سات رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ جیسے ہی روشنی پانی کے اندر داخل ہوتی ہے، پانی کی تہیں ان رنگوں کو ایک ایک کر کے جذب کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ سب سے پہلے سرخ رنگ جذب ہوتا ہے، جو تقریباً 10 سے 15 میٹر کی گہرائی تک پہنچ پاتا ہے۔ اگر کوئی غوطہ خور اس گہرائی سے نیچے زخمی ہو جائے تو اسے اپنا خون سرخ نہیں بلکہ کالا یا گہرا بھورا نظر آئے گا کیونکہ وہاں سرخ رنگ کی لہریں موجود ہی نہیں ہوتیں۔ اس کے بعد نارنجی، پیلا اور ہرا رنگ جذب ہو جاتے ہیں، اور آخر میں صرف نیلا رنگ باقی رہ جاتا ہے جو سب سے زیادہ گہرائی تک جاتا ہے۔ تقریباً 200 میٹر کے بعد روشنی اتنی کم رہ جاتی ہے کہ پودوں کے لیے فوٹوسنتھیسز کا عمل ناممکن ہو جاتا ہے، اور 1000 میٹر کی گہرائی کے بعد مکمل اندھیرا (Absolute Darkness) چھا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تاریکی کی اتنی تہیں ہوتی ہیں کہ انسان کو کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

قرآنِ حکیم اس خوفناک اندھیرے اور تہوں کی منظر کشی ان الفاظ میں کرتا ہے جس کا جواب جدید فزکس بھی نہیں دے سکتی:

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌ ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْ یَرٰىہَا ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَا لَہٗ مِنْ نُّوْرٍ ۝

(ترجمہ: یا (کافروں کے اعمال کی مثال) ایسے ہے جیسے گہرے سمندر میں اندھیرے، جسے ایک لہر نے ڈھانپ رکھا ہو، اس کے اوپر ایک اور لہر ہو اور اس کے اوپر بادل ہوں، تاریکیاں ہیں ایک کے اوپر ایک، جب وہ (انسان) اپنا ہاتھ نکالے تو اسے سجھائی نہ دے، اور جسے اللہ ہی نور نہ دے اس کے لیے کوئی نور نہیں۔) — (سورۃ النور: 40) [5]

اس آیت میں "ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ" (تاریکیاں ایک کے اوپر ایک) کا جملہ ان رنگوں کے جذب ہونے اور روشنی کی بتدریج کمی کی طرف واضح اشارہ ہے جو جدید نظریاتی طبیعیات کا حصہ ہے۔ قرآن کا یہ کہنا کہ انسان اپنا ہاتھ نکالے تو اسے دیکھ نہ سکے، اس انتہا درجے کے اندھیرے کو بیان کرتا ہے جو سمندر کی نچلی ترین تہوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ مشاہدہ کسی ایسے انسان کا نہیں ہو سکتا جو ریگستان میں رہتا ہو اور جس نے کبھی سمندر کی گہرائی میں غوطہ نہ لگایا ہو، بلکہ یہ اسی ذات کا کلام ہے جو نور اور تاریکی کا خالق۔

باب سوم: لہروں کے نیچے لہریں—اندرونی لہروں (Internal Waves) کا انکشاف

سمندر کے بارے میں عام انسانی تصور یہ ہے کہ لہریں صرف سطح پر ہوتی ہیں جو ہوا کے دباؤ سے بنتی ہیں۔ لیکن جدید اوشیانوگرافی نے ایک حیرت انگیز حقیقت دریافت کی ہے کہ سمندر کی گہرائی میں بھی لہریں موجود ہوتی ہیں جنہیں "Internal Waves" کہا جاتا ہے۔ یہ لہریں ان مقامات پر بنتی ہیں جہاں مختلف کثافت (Density) والے پانی کی تہیں آپس میں ملتی ہیں۔ سمندر کے اوپر کا پانی کم کثیف اور درجہ حرارت میں زیادہ ہوتا ہے، جبکہ گہرائی کا پانی زیادہ نمکین، ٹھنڈا اور کثیف ہوتا ہے۔ ان تہوں کے درمیان ایک حدِ فاصل ہوتی ہے جہاں یہ اندرونی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لہریں سطح کی لہروں کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑی اور طاقتور ہو سکتی ہیں، لیکن چونکہ یہ سمندر کے اندر ہوتی ہیں، اس لیے سطح پر موجود ملاح کو ان کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ انکشاف بیسویں صدی کی سائنس نے کیا ہے کہ گہرا سمندر ساکن نہیں بلکہ وہاں بھی لہروں کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہے۔

