قوم کیا پڑھ رہی ہے؟ جیو کیا پڑھانا چاہتا ہے؟

قوم کیا پڑھ رہی ہے؟ جیو کیا پڑھانا چاہتا ہے؟


تحریر: شاہنواز فاروقی

ذرائع ابلاغ ملک و قوم کی طاقت ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا بڑا حصہ ملک و قوم کی کمزوری بن گیاہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پاکستان میں ابلا غ کے بیشتر ذرائع پورس کے ہاتھیوں کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی ہی صفوں کو کچل رہے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ پاکستانی قوم مکے اور مدینے کی طرف دیکھ رہی ہے اور پاکستانی ذرائع ابلاغ واشنگٹن ‘ لندن اور نئی دہلی کی طرف رخ کیے کھڑے ہیں۔ پاکستانی قوم اپنی زندگی میں مزید اسلام کی خواہش مند ہے اور پاکستانی ذرائع ابلاغ اسے صبح شام سیکولر ازم اور لبرل ازم کے جام پلارہے ہیں۔ پاکستانی قوم اپنی تہذ یب اور تاریخ سے مزید جڑجانا چاہتی ہے او رپاکستانی ذرائع ابلاغ اسے اس کی تہذیب اور تاریخ سے لاتعلق کردینا چاہتے ہیں۔


اس کی تازہ ترین مثال جیو کا پروگرام چل پڑھا ہے۔ یکم مارچ 2013 ء کو نشر ہونے والے پروگرا م میں پاکستان میں پڑھائے جانے والے نصاب کا جائزہ لیا گیا۔ پروگرام کے میزبان شہزاد رائے پروگرام میں اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے نظر آئے کہ نصابی کتب ذہنوں کو کھولتی ہیں مگر ہمارے یہاں نصابی کتب ذہنوں کو بند کرتی ہیں۔ ذہنوں کو بند کرنے کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے نہایت تیزی اور پھولی ہوئی سانس کے ساتھ ایک حمد پڑھی اور قوم کو بتایاکہ ہم خدا کی ذات کے حوالہ سے بھی بچوں کو صرف رٹو طوطا بنارہے ہیں۔یہ مثال پیش کرنے کے بعد انہوں نے اپنے تئیں یہ بتایاکہ بچوں کے ذہنوں کو کس طرح کھولا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے نجی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی ایک کتاب کا حوالہ دیا جس میں تصویروں کی مدد سے بتایا گیا تھا کہ ہاتھی کتنا بڑا جانور ہے۔ اس کے بعد وہیل کی تصویر کے ذریعے یہ بتایا گیا تھا کہ وہیل ہاتھی سے بھی بڑی ہوتی ہے۔ ان تصویروں اور ان کے ساتھ موجود مواد کا مقصد بچوں کو یہ بتانا تھاکہ ہاتھی اوروہیل اتنی بڑی ہے تو ان کو بنانے والا رب کتنا بڑا ہوگا؟ غور کیا جائے تویہ مثال دے کر شہزاد رائے نے خدا کے وجود 
کے ساتھ معاذ اللہ جسم‘ حجم یا Size وابستہ کردیا۔ تو کیا جیو پاکستان کے بچوں کو یہ پڑھانے کے بجائے کہ خدا ہر طرح کی جسمانیت سے پاک اور بلند ہے یہ پڑھانا چاہتا ہے کہ ہاتھی اور وہیل کی طرح اس کا کوئی جسم حجم یا Size ہے؟ ہمارے دین، ہماری تہذیب اور ہماری تاریخ میں خدا کا سب سے بڑا ہونا ثابت کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ  قادر مطلق ہے۔ وہ ہر چیز کا خالق ہے۔ مالک ہے‘ رازق ہے۔ وہ حئی ہے۔ قیوم ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ علیم ہے۔ خبیر ہے۔ لیکن جیو اس کے برعکس یہ چاہتا ہے کہ قوم کے بچے ہاتھی اور وہیل کی تصاویر دیکھ کر یہ جانیں کہ خدا کتنا بڑا ہے؟ تجزیہ کیا جائے تو یہ صرف ہمارے تصور خدا ہی پر حملہ نہیں بلکہ یہ مسلم دنیا کی تیرہ سو سالہ ذہانت کی بھی توہین ہے۔ اس لیے کہ مسلمانوں نے تیرہ سو سال تک ہاتھی اور وہیل کی تصاویر کے بغیر ہی خدا کی ذات کا تصور قائم کیا ہے اور وہ اپنے خالق و مالک سے گہرا تعلق قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ شہزاد رائے پروگرام میں یہ شکایت کرتے نظر آئے کہ ہمارا نصاب خیال انگیز یا Thought Provoking نہیں۔ا س سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شہزاد رائے اور جیو پاکستانی قوم کے بچوں کے ذہنوں کو کس طرح کھولنا اور اور انہیں کتنا “Thought Provoking” نصاب پڑھانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں جیو اور اس کے میزبان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ خدا کے ساتھ جسم یا حجم کا تصور وابستہ کرنا صریح کفر ہے۔ اس لیے کہ خدا نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ میں ایسا ہوں کہ کسی بھی چیز سے میری مثال نہیں دی جاسکتی۔ خدا جسم یا حجم یا ہمارے تصور سے بھی ماورا ہے۔ شہزاد رائے پروگرام میں ایک میڈیکل اسٹور پر جاکر پچاس ساٹھ سال پرانی دوائیں مانگتے ہیں۔ اس کے ذریعے انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ جس طرح مریض کو پچاس ساٹھ سال پرانی دوا نہیں دی جاسکتی اسی طرح بچوں کو پچاس ساٹھ سال پرانا نصاب نہیں پڑھایا جاسکتا۔ ان کی بات اصولی اعتبار سے درست ہے۔ مگر شہزاد رائے اور جیو کا منصوبہ تو یہ لگتا ہے کہ وہ نئے پن کے نام پر پاکستانی قوم کو ایمان کے نام پر کفر پڑھانا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا قوم اس کے لیے تیار ہے؟
پروگرام میں اوکفرڈ والی امینہ سعید اس بات کا گلہ کرتی نظر آئیں کہ سرکاری ٹیکسٹ بک بورڈ ہمیں پاس ہی نہیں پھٹکنے دیتا۔ ورنہ ہم انہیں ’’معیاری‘‘ نصابی کتب تیار کرکے دے سکتے ہیں۔ کیا امینہ سید چاہتی ہیں ان کی تیار کردہ نصابی کتب کا تجزیہ کرکے بتایا جائے کہ اس میں کتنا سیکولر ازم اور لبرل ازم اور معنی کے نام پر کتنی بے معنویت بھری ہوئی ہے۔
چل پڑھا‘ نصاب سے متعلق دوسرا پروگرام 2مارچ 2013 ء کو نشر ہوا۔ پروگرام کا آغاز یہ کہتے ہوئے کیا گیا کہ 2006 ء میں پاکستان گدھوں کی پیداوار میں دوسرے نمبر پر تھا۔ اس سال پاکستان میں نصاب پر بھی نظرثانی ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا اس سے زیادہ توہین آمیز تعارف ممکن ہے؟یہ تعارف بھارت ‘ اسرائیل ‘ امریکہ یا یورپ کا کوئی چینل کرتا تو بات سمجھ میں آتی لیکن جیو کے بارے میں تو عام خیال یہ ہے کہ وہ پاکستانی چینل ہے۔ سوال یہ ہے پھر جیو نے پاکستان کا اتنا توہین آمیز تعارف کیوں کرایا؟ بلاشبہ پاکستان مین نصاب کی حالت خراب ہے اور بلاشبہ اس حالت پر تنقید بھی ہونی چاہیے اور اصلاح احوال کے طریقے سے بھی سمجھائے جانے چاہیں لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ 18کروڑ انسانوں کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو گدھوں کے ملک کے مماثل باور کرانے کی کوشش کی جائے۔ یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ پاکستان کا نصاب اگر خراب ہے تو یہ حکومتوں کا قصور ہے مگر جیو نے حکمرانوں کو گدھوں کے ساتھ کھڑا کرنے کے بجائے پاکستان اور اس کے 18کروڑ لوگوں کو گدھوں کے ساتھ کھڑا کردیا۔ سوال یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کا کام ملک و قوم کی ساکھ یا امیج بہتر بنانا ہے یا بدتر بنا کر لوگوں کو اپنے ملک سے مایوس کرنا ہے؟ بہرحال اس بیان کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ شہزاد رائے اور میر شکیل الرحمن بھی اسی ملک کے شہری ہیں جو دنیا میں گدھوں کی آبادی کے اعتبار سے 2006 ء میں دوسرے نمبر پر تھا۔
پروگرام میں ایک سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ ہمارے نصاب میں اتنی مذہبیت کیوں ہے؟ ہم اسلامیات میں اسلام پرھاتے ہیں یہ تو ٹھیک ہے مگر اردو اور سوشل اسٹڈیز میں اسلام کیوں شامل ہوتا ہے؟ پروگرام میں اس حوالے سے مختلف لوگوں کی آراء پیش کی گئی ہیں۔ معروف کالم نگار جاوید چوہدری نے مذکورہ سوال کے جواب میں فرمایا کہ نصاب میں Limited اسلام ہونا چاہیے۔ بہت زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ آخر اس بات کا مفہوم کیا ہے؟
اسلام کا تصور حیات اور تصور علم یہ ہے کہ ہر چیز کا مرکز اللہ کی ذات ہے۔ اس لیے ہماری تہذیب میں الٰہیات کے علم کو سب سے بڑے علم کا درجہ حاصل ہے۔ اس حوالے سے مسلمانوں کا تصور علم یہ ہے کہ ہمارے تمام علوم کو خدا مرکز یا God Centric ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف قرآن و سنت کا علم ہی نہیں ہماری شاعری‘ہماری طبیعات‘ ہماری عمرانیات ‘ ہماری نفسیات‘ ہماری حیاتیات غرضیکہ ہمارے تمام علوم و فنون کو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ ہمیں خدا تک کے لے جانے والے ہوں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ہماری تہذیب میں علم کی ہر شاخ مذہبی یا اسلامی ہے۔ اس کے برعکس جیو یہ چاہتا ہے کہ صرف ہماری اسلامیات ہمیں خدا تک پہنچائے اور باقی علوم و فنون پر یہ ’’ناپسندیدہ بوجھ ‘‘ نہ ڈالا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں اس خواہش کا کیا جواز ہے؟ کیا جیو چاہتا ہے کہ صرف ہماری اسلامیات ہمیں ایمان تک پہنچائے اور باقی علوم و فنون ہمیں کفر وشرک تک لے جانے والے ہوں؟ ویسے شہزاد رائے‘ جیو اور اس کے مالک میر شکیل الرحمن کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ تمام علوم و فنون کا ایک مرکز سے تعلق ہونے کا مسئلہ صرف اسلام سے مخصوص نہیں۔ روس میں کمیونسٹ انقلاب برپا ہوا تو صرف ان کی معاشیات ہی کمیونسٹ نہیں ہوئی۔ کمیونسٹوں نے اپنے ادب کو بھی مارکسسٹ لٹریچر کا نام دیا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی سائنس کو بھی صرف سائنس نہیں کہتے بلکہ سوویت سائنس کہتے تھے۔ جدید مغربی دنیا پر نظر ڈالی جائے تو وہ اپنے فنون کو صرف Arts نہیں کہتی بلکہ Liberal Arts کہتی ہے اس لیے کہ اس کے آرٹس واقعتاً لبرل ہیں۔ ذرا کوئی مغربی دنیا سے کہہ کر دکھائے کہ تمہاری عمرانیات ‘ تہماری نفسیات اور تمہارا ادب خدا اور وحی کے تصور سے کیوں بے نیاز ہے؟ سوال یہ ہے کہ اگر کمونسٹ دنیا اپنے ہر علم کو مارکسسٹ بناسکتی ہے اور مغربی دنیا اپنے ہر علم کو لبرل اور سیکولر بناسکتی ہے تو پاکستان کے مسلمان اپنے ہر علم کو اسلامی کیوں نہ بنائیں؟ ویسے ہمارے یہاں ہر علم کے اسلامی ہونے کی بات بھی مبالغہ آمیز ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہمارے یہاں صرف اسلامیات ہی پوری اسلامی ہوتی ہے۔ باقی مضامین میں دو چار چیزیں ہی ایسی ہوتی ہیں جن کا تناظر اسلامی ہوتا ہے۔ باقی تمام مواد عام قسم کا ہوتا ہے۔ مگر جیو کو شاید اسلامی تناظر کی دو چار چیزوں کی موجودگی بھی گوارا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ اسلام اور پاکستان کی محبت ہے یا دشمنی؟ مزید سوال یہ ہے کہ جیو قوم کے بچوں کو اسلام اور پاکستان سے ’’وابستگی‘‘ پڑھانا چاہتا ہے یا ان سے ’’دوری کی تعلیم‘‘ دینا چاہتا ہے؟
پروگرام میں برصغیر کی ملت اسلامیہ کے ہیروز کا ذکر اس طرح کیا گیا جیسے وہ ہمارے ہیروز نہ ہوں ولن ہوں۔ پروگرام میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آخر ہمارے ہیروز صرف فاتحین پر کیوں مشتمل ہیں؟ ہمارے ہیروز میں کوئی سائنس دان مثلاً پروفیسر عبدالسلام جیسے لوگ کیوں شامل نہیں ہیں؟ شہزاد رائے نے اس سلسلے میں یہ تک فرمایا کہ بچے یہ دیکھ کر سوچتے ہوں گے کہ ہیرو وہی ہے جو جنگ کرتا ہے۔ ان سوالا کا ایک جواب یہ ہے کہ برصغیر پر مسلمانوں نے ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے تو اس کی وجہ فاتحین تھے کوئی سائنس دان ‘شاعر یا ادیب نہیں تھا۔ ان سوالات کا دوسرا جواب یہ ہے کہ فاتحین صرف مسلمانوں کے ہیرو نہیں ہیں۔ دنیا کی ہر قوم فاتحین کو ہیرو سمجھتی ہے۔ سکندر اعظم صرف یونانیوں کا نہیں پورے یورپ کا ہیرو ہے۔ پوپ اُربن دوئم نے عیسائیوں کو بیت المقدس پر قبضے کی تحریک دی اور وہ آج تک عیسائیوں کا ہیرو ہے بلکہ مسلم علاقوں کو فتح کرنے والے عیسائی سپہ سالار تک عیسائیوں کے ہیروز میں شامل ہیں۔ رام‘ لکشمن‘ ارجن ہندووں کی قدیم تاریخ کے ہیروز ہیں اور ان کے ہیرو ہونے میں ان کی عسکری اہلیتوں کا کردار مرکزی ہے۔ ہندووں کی جدید تاریخ کے ہیروز میں شوا جی اور رانا پرتاب شامل ہیں حالانکہ یہ بے چارے حقیقی معنوں میں فاتحین بھی نہیں ہیں۔ ان سوالات کا تیسرا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں نے کبھی صرف فاتحین کو ہیرو نہیں سمجھا۔ ہمارے ہیروز میں امام غزالیؒ ‘ امام رازیؒ‘ مولانا رومؒ‘ شیخ سعدی‘ حافظ شیرازی‘ شفیع …… الدین ابن عربیؒ‘ مجدد الف ثانیؒ‘ شاہ ولی اللہ‘ شاہ عبداللطیف بھٹائی‘ بلھے شاہ‘ قائداعظم اور اقبال جیسی سینکڑوں شخصیات شامل ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ ان تمام شخصیات کو نصاب کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا اس لیے چند شخصیات ہی نصاب میں جگہ حاصل کرپاتی ہیں۔ مسلمان ہیروز کے سلسلے میں تنگ نظر نہیں۔ اس وقت دیکھا جائے تو ہمارے معمولی معمولی سیاست دان‘ کھلاڑی‘ اداکار اور گلوکار ہمارے ہیرو بنے ہوئے ہیں مگر مسلمان مستقل اور عارضی ہیروز کا فرق جانتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ ہیرو وہی ہوتا ہے جس نے تاریخ کا رخ بدلا ہوتا ہے۔ تاریخ کی تعریف متعین کی ہوتی ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے مسلمانوں کے پاس ایسے بہت سے فاتحین ہیں جنہوں نے تاریخ کو بدلا ہے۔ مسلمان اس پر جتنا شکر اور فخر کریں کم ہے۔ مگر جیو ہمیں اپنے ہیروز پر شکر یا فخر کرنے کے بجائے ان پر شرمندہ اور افسردہ ہونا سکھا رہا ہے؟ ایک طرف جیو کو اعتراض ہے کہ ہم فاتحین ہی کو کیوں ہیرو سمجھتے ہیں دوسری جانب اس پروگرام میں ایک مرحلے پر کہا گیا ہے کہ ہمارے تعلیمی اسباق میں گھوم پھر کر صرف اقبال اور قائد کا ذکر ہوتا ہے حالانکہ ہمارے ملک میں بڑے خطاط بھی ہوئے ہیں اور عبدالسلام بھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جیو محمد بن قاسم‘ محمود غزنوی ‘ اورنگ زیب اور ٹیپو سلطان ہی پر شرمندہ نہیں وہ اقبال اور قائداعظم کو بھی ہیرو کے طور پر پیش کرنے سے اکتایا ہوا ہے۔ حالانکہ اقبال جنگی ہیرو نہیں شاعر ہیں اور قائداعظم سپہ سالارنہیں سیاسی رہنما ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جیو کا اصل دکھ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مقلد پروفیسر عبدالسلام ہمارے ہیروز میں کیوں شامل نہیں۔ کیا جیو کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہر قوم کا ہیرو اس کے مذہب‘ تہذیب اور تاریخ کے مرکزی دھارے اور اس کے اجتماعی مفادات کے تحفظ سے برآمد ہوتا ہے اور پروفیسر عبدالسلام ان میں سے کسی معیار پر پورے نہیں اترتے۔
پروگرام میں ایک مسئلہ عقیدے کی تعلیم Indoctrination کا مسلہ اٹھایاگیا ہے۔ معروف سیکولر صحافی غازی صلاح الدین نے پروگرام میں فرمایا کہ معاشرے میں موجود انتہا پسند قوتیں چاہتی ہیں کہ وہ تعلیمی نظام میں موجود بچوں کو اپنے بنیادی عقائد کی تعلیم دیں یا انہیں Indoctrinate کریں اور انہیں بتائیں کہ ہم کون ہیں اورہماری تاریخ کیا ہے۔ غازی صلاح الدین کے الفاظ یہ نہیں کہ ان کی ٹوٹی پھوٹی گفتگو کا مفہوم یہی تھا۔غازی صلاح الدین نے یہ بات اس طرح کہی کہ صرف مسلمان انتہا پسند اپنے بچوں کو اپنے مذہبی عقائد اور تاریخ کا اسیر کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آدھی دنیا پر کمیونزم کا غلبہ تھا اور تمام کمیونسٹ ملکوں میں انتہائی کم عمر سے بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی کہ جولیاتی مادیت کیا ہے۔ قدر زائد کا مفہوم کیا ہے؟ طبقاتی کشمکش کسے کہتے ہیں؟ مارکسس‘ اینجلز ‘ لینن اور اسٹالن ہمارے ہیرو ہیں۔ یہی معاملہ مغربی دنیا کا ہے۔ مغربی دنیا میں ابتداء ہی سے بچوں کو آزادی‘ مساوات‘ جمہوریت‘ آزاد منڈی اور سرمائے کی مرکزیت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہندو بچپن ہی سے اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ برہما ہے جس نے کائنات بنائی ہے۔ وشنو ہے جو کائنات کو چلا رہا ہے اور شو ہے جو کائنات کوفنا کرے گا۔ ہندو بتاتے ہیں کہ رام‘ کرشن‘ سیتا‘ ارجن وغیرہ ہماری مقدس ہستیاں ہیں۔ عیسائی اپنے بچوں کو بچپن سے سکھاتے ہیں کہ اصل چیز تثلیث ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ معاذ اللہ خدا کے بیتے ہیں۔ حضرت مریم مقدس ہستی ہیں۔ حضرت جبرائیل Holy Ghost ہیں۔ اب مسلمان اگر اپنے بچوں کو ایک خدا‘ ایک رسول اور ایک کتاب کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ اور رسول اللہ کی محبت پیدا کرتے ہیں توہ کیا برا کرتے ہیں۔ لیکن مسلمان یہ کام کریں تو وہ ’’انتہا پسند‘‘ ہیں اور کمیونسٹ اور سرمایہ دار معاشرے کے لوگ یہی کام کریں تووہ ’’اعتدال پسند ‘‘۔ آخر جیو چل پڑھا کے ذریعے کیسی عجیب و غریب منطق قوم اور اس کے بچوں کو پڑھانا چاہتا ہے؟
پروگرا میں یہ مسئلہ بھی ’’تخلیق‘‘ کرکے پاکستان اور اہل پاکستان پر تھوپ دیا گیا ہے کہ ہمارے نصاب میں دوسری قوموں سے نفرت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ پرویز ہود بھائی نے فرمایا کہ بچوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اپنے دشمن کو پہچانو ۔ ہود بھائی صاحب یہ فرمارہے تھے تو ٹیلی وژن کی اسکرین پر یہ فقرے نمودار ہورہے تھے کہ انگریز تاجروں کی حیثیت سے جنوبی ایشیا میں آئے تھے مگر اپنی چالاکی اور اہل ہند کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر پورے ملک کے مالک بن گئے۔ انہوں نے مسلمانوں پر ظلم اور سختی شروع کردی جس سے ملک میں بے چینی بڑھ گئی۔ ان فقروں کے بعد اقبال کا یہ فقرہ انگریزی میں اسکرین پر نمودار ہوا۔
Allama Mohammad Iqbal asserted that hindues and the muslims could not live together in the country.
اس کے ساتھ ہی ہود بھائی صاحب نے فرمایا ’’نتیجہ یہ کہ وہ ذہن پیدا نہیں ہوسکتا جو اچھے اور پرامن معاشرے کی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔‘‘
اس مسئلے پر معروف کالم نگار جاوید چوہدری نے بھی تبصرہ فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وطن سے محبت کا مطلب ہی بھارت سے نفرت بنادی ہے۔ ہم اپنے طویل مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری نظر سے آج تک کوئی ایسی نصابی کتاب نہیں گزری جس میں ہندوئوں اور عیسائیوں سے نفرت کی تلقین کی گئی ہو۔ کیا یہ کہنا انگریز وں سے نفرت کی تلقین کرنا ہے کہ انگریز تاجروں کی حیثیت سے جنوبی ایشیا میں آئے تھے لیکن وہ اپنی چالاکی اور اہل ہندکی کمزوریوں کی وجہ سے پورے ملک کے مالک بن بیٹھے اور انہوں نے مسلمانوں پر ظلم اور سختی کی۔ اس بیان میں جو کچھ ہے ’’امر واقعہ‘‘ ہے اور امر واقعہ کےبیان کا مطلب نفرت سکھانا نہیں ہے۔ پاکستان میں بھارت کو ناپسند کیا جاتا ہے مگر اس کی وجہ تاریخی تجربہ ہے۔ آزادی کے وقت بھارت کے ہندو اور گاندھی جیسے سیکولر رہنمائوں نے مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے کی معمولی سی کوشش بھی نہیں کی۔ اس بات کی شکایت ابوالکلام آزاد تک نے اپنی کتاب India wins Freedom میں کی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں مسلمان قیام پاکستان کے بعد ہندووں کے ہاتھوں مارے گئے۔ بلاشبہ مسلمانوں نے بھی ہندووں کو مارا۔ لیکن مسلمانوں نے جو کچھ کیا وہ ’’ردعمل‘‘ کی نفسیات کا حاصل تھا۔ مسلمان ہندووں کے مقابلے پر اتنی چھوٹی اقلیت تھے کہ وہ ہندوؤں کے ساتھ مار کاٹ شروع کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہ کیا۔ اس نے کشمیر پر قبضہ کیا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر آج تک عمل نہیں ہونے دیا۔ بھارت نے 1971 ء میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس طرح کی تاریخ پاکستان میں بھارت کے خلاف ردعمل پید اکرنے کے لیے کافی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس تاریخ میں جو کچھ ہے امر واقعہ  Matter of Fact ہے۔ اس کے باوجو  ہم گزشتہ 30 سال کی زندگی میں ایسے ایک بھی پاکستانی سے نہیں ملے جو کہتا ہو کہ بھارت کے ہندو ہمارے دشمن ہیں اور انہیں جینے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
شہزاد رائے اپنے پروگرام میں دو ایسے اسکولوں میں بھی گئے جہاں ہندو اور عیسائیوں کو اسلامیات پڑھائی جارہی تھی۔ اس سے پروگرام میں یہ نتیجہ برآمد کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیرمسلم بچوں کو زبردستی اسلام پرھایا جارہا ہے۔ حالانکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو حکمران مسلم اکثریت کے بچوں کے لیے تعلیم کا مناسب بندوبست نہ کرپارہے ہوں وہ چھوٹی سی غیرمسلم اقلیت کے بچوں کے لیے اسلامیا ت کے متبادل کی تعلیم کا بندوسبت کریں گے؟ لیکن پروگرام میں حکمرانوں کی نااہلیت کو بھی پاکستان کا ’’عیب‘‘ بنادیا گیا ۔
پروگرام کی ایک خاص بات یہ تھی کہ پروگرام میں جتنے دانشور ماہرین کے طور پر نمودار ہوئے وہ سب سیکولر اور لبرل فکر کے حامل ہیں۔ مثلا پروگرام میں امینہ سید موجود تھیں اور وہ لبرل پس منظر کی حامل ہیں۔ پروگرام میں ہود بھائی اور غازی صلاح الدین موجود تھے اور دونوں سیکولر تناظر کے حامل ہیں۔ پروگرام میں سلیمہ ہاشمی اور طلعت حسین شامل تھے اور ان دونوں کا مذہبی فکر سے کوئی تعلق نہیں۔ پروگرام میں جاوید چوہدری موجود تھے اور وہ نہ دائیں بازو سے تعلق ہیں نہ بائیں سے سے تعلق۔ اس کے باوجود انہوں نے جو کچھ کہا وہ اسلامی تناظر کے خلاف تھا۔ پروگرام کے میزبان شہزاد رائے کی جانب داری ان کے سوالات اور تبصرے سے صاف ظاہر تھی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پروگرام پر سیکولر اور لبرل دانشوروں کا مکمل غلبہ تھا اور اس میں اسلام اور پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کی ترجمانی دانشوروں کی سطح پر سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا جیو کو پورے پاکستان میں ایک بھی ایسا دانشور دستیاب نہ ہوسکا جو سیکولر او رلبرل طرز فکر کے برعکس رائے دیتا۔ بلاشبہ پروگرام میں ایک دو سرکاری اہلکار اسلامی تناظر کا دفاع کرتے نظر آئے مگر ان کی دانشورانہ حیثیت سے ملک میں کوئی واقف نہیں۔ پروگرام میں مفتی منیب الرحمن بھی موجود تھے مگر ان کی موجودگی علامتی اور چند لمحوں پر مشتمل تھی۔ تو کیا قوم کے لیے نئے نصاب اور نئے Curriculumکا مطالبہ کرنے والے جیو کا انصاف ‘ توازن اور ایمانداری یہی ہے کہ سیکولر فکر کی حمایت کے لیے پروگرام میں معروف دانشوروں کی فوج کھڑی کردی جائے اور اسلام اورپاکستان کے نظریاتی موقف کا دفاع کرنے کے لیے کوئی ممتاز اور اہل شخص موجود نہ ہو۔ جیو کے اس طرز عمل کو دیکھا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ نئے نصاب کے ذریعے کتنا تنگ نظر‘ بے ایمان‘ غیر منصفانہ‘ متعصب اور خوفزدہ معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ ذرا سوچیئے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی