⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

وقت کا جادو اور کائنات کا سفر: کیا ہم ماضی دیکھ رہے ہیں؟ (سائنس اور قرآن کی روشنی میں)


ایک خوبصورت کہکشاں اور کائناتی گھڑی جس پر اردو میں وقت کا راز لکھا ہے


تازہ ترین اپڈیٹ: 13 فروری 2026
کیا آپ جانتے ہیں؟ ہم جو ستارے، سورج اور کہکشائیں دیکھتے ہیں، وہ سب ماضی کے مناظر ہوتے ہیں! کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ایک ایسی دنیا دیکھ رہے ہوں جو کب کی ختم ہو چکی ہو... یہ وقت کا جادو ہے — اور یہ جادو اللہ کی بنائی ہوئی لا محدود کائنات میں چھپا ہے۔ کیا یہ اسلام کے خلاف ہے؟ نہیں! بلکہ قرآنِ کریم میں تو وقت کی وسعت کے اشارے پہلے سے موجود ہیں جنہیں ہم آج کی سائنسی ترقی کی بدولت زیادہ بہتر طور پر سمجھ رہے ہیں۔

مؤلف: طارق اقبال سوہدروی

بچو! ایک دن چھوٹا سا لڑکا "حارث" آسمان کے نیچے لیٹا ستارے گن رہا تھا۔ اس نے اپنے ابو سے پوچھا: "ابو! یہ ستارے ہر رات کیوں چمکتے ہیں؟ اور کیا ہم جو کچھ آسمان پر دیکھتے ہیں، وہ ابھی کا ہوتا ہے؟"

ابو مسکرائے، اور بولے: "نہیں بیٹا، جو کچھ ہم آسمان پر دیکھتے ہیں، وہ ماضی ہوتا ہے، حال نہیں۔" حارث کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں: "مطلب، یہ سب جھوٹ ہے؟" ابو نے نرمی سے کہا: "نہیں، یہ جھوٹ نہیں، بس وقت کا ایک جادو ہے۔ آؤ، میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں جو حقیقت پر مبنی ہے، اور تمہیں یہ سب سمجھ آجائے گا۔"

ایک معلوماتی خاکہ جس میں دکھایا گیا ہے کہ سورج کی روشنی زمین تک 8 منٹ میں پہنچتی ہے

☀️ سورج کا راز

ابو نے کہا: "تمہیں معلوم ہے سورج ہم سے کتنی دور ہے؟" حارث بولا: "شاید... بہت زیادہ؟" ابو نے مسکرا کر کہا: "ہاں، پندرہ کروڑ کلومیٹر دور۔ اور اس کی روشنی کو زمین تک آنے میں 8.2 منٹ لگتے ہیں۔ مطلب، اگر سورج ابھی بند ہو جائے تو ہمیں اس کا علم بھی آٹھ منٹ بعد ہو گا۔" حارث نے حیرانی سے پوچھا: "تو ہم جو سورج دیکھتے ہیں، وہ آٹھ منٹ پہلے کا ہوتا ہے؟" ابو بولے: "بالکل، ہم سورج کا ماضی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔"

🌌 کہکشاں M31 اور وقت کا سفر

پھر ابو نے حارث کو دوربین دکھائی اور کہا: "یہ دیکھو، اس طرف M31 نامی ایک کہکشاں ہے۔ یہ ہم سے اتنی دور ہے کہ اس کی روشنی کو زمین تک آنے میں پچیس لاکھ نوری سال لگتے ہیں!" حارث ہکا بکا رہ گیا: "یعنی جو ہم ابھی دیکھ رہے ہیں وہ پچیس لاکھ سال پہلے کا منظر ہے؟" ابو نے ہاں میں سر ہلایا: "ہوسکتا ہے وہ کہکشاں اب تباہ ہو چکی ہو۔ لیکن ہمیں تب پتہ چلے گا جب اس کی روشنی یہاں تک پہنچے گی۔ مطلب، ہمیں حقیقت جاننے کے لیے پچیس لاکھ سال انتظار کرنا ہوگا!"

⭐ ستارہ 84 CETI اور پاکستان کا ماضی

ابو نے کہا: "اب ایک اور راز سنو۔ ایک ستارہ ہے 84 CETI، جو ہم سے 77 نوری سال دور ہے۔ فرض کرو کوئی وہاں ٹیلی سکوپ سے زمین کو دیکھ رہا ہے، تو اسے زمین پر کیا نظر آئے گا؟" حارث نے کہا: "شاید آج کی دنیا؟" ابو ہنسے: "نہیں، 77 سال پرانی دنیا! شاید وہ قائداعظم کو تقریر کرتے دیکھ رہا ہو، یا لوگ آزادی کے لیے لڑ رہے ہوں۔ اس کی نظر میں ہم ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے۔ ہو سکتا ہے وہ تمہارے دادا کو اسکول جانے سے انکار کرتے دیکھ رہا ہو!"

