حضرت مریمؑ اور "اختِ ہارون": تاریخی غلطی یا لغوی و منصبی حقیقت؟
(قرآنِ کریم پر مستشرقین کے ایک قدیم ترین اعتراض کا مکمل علمی، لسانی اور تاریخی پوسٹ مارٹم)
1. مقدمہ: اعتراض کی نوعیت اور مستشرقین کا علمی فریب
قرآنِ حکیم کی سورہ مریم میں وہ مقام جہاں سے معترضین اپنا مقدمہ بناتے ہیں، وہ یہ آیتِ مبارکہ ہے جس میں حضرت مریمؑ کی قوم ان کو مخاطب کرتی ہے:
يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا
"اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی۔" — [سورہ مریم: 28] [1]
اعتراض: تھیوڈور نولڈکے (Theodor Nöldeke) اور ریگیس بلاشیر جیسے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہاں قرآن نے (نعوذ باللہ) ایک فاش تاریخی غلطی کی ہے۔ ان کے نزدیک حضرت موسیٰ و ہارونؑ اور حضرت مریمؑ کے درمیان تقریباً 1500 سال کا فاصلہ ہے [2]۔ ان کا دعویٰ ہے کہ قرآن نے مریمؑ کو ہارونؑ کی سگی بہن سمجھ لیا۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ اعتراض عربی لغت، سامی روایات اور قرآنی اسلوب سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔
2. قرآنی داخلی شہادتیں (Internal Evidence): "اخ" اور "اخت" کا وسیع مفہوم
ناقدین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ قرآن کے الفاظ کو محض جدید خونی رشتوں کے ترازو میں تولتے ہیں، جبکہ سامی زبانوں میں "بھائی" یا "بہن" کا لفظ نسبتی اور قبائلی تعلق کے لیے بکثرت استعمال ہوتا رہا ہے۔ اگر ہم معترضین کی منطق مان لیں تو قرآن کی درج ذیل آیات کا مفہوم (معاذ اللہ) مشکوک ہو جائے گا:
قومِ عاد کی مثال:
وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ...
"اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمہارا اس کے سوا کوئی معبود نہیں..." [الاعراف: 65] [3]
یہاں حضرت ہودؑ پوری قوم کے سگے بھائی نہیں تھے، بلکہ اسی نسل اور قبیلے سے ہونے کی بنا پر ان کے "بھائی" کہلائے۔
قومِ ثمود کی مثال:
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ...
"اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو..." [الاعراف: 73] [3]
حضرت صالحؑ کو ان کی قوم کا بھائی کہنا اسی لسانی حقیقت کی دلیل ہے کہ کسی فرد کو اس کے جدِ امجد یا قبیلے کی طرف منسوب کر کے "بھائی" کہنا ایک فصیح عربی محاورہ ہے [1]۔
قومِ مدین کی مثال:
وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ...
"اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا..." [سورہ ہود: 84] [3]
یہ تمام مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ "اخ" یا "اخت" کا لفظ محض ایک ہی ماں باپ کی اولاد کے لیے نہیں، بلکہ قبائلی جڑوں کی پہچان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ حضرت مریمؑ چونکہ حضرت ہارونؑ کی نسل سے تھیں، اس لیے انہیں "ہارون کی بہن" یعنی اس خاندان کی بیٹی پکارا گیا۔
3. حدیثِ نبوی ﷺ کی حتمی گواہی اور مفصل شرح
اس اعتراض کا سب سے مستند اور فیصلہ کن جواب خود صاحبِ قرآن، نبی کریم ﷺ نے چودہ سو سال پہلے فراہم فرما دیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ﷺ زمانوں کے اس فرق سے بخوبی واقف تھے۔
صحیح مسلم کی روایت:
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب میں نجران (عیسائیوں کے علاقے) گیا، تو انہوں نے مجھ سے یہ اعتراض پوچھا۔ جب میں واپس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات بتائی، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
أَلَا أَخْبَرْتَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ؟
"تم نے انہیں یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ (بنی اسرائیل) اپنے سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء اور نیک لوگوں کے ناموں پر اپنے نام (اور نسبتیں) رکھا کرتے تھے؟" — [صحیح مسلم: 2135] [4]
اس حدیثِ مبارکہ نے اس بحث کا رخ ہی بدل دیا۔ اس سے پہلی بات تو یہ ثابت ہوئی کہ بنی اسرائیل میں یہ رواج عام تھا کہ وہ برکت کے لیے اپنے بچوں کے نام قدیم انبیاء (جیسے ہارونؑ) کے نام پر رکھتے تھے [4]۔ دوسری بات یہ کہ "بہن" پکارنا دراصل اس خاندان کی طرف نسبت تھی جو ہارونؑ کے نام سے منسوب تھا [5]۔
4. ہارونؑ کا منصبی پہچان اور مریمؑ کا وقفِ ہیکل
ہمارے نزدیک یہاں ایک نہایت اہم منصبی پہلو موجود ہے جسے ہم اس طرح سمجھتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰؑ 'صاحبِ شریعت' نبی تھے، لیکن حضرت ہارونؑ 'صاحبِ عبادت' یعنی پہلے کاہنِ اعظم (High Priest) تھے [1]۔ ہارونؑ کی پوری زندگی معبد (Tabernacle) کی خدمت اور ہیکل کی رسومات کے لیے وقف تھی [5]۔ قرآنِ کریم میں حضرت مریمؑ کی والدہ (امرأۃ عمران) کی دعا اس تعلق کو واضح کرتی ہے:
إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي...
"جب عمران کی بیوی نے کہا: اے میرے رب! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے میں اسے تیرے لیے وقف (آزاد) کرتی ہوں، پس تو مجھ سے قبول فرما..." [آل عمران: 35] [1]
چونکہ حضرت مریمؑ کو ان کی والدہ نے ہیکل کی خدمت کے لیے وقف کیا تھا اور انہوں نے اپنی جوانی ہیکل کے حجروں میں گزاری، اس لیے ان کا منصب وہی تھا جو حضرت ہارونؑ کا تھا (یعنی عبادت گاہ کی خدمت)۔ اسی لیے انہیں "اختِ ہارون" یعنی ان کے مشن اور منصب کی پیروکار کہا گیا [5]۔ جس طرح آج ایک راہبہ (Nun) کو "سسٹر" کہا جاتا ہے، اسی طرح مریمؑ کو ان کی زہد و عبادت کی بنا پر ہارونؑ کی "بہن" پکارا گیا [1]۔
5. عمران اور یوآقیم (Joachim): ناموں کا لسانی اور تحقیقی جائزہ
عیسائیوں کا یہ اعتراض کہ مریمؑ کے والد کا نام بائبل میں یوآقیم ہے، قرآن کے عمران سے متصادم ہے، دراصل ناموں کے لسانی ارتقاء سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔
یوآقیم کی اصل: عبرانی میں یوآقیم (Joachim) اصل میں "یہویاقیم" (Yehoyaqim) کا مخفف ہے، جس کا مطلب ہے "اللہ نے قائم کیا" یا "اللہ کا بسایا ہوا" (God Established) [9]۔
عمران کی اصل: عربی میں عمران کا مادہ ع-م-ر ہے، جس کا مطلب ہے آباد کرنا، بسانا یا قائم کرنا [9]۔ قرآنِ پاک میں مساجد کو آباد کرنے کے لیے بھی یہی لفظ استعمال ہوا ہے:
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ...
"اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے..." [سورہ توبہ: 18] [1]
تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عبرانی لفظ "AQIM" (اقیم) اور عربی مادہ "عمران" دونوں ایک ہی سائنسی اور لسانی حقیقت کو بیان کر رہے ہیں [9]۔ دونوں کا مقصد اس شخصیت کی پہچان کروانا ہے جس نے اپنی بیٹی (مریمؑ) کو اللہ کے گھر کی آبادی اور قیام کے لیے وقف کر دیا [9]۔ لہٰذا یوآقیم اور عمران ایک ہی انسان کے دو مختلف زبانوں میں لقب ہیں جو ایک ہی عظیم مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہیں [9]۔
6. مفسرینِ عظام اور صحابہ کرام کے بیانات کی اہمیت
امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ "اختِ ہارون" کا مطلب ہارونؑ کی عبادت اور تقویٰ میں مشابہت ہے [5]۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ جیسے بہادر کو "جنگ کا بھائی" کہا جاتا ہے، اسی طرح مریمؑ کو ان کے زہد کی بنا پر ہارونؑ سے منسوب کیا گیا [5]۔
امام طبریؒ نے متعدد اقوال جمع کیے ہیں کہ مریمؑ کے اپنے ایک بھائی کا نام بھی ہارون تھا جو کہ اس دور کا ایک نہایت نیک شخص تھا، اور قوم نے اس کی نسبت سے مریمؑ کو پکارا [6]۔ امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ مریمؑ چونکہ ہارونؑ کی نسل سے تھیں، اس لیے انہیں "بہن" کہا گیا، جو کہ عربی محاورے میں ایک عام بات ہے جیسے قبیلہ تمیم کے فرد کو "اے تمیم کے بھائی" کہا جاتا ہے [7]۔ حضرت علیؓ اور حضرت ابنِ عباسؓ کے اقوال سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک نسبتی خطاب تھا جس کا مقصد مریمؑ کی خاندانی شرافت کو بیان کرنا تھا [6]۔
7. بائبل کی اندرونی شہادت اور سامی محاورہ
اگر عیسائی مشنریز قرآن پر اعتراض کرتے ہیں، تو انہیں اپنی بائبل کا مطالعہ بھی کرنا چاہیے۔ انجیلِ لوقا میں حضرت یحییٰؑ کی والدہ (الیشبع) کے بارے میں لکھا ہے:
"...اور ان کی بیوی ہارون کی بیٹیوں میں سے تھی، اور اس کا نام الیشبع تھا" [انجیلِ لوقا، 1:5] [8]
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ الیشبع تو مریمؑ کی ہم عصر تھیں، وہ ہارونؑ سے 1500 سال بعد پیدا ہوئیں۔ اگر بائبل انہیں "ہارون کی بیٹی" کہہ سکتی ہے تو قرآن مریمؑ کو "ہارون کی بہن" کیوں نہیں کہہ سکتا؟ [8]۔ یہ اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ سامی زبانوں اور ثقافتوں میں یہ ایک معروف طریقہ تھا کہ کسی شخص کو اس کے کسی عظیم جدِ امجد کی طرف منسوب کر دیا جاتا تھا تاکہ اس کی خصلت یا منصب کو واضح کیا جا سکے [8]۔
8. عقلی و منطقی محاکمہ اور حاصلِ کلام
کیا یہ ممکن ہے کہ جس قرآن میں حضرت موسیٰ اور فرعون کے واقعات 136 بار تفصیل سے بیان ہوئے ہوں، اور پھر حضرت عیسیٰؑ کے دور کے حالات الگ بیان ہوئے ہوں، اس قرآن کا لانے والا ان دونوں کے درمیان 1500 سال کا فرق نہ جانتا ہو؟ [1]۔
قرآن کا مریمؑ کو "اختِ ہارون" پکارنا دراصل ایک اعجاز ہے، جس نے مریمؑ کی پوری خاندانی، مذہبی اور منصبی تاریخ کو صرف دو لفظوں میں سمیٹ دیا ہے [1]۔ یہ خطاب مریمؑ کے پاکیزہ کاہن خاندان سے تعلق اور ان کی پرہیزگاری کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا [1]۔ نبی ﷺ کی حدیث، صحابہ کے بیانات اور لسانی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ قرآن کا ایک ایک لفظ حکمت سے لبریز ہے [4][9]۔
حوالہ جات (References):
- القرآن، سورۃ مریم: 28، سورۃ آل عمران: 33-36۔
- Theodor Nöldeke, "The Qur'an" in Encyclopædia Britannica (1891).
- القرآن، سورۃ الاعراف: 65، 73، 85 اور سورہ ہود: 50۔
- صحیح مسلم، کتاب الآداب، حدیث نمبر 2135۔
- تفسیر ابن کثیر، امام عماد الدین ابن کثیر (تفسیر سورہ مریم، آیت 28)۔
- جامع البیان عن تاویل آی القرآن، امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری۔
- الجامع لاحکام القرآن، امام القرطبی۔
- انجیلِ لوقا (Gospel of Luke)، باب 1، آیت 5۔
- لسانی مآخذ: عمران اور یوآقیم کی عبرانی و عربی جڑوں کا تقابلی مطالعہ (Etymological Analysis)۔
#سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #قرآنی_تحقیق #اسلامی_تاریخ #عمران_اور_یوآقیم #اخت_ہارون #سیدہ_مریم #رد_مستشرقین #علمی_تحقیق #MaryInQuran #QuranResearch #IslamicHistory
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

