کیا قرآن پر سائنسی تدبر منع ہے؟
ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کے نظریے کا تنقیدی جائزہ، ہمارے "حدودِ کار" اور سیکولر اعتراضات کا تفصیلی رد
مقدمہ: فکری یلغار اور مغربی فلسفے کی بازگشت
موجودہ دور میں پاکستان کے سیکولر اور لبرل حلقوں، جن کی نمائندگی ڈاکٹر پرویز ہودبھائی جیسے محترم فزکس دان کرتے ہیں، کی طرف سے ایک توانا بیانیہ پیش کیا جاتا ہے۔ اپنی کتابوں اور تقاریر میں ان کا مرکزی موقف یہ ہے کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے، اسے سائنس سے دور رکھنا چاہیے، اور قرآن کی آیات پر سائنسی زاویے سے غور و فکر (تدبر) کرنا ایک لاحاصل اور نقصان دہ عمل ہے۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا یہ موقف نیا نہیں ہے، بلکہ یہ مغربی فلسفے کے ایک مشہور نظریے "NOMA" (Non-Overlapping Magisteria) کی بازگشت ہے [1]، جس کے مطابق سائنس اور مذہب دو بالکل الگ الگ دائرے ہیں جن کا آپس میں کوئی ملاپ نہیں۔ یہ نظریہ شاید دیگر مذاہب کے لیے موزوں ہو، لیکن یہ قرآن کریم کی جامعیت اور اس کی بنیادی روح کے خلاف ہے جو انسان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ ہمارا یہ پروجیکٹ، "سائنس قرآن کے حضور میں"، اسی درآمد شدہ فکری مغالطے کا علمی اور تحقیقی رد پیش کرتا ہے۔
1. اس تقابلی مطالعے کے دوہرے مقاصد (Dual Purposes)
ہم سائنس اور قرآن کا یہ تقابلی مطالعہ کسی احساسِ کمتری کے تحت نہیں کرتے، بلکہ اس کے دو عظیم مقاصد ہیں:
الف) غیر مسلموں اور متشککین کے لیے "ٹیسٹ آف ٹروتھ"
آج کا دور عقل اور تجربے کا دور ہے۔ جو لوگ قرآن کو خدا کا کلام نہیں مانتے اور سائنس کو ہی حرفِ آخر سمجھتے ہیں، ہم ان کے سامنے یہ حقیقت رکھتے ہیں کہ: "اگر تم قرآن کو الہامی کتاب نہیں مانتے، تو اسے اپنی ہی مانی ہوئی سائنس کی کسوٹی پر پرکھ لو۔ اگر یہ 1400 سال پہلے صحرا میں کسی انسانی ذہن کی تخلیق ہوتی، تو آج کی جدید سائنسی دریافتوں کے سامنے اس میں تضادات کا ڈھیر لگ چکا ہوتا۔ مگر قرآن کا اعجاز یہ ہے کہ جدید ترین سائنسی حقائق اس کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں، تردید نہیں۔"
ب) مسلمانوں کے لیے: ایمان کی پختگی
اس مطالعے کا دوسرا مقصد خود مسلمانوں کے ایمان کو مضبوط کرنا ہے۔ جب ایک مومن جدید سائنسی ذرائع (جیسے جیمز ویب ٹیلی سکوپ) سے کائنات کی ان نشانیوں کو دیکھتا ہے جن کا ذکر قرآن نے صدیوں پہلے کیا تھا، تو اس کا ایمان روایتی سطح سے بلند ہو کر "ایمان بالیقین" کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔
2. قرآن کا حکمِ تدبر اور سائنس کا کردار (ہودبھائی کے موقف کا رد)
ڈاکٹر ہودبھائی جیسے دانشوروں کا یہ نظریہ کہ قرآن اور سائنس بالکل الگ تھلگ دائرے ہیں، قرآن کریم کے صریح احکامات کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں بار بار فرماتا ہے:
"إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ"
(بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے باری باری آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔) — [القرآن، سورہ آل عمران: 190]
آج کے دور میں ان نشانیوں کو دیکھنے کا بہترین ذریعہ "جدید سائنس" ہے۔ سائنس وہ "خوردبین اور دوربین" ہے جس سے ہم اللہ کی قدرت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس آلے کو استعمال کرنے سے روکنا، تدبر سے روکنے کے مترادف ہے۔
3. اہم ترین تنبیہ: "تطبیق" کی حدود اور "تحریف" کا خطرہ
ہم اس نازک راستے پر جوش کے ساتھ ہوش بھی قائم رکھتے ہیں۔ ہمارا طریقہ کار واضح حدود کا پابند ہے:
- قرآن حاکم ہے، سائنس محکوم: ہمارا اصول یہ ہے کہ قرآن ایک قطعی حقیقت (Absolute Truth) ہے، جبکہ سائنسی نظریات (Theories) بدلتے رہتے ہیں۔ ہم قرآن کو سائنس کے تابع نہیں کرتے، بلکہ سائنس کی دریافت شدہ "مسلمہ حقائق" (Established Facts) کو قرآن کے حضور پیش کرتے ہیں۔
- زبردستی کی تاویل سے گریز: ہم قرآن کی آیات کو توڑ مروڑ کر زبردستی کسی سائنسی فارمولے پر فٹ کرنے (جسے 'سائنسی تحریف' کہا جا سکتا ہے) کے سخت خلاف ہیں۔
4. ہماری تحقیقی ایمانداری کا عملی ثبوت (Our Track Record)
ڈاکٹر ہودبھائی اور دیگر ناقدین کا یہ اعتراض بجا ہے کہ بہت سے لوگ جذبات میں آ کر جھوٹی سائنسی خبروں کو اسلام سے جوڑ دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے پیج کا ریکارڈ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ ایک درمیانہ اور تحقیقی موقف اختیار کیا ہے۔ ہم صرف قرآن سے چیزیں ثابت کرنے کے لیے نہیں بیٹھے، بلکہ ہم جھوٹ اور مبالغہ آرائی کا رد بھی کرتے ہیں۔
اس کے ثبوت میں ہماری چند مشہور تحقیقات پیشِ خدمت ہیں:
- ساحل عدیم کے نظریات کا رد: جب بلیک ہولز اور ٹائم ٹریول جیسی سائنس فکشن کو زبردستی قرآن و حدیث سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، تو ہم نے اس کی علمی مخالفت کی اور حقائق واضح کیے۔
- نیل آرم سٹرانگ اور جیک کوسٹو: مسلمانوں میں مشہور جھوٹی خبروں کا رد کیا کہ چاند پر جانے والے نیل آرم سٹرانگ اور سمندروں کے محقق جیک کوسٹو مسلمان ہو گئے تھے۔ ہم نے تحقیق کر کے ثابت کیا کہ یہ خبریں جھوٹی ہیں۔
- مکہ مکرمہ سے متعلق غلط فہمیاں: مکہ اور کعبہ سے متعلق کئی غیر سائنسی باتوں (جیسے وہاں کشش ثقل کا نہ ہونا وغیرہ) کا ہم نے سائنسی بنیادوں پر رد پیش کیا۔
یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ ہم "زبردستی کی تطبیق" کے قائل نہیں، بلکہ ہمارا مقصد صرف اور صرف حقائق تک پہنچنا ہے۔
5. دیگر اہم سیکولر اعتراضات کا تفصیلی اور مدلل جواب
یہاں ہم ان دو بڑے طعنوں کا تفصیلی جواب دیں گے جو اکثر سیکولر اور ملحد طبقے کی طرف سے مسلمانوں کو دیے جاتے ہیں:
اعتراض نمبر 1: "اگر قرآن میں سب کچھ تھا تو مسلمان خود تحقیق کیوں نہیں کرتے؟ مغرب کی تحقیق پر کیوں اتراتے ہو؟"
جواب: یہ اعتراض تاریخی حقائق سے جہالت اور تعصب پر مبنی ہے۔ اس کے کئی پہلو ہیں:
- تاریخی حقیقت (The Golden Age): یہ ایک ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے کہ جب یورپ جہالت کے اندھیروں (Dark Ages) میں ڈوبا ہوا تھا، اس وقت بغداد، قرطبہ اور قاہرہ علم و سائنس کے مراکز تھے۔ ابن الہیثم (بصریات کے بانی)، جابر بن حیان (کیمسٹری کے بانی)، البیرونی اور ابن سینا جیسے سینکڑوں مسلم سائنسدانوں نے جدید سائنس کی بنیادیں رکھیں۔ یہ سب قرآن کے حکمِ تدبر اور نبی کریم ﷺ کی ترغیبِ علم کا نتیجہ تھا۔ [3]
- زوال کا سبب: ہمارا موجودہ سائنسی زوال قرآن کی وجہ سے نہیں، بلکہ قرآن کی تعلیمات (غور و فکر) کو ترک کرنے اور سیاسی و سماجی انتشار کی وجہ سے ہے۔ جب ہم نے اپنا کام چھوڑا، تو دوسروں نے وہ علم ہم سے لے لیا اور آگے بڑھ گئے۔
- حکمت مومن کی گمشدہ میراث: علم اور سچائی کسی قوم کی جاگیر نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے، وہ جہاں اسے پائے، اس کا زیادہ حقدار ہے۔" [4]۔ لہٰذا، اگر آج ایک غیر مسلم سائنسدان (جیسے نیوٹن یا آئن سٹائن) کائنات کا کوئی راز دریافت کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اللہ ہی کی بنائی ہوئی کائنات کی ایک آیت کو بے نقاب کر رہا ہے۔ ہم اس دریافت کو اپنی گمشدہ میراث سمجھ کر قبول کرتے ہیں، اور یہ ہمارے لیے شرم کا نہیں بلکہ خوشی کا مقام ہوتا ہے کہ قرآن کا دعویٰ سچا ثابت ہوا۔
اعتراض نمبر 2: "سائنس کا اصول ہے کہ تحقیق کرتے وقت خدا کو بھولنا پڑتا ہے، ورنہ وہ سائنس نہیں رہتی۔"
جواب: یہ موجودہ دور کا سب سے بڑا فکری دھوکہ (Intellectual Fraud) ہے جو الحاد (Atheism) کو سائنس کے نام پر بیچا جا رہا ہے۔
- دو مختلف اصولوں میں فرق: ہمیں "طریقہ کار کی فطرت پسندی" (Methodological Naturalism) اور "فلسفیانہ فطرت پسندی" (Philosophical Naturalism) میں فرق کرنا ہوگا۔
- سائنس کا طریقہ کار: جب ایک سائنسدان لیبارٹری میں جاتا ہے تو وہ یہ دیکھتا ہے کہ "کائنات کیسے کام کر رہی ہے؟" (How it works)۔ وہ مادی اسباب تلاش کرتا ہے۔ یہاں تک بات ٹھیک ہے۔
- الحاد کا فلسفہ: لیکن جب کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ "چونکہ ہمیں مادی سبب مل گیا ہے، اس لیے اس کے پیچھے کوئی خالق نہیں ہے"، تو یہ سائنس نہیں بلکہ ایک ملحدانہ فلسفہ ہے۔
- مسلم سائنسدان کا طرزِ عمل: ایک مومن سائنسدان جب لیبارٹری میں کائنات کے قوانین (Laws of Physics) دریافت کرتا ہے، تو وہ خدا کو "بھولتا" نہیں ہے، بلکہ اس کا ایمان مزید پختہ ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ دراصل یہ تحقیق کر رہا ہے کہ "میرے رب نے یہ نظام کیسے بنایا ہے اور وہ اسے کیسے چلا رہا ہے؟" ابن الہیثم نے اپنی تحقیق کے آغاز میں لکھا کہ وہ یہ کام اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ [5]
نتیجہ: ایمان تحقیق میں رکاوٹ نہیں، بلکہ سب سے بڑا محرک (Motivator) ہے۔ خدا کو مان کر بھی بہترین سائنسدان بنا جا سکتا ہے، اور تاریخ اس کی گواہ ہے۔
6. اکابرینِ امت کی گواہی اور تائید
ہم جس راستے پر چل رہے ہیں، یہ کوئی نئی بدعت نہیں ہے، بلکہ دورِ حاضر کے جید اسلامی اسکالرز اور مفکرین نے اس طرزِ استدلال کی نہ صرف تائید کی ہے بلکہ اسے وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا ہے۔
- مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ: آپ نے اپنی تفسیر "تفہیم القرآن" میں جا بجا کائنات کے مظاہر پر جدید معلومات کی روشنی میں گفتگو کی ہے اور اسے قرآن کے فہم کے لیے معاون قرار دیا ہے۔ [6]
- ڈاکٹر اسرار احمدؒ: ڈاکٹر صاحب کے نزدیک جدید دور کا سب سے بڑا فتنہ "سائنسی الحاد" ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے قرآن کے علمی اور عقلی پہلوؤں کو اجاگر کرنا ناگزیر ہے۔ [7]
- ڈاکٹر ذاکر نائیک: انہوں نے اس میدان میں عالمی سطح پر کام کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ قرآن سائنس کی کتاب نہ ہوتے ہوئے بھی سائنس کی رہنمائی کرتا ہے۔ [8]
حوالہ جات (References):
- Stephen Jay Gould, "Nonoverlapping Magisteria," Natural History 106 (March 1997): 16-22.
- القرآن الکریم، سورۃ آل عمران (3)، آیت 190۔
- تفصیل کے لیے دیکھیے: George Saliba, Islamic Science and the Making of the European Renaissance (MIT Press, 2007).
- جامع الترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، حدیث نمبر 2687۔
- ابن ابی اصیبعہ، عیون الانباء فی طبقات الاطباء، (بیروت: دار مکتبۃ الحیاۃ)، صفحہ 559۔
- مثال کے طور پر دیکھیے: سید ابوالاعلیٰ مودودی، تفہیم القرآن، جلد 6، سورۃ الذاریات، حاشیہ 44 (کائنات کے پھیلاؤ پر)۔
- ڈاکٹر اسرار احمد، "اسلام اور سائنس: تضاد یا تطبیق؟" (لاہور: مرکزی انجمن خدام القرآن)، مختلف مقامات پر۔
- Dr. Zakir Naik, The Qur'an & Modern Science: Compatible or Incompatible? (Darussalam Publishers).
#سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #تدبر_قرآن #پرویز_ہودبھائی #سیکولرزم_کا_رد #اسلام_اور_سائنس #قرآن_اور_جدید_سائنس #عقل_اور_ایمان #سائنسی_الحاد_کا_رد #ڈاکٹر_اسرار_احمد #مولانا_مودودی #IslamAndScience #RefutationOfAtheism #FaithAndReason
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