قرآنِ مجید نے اس سائنسی حقیقت کو جس بلاغت سے بیان کیا ہے، وہ عقلِ انسانی کو دنگ کر دیتا ہے۔ آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "یَّغْشٰىہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ" (جسے ایک لہر نے ڈھانپ رکھا ہے اور اس کے اوپر ایک اور لہر ہے)۔ یہاں "لہر کے اوپر لہر" کا ذکر واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سمندر کی تہوں میں لہروں کے دو الگ الگ نظام موجود ہیں۔ ایک وہ لہریں جو گہرائی میں ہیں (Internal Waves) [2] اور دوسری وہ لہریں جو سطح پر ہیں اور جن کے اوپر بادل موجود ہیں۔ چودہ سو سال پہلے کسی انسان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی تھی کہ سمندر کے تاریک پانیوں میں بھی لہریں چلتی ہیں جو اوپر والی لہروں سے بالکل الگ ہوتی ہیں۔ یہ قرآنی الفاظ اس بات کی مہرِ تصدیق ہیں کہ یہ کلام اسی ہستی کا ہے جس نے سمندروں کو "لُجِّیّ" (گہرا) بنایا اور ان کے اندر لہروں کے نیچے لہریں پیدا کیں۔

باب چہارم: بصری حد اور ہاتھ کا نہ دیکھ پانا—ایک غوطہ خور کا تجربہ

انسان کی آنکھ کو دیکھنے کے لیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سمندر میں جیسے جیسے گہرائی بڑھتی ہے، روشنی کے فوٹونز (Photons) کم ہوتے جاتے ہیں۔ 600 میٹر کی گہرائی پر انسان کو صرف نیلی روشنی کا ہلکا سا احساس ہوتا ہے، لیکن جب 1000 میٹر کی حد عبور ہوتی ہے تو وہ مقام آتا ہے جسے "Aphotic Zone" کہا جاتا ہے۔ یہاں مکمل اندھیرا ہوتا ہے اور کسی بھی قسم کی حیاتیاتی روشنی (Bioluminescence) کے علاوہ وہاں کچھ نظر نہیں آتا۔ قرآن نے اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے جو مثال دی ہے، وہ نہایت دقیق ہے۔ آیت کہتی ہے: "اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْ یَرٰىہَا" یعنی اگر وہ اپنا ہاتھ نکالے تو اسے دیکھ نہ سکے۔ یہ جملہ سمندر کی اس گہرائی کو بیان کر رہا ہے جہاں روشنی کی ایک کرن بھی موجود نہیں ہوتی۔

جدید غوطہ خور بتاتے ہیں کہ جب وہ بغیر مصنوعی روشنی کے گہرے سمندر میں جاتے ہیں، تو اندھیرا اتنا بوجھل ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی موجودگی کا احساس تو ہوتا ہے لیکن بصارت مکمل طور پر معطل ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ اپنا ہاتھ اپنے چہرے کے بالکل سامنے بھی لے آئیں، تب بھی آپ کو کچھ نظر نہیں آئے گا۔ قرآن نے "لم یکد" کا لفظ استعمال کیا ہے جو کسی کام کے تقریباً ناممکن ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ باریک بینی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قرآن کے الفاظ کسی عام تخیل کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ اس حقیقت کی رپورٹنگ ہے جو کائنات کے اس حصے میں موجود ہے جہاں انسان کی رسائی چودہ سو سال پہلے ناممکن تھی۔ یہ اندھیرا اور لہروں کا یہ نظام دراصل کافر کے اعمال کی گمراہی کو واضح کرنے کے لیے ایک استعارہ ہے، لیکن اس استعارے میں چھپے سائنسی حقائق اہل علم کے لیے دعوتِ فکر ہیں۔

 
ایک علمی خاکہ جو سمندر کی مختلف گہرائیوں میں سورج کی روشنی کے رنگوں کے غائب ہونے اور مکمل تاریکی (Aphotic Zone) کو ظاہر کرتا ہے


باب پنجم: گہرے سمندر کا درجہ حرارت اور دباؤ

سمندر کی گہرائی صرف اندھیرے اور لہروں کا نام نہیں ہے، بلکہ وہاں کے طبعی حالات بھی نہایت سخت ہیں۔ سطحِ سمندر پر درجہ حرارت سورج کی تپش کے مطابق بدلتا رہتا ہے، لیکن گہرائی میں درجہ حرارت تیزی سے گرتا ہے اور ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں یہ 0 سے 3 ڈگری سیلسیس کے درمیان مستقل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کا دباؤ (Pressure) ہر 10 میٹر کی گہرائی پر ایک ایٹموسفیر بڑھ جاتا ہے۔ 10,000 میٹر کی گہرائی پر دباؤ اتنا ہوتا ہے جیسے آپ کے سر پر ایک درجن بوئنگ ہوائی جہاز رکھ دیے جائیں۔ اس قدر دباؤ اور سردی کے عالم میں لہروں کا بننا اور حرکت کرنا ایک پیچیدہ تھرمو ڈائنامک عمل ہے۔ قرآن نے سمندر کو "لُجِّیّ" (Abyssal/Deep) کہہ کر ان تمام سختیوں کی طرف اشارہ کر دیا جو گہرے سمندر کا خاصہ ہیں۔

سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اندرونی لہروں کا بننا پانی کے درجہ حرارت اور نمک کی مقدار (Salinity) میں فرق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب اوپری گرم پانی اور نچلا ٹھنڈا پانی آپس میں ملتے ہیں، تو ان کے درمیان ایک ارتعاش پیدا ہوتا ہے جو میلوں لمبی لہروں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ لہریں خوراک اور آکسیجن کو سمندر کی نچلی تہوں تک پہنچانے کا اہم ذریعہ بنتی ہیں۔ اگر سمندر کے اندر یہ "موج من فوقہ موج" کا نظام نہ ہوتا، تو سمندر کی گہرائیاں مردہ ہو جاتیں اور وہاں زندگی کا وجود ممکن نہ رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کے اس نظام کو اس قدر مربوط بنایا ہے کہ ہر لہر دوسری لہر کے اوپر ایک چھتری کی طرح کام کرتی ہے اور کائنات کے توازن کو برقرار رکھتی ہے۔

باب ششم: ناقدین کا جواب اور قدیم ملاحوں کا علم

بعض ناقدین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قدیم دور کے لوگ بھی سمندر کے بارے میں جانتے تھے اور یہ معلومات وہاں سے لی گئی ہو سکتی ہیں۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قدیم یونانیوں یا رومیوں کے پاس سمندر کی گہرائیوں کے بارے میں کوئی سائنسی ڈیٹا موجود نہیں تھا۔ ان کے نزدیک سمندر ایک ایسی جگہ تھی جہاں دیومالائی بلائیں رہتی تھیں، لیکن وہاں کی فزکس (Physics) سے وہ بالکل ناواقف تھے۔ غوطہ خوری اس وقت صرف اتنی گہرائی تک ممکن تھی جہاں تک سانس روکا جا سکے (زیادہ سے زیادہ 30 سے 40 میٹر)۔ اس گہرائی پر نہ تو "ہاتھ نہ دیکھ پانے" والا اندھیرا ہوتا ہے اور نہ ہی وہاں "اندرونی لہروں" کا کوئی تصور ملتا ہے۔

یہ کہنا کہ ایک ریگستانی ماحول میں پیدا ہونے والے انسان کو، جس نے کبھی گہرے سمندر کا سفر نہیں کیا، ان باریکیوں کا علم تھا، عقل تسلیم نہیں کرتی۔ "اندرونی لہریں" (Internal Waves) [2] تو بیسویں صدی میں ریڈار اور سیٹلائٹ کے ذریعے دریافت ہوئیں، اور گہرائی کا اندھیرا غوطہ خور آبدوزوں (Bathyscaphes) کے ذریعے معلوم ہوا۔ قرآن نے ان حقائق کو جس اعتماد اور قطعیت کے ساتھ بیان کیا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کسی ملاح یا جغرافیہ دان کی تحریر نہیں، بلکہ اس کائنات کے عظیم نقشہ نویس کا کلام ہے۔ قرآن کا یہ اعجاز الحادی نظریات کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے، کیونکہ اتفاقیہ طور پر اتنی دقیق سائنسی معلومات کا جمع ہونا ناممکن ہے۔

باب ہفتم: سمندروں کی تسبیح اور خالق کی پہچان (حاصلِ کلام)

سمندر کی یہ تہیں، ان کے اندھیرے اور لہروں کے نیچے چھپی لہریں دراصل اللہ کی قدرت کے شاہکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو صرف پانی کا ذخیرہ نہیں بنایا بلکہ اسے اپنی نشانیوں کا مرکز بنایا ہے۔ سورۃ النور کی یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ جس طرح گہرے سمندر میں تاریکیاں ایک کے اوپر ایک ہیں اور انسان وہاں حقائق کو دیکھنے سے قاصر ہے، اسی طرح کفر اور گناہ انسان کے دل پر تاریکی کی تہیں چڑھا دیتے ہیں جہاں اسے ہدایت کا نور نظر نہیں آتا۔ اللہ کا نور ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو ان تاریکیوں سے نکال سکتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے سمندر کی یہ تہیں ایک حیرت انگیز توازن کی عکاسی کرتی ہیں، اور ایمانی نقطہ نظر سے یہ خالقِ کائنات کی عظمت کا اعلان ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ جب ہم سمندر کی وسعتوں کو دیکھیں تو ان کے نیچے چھپے اس "میزان" اور "نور" پر بھی غور کریں جس کا تذکرہ قرآن نے کیا ہے۔ جدید سائنس کی ہر نئی دریافت دراصل قرآن کے سچ ہونے کی ایک نئی گواہی ہے۔ سمندر کے اندھیروں میں بھی اللہ نے ایسی مخلوقات پیدا کی ہیں جو اپنی روشنی (Bioluminescence) خود پیدا کرتی ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ جہاں اللہ چاہے وہاں تاریکی ختم ہو جاتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ سمندر کی تہوں کا علم، لہروں کا تذکرہ اور تاریکیوں کی تفصیل قرآنِ کریم کا وہ عظیم سائنسی معجزہ ہے جس نے چودہ سو سال سے انسانی عقل کو حیران کر رکھا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب۔


حوالہ جات:
[1] Introductory Oceanography (By Harold V. Thurman).
[2] Internal Waves in the Ocean (By Chris Garrett and Walter Munk).
[3] Light in the Sea (By Jerome Williams).
[4] The Deep: The Extraordinary Creatures of the Abyss (By Claire Nouvian).
[5] قرآنِ حکیم: سورۃ النور (آیت 40)۔
[6] تفسیر ابنِ کثیر اور تفسیرِ قرطبی (متعلقہ آیات)۔
#گہرے_سمندروں_کے_راز #قرآن_اور_سائنس #معجزات_قرآن #اندرونی_لہریں #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #اوشانوگرافی #تاریکیوں_پر_تاریکیاں #ایمان_اور_سائنس #طارق_اقبال_سوہدروی #اسلام_حق_ہے #DeepSeaMiracles #InternalWavesInQuran

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال