یاجوج ماجوج کی اصل حقیقت: زمین پر موجود انسان یا کوئی خلائی مخلوق؟
(قرآن، صحیح احادیث، اکابر کے موقف اور جدید خلائی/افسانوی نظریات کا مدلل رد)
مقدمہ:
قربِ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے "خروجِ یاجوج و ماجوج" ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ثبوت قرآنِ کریم کی قطعی آیات اور متواتر احادیث سے ملتا ہے۔ یہ ایمان بالغیب اور اسلامی عقائد کا حصہ ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ دورِ حاضر میں چند سوشل میڈیا اسکالرز اور نیم سائنسدانوں (بشمول جناب ساحل عدیم و دیگر) نے اپنی کم علمی اور تجسس پسندی کی بنا پر اس سیدھے سادے اسلامی عقیدے کو سائنس فکشن، خلائی مخلوق، یا زومبیز (Zombies) کی کہانیوں میں بدل دیا ہے۔
"سائنس قرآن کے حضور میں" کا مقصد جذباتیت نہیں بلکہ ٹھوس دلائل ہیں۔ اس طویل مگر ضروری پوسٹ میں ہم قرآن، حدیث اور اجماعِ امت کی روشنی میں ثابت کریں گے کہ یاجوج ماجوج کون ہیں، اور ساتھ ہی ان جدید افسانوی نظریات کا علمی پوسٹ مارٹم کریں گے۔
باب اول: قرآنِ کریم کا اٹل فیصلہ (نصوصِ قطعیہ)
قرآن مجید میں دو مقامات پر یاجوج ماجوج کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے، جو ان کے زمینی وجود اور فساد پر مہر ثبت کرتا ہے۔
1. سورۃ الکہف میں ذکر (ذوالقرنین کا واقعہ اور دیوار کی تعمیر):
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِن دُونِهِمَا قَوْمًا لَّا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا ﴿٩٣﴾ قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَىٰ أَن تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا ﴿٩٤﴾ قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا ﴿٩٥﴾ آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا سَاوَىٰ بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انفُخُوا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا ﴿٩٦﴾ فَمَا اسْطَاعُوا أَن يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا ﴿٩٧﴾ قَالَ هَٰذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّي ۖ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ ۖ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا ﴿٩٨﴾
ترجمہ: "یہاں تک کہ جب وہ (ذوالقرنین) دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک ایسی قوم ملی جو کوئی بات سمجھتی معلوم نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج اس زمین میں فساد مچاتے ہیں، تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال مقرر کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادیں؟... (ذوالقرنین نے کہا) مجھے لوہے کی چادریں لا دو، یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلا کو پاٹ دیا تو حکم دیا کہ (آگ) دھونکو! یہاں تک کہ جب اس (لوہے کی دیوار) کو آگ (کی طرح سرخ) کردیا تو کہا: میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ کہ اس پر انڈیل دوں۔ پھر ان (یاجوج ماجوج) میں یہ استطاعت نہ رہی کہ اس دیوار کے اوپر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب (سوراخ) لگا سکیں۔ ذوالقرنین نے کہا: یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر دے گا، اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔"
استدلال: قرآن بتاتا ہے کہ وہ "مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ" (زمین میں فساد کرنے والے) ہیں، خلائی مخلوق نہیں۔ انہیں روکنے کے لیے "لوہے اور تانبے" کی مادی دیوار بنائی گئی، جو زمین ہی پر ممکن ہے۔
2. سورۃ الانبیاء میں خروج کا ذکر:
"حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ ﴿٩٦﴾ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ..." [2]
ترجمہ: "یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے تیزی سے اترتے ہوئے آئیں گے۔ اور سچا وعدہ (قیامت) قریب آپہنچے گا..."
استدلال: ان کا کھلنا قیامت کے قریب ہوگا اور وہ زمین کی بلندیوں سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔
باب دوم: صحیح احادیثِ نبوی ﷺ کی گواہی
نبی کریم ﷺ نے یاجوج ماجوج کی تفصیلات اتنی صراحت سے بیان کی ہیں کہ کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔
حدیث نمبر 1: یاجوج ماجوج انسان (اولادِ آدم) ہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِنْ وَلَدِ آدَمَ، وَلَوْ أُرْسِلُوا لَأَفْسَدُوا عَلَى النَّاسِ مَعَايِشَهُمْ، وَلَنْ يَمُوتَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا تَرَكَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ أَلْفًا فَصَاعِدًا" [3]
ترجمہ: "بے شک یاجوج ماجوج آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ اگر وہ چھوڑ دیے جائیں تو لوگوں پر ان کا رہن سہن تنگ کر دیں (فساد مچائیں)، اور ان میں سے کوئی شخص نہیں مرتا جب تک کہ وہ اپنی ذرّیت (اولاد) میں سے ایک ہزار یا اس سے زیادہ نہ چھوڑ جائے۔"
ثابت ہوا: وہ جنات، فرشتے، خلائی مخلوق یا زومبیز نہیں بلکہ انسان ہیں اور طبعی موت مرتے ہیں اور نسل بڑھاتے ہیں۔
حدیث نمبر 2: خروج کا وقت اور تفصیل (سب سے اہم حدیث)
حضرت نواس بن سمعانؓ سے مروی طویل حدیث کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"...وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا، وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ: لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ... فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ، فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ..." [4]
ترجمہ: "(دجال کے قتل کے بعد) اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ ان کا پہلا گروہ بحیرہ طبریہ (موجودہ اسرائیل میں پانی کی جھیل) سے گزرے گا تو اس کا سارا پانی پی جائے گا، اور جب ان کا آخری گروہ وہاں سے گزرے گا تو کہے گا: کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا۔... پھر اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی اللہ سے دعا کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان (یاجوج ماجوج) کی گردنوں میں 'نغف' (ایک قسم کا کیڑا) پیدا کر دے گا، جس سے وہ سب یکلخت ایسے مر جائیں گے جیسے ایک جان مرتی ہے۔"
حدیث نمبر 3: دیوار کو روزانہ کھودنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ يَحْفِرُونَ السَّدَّ كُلَّ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ، قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا... حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ، وَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ، حَفَرُوا، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ، قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ... فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ..." [5]
ترجمہ: "یاجوج و ماجوج ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ سورج کی شعاع دیکھنے کے قریب ہوتے ہیں تو ان کا سردار کہتا ہے: واپس چلو، کل کھودیں گے۔... یہاں تک کہ যখন ان کی مدت پوری ہوجائے گی اور اللہ انہیں لوگوں پر نکالنا چاہے گا تو وہ کھودیں گے اور ان کا سردار کہے گا: کل کھودیں گے 'ان شاء اللہ'۔ تو جب وہ اگلے دن آئیں گے تو دیوار ویسی ہی ہوگی جیسی وہ چھوڑ کر گئے تھے، پھر وہ اسے کھود کر لوگوں پر نکل آئیں گے۔"
ثابت ہوا: وہ اسی زمین پر قید ہیں، زمینی دن رات اور سورج کے نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔
باب سوم: اکابر علماء اور محققین کا موقف
امت کا اجماع ہے کہ یہ انسانی مخلوق ہے۔ ان کے مقام کی تعیین میں دو بڑے نقطہ نظر ہیں:
1. جمہور قدیم مفسرین کا موقف (ایمان بالغیب):
امام ابن کثیرؒ، امام قرطبیؒ وغیرہ کا ماننا ہے کہ یاجوج ماجوج زمین کے انتہائی دور دراز حصے (شمال یا مشرق) میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اس دیوار اور قوم کو ہماری نظروں سے پوشیدہ (غیب) رکھا ہے، جیسے دجال اسی زمین پر ہونے کے باوجود نظر نہیں آتا۔ [6]
2. جدید محققین کا موقف (جغرافیائی تحقیق):
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور مفتی محمد شفیعؒ وغیرہ نے تاریخی شواہد کی بنا پر رائے دی ہے کہ یہ مقام بحیرہ اسود اور بحیرہ قزوین کے درمیان "کوہِ قاف" (Caucasus) کا پہاڑی سلسلہ ہے، جہاں "دربند" کے مقام پر لوہے کی قدیم دیوار کے آثار ملتے ہیں۔ [7]
اہم نکتہ: دونوں گروہ متفق ہیں کہ ان کا وہ بڑا لشکر جس کا ذکر احادیث میں ہے، ابھی تک قید ہے اور قیامت کے قریب ہی نکلے گا۔
باب چہارم: جدید افسانوی نظریات کا مختصر رد
اعتراض 1: "یہ خلائی مخلوق (Aliens) یا دوسری ڈائمینشن کی مخلوق ہیں۔"
رد: یہ قرآن و حدیث کا کھلا انکار ہے۔ قرآن انہیں "زمین میں" فساد کرنے والا [1] اور حدیث "اولادِ آدم" [3] کہتی ہے۔ حدیث کہتی ہے وہ زمین کی جھیل کا پانی پئیں گے اور زمینی سورج کی شعاعیں دیکھنے کے لیے دیوار کھودتے ہیں [4]، [5]۔ کیا خلائی مخلوق پر زمینی سورج اور پانی کا اطلاق ہوتا ہے؟ ہرگز نہیں!
اعتراض 2: "اگر وہ زمین پر ہیں تو گوگل ارتھ پر نظر کیوں نہیں آتے؟"
رد: یہ اللہ کی قدرت کا انکار ہے۔ کیا اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ کسی چیز کو اسی زمین پر رکھ کر ہماری نظروں سے اوجھل کر دے (پردہِ غیب)؟ نیز، انسان نے ابھی تک زمین کا ہر حصہ (جیسے سمندر کی گہرائیاں یا گھنے جنگلات و پہاڑی غار) دریافت نہیں کیا ہے۔
اعتراض 3: "یہ موجودہ سپر پاورز (امریکہ، روس، چین) ہیں۔"
رد: یہ حدیث کے ٹائم لائن کا انکار ہے۔ حدیث کے مطابق ان کا خروج حضرت عیسیٰؑ کے نزول اور دجال کے خاتمے کے بعد ہوگا [4]۔ چونکہ ابھی یہ واقعات نہیں ہوئے، لہٰذا موجودہ قومیں وہ یاجوج ماجوج نہیں ہیں۔
باب پنجم: عوامی اعتراضات اور ان کے علمی جوابات
(نوٹ: یہ وہ سوالات ہیں جو سوشل میڈیا پر جدید نظریات سے متاثر افراد اکثر اٹھاتے ہیں۔)
اعتراض نمبر 4: "آپ نے بلندیوں سے اترنے والی بات کا حوالہ نہیں دیا۔ کیا یہ حدیث ہے؟ اور انسان پہاڑوں یا آسمان سے اس طرح بھاگتا ہوا کیسے اتر سکتا ہے؟"
الجواب:
محترم! یہ بات کہ وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے، کسی عام انسان کا قول نہیں بلکہ قرآنِ کریم کی نصِ قطعی ہے۔
قرآنی حوالہ: اللہ تعالیٰ سورۃ الانبیاء میں ارشاد فرماتا ہے:
"حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ" [2]
(یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی/ٹیلے سے تیزی سے اترتے ہوئے آئیں گے۔)
حدیث کا حوالہ: یہی الفاظ نبی کریم ﷺ نے صحیح مسلم کی اس طویل حدیث [4] میں بھی استعمال فرمائے ہیں جو ان کے خروج کی تفصیل میں اوپر بیان کی گئی ہے۔
علمی وضاحت: یہاں لفظ "حَدَبٍ" (حدب) استعمال ہوا ہے، جس کا عربی لغت اور تفسیر میں مطلب "زمین کا ابھرا ہوا حصہ، ٹیلہ یا پہاڑی ڈھلوان" ہے۔ یہ ان کی کثرت اور یلغار کی شدت کو بیان کرنے کا ایک فصیح انداز ہے۔ جب کروڑوں کا لشکر پہاڑی سلسلوں سے نیچے میدانی علاقوں کی طرف ٹوٹ پڑے گا، تو وہ منظر ایسا ہی ہوگا جیسے وہ ہر بلندی سے امڈتے چلے آ رہے ہیں۔ اس کا آسمان سے اترنے یا "اڑنے" سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اعتراض نمبر 5: "حدیث میں ہے کہ وہ دریا کا سارا پانی پی جائیں گے۔ انسان تو ایسا نہیں کر سکتا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ انسان نہیں بلکہ کوئی اور نسل (Species) ہیں۔ ساحل عدیم نے یہی سمجھایا ہے۔"
الجواب:
یہ اعتراض بھی حدیث کے فہم میں شدید غلطی اور عقلِ سلیم کو نظر انداز کرنے پر مبنی ہے۔
حدیث کی تصحیح: پہلے اپنی معلومات درست کریں۔ صحیح مسلم کی جس مستند حدیث [4] کا حوالہ دیا گیا ہے، اس میں "دریاِ فرات" نہیں بلکہ "بحیرہ طبریہ" (Lake Tiberias - موجودہ اسرائیل میں ایک بڑی جھیل) کا ذکر ہے۔
کثرتِ تعداد کا بیان (مبالغہ نہیں، حقیقت): آپ شاید یاجوج ماجوج کی تعداد کا اندازہ نہیں لگا پا رہے۔ احادیث کے مطابق ان کی تعداد اربوں میں ہوگی (عام انسانوں سے کئی گنا زیادہ) [3]۔ جب کروڑوں پیاسے انسانوں اور ان کے جانوروں کا لشکر کسی جھیل پر پڑاؤ ڈالے گا، تو کیا وہ صرف منہ لگا کر پانی پئیں گے؟ وہ اپنے لشکر کے لیے پانی بھریں گے، جانوروں کو پلائیں گے، اور استعمال کریں گے۔ اتنی بڑی تعداد کے لیے ایک جھیل کا پانی خشک کر دینا کوئی ناممکن بات نہیں۔
انسانی ضرورت کا ثبوت: یہ حدیث تو الٹا ان کے "انسان ہونے" کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر وہ خلائی مخلوق یا کوئی اور "اسپیشیز" ہوتے تو انہیں زندہ رہنے کے لیے زمین کے پانی کی اتنی شدید حاجت کیوں ہوتی؟ ان کا پانی پینا ثابت کرتا ہے کہ ان کی بیالوجی (Biology) ہماری طرح ہے اور وہ پیاس سے مر سکتے۔
ساحل عدیم کے نظریے کا رد:
جو تشریح قرآن کے واضح الفاظ ("حدب" کے معنی) اور عقلِ سلیم کے خلاف ہو، وہ درست نہیں بلکہ "تخیلاتی" (Fiction) ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں واضح لفظوں میں "وَلَدِ آدَمَ" (آدم کی اولاد) کہا ہے [3]۔ اب کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ "نئی اسپیشیز" یا "الگ نسل" کے نام پر نبی ﷺ کے فرمان میں اپنی سائنس فکشن ملائے۔ ہمیں تحقیق کرنی چاہیے، تخیل نہیں۔
خاتمہ (Conclusion)
ہم نے یاجوج و ماجوج کے حوالے سے اپنی مفصل تحقیق، قرآنِ کریم کی آیات، صحیح احادیث اور اکابرِ امت کے مستند موقف کی روشنی میں آپ کے سامنے پیش کر دی ہے۔ ہمارا مقصد محض علمی حقائق کو واضح کرنا اور ان غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا تھا جو دورِ حاضر کے کچھ نئے نظریات کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں۔
ہمارا کام حق بات کو دلیل کے ساتھ پہنچا دینا تھا۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ ہماری تحقیق کے ہر ایک حرف پر ایمان لائیں۔ اگر آپ کو ساحل عدیم صاحب کی تشریحات یا ان کا نقطہ نظر زیادہ پسند ہے، تو یہ آپ کی اپنی مرضی اور صوابدید ہے۔ ہم آپ کو کسی خاص رائے کا پابند نہیں کر سکتے، نہ ہی ہمارا مقصد کسی پر اپنی بات تھوپنا ہے۔
ہم نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے تاکہ کوئی طالبِ حق غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔ اب ان دلائل کو ماننا یا نہ ماننا آپ کا کام ہے۔ ہمارا موقف واضح ہے کہ دینِ اسلام "نصوص" (قرآن و حدیث) پر مبنی ہے، نہ کہ سائنسی تخیلات (Science Fiction) پر۔ بحث برائے بحث کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اس لیے ہم اس علمی تحقیق کو یہیں ختم کرتے ہیں۔
وما علینا الا البلاغ، واللہ اعلم بالصواب۔
[1] القرآن الکریم، سورۃ الکہف (18)، آیات 93 تا 98۔
[2] القرآن الکریم، سورۃ الانبیاء (21)، آیت 96۔
[3] مسند احمد، حدیث نمبر: 3355؛ فتح الباری لابن حجر: 6/383؛ السلسلۃ الصحیحہ للألبانی: 2998 (قال الألبانی: صحیح علی شرط الشیخین)۔
[4] صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر: 2937۔
[5] سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن، حدیث نمبر: 4080؛ سنن الترمذی، تفسیر القرآن، حدیث نمبر: 3153 (قال الألبانی: صحیح، وقال الحاکم: صحیح علی شرط الشیخین)۔
[6] دیکھیے: تفسیر ابن کثیر، و تفسیر القرطبی، زیرِ تفسیر سورۃ الکہف آیت 98۔
[7] دیکھیے: تفہیم القرآن (مودودیؒ)، جلد 3، حاشیہ 72 بر سورۃ الکہف؛ معارف القرآن (مفتی شفیعؒ)، زیرِ تفسیر سورۃ الکہف۔
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