📖 اللہ کی عظمت اور علمِ محیط:

هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

"وہی (سب سے) پہلے ہے اور وہی (سب سے) پیچھے ہے اور وہی ظاہر ہے اور وہی پوشیدہ ہے، اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔"

(سورۃ الحدید، آیت: 3)

🔭 وقت کا راز اور آئن سٹائن کا کمال

ابو نے کہا: "ایک بہت بڑے سائنس دان تھے، البرٹ آئن سٹائن۔ ان کی تھیوری کے مطابق ماضی، حال اور مستقبل تینوں وقت ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ جیسے DVD میں فلم کے تمام سین ایک ساتھ محفوظ ہوتے ہیں، لیکن ہم ایک وقت میں ایک ہی سین دیکھتے ہیں۔" حارث نے پوچھا: "تو کیا ہم وقت میں آگے یا پیچھے جا سکتے ہیں؟" ابو نے کہا: "نظریاتی طور پر ہاں۔ اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں یا بہت بڑی کششِ ثقل والے مقام پر ہوں، تو وقت ہمارے لیے سست ہو جاتا ہے۔ یعنی ہم دوسرے لوگوں سے 'آگے یا پیچھے' جا سکتے ہیں!"

❓ کیا یہ نظریہ اسلام کے خلاف ہے؟

یہاں ہمیں دو اہم سوالات کا جواب دینا ہے: کیا وقت کا ایسا گزرنا اور ماضی کا نظر آنا قرآن کے خلاف ہے؟ اور کیا اسلام میں ماضی، حال اور مستقبل کے تصور کی وضاحت موجود ہے؟

قرآن اور وقت کا تصور: قرآن مجید میں وقت کی وسعت اور اس کی نسبت (Relativity) کے اشارے موجود ہیں، جو مختلف جہانوں میں وقت کی الگ رفتار کا تذکرہ کرتے ہیں:

اللہ کے ہاں دن کی طوالت: "تمہارے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہے۔" (الحج: 47)
فرشتوں کا سفر: "فرشتے اور روح اس کی طرف ایک دن میں چڑھتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔" (المعارج: 4)

آئن سٹائن نے کہا تھا کہ ماضی، حال اور مستقبل میں کوئی حقیقی تقسیم نہیں، یہ سب ہمیشہ ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت قرآن کے اس بیان سے ہم آہنگ نظر آتی ہے کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے: "اور اس کے پاس ہر چیز کی کنجیاں ہیں، اسے ان کا علم ہے۔" (سورۃ الانعام، 6:59)

ڈاکٹر ذاکر نائیک: سائنس جس حقیقت کو آج دریافت کر رہی ہے، اس کے اشارے قرآن نے چودہ سو سال پہلے ہی دے دیے تھے، مگر انسانی علم کی ترقی نے ہمیں ان اشاروں کو اب بہتر طور پر سمجھنے کے قابل بنایا ہے۔

امام غزالی: آپ نے وقت کو اللہ کی مخلوق قرار دیا اور فرمایا کہ اللہ کے لیے ماضی، حال اور مستقبل ایک ہی وقت میں موجود ہیں۔

💿 ایک مثال: ڈی وی ڈی والی فلم

تصور کریں کہ ہمارے سامنے ایک ڈی وی ڈی ہے جس پر فلم ریکارڈ ہے۔ وہ فلم پوری کی پوری ایک ہی وقت میں ڈی وی ڈی میں موجود ہے۔ ہم چاہیں تو شروع دیکھ لیں، چاہیں تو آخری سین دیکھیں۔ اسی طرح اللہ کی نظر میں وقت بھی مکمل ہے۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل سب کو ایک ساتھ جانتا اور دیکھتا ہے۔ کلامِ پاک میں حضرت یوسفؑ کے خواب یا ماضی کے واقعات کا تذکرہ اسی علمِ الٰہی کی دلیل ہے۔

نتیجہ:

یہ سائنسی مشاہدہ کہ ہم فلکی اجسام کو ماضی میں دیکھتے ہیں، اسلام کے خلاف نہیں بلکہ تائید ہے۔ وقت کا گزرنا مختلف جگہوں پر مختلف ہوتا ہے، یہ بات قرآن کے اشارات سے واضح ہے۔ اللہ کا علم وقت کی قید سے بالاتر ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس کا خالق وہی ہے جس نے یہ کتاب (قرآن) نازل فرمائی۔


حوالہ جات و تحقیقی ذرائع:
  • سورج اور زمین کا فاصلہ: vcalc.com
  • کہکشاں M31 کا فاصلہ: vcalc.com
  • ستارہ 84 Ceti: en.wikipedia.org
  • قرآن میں وقت کی نسبت: aboutislam.net
  • آئن سٹائن کی نظریہ نسبیت: aljumuah.com
#وقت_کا_راز #کائنات #سائنس_اور_اسلام #آئن_سٹائن #طارق_اقبال_سوہدروی
جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال